جموں و کشمیر
رام بن ضلع میں تیز آندھی چلنے سے 150رہائشی مکانوں اور سرکاری عمارتوں کو نقصان، ڈوڈہ میں خاتون از جان، دو دیگر زخمی
جموں ، جموں وکشمیر میں خراب موسمی حالات کے بیچ کہیں تیز ہواوں سے تو کہیں موسلا دھار بارشوں سے متعدد رہائشی مکانوں اور سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔
ضلعی ترقیاتی کمشنر رام بن بصیر الحق کے مطابق رام بن، گول اور بانہال میں تیز آندھی کی وجہ سے 150سرکاری عمارتوں اور رہائشی مکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔
ڈوڈہ میں پسی کی زد میں آکر خاتون جاں بحق جبکہ دو دیگر زخمی ہوئے ۔
اطلاعات کے مطابق جنوبی اور شمالی کشمیر کے کئی علاقوں میں رات بھر شدید بارشوں کے ساتھ تیز ہوائیں چلیں جس کے نتیجے میں متعدد ڈھانچوں کو نقصان پہنچا ہے۔
نامہ نگار نے بتایا کہ ویری ناگ کے نوگام ، ڈورو شاہ آباد،بٹہ گنڈ گوجر بستی اور دیگرعلاقوں میں ہفتے کی صبح کئی رہائشی ڈھانچوں اور کئی دکانوں کے چھت اڑ گئے۔
جنوبی ضلع کولگام میں بھی تیز آندھی چلنے کی وجہ سے لوگ گھروں میں سہم کررہ گئے۔
ذرائع نے بتایا کہ کولگام کے دیہی علاقوں میں بھی کئی رہائشی مکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔
قاضی گنڈ کے پانزتھ علاقے میں تیز ہوائیں چلنے سے بشیر احمد راتھر، اسد اللہ نائیک، غلام حسن راتھر اور نذیر احمد شیخ نامی افراد کے رہائشی مکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ نذیر احمد شیخ کا رہائشی مکان ڈہہ گیاہے جس وجہ سے مکین کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے مجبور ہو گئے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ تیز ہواوں کے نتیجے میں کئی درخت بھی اکھڑ آئے جس سے علاقے میں بجلی کا نظام درہم و برہم ہو کر رہ گیا۔
انہوں نے کہا کہ تیز ہواوں نے درجنوں دکانوں کے سائن بورڈ اڑالئے تاہم کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
باوثوق ذرائع نے بتایا کہ جنوبی کشمیر میں تیز آندھی چلنے کی وجہ سے زائد از دو درجن رہائشی مکانوں ، گاو خانوں اور دکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔
اوڑی سے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ وہاں پر نامبلہ علاقے میں مدرسہ فیض القرآن کی چھت کو نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ شمالی ضلع بارہ مولہ کے دیہی علاقوں میں بھی تیزی ہوائیں چلنے کے نتیجے میں رہائشی مکانوں کی چھتیں اڑ گئی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق رام بن میں بھی خراب موسمی صورتحال کے بیچ تیز ہوائیں چلیں جس کے نتیجے میں کئی رہائشی مکانوں اور دیگر املاک کو بھی نقصان پہنچا۔
معلوم ہوا ہے کہ رام بن کے گورن پورہ ، گول اور گوگل پرستان کے اوپری علاقوں میں متعدد رہائشی مکانوں کو تیز آندھی کی وجہ سے نقصان پہنچا ہے۔
ضلعی ترقیاتی کمشنر رام بن بصیر الحق نے ایکس پر لکھا:’رام بن ، گول اور بانہال میں کم از کم 150رہائشی مکانوں اورسرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔“
انہوں نے بتایا کہ نقصان کا تخمینہ لگانے کی خاطر کارروائی جاری ہے۔
دریں اثنا ذرائع نے بتایاکہ ضلع کشتواڑ میں شدید بارشوں سے چار رہائشی مکانوں کو جزوی نقصان پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ تیز ہواوں کے نتیجے میں ہفتے کی صبح ضلع کے مغل میدان علاقے میں تین رہائشی مکانوں کو نقصان پہنچا جبکہ پتھم ہال علاقے میں ایک مکان کو نقصان پہنچا۔
علاوہ ازیں ڈوڈہ ضلع میں ہفتے کے روز تیز ہواوں اور ژالہ باری کی وجہ سے ایک خاتون کی موت واقع ہوئی جبکہ کمسن سمیت دو دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ ڈوڈہ ضلع کے گندوہ بھلیسہ میں درجنوں مکانات کی چھتیں اڑ گئیں جس وجہ سے املاک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ ڈوڈہ میں پسی کی زد میں آکر خاتون کی موت واقع ہوئی جبکہ دو دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ موسلا دھار بارشوں کے نتیجے میں ضلع کی متعدد رابط سڑکوں پر چٹانیں اور مٹی کے تودے گر آنے سے شاہرائیں بند ہو گئی ہیں۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
ابھرتے ہوئے طبی اختراعی نظام میں شامل ہوں: ڈاکٹر جتیندر کی جموں و کشمیر سے اپیل
جموں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ہفتہ کو کہا کہ ہندوستان اگلی نسل کے طبی طریقۂ علاج کے میدان میں عالمی رہنما بننے کی جانب گامزن ہے اور ملک حیاتیاتی علوم، طبی تحقیق اور صحت کے شعبے میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے میدان میں تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے۔
طب کے موجودہ دور کو انتہائی دلچسپ قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی کے ظہور سے صحت کے شعبے میں ایسے امکانات پیدا ہو رہے ہیں جن کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا چیلنج ٹیکنالوجی پر مبنی طریقۂ کار اور کلینیکل میڈیسن کے درمیان بہترین تال میل پیدا کرنا ہوگا، تاکہ سائنسی اور تکنیکی ترقی کو مریضوں کے لیے حقیقی اور بامعنی نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔
انہوں نے یہاں انٹرنیشنل میڈیکل سائنسز اکیڈمی (آئی ایم ایس اے) کے جموں و کشمیر چیپٹر کی جانب سے منعقدہ پہلے ’آروگیہ شکھر سمان۔ ایک میڈیکل انویسٹیچر تقریب‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ’’مستقبل میں طبی طریقۂ علاج کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی طریقوں اور کلینیکل میڈیسن کے درمیان بہترین تال میل ضروری ہوگا۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، جینومکس، کوانٹم ٹیکنالوجی اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز صحت کے شعبے میں نئے امکانات کے دروازے کھول رہی ہیں۔‘‘
ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کئی علاج اور تشخیصی طریقۂ کار میں ایک بڑی نعمت ثابت ہو رہی ہے۔
انہوں نے کلچر ٹیسٹ کے لیے درکار وقت کم کرنے اور جین کی ترتیب معلوم کرنے میں اے آئی کی صلاحیت کا حوالہ دیا، تاہم زور دیا کہ ٹیکنالوجی کو کلینیکل میڈیسن کا متبادل نہیں بننا چاہیے۔
مرکزی وزیر نے خبردار کیا کہ ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ انحصار ایسی صورت حال پیدا کر سکتا ہے جس میں ڈاکٹر کی طبی بصیرت متاثر ہو۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والے متبادل طریقوں کو دستیاب رکھنے میں کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے، لیکن مریض کے علاج میں ڈاکٹر کا طبی فیصلہ بنیادی حیثیت رکھنا چاہیے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
محبوبہ مفتی کی 29 ستمبر کو دہلی میں احتجاج میں شرکت کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ہفتہ کو ’’سیکولر ذہن رکھنے والے‘‘ لوگوں سے ملک میں جمہوریت اور بھائی چارے کے تحفظ کے لیے 29 ستمبر کو دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج میں شرکت کی اپیل کی۔
محبوبہ مفتی نے ایکس پر جاری پوسٹ میں کہا کہ احتجاج دوپہر 2 بجے سے شام 5 بجے تک منعقد کیا جائے گا۔ انہوں نے ان لوگوں سے اس اجتماع میں شرکت کی اپیل کی جو ہندوستان کی ’’جمہوری اور سیکولر اقدار‘‘ کو عزیز رکھتے ہیں۔
پوسٹ کے ساتھ جاری ویڈیو پیغام میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ مساجد، درگاہوں اور گرجا گھروں کو ’’بے رحمی سے منہدم‘‘ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اپوزیشن کے حامیوں اور ’’سیکولر ذہن رکھنے والے لوگوں، خاص طور پر مسلمانوں‘‘ کے نام ووٹر فہرستوں سے حذف کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ’’ان تمام مظالم کے خلاف انڈین مسلمانوں کی مانیٹرنگ کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ 29 ستمبر کو دوپہر 2 بجے سے شام 5 بجے تک دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کیا جائے گا۔‘‘
پی ڈی پی صدر نے سیکولر ذہن رکھنے والے لوگوں سے احتجاج میں شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شرکت جمہوریت، ملک کی فلاح و بہبود اور اس کی ’’گنگا-جمنی تہذیب‘‘ کے تحفظ کی کوششوں میں مددگار ثابت ہوگی۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
منشیات اسمگلنگ اور دہشت گرد سرگرمیوں سے منسلک 7.11 کروڑ روپے کی جائیدادیں منسلک
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے ہفتہ کو بتایا کہ منشیات کی اسمگلنگ، دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں اور ان کے مالیاتی نیٹ ورک کے خلاف جاری کارروائی کے تحت سری نگر میں این ڈی پی ایس ایکٹ اور یو اے (پی) ایکٹ کے تحت تقریباً 7.11 کروڑ روپے مالیت کی چار غیر منقولہ جائیدادیں منسلک اور منجمد کی گئی ہیں۔
پولیس نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران ان جائیدادوں کی شناخت غیر قانونی سرگرمیوں سے منسلک یا ان سے حاصل ہونے والی آمدنی سے خریدی گئی املاک کے طور پر کی گئی۔
زکورہ پولیس اسٹیشن نے بلال کالونی، زکورہ میں واقع ایک رہائشی مکان اور اس سے منسلک زمین کو منسلک کیا، جس کی مالیت تقریباً 2.5 کروڑ روپے ہے اور یہ اویس احمد رَیدھر کی ملکیت ہے۔ یہ کارروائی این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعات 8/22 اور 29 کے تحت درج ایف آئی آر نمبر 34/2026 کے سلسلے میں کی گئی۔
این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ 68-ایف (1) کے تحت کی گئی اس کارروائی کے بعد مجاز اتھارٹی کے مزید احکامات تک جائیداد کی فروخت، لیز، منتقلی، ردوبدل یا اس میں کسی تیسرے فریق کا مفاد پیدا کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
اس سے قبل نوگام پولیس اسٹیشن نے وگورا، بی کے پورہ کے رہائشی شیراز احمد شیخ کی تقریباً 2.85 کروڑ روپے مالیت کی جائیداد کو منسلک کیا تھا۔ یہ کارروائی این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعات 8/15 کے تحت درج ایف آئی آر نمبر 121/2023 کے سلسلے میں کی گئی۔
اس جائیداد میں 18 مرلہ اراضی پر تعمیر شدہ دو منزلہ کنکریٹ عمارت، دو دکانیں اور ایک رائس مل شامل ہیں۔ مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ 68-ایف کے تحت جائیداد کو منسلک کیا گیا۔
ایک اور کارروائی میں احمد نگر پولیس اسٹیشن نے حضرت بل کے دانی ہامہ علاقے میں واقع تقریباً 1.30 کروڑ روپے مالیت کی ایک رہائشی جائیداد کو منسلک کیا۔ یہ جائیداد ظہور احمد میر کی ملکیت ہے۔
یہ کارروائی آرمس ایکٹ کی دفعہ 7/25 اور یو اے (پی) ایکٹ کی دفعات 13، 18، 18-B، 19، 20، 23، 38 اور 39 کے تحت درج ایف آئی آر نمبر 20/2026 کے سلسلے میں کی گئی۔ جائیداد میں چھ مرلہ اراضی پر تعمیر شدہ ایک منزلہ رہائشی مکان اور اس سے منسلک زمین شامل ہے۔ مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد اسے یو اے (پی) ایکٹ کی دفعہ 25 کے تحت منسلک کیا گیا۔
دریں اثنا، شالٹینگ پولیس اسٹیشن نے سری نگر کے چیک مجگنڈ میں سات مرلہ اراضی پر تعمیر شدہ ایک منزلہ رہائشی مکان کو منجمد کردیا۔ اس کی مالیت تقریباً 46 لاکھ روپے ہے اور یہ امیر احمد میر کی ملکیت ہے۔
یہ کارروائی این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعات 8/21 اور 29 کے تحت درج ایف آئی آر نمبر 43/2023 کے سلسلے میں کی گئی۔ پولیس نے بتایا کہ تحقیقات سے ثابت ہوا کہ یہ جائیداد منشیات کی غیر قانونی اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی آمدنی سے خریدی گئی تھی، جس کے بعد اسے این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ 68-ایف کے تحت منجمد کردیا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ یہ چاروں کارروائیاں مبینہ طور پر منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں سے منسلک مالی وسائل اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے مقصد سے کی گئی ہیں۔
جموں و کشمیر پولیس نے کہا کہ وہ غیر قانونی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی سے مبینہ طور پر بنائی گئی جائیدادوں کی شناخت، سراغ لگانے، منجمد کرنے اور منسلک کرنے کا عمل جاری رکھے گی، تاکہ منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں کی پشت پناہی کرنے والے مالیاتی نیٹ ورک کو ختم کیا جاسکے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر1 week agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا7 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کے پتھریلے چیک ڈیمز نے 200 کیوسک سے زائد پانی کا بہاؤ برداشت کیا، اپشی میں معمولی شگاف
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا5 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
جموں و کشمیر1 week agoماتا لَلّیشوری مرکز نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کا ذریعہ ہوگا: جموں و کشمیر ایل جی
-
دنیا5 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان6 days agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
دنیا1 week agoایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
-
ہندوستان5 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
