تازہ ترین
این سی کے سایے تلے سیاسی جماعتوں کا اجلاس ،ایڈوکیٹ تشار مہتا کو ہٹانے پرسبھی جماعتیں متفق
خبر اردو:
نیشنل کانفرنس صدر اور رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے جمعرات کو اپنی رہائش گاہ واقع گپکار پر مختلف سیاسی جماعتوں کے لیڈران کا اجلاس کا انعقاد عمل میں لایا۔اجلاس میں نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ، جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، سینئر لیڈران عبدالرحیم راتھر، محمد شفیع اوڑی، سینئر کانگریس لیڈر تاج محی الدین، سینئر سی پی آئی ایم لیڈر محمد یوسف تاریگامی، ڈی پی ایم کے سربراہ غلام حسن میر اور دیگر لیڈران بھی موجودتھے۔اجلاس کے دوران ریاست کی موجودہ سیاسی اور سیکورٹی صورتحال کے بارے میں کھل کر تبادلہ خیالات کیا گیا ۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اجلاس میں موجود سیاسی جماعتوں کے لیڈران اور نمائندوں کو نیشنل کانفرنس کی طرف سے پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کے فیصلے کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کیا اور دفعہ35اے کے دفاع کیلئے آگے کے لائحہ عمل کیلئے شرکاء سے رائے مانگی۔ اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ آج کے اجلاس میں دفعہ35اے کے کیس میں سپریم کورٹ میں ریاستی حکومت کی پیروی کرنے والے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل تشار مہتا کو فوری طور تبدیل کرنے اور سپریم کورٹ میں ریاست میں نئی عوامی حکومت کے قیام تک کیس کی سماعت بند کرنے کے مطالبے پر اتفاق پایا گیا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ریاستی حکومت کی طرف سے پیش ہوئے وکیل تشار مہتا نے حکومت کے مؤقف سے ہٹ کر بات کی ، جس کا اعتراف حکومت نے بھی کیا ہے۔ حکومت نے انہیں سپریم کورٹ میں اپنی دلیل سنانے کیلئے نہیں بلکہ حکومتی موقف سامنے رکھنے کیلئے بھیجا تھا۔ اس بنیاد پر اب ان پر بالکل بھی بروسہ نہیں رہا اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تشار مہتا کو فوری طور پر ہٹایا جائے اور اس کیس کی پیروی کرنے والے سابق وکلاء صاحبان کو واپس دفاع کیلئے لایا جائے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ کئی جماعتوں نے مرکزی سرکار سے دفعہ35اے سے متعلق اپنی پوزیشن واضح کرنے کیلئے کہا تھا لیکن آج تک مرکز کی طرف سے کچھ بھی سامنے نہیں آیا۔انہوں نے کہا کہ ریاست پر آج بھی دوسرے معنوں میں مرکز ہی حکومت کررہا ہے اور یہاں حکومت ہند کے ہی اشارے چلیں گے۔ اس لئے ہم نے اس بات کا فیصلہ کیا کہ 9جنوری کو سپریم کورٹ کواس بات کی درخواست کی جائے گی کہ ریاست میں نئی عوامی حکومت کے قیام تک سماعت بند کی جائے۔ ’ریاست میں الیکشن ہونگے، نئی حکومت بنے گی اور وہ صحیح طریقے سے کیس کا دفاع کریگی۔‘ایک سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے دفعہ35اے کو پنچایتی انتخابات سے نہیں جوڑا بلکہ مرکز نے ہی سپریم کورٹ میں بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کی بنیاد پر سماعت ملتوی کروائی۔ مرکزی سرکار نے ہی دفعہ35اے کو الیکشن کیساتھ جوڑا۔ ہم سے بار بار پوچھا جارہاہے کہ آپ نے کرگل الیکشن میں حصہ لیا تو پنچایتی و بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ کیوں کیا جارہا ہے؟ اگر مرکز نے کرگل الیکشن کو بھی دفعہ35اے کیساتھ جوڑا ہوتا تو ہم اُس میں بھی حصہ نہیں لیتے۔ مرکز نے ہی ان انتخابات کی بنیاد پر سپریم کورٹ میں سماعت ملتوی کروائی ، اس کے بعد ہمیں فیصلہ لینا پڑا۔
ایک سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہا کہ ریاست کی سب سے بڑی 2سیاسی جماعتیں الیکشن میں حصہ نہیں لے رہی ہیں ، اگر اس کے باوجود بھی حکومت کو لگتا ہے کہ انتخابات کا انعقاد کرانا صحیح ہے تو بے شک وہ الیکشن کروائیں۔ نیشنل کانفرنس کی موجودگی ریاست کے تینوں خطوں میں ہے اور پی ڈی پی کی بھی اپنی اہمیت ہے ۔ ریاست کے سابق 3وزرائے اعلیٰ ان ہی دو جماعتوں سے رہے ہیں۔ اگر ان دو جماعتوں کے بنا الیکشن واقعی کوئی معنی رکھتے ہیں تو ریاستی حکومت شوق سے الیکشن کروائیں، ہم نے کسی کو ووٹ ڈالنے کیلئے نہیں روکا ہے۔ ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے کہا کہ دفعہ35اے سے متعلق صرف علیحدگی پسند اور مین سٹریم کا ہی ایک موقف نہیں بلکہ اس دفعہ کو بچانے کیلئے ریاست کا ہر ایک باشندہ کوئی بھی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں۔ یہاں تک کہ بھاجپا کے متعدد ممبرانِ اسمبلی نے کھل کر اس دفعہ کی دفاع کی بات کی۔ دفعہ35اے سے متعلق جو ہڑتالیں کی گئیں ، وہ خود اپنی کہانی بیان کرتی ہیں، اس دوران وہ دکانیں بھی بند رہیں جو شائد گذشتہ25سال میں کبھی بند نہیں ہوئی تھیں۔
ہندوستان
مودی حکومت کی پالیسیوں نے معاشی لبرلائزیشن کو برباد کر دیا: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت نے عام لوگوں کے مفادات کو نظر انداز کر کے صارفین کے لیے متعدد اختیارات کی مسابقت کو ختم کر دیا ہے اور منتخب سرمایہ دار دوستوں کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، جس سے معاشی لبرلائزیشن کی بنیاد برباد ہو گئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا کہ مودی حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کا کنٹرول اپنے چہیتے سرمایہ دار دوستوں کے ہاتھوں میں سونپنا ہے، تاکہ بدلے میں منافع میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حصہ برقرار رہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسابقت کو ختم کر کے اجارہ داری اور دو کمپنیوں کے غلبے والے نظام کو نافذ کر کے بی جے پی کے خزانے کو بھرنے کا کام کیا گیا ہے۔
کانگریس صدر نے کہا کہ ٹیلی کام کے شعبے میں 2014 سے پہلے 13 کمپنیاں تھیں، جبکہ اب صرف تین بڑی نجی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔ اسی طرح اندرونِ ملک ہوا بازی کے شعبے میں 2014 سے پہلے سات کمپنیوں کے مقابلے اب صرف دو بڑی کمپنیاں رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگی، سیمنٹ اور فوڈ ڈیلیوری ایپس سمیت مختلف شعبوں میں حکومت کی ترجیح مسابقت کو ختم کرنا رہی ہے۔ مسٹر کھرگے نے کہا کہ کانگریس معاشی لبرلائزیشن کی بانی ہے، جبکہ بی جے پی پر اپنے منافع کے لیے ‘معاشی دہشت گردی’ نافذ کرنے کا الزام لگایا۔
مسٹر کھرگے نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) اور دیگر چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو نقصان پہنچا ہے نیز ملک کے نوجوانوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
انڈیا اتحاد کے رہنماؤں سے جمعہ کی رات آٹھ بجے ملاقات کریں گی مرمو
نئی دہلی، انڈیا اتحاد کے رہنما جمعہ کی رات آٹھ بجے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کر کے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کےعمل کے ذریعے دھاندلی کرنے اور الیکشن کمیشن کے طریقہ کار سے متعلق مسائل پر اپنے خدشات پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق انڈیا اتحاد کے رہنماؤں نے 30 ستمبر کو یہاں منعقدہ میٹنگ میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کر کے ان مسائل پر ان کے سامنے اپنا موقف رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اتحاد کے رہنما ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار سے متعلق اپنے خدشات سے صدرِ جمہوریہ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں صدرِ جمہوریہ سے ملاقات کے لیے پہلی بار دو اکتوبر کو مکتوب بھیج کر وقت مانگا گیا تھا۔ راشٹرپتی بھون کی طرف سے وفد میں شامل ہونے والے رہنماؤں کے نام مانگے جانے کے بعد اتحاد نے پانچ اکتوبر کو دوبارہ مکتوب بھیجا اور سات، آٹھ یا نو اکتوبر میں سے کسی بھی دن ملاقات کا وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
انڈیا اتحاد کے رہنما چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلیوں کے تعلق سے سوال اٹھاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اتحاد کے اراکینِ پارلیمنٹ نے مظاہرے اور مارچ بھی نکالے ہیں۔
کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنے احتجاج کو تیز کرنے کے لیے تقریباً ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والی تحریک کے پروگرام کی بھی توثیق کی ہے۔ کانگریسی رہنما راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کو پولیس مظاہرے کے دوران مسلسل دو بار حراست میں بھی لے چکی ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان نے امریکہ کے پی ای آر ایم پروگرام پر روک پر تشویش کا اظہار کیا، کہا – یہ دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف
نئی دہلی، ہندوستان نے امریکی محکمہ محنت کے مستقل لیبر سرٹیفیکیشن پروگرام (پی ای آر ایم) سے جڑے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف بتایا ہے۔
امریکہ کی جانب سے جمعرات کی رات اس قدم کے اعلان کے بعد وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز ایک بیان جاری کر کے کہا کہ اس قدم سے متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کے گرین کارڈ کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم پی ای آر ایم درخواستوں پر روک سے موجودہ ایچ-1بی ویزا یا ویزا ہولڈرز اور ان کے زیرِ کفالت افراد کی حیثیت پر خود بخود کوئی اثر نہیں پڑتا۔
ہندوستان نے کہا کہ پی ای آر ایم پروگرام، ایچ-1بی ویزا پروگرام سے مختلف ہے۔ متاثرہ کمپنیوں کے اہل ملازمین کی مستقل رہائش یعنی گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل پر اس کا کچھ اثر ہو سکتا ہے، لیکن اس سے موجودہ ایچ-1بی ویزا کی میعاد اپنے آپ ختم نہیں ہوتی۔
وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستانی ٹیلنٹ کے امریکہ جانے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس سے ہندوستانیوں کو مواقع ملتے ہیں، جبکہ امریکی کمپنیوں کو ہنر مند ملازمین، نئی ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت طرازی، پیداواری صلاحیت اور مسابقتی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور شیئر ہولڈرز کے اثاثوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ہندوستان نے کہا کہ امریکہ کا یہ قدم دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں کرتا۔ ہندوستان نے امریکی نائب صدر کے اس معاملے پر کیے گئے تبصروں پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ ہندوستان کے مطابق ایسے تبصرے غیر مناسب ہیں اور امریکہ کی معیشت نیز جدت طرازی میں ہندوستانی پیشہ ور افراد کی خدمات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ کی معیشت اور جدت طرازی کے نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکہ کی تاریخ بھی ایسے تارکینِ وطن کی خدمات سے بنی ہے جنہوں نے اپنے کام، کاروبار اور نئے خیالات سے ملک کی ترقی میں مدد کی ہے۔ ہندوستان نے کہا کہ دردناک تاریخی اور نوآبادیاتی دور کی یاد دلانے والے الفاظ کا استعمال انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ اس معاملے سے جڑی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoقطری ثالثی کی امریکہ، ایران کے درمیان مذاکرات میں معمولی پیش رفت
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر7 days agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
ہندوستان1 week agoشیئر بازاروں میں گراوٹ جاری، سینسیکس 49 پوائنٹس پھسلا
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے 279ویں سالانہ دن پر کئی نئی پہل کی شروعات کریں گے راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجاوید ڈار نے اسمبلی میں سی اے جی کی رپورٹیں پیش کیں
-
دنیا6 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر کا عمر پر ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام، جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس ’بدقسمت‘ قرار
