ہندوستان
مودی حکومت جموں و کشمیر کی زمینی صورتحال پر سنجیدہ نہیں: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے جموں و کشمیر کے کٹھوعہ میں دہشت گردانہ حملے میں پانچ فوجیوں کی شہادت اور پانچ دیگر کے شدید زخمی ہونے پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت وہاں کی زمینی حقیقت کے حوالہ سے سنجیدہ نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ دہشت اب وادی کشمیر سے جموں میں منتقل ہو چکی ہے اور حکومت ٹھوس اقدامات نہیں کر پا رہی ہے کانگریس کے ترجمان اور ایم پی دیپیندر ہڈا نے منگل کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ فوجی ماہرین کا خیال ہے کہ فوج پاکستان کے بجائے چین کی سرحد پر لداخ کی طرف بڑھ گئی ہے، جس کی وجہ سے دہشت گرد سرگرم ہو گئے ہیں۔ حکومت جموں و کشمیر کی حقیقی صورتحال کو پیش کرنے کے بجائے شیخی بگھار رہی ہے اور یہ زیادہ خطرناک ہے۔
انہوں نے مادر وطن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا، “فوجی ماہرین کے مطابق حملوں کی بڑی وجہ فوج کی تعیناتی کا پاکستان کی طرف کم اور لداخ کی طرف زیادہ ہونا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس بارے میں پہلے سے چوکنا رہنا چاہیے تھا لیکن مودی حکومت جموں و کشمیر کی زمینی صورتحال پر سنجیدہ نہیں ہے۔ وہ ملک کے سامنے اپنا نریٹیو پیش کرنے میں زیادہ مصروف ہیں۔
انہوں نے شہیدوں کے اہل خانہ کے تئیں گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اس حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ کٹھوعہ میں فوج کی گاڑیوں پر حملہ انتہائی سنگین اور قابل مذمت ہے۔ پوری قوم شہید فوجیوں کو سلام پیش کرتی ہے اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت چاہے کچھ بھی کہے، جموں و کشمیر میں حملے جاری ہیں۔ انہوں نے کہا، “گزشتہ دسمبر کے شروع میں، ہمارے چار فوجی راجوری میں شہید ہوئے تھے۔ کولگام میں ایک انکاؤنٹر ہوا، جس میں ہمارے دو فوجی شہید ہوئے۔ اسی طر 26 جون کو ڈوڈہ میں دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا۔ اس سے قبل 9 جون کو بھی ایک بس پر دہشت گردانہ حملہ کیا گیا تھا۔ لہذا کانگریس پارٹی اس مسئلہ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کی توجہ اس مسئلہ کی طرف مبذول کرانا چاہتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے لے۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ نے کہا، “راہل گاندھی جی نے کہا کہ مسلسل دہشت گردانہ حملوں کا حل سخت کارروائی سے ہوگا، خالی وعدوں سے نہیں۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جنوری 2023 کے بعد جموں خطے میں دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والے شہریوں اور سیکورٹی فورسز کی تعداد دوگنی ہو گئی ہے۔ دہشت گردی کے واقعات کا مرکز اب وادی کشمیر سے جموں منتقل ہو گیا ہے جس سے کانگریس پارٹی کافی فکرمند ہے۔
انہوں نے کہا کہ مودی سرکار جب بھی کوئی اسکیم لاتی ہے تو اسے دہشت گردی سے جوڑتی ہے اور کہتی ہے کہ دہشت گردی کو ختم کر دیا جائے گا۔ یہاں تک کہ جب ملک میں نوٹوں کی منسوخی ہوئی اور جموں و کشمیر سے اسپیشل اسٹیٹ ایکٹ کو ہٹانے کا کام ہوا، تب بھی دہشت گردی کو ختم کرنے کی بات کہی گئی تھی۔ لیکن اب حکومت کو جس قسم کی صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر سوچنا چاہیے ۔ پاکستان ‘فیلڈ اسٹیٹ’ کے دہانے پر پہنچ چکا ہے، لیکن پھر بھی اس میں ایسی بے باکی ہے۔ اب پاکستان کو جواب دینے کا وقت ہے۔ ایک ذمہ دار اپوزیشن کے طور پر ہم ملکی سلامتی کے لیے حکومت کے ساتھ ہیں۔
یو این آئی۔ م ع۔ 1836
ہندوستان
ووٹر فہرست کی خامیوں کے لیئے سافٹ ویئرکوموردالزام ٹھہرانا ناقابل قبول: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے اتر پردیش قانون ساز کونسل کے انتخابات کی ووٹر فہرست میں خامیوں کے تعلق سے الیکشن کمیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچانے کے لیے کی گئی منظم سازش کا الزام سافٹ ویئرلگانے کی کوشش ناقابل قبول ہے۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ اتر پردیش قانون ساز کونسل کے انتخابات کی ووٹر فہرست میں ایک ووٹر کا نام ‘رام نے یادو کو مارا’ اور اس کے والد کا نام ‘مورکھ چندر یادو’ درج ہے۔ اسی طرح ایک ووٹر کے والد کا نام ‘بی کام’ اور ایک دوسرے ووٹر کا نام ‘رام نے شرما کا نام’ درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر فہرستوں کو درست کرنے کے اعلان کردہ مقصد سے شروع کیے گئے خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے عمل نے ان فہرستوں کی ساکھ کو مزید شکوک و شبہات کے دائرے میں لا کھڑا کیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ لوک سبھا اور ہریانہ، مہاراشٹر نیز مغربی بنگال سمیت مختلف ریاستوں کے انتخابات میں ووٹ چوری کے حوالے سے لوگوں کے شبہات اب یقین میں بدلتے جا رہے ہیں۔ ان کی پارٹی کا واضح موقف ہے کہ بی جے پی نے الیکشن کمیشن کے ساتھ ملی بھگت کرکے انتخابات جیتے ہیں۔ ووٹ چوری کے معاملے پر لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے سوالات کا جواب دینے کے بجائے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی پارٹی بی جے پی مسٹر گاندھی پر ذاتی حملے کر رہی ہے۔
کانگریس نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے فوری استعفے، بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے مقصد سے چلائے جا رہے ایس آئی آر کے عمل پر روک لگانے، ووٹر فہرست کی غیر جانبدارانہ جانچ کرانے، مکمل مشین ریڈیبل ڈیٹا عام کرنے اور ہر اہل شہری کے حق رائے دہی کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے یوم تاسیس پر آئی ٹی بی پی کے دلیر جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ہند تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے جوانوں، جنہیں عام طور پر باہمت جوان کہا جاتا ہے، کی غیر معمولی بہادری، عزم اور بے لوث خدمات کی ستائش کی۔ انہوں نے فورس کے یوم تاسیس پر مبارک باد دیتے ہوئے ملک کی سلامتی کے تحفظ میں اس کے جوانوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں مودی نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے جوانوں نے اپنی غیر معمولی بہادری سے نمایاں شناخت بنائی ہے اور ہر چیلنج کا مسلسل غیر معمولی عزم کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ان کی بے لوث خدمات اور قربانیاں ملک کے لیے بے پناہ ترغیب کا ذریعہ ہیں۔”
ہند تبت سرحدی پولیس کا قیام 24 اکتوبر 1962 کو ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ کے بعد ہمالیائی سرحد پر سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ یہ ہندوستان کی مرکزی مسلح پولیس فورسز میں سے ایک ہے اور بنیادی طور پر ہندوستان اور چین کی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اس کے جوان دنیا کے انتہائی دشوار گزار بلند پہاڑی علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔
اس فورس کے جوان سخت موسمی حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں، جہاں انہیں نقطۂ انجماد سے نیچے درجہ حرارت، خطرناک پہاڑی درّوں، دشوار گزار راستوں اور آکسیجن کی کمی جیسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کی خصوصی تربیت انہیں مشکل گشت انجام دینے اور حساس سرحد پر مسلسل نگرانی رکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اکثر انہیں ایسے دور دراز علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے، جہاں پہنچنا اور ضروری سامان فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران باہمت جوانوں نے پہاڑی علاقوں میں آفات سے نمٹنے، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں اور انسانی امداد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی عملی مہارت اور برداشت نے انہیں ہندوستان کی سرحدی سلامتی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ بنا دیا ہے۔
فورس کے یوم تاسیس پر مودی کے پیغام میں ان جوانوں کی لگن اور قربانیوں کو تسلیم کیا گیا، جو ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے انتہائی دشوار حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ سالانہ دن فورس کی شاندار روایات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لیے اس کے جوانوں کے عزم کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ جوان اکثر اپنے اہل خانہ سے دور رہ کر ملک کے انتہائی سخت اور دشوار گزار علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
نئی دہلی، مرکزی وزارت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے نئی دہلی میں واقع کمیشن میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ضرورت کے مطابق تقرریوں کی تعداد 2 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ان عہدوں کو ضرورت کے مطابق پُر کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت 2 سے کم اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری بھی کرسکتی ہے۔
محکمے نے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اہلیت کی شرائط اور درخواست کا مقررہ نمونہ سرکاری ویب سائٹ سے حاصل کرلیں۔ تقرری کے لیے غور کیے جانے کی خاطر امیدواروں کو اپنی مکمل طور پر بھری ہوئی درخواست 20 نومبر 2026 تک محکمے میں جمع کرانی ہوگی۔
یو این آئی۔ ایم جے
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان7 days agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
