جموں و کشمیر
نویں کی دہائی میں ملی ٹینسی شروع ہونے کے بعد جنوبی کشمیرمیں سب سے زیادہ شرح ووٹنگ ریکارڈ
سری نگر،سری نگر اور بارہمولہ لوک سبھا سیٹوں کی ریکارڈ توڑ پولنگ کے بعد اننت ناگ – راجوری لوک سبھا سیٹ کے لئے ہفتے کو مجموعی طور پر 53 فیصد پولنگ ریکارڈ ہوئی ہے جو گذشتہ لوک سبھا پولنگ کی شرح کے مقابلے میں لگ بھگ چار گنا زیادہ ہے۔یہ انیس سو نوے کی دہائی میں ملی ٹینسی شروع ہونے کے بعد جنوبی کشمیر میں سب سے زیادہ ووٹر ٹرن آوٹ ہے۔
سال 2019 کے لوک سبھا الیکشن میں اننت ناگ لوک سبھا سیٹ کے لئے صرف 9 فیصد ووٹنگ ریکارڈ ہوئی تھی جبکہ راجوری – پونچھ علاقے جو اس وقت جموں لوک سبھا سیٹ کا حصہ تھا، میں زائد از 72 فیصد پولنگ ریکارڈ ہوئی تھی۔
سال 2019 سے قبل جنوبی کشمیر الگ پارلیمانی حلقہ تھا تاہم سر نو حد بندی کے بعد اننت ناگ – راجوری لوک سبھا سیٹ کو معرض وجود میں لایا گیا جو صوبہ جموں کے 7 اور کشمیر کے 11 اسمبلی حلقوں پر مشتمل ہے۔
جنوبی کشمیر کی لوک سبھا سیٹ کے لئے سال 2014، 2009، 2004، 1999، 1998، 1996، 1989 اور 1984 میں پولنگ کی شرح بالترتیب 28.8 فیصد، 27.1 فیصد، 14.7 فیصد، 14.3 فیصد، 28.15 فیصد،50.2 فیصد،5.07 فیصد، 70.1 فیصد ریکارڈ ہوئی تھی۔
پی ڈی پی صدر اور اننت ناگ – راجوری لوک سبھا سیٹ کی امید وار محبوبہ مفتی کے بجبہاڑہ میں ان کی پارٹی ورکروں کی مبینہ گرفتاری کے خلاف احتجاجی دھرنے کے بجز پیر پنچال کے آر پار پھیلی اس نشست پر مجموعی طور پر امن طریقے سے پولنگ ہوئی۔اننت ناگ پولیس نے ان الزامات کو رد کرکے کہا ہے کہ ‘انتہائی کم گرفتاریاں کی گئی ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جن کا ماضی داغدار ہے’۔
پولیس نے اپنے بیان میں کہا: ‘ایک سیاسی جماعت کی طرف سے ان کے ورکروں کو بند کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے’انہوں نے کہا: ‘پہلی بات یہ ہےکہ بہت کم گرفتاریاں کی گئی ہیں اور ان کو گرفتار کیا گیا ہے جن کا ماضی داغدار ہے نیز یہ گرفتاریاں ان معتبر ذرائع پر عمل میں لائی گئیں ہیں کہ جن کے مطابق الیکشن دن پر امن و قانون اور سیکورٹی کو خطرات لاحق تھے’۔ان کا کہنا تھا: ‘گرفتار شدگان میں سے بیشتر اوور گراونڈ ورکرس ہیں جن کو پر امن الیکشن کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے احتیاطی طورپر حراست میں لیا گیا ہے۔‘
چیف الیکٹورل آفیسر پے کے پولے نے کہا کہ خوشگوار پولنگ کے لئے کہیں کہیں کچھ اقدام کرنا پڑتے ہیں اور ایسے افراد جن کا ماضی کا کچھ ریکارڈ ہے یا جو او جی ڈبلیو ہیں، ان کو حراست میں لیا گیا ہے۔انہوں نے کہا” ‘تاہم ہماری کوشش رہتی ہے کہ گرفتاریاں کم سے کم ہوں اور ایسا کسی شخص کو حراست میں نہ لیا جائے جس کا ماضی کا کوئی ریکارڈ نہ ہو’۔
بعد ازاں ایک پریس کانفرنس میں محبوبہ مفتی نے الزام لگایا کہ اننت ناگ راجوری پارلیمانی نشست پر جموں وکشمیر کی ایل جی انتظامیہ کے کہنے پر دھاندلیاں کی گئیں۔
محبوبہ مفتی نے کہا :’گرفتاریوں کے باوجود بھی لوگوں کا حوصلہ نہیں ٹوٹا اور انہوں نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا جس کے لئے میں عوام کی شکر گزار ہوں۔ ‘انہوں نے کہاکہ پولنگ کے دن انتظامیہ نے اننت ناگ میں خوف ودہشت کا ماحول قائم کیا، کئی علاقوں میں فوج نے کارڈن اینڈ سرچ آپریشن لانچ کئے جس وجہ سے لوگوں کو ڈرایا دھمکایا گیا۔
جنوبی کشمیر کے پارلیمانی حلقے کے تین اضلاع شوپیاں، کولگام اور اننت ناگ میں پھیلے ہوئے پولنگ اسٹیشنوں کے آس پاس کا ماحول پر سکون تھا، نوجوان اور بوڑھے ووٹرز صبح سے ہی قطاروں میں بیٹھے ہوئے تھے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ علیحدگی پسندوں کے گڑھ آرونی ، کیموہ ، کھڈونی ، سری گفوارہ، اننت ناگ ، بجبہاڑہ سمیت متعدد علاقوں میں متاثر کن ووٹنگ ہوئی ۔جنوبی کشمیر کے کئی علاقوں میں کالعدم جماعت اسلامی اور پیپلز لیگ کے ارکان نے بھی اپنی رائے دہی کا استعمال کیا۔
کیموہ کولگام کے ایک ہائر سکنڈری اسکول میں واقع چار پولنگ اسٹیشنوں پر 1718 ووٹوں میں سے 886 ووٹ دوپہر 3.30 بجے تک پول ہوئے تھے۔ یہ علاقہ کبھی عسکریت اور انتہا پسندی کا گڑھ مانا جاتا تھا۔
پولنگ اسٹیشن کے باہر ایک ووٹر اعجاز احمد نے کہا :”ہمیں امید ہے کہ ہمارے ووٹوں سے صورتحال بدلے گی اور بے روزگاری ختم ہو جائے گی۔ ہم یہ بھی امید کرتے ہیں کہ جو لوگ سلاخوں کے پیچھے ہیں انہیں رہا کر دیا جائے گا“۔جنوبی ضلع کولگام کھڈونی گاوں میں بھی لوگ ووٹ ڈالنے کے لئے نکلے جو پچھلے انتخابات کے بالکل برعکس تھا۔
بیجبہاڑہ اننت ناگ میں، جو مفتی کا آبائی گاوں ہے، ووٹروں کی ایک بڑی تعداد پولنگ اسٹیشن میں داخل ہونے کے لیے اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے دیکھے گئے۔ ایک مقامی رہائشی طارق احمد نے کہا، “ہم نے اس امید کے ساتھ ووٹ دیا کہ روزمرہ کی زندگیوں میں عام لوگوں کو کچھ راحت ملے گی۔”
کولگام ضلع کے کئی حصوں میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے اپنی حق رائے دہی کا استعمال کیا۔اگست 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد 2024 کے لوک سبھا انتخابات جموں و کشمیر میں ہونے والے پہلے بڑے انتخابات ہیں۔
سرکاری ذرائع نے کہا کہ اننت ناگ-راجوری لوک سبھا سیٹ پر ابتک کی سب سے زیادہ پولنگ ریکارڈ کی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ اہم عوامل جو کہ پولنگ میں اضافہ کی وجہ بنا وہ لا اینڈ آرڈر کی صورتحال میں بہتری اور پر امن ماحول ہے۔اننت ناگ راجوری پارلیمانی نشست پر محبوبہ مفتی ، میاں الطاف اور ظفر اقبال منہاس کے درمیان کانٹے دار مقابلے کی توقع ہے۔
دریں اثنا چیف الیکٹورل افسر پی کے پولے نے اننت ناگ راجوری لوک سبھا نشست کی مجموعی پولنگ شرح کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس نشست پر ہفتے کو مجموعی طور پر 53 فیصد پولنگ ہوئی ہےانہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کی پانچ پارلیمانی نشستوں پر کل ملا کر 58فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ 35برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
