کھیل
کرسن گھاؤری :وہ گیند باز جس کے باؤنسروں نے پوری دنیا کے بلے بازوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا
نئی دہلی، ہندستان کرکٹ ٹیم میں یوں تو ہمیشہ سے ہی بہترین گیند بازوں نے اپنی شاندار کارکردگی پیش کی ہے۔ ہاں یہ حقیقت ہےکہ اسپن گیند بازوں نے تو اپنی سرزمین کے علاوہ غیر ملکی میدانوں پر بھی بلے بازوں کا ناک میں دم کررکھا تھا۔ ایک وقت ایسا تھا جب ہندستانی ٹیم میں ایک یا دو میڈیم گیند باز ہوا کرتے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ہندستانی ٹیم میں بھی بدلاؤ آیا اور تیز گیند بازوں کی ضرورت محسوس ہونے لگی۔ 28 فروری 1952 کو گجرات کے راجکوٹ میں پیدا ہوئے کرسن گھاوری نے ہندستانی ٹیم کی اس کمی کو ایسا پورا کیا کہ دنیا دیکھتی رہ گئی۔ گھاوری،ہندستانی ٹیم میں ایک ایسے تیز گیند باز کے طور پر ابھرے جی جنہیں ہندستانی ٹیسٹ کرکٹ میں 100 وکٹ لینے والے کا شرف بھی حاصل ہوا۔
سابق ہندوستانی فاسٹ بولر کرسن دیوجی بھائی گھاوری نے 70 کی دہائی میں میڈیم فاسٹ باؤلر اور جارحانہ بلے باز کے طور پر اپنی بے مثال کارکردگی سے سب کی توجہ مبذول کرائی۔ان کی بہترین کارکردگی کے بعد میں انہیں ہندوستانی ٹیم میں جگہ مل گئی۔
کرسن گھاوری اور کپِل دیو کی جوڑی اپنے وقت کی سپرہٹ مانی جاتی تھی۔ایک طرف کپِل کی تپی تلی گیند بازی تو دوسری طرف کرسن گھاؤری کی تیز گیند بازی،جنہوں نے اپنے باؤنسروں سے بلے بازوں کاناک میں دم کررکھا تھا۔ہندستان اس زمانے میں تیز گیند بازوں کی سخت ضرورت تھی پھر بھی اس تیز گیند باز کا کیریئر زیادہ عرصہ تک نہیں چل سکا۔
کرسن گھاوری ایسے وقت میں ہندوستانی ٹیم میں شامل ہوئے جب ملک میں اتنے تیز گیند باز موجودنہیں تھے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت ٹیم انڈیا کے پاس ایراپلی پرسنا، بشن سنگھ بیدی اور بھاگوت چندر شیکھر جیسے عظیم اسپنر تھے۔ اور یہی وجہ تھی کہ ٹیم نے کئی میچز جیتے۔ لیکن ایک بار ایسا ہوا کہ ان عظیم اسپنرز کی کارکردگی کام نہ آئی۔ اور ایک تیز گیند باز کو اسپن بولنگ کرکے ٹیم کو جیتنے میں مدد کرنی تھی۔
ان کے دور میں اسپنرز کا غلبہ تھا۔ ایسے میں کرسن نے اپنی تیز گیندبازی سے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔ اپنی تیز رفتار گیند بازی، باؤنسر اور گیند کو اس طرح ان سوئنگ اور آؤٹ کرانے کے ہنر نے کرسن گھاؤری کو گیند بازی کے شعبے میں ایک الگ شناخت دلائی۔ انہوں نے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ 1975 میں کھیلا۔ کولکتہ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلے گئے اس ٹیسٹ میچ میں، گھاوری کل 2 وکٹیں لینے میں کامیاب رہے۔
ہندستان یہ میچ 85 رنوں سے جیتنے میں کامیاب رہا۔گھاوری کی اپنے کرکٹ کیرئر میں سب سے کامیاب سیریز سال 1978میں ویسٹ انڈیز کے خلاف رہی جب انہوں نے اپنی بہترین گیند بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر 27 وکٹیں حاصل کیں۔
ہندستانی ٹیم میں کرسن گھاوری ایک ایسے گیند بازتھے کہ جب بھی ٹیم کسی مشکل میں آتی تواور ٹیم کو اس بحران میں جب بھی ان کی ضرورت پڑی تو ٹیم کے کپتان گھاوری کو محاذ پر لگا دیتے تھے اور گھاوری اس بحران سے ٹیم کو نکال کر جیت کی دہلیز تک لے آتے۔ اسی لئے انہیں کپتان کا رائٹ ہینڈ مین کہا جاتا تھا۔سال 1974 میں ہندوستان کے لیےکرسن نے ڈیبیو کیا تو اسپنرز غالب تھے۔ لیکن انہوں نے ٹیم میں اپنے کردار کو سمجھا اور مدن لال کے ساتھ ایک مفید شراکت داری قائم کی۔ گھاوری گیند بازی کے علاوہ نچلے آرڈر میں بلے میں بھی کارآمد ثابت ہوئے۔ ضرورت پڑنے پر ایک بلے باز کی مانند شاٹ بھی مارتے ورنہ کریز کے دوسرے حصہ پر مضبوطی کے ساتھ جمے رہتے تھے۔ انہوں نے ہندوستان کے لئے چار بار پانچ وکٹ لینے کا کارنامہ انجام دیا لیکن بدقسمتی سے ہندوستان ان میچوں میں ایک بار بھی نہیں جیت سکا۔
جب انگلینڈ کی ٹیم سال 1976 میں ہندوستان کے دورے پر آئی تو بشن سنگھ بیدی کو انجری کے باعث ایک میچ سے باہر جانا پڑا۔ ایسے میں نائب کپتان سنیل گواسکر نے ذمہ داری لی۔اس کے بعد گواسکر نے گھاؤری کو گیند تھما دی اور انہیں اسپن گیند کرنے کو کہا۔ گھاؤری نے اسپن گیند بازی کی اور تقریباً سات آٹھ اوور کرائے ۔اسپن میں بھی انہوں نے اپنی مہارت دکھائی اور شاندار گیند بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ گھاوری ایک ایسے وقت میں ہندوستانی ٹیم میں شامل ہوئے جب اسپنرگیند بازوں کا بول بالا تھا۔ اور تیز گیند باز بہت کم ہی سے ٹیم کا حصہ ہوا کرتے تھے۔
اپنی پہلی سیریز میں، انہوں نے ممبئی میں تیسرے ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 140 رن دے کر چار وکٹیں حاصل کیں۔ وہ واحد ہندوستانی گیند باز تھے جو اس میچ میں کامیاب رہے۔ تاہم، انہیں ٹیم انڈیا میں خود کو مستحکم کرنے میں تقریباً دو برس لگ گئے۔ سال 1976 کے بعد ان کو ٹیم میں شمولیت ملی۔ اس سال انہوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ہوم سیریز میں 27 وکٹیں حاصل کیں۔ اس سیریز میں انہوں نے بنگلور میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میں 51 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں۔
سال 1978 کے دورہ آسٹریلیا کے دوران کرسن نے سڈنی کی ایک مشکل پچ پر 64 رن بنائے۔ جس کی وجہ سے ہندوستان ایک اننگز اور 2 رنوں سے یہ جیت گیا تھا۔ 1979 میں ممبئی ٹیسٹ میں انہوں نے ایک بار پھر آسٹریلیا کو شکست دینے میں موثر کردار ادا کیا۔ یہاں وہ 9ویں نمبر پر بلے بازی کرنے آئے۔ اس کے بعد انہوں نے سید کرمانی کے ساتھ 8ویں وکٹ کے لیے 127 رن کی ریکارڈ شراکت قائم کی۔ جس کی وجہ سے ہندستان نے آٹھ وکٹوں پر 458 رنز بنانے کے بعد اننگز ڈکلیئر کرنے کا اعلان کیا۔
کرمانی نے ناقابل شکست 101 رنز بنائے جبکہ گھاوری نے 86 رنز کی اننگز کھیلی۔ یہ ان کے کیریئر کا سب سے بڑا سکور تھا۔ ہندستان نے یہ میچ ایک اننگز اور 100 رنوں سے جیت لیا تھا۔
سال 1981 میں آسٹریلیا کے دورے پر انہوں نے پھرایک بار بہترین گیند بازی کا نمونہ پیش کیا اور تین ٹیسٹ میچوں میں 10 وکٹیں حاصل کیں۔ بیرون ملک ٹیسٹ میں یہ ان کی بہترین کارکردگی تھی۔ میلبورن میں انہوں نے 107 رن دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ گھاوری نے 1975 اور 1979 کے ورلڈ کپ کھیلے۔ لیکن ان میچوں میں انہیں زیادہ کامیابی نہیں مل پائی۔ وہ آخری بار 1981 میں ہندوستان کے لیے کھیلے تھے۔
کرسن گھاوری نے اپنے بین الاقوامی کیریئر کا آغاز 1974 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کیا۔ انہوں نے ایڈن گارڈن اسٹیڈیم میں اپنے پہلے ٹیسٹ میں دو وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے پہلی اور دوسری اننگز میں ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ گھاوری نے دوسری اننگز میں بھی بلے بازی میں اہم کردار ادا کیا۔ آٹھویں نمبر پر کھیلتے ہوئے انہوں نے 27 رنز بنائے۔ ہندستان نے اس میچ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ٹیم 85 رنز سے بڑی جیت درج کرنے میں کامیاب رہی تھی۔ اس میچ میں ٹیم انڈیا کی قیادت نواب پٹودی کر رہے تھے۔
ایک میچ بہت سے کھلاڑیوں کے لیے بہت یادگار ہوتا ہے۔ لیکن صرف منتخب کھلاڑی ہیں جن کی پوری سیریز یادگار بن جاتی ہے۔ گھاوری کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا جب ویسٹ انڈیز کی ٹیم 1978-79 میں ہندوستان کے دورے پر آئی تھی۔ گھاوری نے کیریبین ٹیم کے خلاف اپنی صلاحیتوں کا خوب لوہا منوایا ۔ انہوں نے 6 ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں 27 وکٹیں حاصل کیں جو کہ اس وقت ویسٹ انڈیز جیسی ٹیم کے خلاف ایک بڑی بات تھی۔ کہا جاتا ہے کہ غیر ملکی بلے باز گھاوڑی کے باؤنسر سے بہت ڈرتے تھے۔
گھاوری نے ہندوستان کے لیے 39 ٹیسٹ میچوں میں 913 رنز بنائے، جس میں ان کا بہترین اسکور 86 رہا۔ ان رنوں میں ان کی دو بہترین نصف سنچریاں بھی شامل ہیں۔19 ون ڈے میچوں میں انہوں نے114 رن بنائے ۔ 39ٹیسٹ میں انہوں نے 109 وکٹیں حاصل کیں۔جبکہ ایک روزہ 19 میچوں میں انہوں نے 15 وکٹیں لیں۔ ٹیم انڈیا میں ان کا کردار یوٹیلیٹی پلیئر کا تھا۔ یوٹیلیٹی پلیئر کا مطلب ہے وہ کھلاڑی جو ضرورت کے مطابق کہیں بھی کھیل سکتا ہو۔ کبھی انہیں تیز باؤنسرز گیند کرنے کے لیے بلایا جاتا تھا تو کبھی اسپن بولنگ کرنے کے لیے انہیں آزمایا جاتا تھا۔گھاوری نے اپنا ٹسٹ میچ ویسٹ انڈیز کے خلاف 27 دسمبر 1974 میں اور آخری ٹسٹ میچ 6 مارچ کو کرائسٹ چرچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلا۔
کرسن گھاوری ٹیسٹ میچوں میں 100 وکٹیں لینے والے پہلے ہندوستانی تیز گیند باز ہیں۔ ان سے پہلے کوئی بھی تیز گیند باز یہ کارنامہ انجام نہیں دے سکا تھا۔ تاہم اس بڑے کارنامے کو حاصل کرنے کے بعد ان کا کیریئر جلد ہی پٹڑی سے اتر گیا۔ کرکٹ سے سبکدوشی کے بعد انہوں نے کوچنگ کا رخ کیا۔ وہ سوراشٹرا کے کوچ بھی بنے۔
یو این آئی، ایم جے
کھیل
سروچی سنگھ اور کمل جیت سنگھ نے ہندوستان کو ایشیائی کھیلوں میں دوسرا طلائی تمغہ دلایا
آئیچی-ناگویا (جاپان)، ہندوستان کی سروچی سنگھ اور کمل جیت سنگھ کی جوڑی نے جمعہ کو ایشیائی کھیلوں کے نشانہ بازی مقابلے میں 10 میٹر ایئر پسٹل مکسڈ مقابلے میں جنوبی کوریا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے طلائی تمغہ حاصل کیا۔ یہ ایشیائی کھیلوں میں ہندوستان کا دوسرا تمغہ ہے۔
آج یہاں ہوئے مقابلے میں ہندوستانی جوڑی نے مجموعی طور پر 484.6 اسکور کے ساتھ سرفہرست مقام حاصل کیا۔ کمل جیت اور سروچی نے شروعات سے ہی اچھی برتری بنا لی تھی، لیکن جنوبی کوریا مسلسل ہندوستانی نشانہ بازوں پر دباؤ بنائے ہوئے تھا۔ تاہم ہندوستانی جوڑی نے دباؤ میں کوئی غلطی نہیں کی اور جنوبی کوریا کو 6.6 پوائنٹس کے فرق سے شکست دے کر طلائی تمغہ اپنے نام کرلیا۔ جنوبی کوریا 478 اسکور کے ساتھ دوسرے جبکہ ایران 415.8 اسکور کے ساتھ تیسرے مقام پر رہا۔
یو این آئی۔ ایم جے
کھیل
سلطان واریئرز بارہمولہ نے افتتاحی چنار پریمیئر لیگ کا خطاب جیت لیا
سری نگر، سلطان واریئرز بارہمولہ نے افتتاحی چنار پریمیئر لیگ (سی پی ایل) کرکٹ ٹورنامنٹ 2026 کا خطاب جیت لیا۔ اس نے بارہمولہ کے جنرل بپن راوت اسٹیڈیم میں کھیلے گئے شاندار فائنل میں رمزی اسپورٹس سری نگر کو شکست دی۔
پہلے بلے بازی کرتے ہوئے سلطان واریئرز نے مقررہ اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 182 رنز بنائے، جس کے جواب میں رمزی اسپورٹس سری نگر کی پوری ٹیم 142 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ اس طرح سلطان واریئرز نے شاندار کامیابی کے ساتھ خطاب اپنے نام کر لیا۔
سلطان واریئرز کے عاقب کھانڈے کو میچ جیتنے والی کارکردگی پر ’مین آف دی میچ‘ قرار دیا گیا، جبکہ ان کے ساتھی کھلاڑی عاصم بشیر کو پورے ٹورنامنٹ میں مسلسل عمدہ کارکردگی پر ’مین آف دی سیریز‘ کا اعزاز دیا گیا۔
فوج کی سری نگر چنار کور کی جانب سے منعقد کیے گئے اس ٹورنامنٹ میں ریکارڈ تعداد میں ٹیموں نے شرکت کی۔ مقابلے کے لیے 130 ٹیموں نے رجسٹریشن کرائی تھی، جن میں سے کشمیر وادی کے مختلف علاقوں سے 79 ٹیموں کا انتخاب کیا گیا۔
تقریب میں جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری اتل ڈلو کے علاوہ بارہمولہ میں تعینات ڈیگر ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ اور مقامی برادری کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔
منتظمین نے کہا کہ سی پی ایل 2026 نے پوری کشمیر وادی کے کرکٹ ٹیلنٹ کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کیا اور خاص طور پر نوجوانوں کے درمیان ہندوستانی فوج اور مقامی برادری کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کیا۔
دفاعی ترجمان نے کہا کہ سی پی ایل 2026 کا کامیاب انعقاد خطے کے کھیلوں کے کیلنڈر میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ اس کے ذریعے وادی کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت نوجوان کرکٹرز کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملا۔
یواین آئی۔ ظ ا
کھیل
بابر اعظم کی سات سال بعد ڈومیسٹک فرسٹ کلاس کرکٹ میں واپسی
اسلام آباد، پاکستان کے ٹیسٹ کپتان بابر اعظم موجودہ پریذیڈنٹس ٹرافی گریڈ ون فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ میں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) کی نمائندگی کریں گے۔ انہیں ٹیم نے بطور گیسٹ کھلاڑی شامل کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بابر نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے درخواست کی تھی کہ انہیں کسی ٹیم میں شامل کیا جائے تاکہ وہ طویل فارمیٹ میں اپنی فارم بہتر کرسکیں۔ اس کے بعد بورڈ نے انہیں او جی ڈی سی ایل کے ساتھ جوڑ دیا۔ بابر نے دسمبر 2022 کے بعد سے ٹیسٹ کرکٹ میں کوئی سنچری نہیں بنائی۔ اس کے بعد سے 39 اننگز میں وہ صرف آٹھ نصف سنچریاں بناسکے ہیں، جبکہ 2023 کے آغاز سے ٹیسٹ میں ان کی اوسط 30.43 رہی ہے۔
ان کی خراب فارم پاکستان کرکٹ میں مسلسل بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ حالیہ انگلینڈ دورے میں پاکستان کو تین ٹیسٹ کی سیریز میں 0-3 سے شکست ہوئی، جبکہ لارڈز اور ایجبسٹن ٹیسٹ میں انگلینڈ کے تیز گیندبازوں نے شارٹ گیند کے خلاف بابر کی کمزوری کا فائدہ اٹھایا۔ تاہم گزشتہ پانچ ٹیسٹ میں وہ چار نصف سنچریاں بناچکے ہیں اور گزشتہ ماہ ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں ان کا اسکور 88 رنز رہا، جس سے پاکستان نے جولائی 2023 کے بعد پہلی بار بیرون ملک ٹیسٹ جیتا۔
بابر نے آخری بار 2019 میں ڈومیسٹک فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ کھیلا تھا، جب انہوں نے سینٹرل پنجاب کی کپتانی کرتے ہوئے فائنل میں ناردرن کو شکست دے کر قائداعظم ٹرافی جیتی تھی۔ حالیہ برسوں میں ٹیسٹ اور آئی سی سی ٹورنامنٹس میں پاکستان کی خراب کارکردگی کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں کے ڈومیسٹک فرسٹ کلاس کرکٹ میں زیادہ حصہ لینے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ اس سیزن میں شاہین شاہ آفریدی اور سلمان آغا سمیت کئی دیگر بین الاقوامی کھلاڑی بھی پریذیڈنٹس ٹرافی میں حصہ لے رہے ہیں۔
پی سی بی کے سینٹرل کنٹریکٹ کے تحت اے کیٹیگری کے ٹیسٹ ماہر کھلاڑیوں کے لیے سالانہ کم از کم چھ، اے بی کیٹیگری کے ٹیسٹ اور ون ڈے ماہر کھلاڑیوں کے لیے چار، جبکہ بی سی کیٹیگری کے وائٹ بال ماہر کھلاڑیوں کے لیے کم از کم دو فرسٹ کلاس میچ کھیلنا ضروری ہے۔ پاکستان اس وقت آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں نویں نمبر پر ہے اور ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی نو ٹیموں کی جدول میں آخری مقام پر ہے۔ وہ گزشتہ چار آئی سی سی ٹورنامنٹس میں ناک آؤٹ مرحلے تک بھی نہیں پہنچ سکا ہے۔
یو این آئی۔ م س
-
جموں و کشمیر1 week agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا7 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کے پتھریلے چیک ڈیمز نے 200 کیوسک سے زائد پانی کا بہاؤ برداشت کیا، اپشی میں معمولی شگاف
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا5 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
جموں و کشمیر1 week agoماتا لَلّیشوری مرکز نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کا ذریعہ ہوگا: جموں و کشمیر ایل جی
-
دنیا6 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان6 days agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
دنیا1 week agoایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
-
ہندوستان5 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
