جموں و کشمیر
مرکزمیں جو بھی نئی حکومت بنے گی ہم امید کرتے ہیں کہ مسائل کے پر امن حل کے لئے حقیقت پسندانہ پالیسی اپنائے گی :میر واعظ
سری نگر، میرواعظ مولوی عمر فاروق نے جمعے کے روز کہا کہ اگلے ہفتے بھارت میں جو بھی نئی حکومت بنے گی ہم امید کرتے ہیں کہ وہ اقتدار میں آکر کشمیر کے انسانی اور سیاسی مسئلہ سمیت تمام مسائل کے پر امن حل کیلئے ایک حقیقت پسندانہ اور انسانی رویے سے عبارت پالیسی اپنائے گی ۔
انہوں نے کہاکہ جہاں تک میرے اور حریت کانفرنس میں شامل باقی ساتھیوں کا تعلق ہے تو ہمارا ہمیشہ سے یہی اصولی موقف رہا ہے کہ بات چیت اور پر امن مذاکرات ہی مسائل کے حل کا واحد راستہ ہے اور ہم ہمیشہ اسی پرزور دیتے رہیں گے۔
میرواعظ کشمیرمولوی محمد عمر فاروق نے حکام کی جانب سے انہیں بار بار گھر میں نظر بند کرنے کے ضمن میں اختیار کی گئی پالیسی کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں آئے روز بلا جواز گھر میں کبھی نظر اور کبھی رہا کرکے حکومت اس اقدام سے کیا حاصل کرنا چاہتی ہے یہ ہماری سمجھ سے بالا تر ہے۔
ان کے مطابق مسلسل چار جمعہ یعنی 3 مئی2024 سے نظر بند ی کے بعد پہلی بار مرکزی جامع مسجد سرینگر میں اج نماز جمعہ سے قبل ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے
میرواعظ نے کہا کہ انہیں جان بوجھ کر جامع مسجد کے منبر و محراب سے دور رکھا جارہا ہے یہاں تک کہ میرے خاندان کے افراد اور خود ان کے خلاف ایک سلسلہ وار پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔
میر واعظ نے کہا:’ سال2018 میں قدیم تعلیمی انجمن نصرة الاسلام، انجمن اوقاف جامع مسجد، دارالخیر میرواعظ منزل کی ملی جائیدادوں کو بھی میری ذات کے ساتھ منسوب کرنے کی کوشش کی گئی اور ابھی پچھلے دنوں ہی میرے اور میرے ایک قریبی عزیز جو کہ ایک ایماندار سرکاری آفیسر ہے کیخلاف باضاطہ ایف آئی آر درج کرکے یہ گمراہ کن اور مفروضوں پر مبنی پروپیگنڈا کرکے ہمیں اور ہمارے عزیز کو ہراساں کرنے کی مذموم کوشش کی گئی۔‘
کہا گیا کہ جس مکان میں رہ رہے ہیں وہ ہماری ملکیت نہیں ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ شہید ملت نے1973 میں باضابطہ قانونی دستاویزات کےساتھ وہ زمین خریدی اور اس پر مکان تعمیر کیا اور اسی سال میری پیدائش کا بھی سال ہے اور اس مکان کی چار دیواری من و عن اسی طرح ہے۔
انہو ں نے کہا کہ اگر میرواعظین کشمیر کا مقصد مال و جائیداد کا حصول ہوتا تو آج ہمارے پاس بے پناہ مال و جائیداد ہوتا جس کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔
میرواعظ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے نئے نئے قوانین وضع کرکے کشمیری عوام اور یہاں کے نوجوانوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کیا جارہا ہے حتیٰ کہ ملازمتوں اور پاسپورٹوں کے حصول کیلئے بھی انہیں شدید تناﺅ اور پریشانی میں ڈالا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے لوگوں خصوصاً نوجوانوں کا یہاں کی سرزمین ،وسائل اور ملازمتوں پر پہلا حق ہے اور انہیں کسی بھی بہانے اس حق سے محروم نہیں کیا جاسکتااور ہم حکام سے اس طرح کے ہراساں کرنے کے اقدامات اور امتیازی سلوک روا رکھنے کی پالیسی پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
میرواعظ نے کہا کہ اگلے ہفتے بھارت میں جو بھی نئی حکومت بنے گی ہم امید کرتے ہیں کہ وہ اقتدار میں آکر کشمیر کے انسانی اور سیاسی مسئلہ سمیت تمام مسائل کے پر امن حل کیلئے ایک حقیقت پسندانہ اور انسانی رویے سے عبارت پالیسی اپنائے گی ۔
میرواعظ نے کہا کہ جامع مسجد کے تاریخی منبر ومحراب سے ہمیشہ یہاں کے عوام کے مسائل، مشکلات اور حق و صداقت کی ترجمانی ہوتی رہی ہے اور مشکلات کے باوجود بھی ہوتی رہے گی۔
دریں اثنا میرواعظ نے جموں ضلع کے اکھنور سیکٹر میں یاتریوں سے بھری ایک بس کے سڑک حادثے میں 22 افراد کے جاں بحق اور64 افراد کے زخمی ہونے پر شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین کے ساتھ اپنی دلی تعزیت اور ہمدردی اور زخمی افراد کے فوری شفایابی کے لئے دعا کی ہے۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
