تازہ ترین
اگرآرٹیکل 35-A کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تو کشمیر میں کیا ہو گا ؟
رضوان سلطان :
آرٹیکل 35A کی 6اگست کو سپریم کورٹ میں شنوائی کی خبر آنے کے بعد بالعموم بھارت اور بالخصوص ریاست میں ہر طرفسے اس آرٹیکل پر بحث ہو رہی ہے ۔ کشمیر سے سیول سوئٹی سے لے کر مین سٹریم سیاسی پارٹیوں تک تمام یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اس آرٹیکل کو منسوخ کیا جا سکتا ہے ، جس سے ریاست میں بسنے والے لوگوں کی شناخت خطرے میں پڑ سکتی ہے ۔ریاست جموں کشمیر سے ہر ایک طبقے نے یک ز بان ہو کر کہا ہے کہ اگر اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تو پورے کشمیر میں اسکے خلاف احتجاج شروع کئے جائیں گے ۔آرٹیکل 35Aوہ دفعہ ہے ،جس میں یہ کہا گاے ہے کہ ریاست میں رہنے والا باشندہ ہی یہاں کا مستقل باشندہ ہے ، اور ریاست سے باہر رہنے والاکوئی بھی شخص یہاں زمیں یا مکان نہیں خرید سکتا ہے ۔
2014 کواس آرٹیکل کو ختم کرنے کی مانگ کو لے کوکر(WE THE CITIZEN) نامی این جی او نے سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی ، اسکے علاوہ اور تین پٹیشن اس آرٹیکل کے خلاف دائر کی گئی، جن کو بعد میں اسی ایک پٹیشن کے ساتھ جوڑا گیا ۔ جولائی 2015میںآر ایس ایس کی حمایت یافتہ جموں کشمیر سٹڈی سنٹر آرگنائزیشن نے اس آرٹیکل کے خلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی ۔اب ان سبھی پٹیشنز کی سنوائی چھہ اگست کو سپریم کورٹ میں ہوگی۔
مزاحمتی قیادت کا موقف :
حریت کانفرنس (ع) کے چیر مین میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ آرٹیکل 35A کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ برداشت نہیں کی جا ئے گی ۔ان کا کہنا تھا کہ یہ غیر ریاستی باشندوں کو یہاں پر بسانے کی ایک سازش جا رہی ہے ۔اور انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں لوگوں سے کہا کہ اگر35A کے ساتھ کوئی بھی چھیڑ خانی ہوئی تو وہ بڑے احتجاج کے لئے تیار رہیں ۔ ، وہیں مشترکہ مزاحمتی قیادت نے ۵ اور چھہ اگست کو ہڑتال کی کال دی ہے ۔ جس کی حمایت تجارتی انجمنوں ، اور کشمیر ی سول سویٹی نے بھی کی ہے ۔
مین سٹریم جماعتوں کا موقف :
مین سٹریم جماعتیں بھی آرٹیکل کے تحافظ کے لئے ایک جھٹ نظر آرہے ہیں ۔سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداﷲ نے کہا ہے کہ مرکز کو آئین کے دفعہ 35Aکو بر قرار رکھنے کی ضرورت ہے
اسکے علاوہ فاروق عبداﷲ نے کہا ہے کہ اگر کشمیر ی خصوصی پوزیشن کے ساتھ کوئی چھیڑ خانی کی گئی تو نیشنل کانفرنس اسکی مخالفت کرے گی ۔
اگر چہ سابقہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے پہلے ہی مرکز خبر دار کیا تھا کہ اگر 35A کو منسوخ کیا گیا تو ریاست میں ترنگے کوکوئی کاندھا دینے والا نہیں بچے گا۔اب محبوبہ مفتی نے ریاست کی ہر سیاسی جماعت کو یکجا ہو کر 35A کو دفاع کرنے کے لئے کہا ہے ۔
بی جے پی اور آر ایس ایس کا موقف :
بھاجپا جو اس کو ہتانے کے حق میں ہے کہ ان کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر کی ملک کے ساتھ مکمل یکجہتی آرٹیکل 35A کو ہٹانے کے ساتھہ ی ہو گی ۔ان کا ماننا ہے کہ ایک ہی ملک میں کسی ایک ریاست کیلئے الگ یا خصوصی قانون جیسے ملک کی یکجہتی کے خلاف ہیں ۔انہوں نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے جو بھی فیصلہ آئے گا اسے قبول کیا جانا چاہیے ۔اب یہ 6اگست کو ہی پتہ چل پائے گا کہ سپریم کورٹ اس پر کیا فیصلہ دیتی ہے ۔ اور اس فیصلے سے ریاست میں کیا صورتحال پیدا ہوتی ہے۔
ہندوستان
لداخ میں 23 دنوں میں 6,000 میٹر سے اونچی 20 چوٹیوں پر لہرایا گیا ترنگا
نئی دہلی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے لداخ میں 23 دنوں میں 6,000 میٹر سے زیادہ اونچی 20 چوٹیوں پر کامیاب چڑھائی کرنے والی کوہ پیما ٹیم کا جمعہ کے روز یہاں استقبال کیا۔
اس ٹیم نے چامسیر-لنگسیر، گیاما نالا اور چوکسلا علاقوں میں 20 ایسی چوٹیوں پر پہلی بار چڑھائی کی جہاں پہلے کسی نے چڑھائی نہیں کی تھی۔ وزارت دفاع نے بتایا کہ یہ مہم دیرانگ میں واقع ‘نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ماؤنٹینیئرنگ اینڈ ایڈونچر اسپورٹس’ کے 20 کوہ پیماؤں کی ٹیم نے کامیابی کے ساتھ مکمل کی۔ ٹیم کی قیادت کرنل رنویر سنگھ جموال نے کی۔
وزیر دفاع نے کوہ پیماؤں کی ہمت اور عزم و حوصلے کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مہم ہندوستان کی کوہ پیمائی کی صلاحیت اور ایڈونچر اسپورٹس میں قیادت کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کوہ پیماؤں کو نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا اور کہا کہ ان کامیاب مہمات سے ملک کے نوجوان کوہ پیماؤں کو ایڈونچر کی سرگرمیوں اور دریافتوں کی ترغیب ملے گی۔
مہم کے دوران اس ٹیم نے اونچائی والے علاقوں میں بہتر منصوبہ بندی، تکنیکی مہارت، صبر اور ٹیم ورک کا مظاہرہ کیا۔ اس کا مقصد اونچائی والے سرحدی علاقوں میں ہمت اور دریافت کرنے کے جذبے کو فروغ دینا نیز آنے والی نسلوں کو کوہ پیمائی کے لیے بیدار کرنا تھا۔
فلیگ ان تقریب میں سکریٹری دفاع راجیش کمار سنگھ اور وزارت دفاع کے دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو ’میک اِن انڈیا‘ پہل کے 12 سال مکمل ہونے پر اس کی کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اب پوری دنیا کی ضروریات کے لیے مصنوعات تیار کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پہل سے ملک میں پیداوار، سرمایہ کاری اور برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’میک اِن انڈیا‘ کے نتیجے میں ہندوستان میں زیادہ پیداوار، زیادہ سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافہ ہوا ہے اور یہ تبدیلی تمام شعبوں میں واضح طور پر نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہل اس یقین پر مبنی تھی کہ ’’ہندوستان دنیا کے لیے مینوفیکچرنگ کرسکتا ہے۔‘‘
وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے کہا کہ ’میک اِن انڈیا‘ کے 12 سال مکمل ہونا صرف ایک سنگ میل نہیں، بلکہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جب کوئی ملک اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرتا ہے اور حکومت مسلسل اصلاحات کے ذریعے اس اعتماد کو مضبوط کرتی ہے تو بڑی کامیابیاں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں وزیر اعظم نے ایسے ہندوستان کا تصور پیش کیا تھا جو نہ صرف اپنی ضروریات پوری کرے بلکہ دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرے۔
گوئل نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 میں ہندوستان میں اب تک کی سب سے زیادہ 94.53 ارب ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) ہوئی، جبکہ مالی سال 2014-15 سے 2025-26 تک مجموعی ایف ڈی آئی 843 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل انڈسٹریل کوریڈور ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت ملک بھر میں جدید صنعتی شہر قائم کیے جارہے ہیں اور کاروبار میں آسانی کے لیے قوانین کو بھی آسان بنایا جارہا ہے۔
وزیر تجارت نے کہا کہ پیداوار سے منسلک ترغیبی اسکیم (پی ایل آئی) نے سرمایہ کاری اور مینوفیکچرنگ کو مزید رفتار دی ہے۔ 31 مارچ 2026 تک پی ایل آئی پروگرام کے تحت مختلف شعبوں میں 2.40 لاکھ کروڑ روپے کی حقیقی سرمایہ کاری، 23.8 لاکھ کروڑ روپے کی پیداوار یا فروخت اور 15.2 لاکھ کروڑ روپے کی برآمدات ہوئی ہیں، جبکہ اس کے نتیجے میں براہ راست اور بالواسطہ طور پر 14.6 لاکھ سے زیادہ روزگار پیدا ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ الیکٹرانکس و ٹیلی کام، دواسازی، طبی آلات، آٹوموبائل، انفارمیشن ٹیکنالوجی ہارڈویئر اور اسپیشلٹی اسٹیل سمیت کئی شعبوں کو پی ایل آئی اسکیم سے فائدہ ہوا ہے۔ انہوں نے اوپن نیٹ ورک فار ڈیجیٹل کامرس (او این ڈی سی) کا بھی ذکر کیا، جس کے ذریعے اب تک 470 کروڑ سے زیادہ آرڈر دیے جاچکے ہیں۔
گوئل نے کہا کہ ’میک اِن انڈیا‘ کی اصل کامیابی صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ اس اعتماد میں ہے جو اس نے پیدا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹارٹ اپ فاونڈر، صنعت کاروں، مینوفیکچررز، اختراع کاروں، برآمد کنندگان اور عوام میں یہ اعتماد پیدا ہوا ہے کہ ’’ہندوستان بنا سکتا ہے، ہندوستان اختراع کرسکتا ہے اور ہندوستان دنیا کے ساتھ مقابلہ کرسکتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’میک اِن انڈیا‘ کا سفر ہندوستان کو عالمی مینوفیکچرنگ پاور ہاؤس بنانے کے بڑے ہدف کے ساتھ جاری ہے، جو 2047 تک ’وکست بھارت‘ کے وژن کو بھی مضبوط کرے گا۔
یو این آئی۔ م س
جموں و کشمیر
بی جے پی نے عمر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد کی مخالفت کی، 2000 کی خود مختاری قرارداد کے حوالہ پر سوال اٹھایا
سری نگر، جموں و کشمیر کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے جمعہ کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے قانون ساز اسمبلی میں پیش کی گئی ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اس میں سابق اسمبلی کی 2000 کی خود مختاری کی قرارداد کے حوالے پر سوال اٹھایا۔
شرما نے کہا کہ بی جے پی نے 2000 میں خود مختاری کی قرارداد منظور ہونے کے وقت اسے مسترد کردیا تھا، پھر موجودہ ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد میں اسی قرارداد کا حوالہ کیوں دیا گیا ہے؟
انہوں نے جموں و کشمیر اسمبلی کے باہر صحافیوں سے کہاکہ ’’یہ مکمل طور پر متنازع اور ناقابل قبول قرارداد ہے، جسے بی جے پی کبھی برداشت نہیں کرے گی۔‘‘
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر اسمبلی میں مرکز کے زیر انتظام خطے کا ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے قرارداد پیش کی۔ جموں و کشمیر اسمبلی کی جانب سے ماضی میں منظور کی گئی قراردادوں، جن میں 2000 کی جموں و کشمیر خود مختاری کی قرارداد بھی شامل ہے، کے حوالے نے ایوان میں ہنگامہ برپا کردیا۔ بی جے پی ارکان نے قرارداد کی نقول پھاڑ دیں، جس کے بعد ارکان کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔
قائد حزب اختلاف نے کانگریس کی قیادت، بشمول راہل گاندھی اور جموں و کشمیر کانگریس کی قیادت سے ’’آرٹیکل 370 اور خود مختاری کے حوالوں‘‘ پر پارٹی کا موقف واضح کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
شرما نے سوال کیاکہ ’’کانگریس کو اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔ کیا وہ آرٹیکل 370 اور خود مختاری کی قرارداد کے ساتھ ہے یا حکومت کے ساتھ؟‘‘
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو نشانہ بناتے ہوئے شرما نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت نے خود مختاری کی قرارداد کو مسترد کیا تھا، اس وقت عمر عبداللہ کا اس حکومت سے کیا تعلق تھا۔
انہوں نے سوال کیاکہ ’’جب بی جے پی نے اس قرارداد کو مسترد کرکے پھاڑ دیا تھا، تو کیا اس وقت عمر عبداللہ این ڈی اے میں وزیر نہیں تھے؟ کیا وہ این ڈی اے کے ساتھی کے طور پر برقرار نہیں رہے؟‘‘
شرما نے الزام لگایا کہ عمر عبداللہ حکومت حکمرانی کی ان ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے جذباتی مسائل کو اٹھا رہی ہے اور ریاستی حیثیت کی بحالی کے عمل کو طول دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی ریاستی حیثیت کی بحالی پر بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن اسے خود مختاری یا آرٹیکل 370 سے جوڑنے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کرے گی۔
انہوں نے کہاکہ ’’ہم ان سوالات کے جواب چاہتے ہیں اور جب تک ہمیں جواب نہیں ملتا، ہم احتجاج جاری رکھیں گے۔‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر6 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر6 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
دنیا6 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں سالگرہ کی تقریب کے دوران 35 سالہ شخص قتل، 2 گرفتار
-
جموں و کشمیر7 days agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
