تازہ ترین
جنوبی کشمیر میں24 گھنٹوں میں 11اغوا،ڈی ایس پی کے بھائی سمیت3رہا، ہائی الرٹ کی خبر افوا
خبر اردو :
جنوبی کشمیر کے پلوامہ،ترال ،اونتی پورہ، شوپیان ،یاری پورہ،کجر،بجبہاڑہ علاقوں میں رہائش پزیر کئی پولیس افسران کے ساتھ ساتھ تقریباً11پولیس اہلکاروں کے قریبی رشتہ داروں کوجنگجوؤں نے بندوق کی نوک پر اغوا کر نے کے بعد نا معلوم مقام پر پہنچا دیا ہے جس کی وجہ سے مغویہ اہلکاروں کے افراد کنبہ زبردست پریشانیوں میں مبتلا ہوئے ہیں ۔ذرائع سے معلوم ہوا کہ اغواکاری کا یہ سلسلہ جنونی کشمیر کے قصبہ ترال سے 3کلومیٹر دور پنگلش ترال سے بدھ کی شام سے ہوا ہے جہاں جنگجوں نے جموں کشمیر پولیس کے ایک اہلکار کے اعلیٰ تعلیم یافتہ بیٹے کو اغوا کرنے سے شروع کیا ہے ۔مزکورہ واقعے کے فوراً بعد اسی رات پولیس نے شبانہ چھاپے کے دوران حزب المجاہدین کے آپریشنل فیلڈ کمانڈر ریاض احمد نائیکوساکنہ بیگ پورہ اونتی پورہ کے معمر والد اسد اللہ نائیکو چھاپے کے دوران گھرسے گرفتار کرنے کے علاوہ پلوامہ میں سرگرم جنگجو لطیف ٹائیگر کے والدکو بھی گرفتار کے کے تھانوں میں بند رکھا ہے۔جنگجوں کے افراد خانہ کی گرفتاری ،شوپیان میں ایک جنگجوں کے مکان کو آگ لگانے ،رہائشی مکانوں کی توڑ پھوڑ اور رشتہ داروں کی مبینہ مار پیٹ کے واقعات کے فوراً بعد کولگام ،شوپیا ن ،اننت ناگ ،پلوامہ ۔اونتی پورہ ،بجبہاڑہ وغیرہ علاقوں میں رہائش پذیر جموں کشمیر پولیس کے اہلکاروں کے گھروں میں جمعرات کی شام جموں کشمیر پولیس کے کئی افسران سمیت 11اہلکاروں کے قریبی رشتہ داروں کے گھروں میں داخل ہو کر انہیں بندوق کی نوک پر اغوا کر کے نا معلوم مقام پر پہنچا دیا ہے ۔
پولیس ذرائع نے جمعرات کی شام سے اغوا کئے گئے افراد کی شناخت عدنان احمد شاہ ولد محمد اشرف شاہ ساکنہ شوپیان ، ناصر اسلم میر ولد غلام حسن میر ساکنہ مڈورہ اونتی پورہ ،یاسر احمد بٹ ولد بشیر احمد بٹ ساکنہ وتھوں شوپیان،سمیر احمد راتھر ولد عبد الاسلام راتھر ،گوہر احمد ملک ولد عبد الحمید ملک ساکنان یاری پورہ منظور احمد الاہی ولد محمد احسن الاہی ساکنہ کجر فرصل یاری پورہ،محمد شفی میر عبد الاسلام میر ساکنہ نامن پلوامہ زبیر احمد بٹ ولد محمد مقبول بٹ ساکنہ بجبہاڑہ ،عارف احمد شنکار ساکنہ بجبہاڑہ،فیضان احمد مکرو بشیر احمد مکرو ساکنہ یاری پورہ کولگاشام ہیں ۔مغویہ افراد میں جموں کشمیر پولیس کے2ڈپٹی سپر انٹڈنٹ اور ایک انسپکٹر کے قریبی رشتہ دار بھی شامل ہے۔
اس دوران گیارہ مغویہ افراد میں سے 3کو جنگجوؤں نے جمعہ روز بعد نماز جمعہ رہا کر دیا ہے جن میں ڈی ایس پی اعجاز احمد ملک کے برادر گوہر احمد ملک ساکنہ کولگام ،سمیر احمد راتھر ولد عبد الاسلام راتھریاری پورہ کولگام کے علاوہ محمد شفی میر ساکنہ کاکا پورہ پلوامہ شامل ہیں ۔جنوبی کشمیر میں اغواکاری کے ان واقعات کے بعد وادی کے شمال و جنوب میں زبردست خوف و دہشت کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ محکمہ پولیس میں کام کر رہے سینکڑوں اہلکاراور ان کے اہل خانہ زبردست تذبزب کے شکار ہوئے ہیں۔اگرچہ عام لوگوں کا خیال ہے کہ اغوا کاری کا سلسلہ جنگجوں کے اہل خانہ کو فورسز کی جانب سے تنگ طلب کرنے گرفتاریوں ،توڑپھوڑ کرنے جیسے واقعات کے خلاف کرنے کا امکان ہے تاہم اس حوالے سے جنگجوں کی جانب سے تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے کہ پولیس اہلکاروں کے رشتہ داروں کو جنگجوؤں کے افراد کنبہ کو تنگ طلب کرنے پر بدلہ لینے پراغوا کیا گیا ہے یا اور کوئی وجہ کار فرما ہو سکتی ہے ؟۔ادھر سکاسٹ یونیورسٹی کے طلباء نے اغوا کاروں نے عاصف احمد ساکنہ پنگلش ترال کے طالب علم کو فوری رہا کرنے کی اپیل کی ہے۔
پولیس ذرائع نے اغواکاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ واقعے کے حوالے سے تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔اسی دوران انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر زون ایس پی پانی نے بتایا کہ پولیس واقعے کے حوالے سے تفصیلات جمع کر رہی ہے ۔ تاہم انہوں نے ان افواہوں کو مسترد کیا ہے کہ وادی میں اغواکاری کی بڑھتی وارداتوں کے بعد ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے ۔KNS
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
