تازہ ترین
رواں سال وادی میں 128 نوجوان ہوئے جنگجوؤں کی صفوں میں شامل
خبر اردو :
وادی میں نوجوانوں کی پے در پے عسکری صفوں میں شمولیت نے گزشتہ برسوں کے ریکارڈ مات کردئے ہیں۔ سیکورٹی ایجنسیوں کے پاس اعداد و شمار کے مطابق سال رواں کے جنوری سے لے کر جولائی تک وادی میں نوجوانوں کی جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا ہے جس کے مطابق اس مدت کے دوران 128نوجوانوں نے مختلف عسکری تنظیموں میں شمولیت کرکے سیکورٹی ایجنسیوں کے لیے ایک چلینج چھوڑدیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق نوجوانوں کی سب سے زیادہ تعداد حزب المجاہدین ، لشکر طیبہ اور البدر میں بالترتیب شامل ہوئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایسے نوجوان جو حزب المجاہدین، لشکر طیبہ اور البدر نامی جنگجوؤں گروپوں میں شامل ہورہے ہیں ان کا تعلق زیادہ تر جنوبی کشمیر کے کولگام، اسلام آباد، پلوامہ اور شوپیان اضلاع سے ہیں ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عسکری صفوں میں شامل نوجوانوں کی 90فیصدی تعداد جنوبی کشمیر کے کولگام، اسلام آباد، پلوامہ اور شوپیان اضلاع سے ہیں جو کہ سیکورٹی ایجنسیوں کے لیے ایک چلینج سے کم نہیں ہے۔ وادی میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں امسال عسکری صفوں میں مقامی نوجوانوں کی شمولیت میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا ہے جس کے مطابق نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد حزب المجاہدین، لشکر طیبہ اور البدر نامی عسکری تنظیموں میں شامل ہوئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ وادی میں نوجوانوں کی جنگجوؤں کی صفوں میں اس قدر شمولیت پر سیکورٹی ایجنسیوں میں کافی تشویش پائی جارہی ہے جس کا سدباب ڈھونڈنے کے لیے سیکورٹی ایجنسیوں کے اعلیٰ حکام مل بیٹھ کر چلینجز سے نمٹنے کے لیے مختلف نوعیت کے منصوبے تشکیل دے رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ برسوں کے مقابلے میں امسال مقامی نوجوانوں کی ریکارڈ توڑ تعداد نے عسکری صفوں میں شمولیت کی ہے جس کے مطابق سال رواں کے جنوری تا جولائی 128نوجوانوں نے مختلف عسکری تنظیموں میں شمولیت اختیار کی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ سال رواں کے 7مہینوں کے دوران مقامی نوجوانوں کی ریکارڑ توڑ اضافے سے سال 2017کا ریکارڈ پس منظر میں چلایا گیا جس دوران یہاں 126نوجوانوں نے عسکری صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی جو کہ سال 2010سے بڑی تعداد شمار کی جاتی تھی۔انہوں نے بتایا اگرچہ سیکورٹی ایجنسیوں نے مختلف اسکیوں کو بروئے کار لاکر نوجوانوں کو مین اسٹریم زمرے میں شامل کرنے کے لیے مختلف نوعیت کے پروگرام منعقد کئے تاہم اس کے باوجود یہاں نوجوانوں کی جانب سے عسکری صفوں میں شمولیت تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے جو کہ یہاں تعینات جملہ سیکورٹی ایجنسیوں کے لیے ایک بہت بڑا چلینج ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایسے نوجوان جو حزب المجاہدین، لشکر طیبہ اور البدر نامی جنگجوؤں گروپوں میں شامل ہورہے ہیں ان کا تعلق زیادہ تر جنوبی کشمیر کے کولگام، اسلام آباد، پلوامہ اور شوپیان اضلاع سے ہیں ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عسکری صفوں میں شامل نوجوانوں کی 90فیصدی تعداد جنوبی کشمیر کے کولگام، اسلام آباد، پلوامہ اور شوپیان اضلاع سے ہیں جو کہ سیکورٹی ایجنسیوں کے لیے ایک چلینج سے کم نہیں ہے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ مہینوں کے دوران فوج اور جنگجوؤں کے درمیان مختلف نوعیت کے معرکوں میں 2درجن سے زائد ایسے جنگجوؤں کو جنگجو مخالف آپریشنوں کے دوران ہلاک کیا گیا جو جنگی مہارت سے بالکل ہی عاری تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وادی میں جنگجوؤں کے اعداد و شمار پر گہرائی سے نظر رکھنے کے لیے محکمہ پولیس کی 2خصوصی شعبے کام کررہے ہیں جن میں آئی بی اور زونل پولیس شامل ہیں جوعلیحدہ اپنے متعلقہ علاقوں اور اضلاع میں جنگجوؤں سے متعلق ریکارڈ پر گہرائی سے نظر رکھتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جونہی کبھی کوئی نوجوان لاپتہ ہوتا ہے تو اس کے والدین اور رشتہ دار یا تو پولیس کے سامنے شکایت درج کرتے ہیں یا تو لاپتہ نوجوان کی ہتھیاروں سے لیس تصویر سوشل میڈیا پر تصویر وائرل ہوجاتی ہے جس کے بعد ہی آئی بی اور زونل پولیس علیحدہ علیحدہ کراس چک کرکے تمام حقائق کی روشنی میں واقعے کی تحقیقات کرتی ہے اور تب ہی کسی کو جنگجو قرار دیا جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ جنوبی کشمیر کے پلوامہ اور شوپیان میں امسال کے 7مہینوں کے دوران70نئے نوجوانوں نے عسکری صفوں میں شمولیت اختیار کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنوبی کشمیر میں یکم اپریل کو ہوئی 2الگ الگ جھڑپوں جن میں حزب المجاہدین کا مقامی کمانڈر صدام پڈر اور کشمیر یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد رفیع شامل ہیں، کے بعد یہاں نوجوانوں کا عسکریت کے تئیں رجحان بڑھتا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ پہاڑی ضلع شوپیان اور اسلام آباد میں 2الگ الگ جھڑپوں میں 11جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا جس کے بعد یہاں نوجوانوں کی ایک بڑی کھیپ عسکری صفوں میں شامل ہوئی۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ رواں سال کے دوران اب تک سیکورٹی ایجنسیوں نے مشترکہ طور پر وادی کے مختلف حصوں سمیت لائن آف کنٹرول پر بڑی تعداد میں جنگجوؤں کو جاں بحق کردیا لیکن اس کے باوجود مقامی نوجوانوں کا جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت کا رجحان مزید زور پکڑتا جارہا ہے جو کہ یہاں تعینات سیکورٹی ایجنسیوں کے لیے ایک تشویش ناک معاملہ ہے۔ انہوں نے بتایا اگر چہ سیکورٹی ایجنسیوں نے مقامی نوجوانوں کو عسکریت صفوں میں شمولیت سے روکنے اور انہیں مین اسٹریم کے دائرے میں لانے کے لیے مختلف نوعیت کی اسکیموں اور پروگرامات دردست لیے ہیں تاہم اس کے باوجود بھی وادی میں بالعموم اور جنوبی کشمیرمیں بالخصوص نوجوان آئے روز عسکری صفوں میں شامل ہورہے ہیں جو سیکورٹی ایجنسیوں کے لیے ایک تشویش ناک معاملہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مقامی نوجوانوں کی عسکری صفوں میں شمولیت سال 2016میں اُس وقت شروع ہوئی جب حزب المجاہدین کے مقامی کمانڈر برہان وانی کو سیکورٹی فورسز نے اسلام آباد کے بمڈورہ علاقے میں ایک آپریشن کے دوران جاں بحق کیا۔ انہوں نے بتایا کہ نوجوانوں کا زیادہ رجحان حزب المجاہدین کی طرف ہے جس کے بعد لشکر طیبہ کا نمبر آتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس عرصے کے دوران اظہر مسعود کی سربراہی والی تنظیم جیش محمد میں 25نئے نوجوانوں شامل ہوئے ہیں جبکہ اس دوران 9نوجوان البدر نامی عسکری تنظیم میں شامل ہوئے ہیں۔KNS
دنیا
ٹرمپ کا وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہ کرنے کا اعلان
اے آئی سرچ لوگو
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔
ٹرمپ نے جمعرات کی شب اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا، ”اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ہماری مفید بات چیت جاری ہے۔ ہم امریکہ میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل کسی بھی وقت ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔”
ٹرمپ کے اس بیان کے بعد جمعہ کی صبح تیل کی قیمتوں میں کمی درج کی گئی، کیونکہ حالیہ ہفتوں کے دوران توانائی سے مالا مال خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات میں کچھ کمی آئی۔
جمعرات کو کاروبار کے دوران ممکنہ طور پر دوبارہ جنگ چھڑنے کے خدشات نے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کا بیان تیل کی قیمتوں کو دوبارہ نیچے لانے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق اپنے سات روزہ منصوبے پر امریکہ کے جواب کا جائزہ لے رہا ہے اور آئندہ چند روز میں اپنا ردعمل دے گا۔
ایران کی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق، عراقچی نے مزید کہا کہ ثالثوں کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں۔
ایرانی ذرائع ابلاغ نے جمعہ کو آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں ”شدید دھماکوں” کی اطلاع دی۔ خبر رساں ایجنسی فارس نے نامعلوم فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ممکن ہے غیر مجاز راستے استعمال کرنے والے تیل بردار جہاز سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے ہوں۔
منگل کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے کے تحت ایران کو یورینیم افزودہ کرنے کی اپنی صلاحیت میں ”بامعنی” کمی کرنا ہوگی۔ ماہرین کے مطابق، یہ مطالبہ واشنگٹن کے اس سابقہ اصرار میں نرمی کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ تہران یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر ترک کر دے۔
پیر کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کو ”بے سود” قرار دیتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ امریکہ مذاکرات کو ایران پر حملے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
دریں اثنا، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو ایرانی صدر سے کہا کہ روس ایران کے خلاف امریکہ کی قیادت میں جاری جنگ ختم کرانے کے لیے ”ہر ممکن کوشش” کرے گا۔ روسی خبر رساں ایجنسیوں نے یہ اطلاع دی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
جے رام رمیش کا مودی حکومت پر ٹرمپ کو خوش کرنے کا الزام، امریکی کارروائی کو پالیسی رعایتوں سے جوڑا
نئی دہلی، کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج مواصلات جے رام رمیش نے جمعرات کے روز نریندر مودی حکومت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشامد کی پالیسی اپنانے کا الزام لگایا اور دلیل دی کہ ہندوستانی آئی ٹی پیشہ ور افراد کو نشانہ بنانے والے واشنگٹن کے حالیہ اقدامات نے ہندوستان کے لیے باہمی فوائد حاصل کیے بغیر رعایتیں دینے کے خطرات کو بے نقاب کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں مسٹر رمیش نے کہا، “دھونس جمانے والوں کی خوشامد کبھی فائدہ نہیں پہنچاتی، یہ بات جمعرات کو ہندوستانی آئی ٹی پیشہ ور افراد کو براہ راست نشانہ بنانے والے امریکی حکومت کے اقدامات سے ایک بار پھر ثابت ہو گئی ہے۔”
انہوں نے ہندوستانی پیشہ ور افراد کے خلاف مبینہ کارروائی کو صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کی حکومت کی کوششوں سے جوڑتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا دوطرفہ بات چیت کے حوالے سے نئی دہلی کا طریقہ کار ہندوستانی معاشی اور تکنیکی مفادات کا مناسب تحفظ کر رہا ہے۔
مسٹر رمیش نے الزام لگایا، “یہ اقدام مودی حکومت کی جانب سے یو پی آئی ایم ڈی آر چارجز عائد کر کے صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کے فوراً بعد سامنے آیا ہے، جس سے واضح طور پر اور براہ راست امریکی کمپنیوں کو فائدہ پہنچے گا۔” تاہم انہوں نے اپنی پوسٹ میں اس طریقہ کار کی وضاحت نہیں کی جس کے ذریعے مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ میں تبدیلیوں سے امریکی کمپنیوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
مسٹر رمیش نے یہ بھی دلیل دی کہ واشنگٹن کے اقدامات کا جواب دینے کے لیے حکومت کے پاس قانونی اور ریگولیٹری آپشنز موجود ہیں، جن میں ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ، 2023 اور اس کے نفاذ کے ضابطے شامل ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم مودی “گیانیش گیٹ” کے گرد گھومنے والے ملکی سیاسی تنازع کی وجہ سے کارروائی کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ “گیانیش گیٹ” الیکشن کمیشن آف انڈیا کے کام کاج اور ووٹر فہرستوں کی جاری خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن کی مہم ہے۔
کانگریس رہنما کی اس مداخلت نے سیاسی بحث میں دو انتہائی متنازعہ امور کو ایک ساتھ لا کھڑا کیا ہے: امریکی امیگریشن اور معاشی پالیسیوں کے تحت ہندوستانی ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد کے ساتھ سلوک، اور وہ شرائط جن پر مودی حکومت ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ روابط بڑھا رہی ہے۔ ہندوستانی آئی ٹی سروسز کمپنیاں اور ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد طویل عرصے سے امریکی مارکیٹ تک رسائی پر منحصر رہے ہیں، جس کی وجہ سے ویزا ضابطہ، کام کی اجازت کی ضروریات اور متعلقہ اخراجات میں تبدیلیاں اس شعبے کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
کسی بھی اضافی پابندی یا مالی بوجھ کے اثرات دونوں ممالک میں کام کرنے والے ہندوستانی کارکنوں، مالکان اور ٹیکنالوجی کے کاروبار پر پڑ سکتے ہیں۔
مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹس (ایم ڈی آر) کے حوالے سے مسٹر رمیش کا اشارہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کی پروسیسنگ سے متعلق چارجز سے ہے۔ یہ سوال کہ ان چارجز کا بوجھ کون اٹھاتا ہے، ادائیگی کی پروسیسنگ کے اخراجات کیسے تقسیم ہوتے ہیں اور کون سے سروس فراہم کنندگان مستفید ہوتے ہیں، تاجروں، صارفین اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں کام کرنے والی کمپنیوں کے لیے اہم نتائج رکھتا ہے۔
مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ حکومت کے موقف سے امریکی کمپنیوں کو فائدہ ہوگا، لیکن ان کی پوسٹ میں اس مخصوص دعوے کو ثابت کرنے کے لیے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔
2023 میں نافذ العمل ہونے والا ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ ڈیجیٹل ذاتی ڈیٹا کی پروسیسنگ کے لیے ہندوستان کے قانونی ڈھانچے کو قائم کرتا ہے۔ یہ ایسے ڈیٹا کو سنبھالنے والے اداروں کے لیے ذمہ داریاں متعین کرتا ہے اور افراد کے لیے تحفظات فراہم کرتا ہے۔
تاہم، یہ قانون کسی دوسرے ملک کے خلاف جوابی کارروائی کے لیے عام مقصد کا ذریعہ نہیں ہے۔ اس ایکٹ یا اس کے ضابطہ پر مبنی کسی بھی ردعمل کو حالات پر لاگو ہونے والے مخصوص احکام پر مبنی ہونا پڑے گا اور ہندوستان کی قانونی ذمہ داریوں کے مطابق رہنا ہوگا۔
“گیانیش گیٹ” کا حوالہ الیکشن کمیشن کے طرز عمل اور ووٹر فہرستوں کی نظر ثانی پر کانگریس اور بی جے پی کے درمیان وسیع تر تصادم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے ایس آئی آر کے عمل پر سوال اٹھائے ہیں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے جواب دہی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ پول پینل نے اپنے طریقوں کا دفاع کیا ہے۔
اس تنازع کو واشنگٹن کے ساتھ ہندوستان کے روابط سے جوڑ کر مسٹر رمیش نے مودی حکومت پر اپنے سیاسی حملے کو اندرونی انتخابی مسائل سے آگے بڑھا کر خارجہ تعلقات اور معاشی پالیسی سے نمٹنے تک وسعت دینے کی کوشش کی ہے۔
مسٹر رمیش نے ڈیٹا پروٹیکشن قانون کی ان مخصوص دفعات کی نشاندہی نہیں کی جن کا حکومت سہارا لے سکتی ہے، اور نہ ہی انہوں نے واشنگٹن کے اقدامات کے جواب میں ہندوستان کے لیے جوابی اقدامات کی وضاحت کی۔ اس کے باوجود ان کے تبصروں نے مودی حکومت پر اپنی وسیع تر تنقید کے حصے کے طور پر ہندوستانی ٹیکنالوجی پیشہ ور افراد کے تحفظ، امریکی مارکیٹ میں ہندوستانی کاروبار کے ساتھ سلوک اور ہندوستان اور امریکہ کے معاشی روابط کی شرائط کو شامل کرنے کے کانگریس کے ارادے کا اشارہ دیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
ہندستان اور لائبیریا نے سمندری جہازوں اور ملاحوں پر حملوں کی شدید مذمت کی، فوری طور پرروک لگانے کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، ہندستان اور لائبیریا نے خلیجی خطے اور اس کے آس پاس کے علاقوں نیز بحیرہ اسود میں گزشتہ چند دنوں میں تجارتی جہازوں اور ملاحوں پر ہوئے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر روکے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ میں ہندستان کے مستقل مشن نے جمعرات کی دیر رات سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ دونوں ملکوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ان حملوں سے سمندری تجارت متاثر ہوتی ہے اور بے گناہ لوگوں کی جانیں جاتی ہیں۔ ایسے افعال کو کسی بھی طرح درست نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ دونوں ملکوں نے خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے ان حملوں کو فوری طور پر روکنے کی اپیل کی۔
ہندستان اور لائبیریا نے کہا ہے کہ وہ ایسے حملوں کو دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے باہمی تعاون بڑھانے اور ملاحوں کے حقوق کے تحفظ میں ایک دوسرے کی مدد کے لیے تیار ہیں۔
ہندستان اور لائبیریا نے حملوں میں جان گنوانے والے ملاحوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی، زخمیوں کی جلد صحتیابی کی خواہش کی۔
قابل ذکر ہے کہ ہندستان اور لائبیریا نے گزشتہ ماہ سمندری جہازوں اور ملاحوں کی سکیورٹی کے لیے دوست ممالک کے گروپ ایس 4 کی شروعات کی تھی۔
یواین آئی۔الف الف
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا7 days agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
دنیا1 week agoہیگستھ امریکی جنرل اور ایڈمرل کے عہدوں میں 20 فیصد کمی کریں گے
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان7 days agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار استعفیٰ دیں، ہٹائے گئے ووٹروں کی فہرست عام کی جائے: کھرگے
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
