فن و ادب
کمار شانو طویل عرصے تک سامعین کے دلوں پر راج کیا
(22 ستمبر سالگرہ کے موقع پر)
ممبئی اسٹیج سے اپنے کیریئر کا آغاز کرکے شہرت کی بلندیوں تک پہنچنے والے بالی وڈ کے مشہور گلوکار کمار شانو آج بھی سامعین کے دلوں پر راج کر رہے ہیں۔کمار شانوکا اصل نام کیدارناتھ بھٹاچاریہ ہے۔ ان کی پیدائش 22ستمبر 1957 کو کولکتہ میں ہوئی۔ ان کے والد پشوپتی بھٹاچاریہ ایک مشہور موسیقار تھے۔بچپن سے ہی کمار شانو کا رجحان موسیقی کی جانب تھا اور وہ گلوکاری بننے کا خواب دیکھا کرتے تھے۔ان کے والد نے موسیقی کے جانب بڑھتے رجحان کو دیکھتے ہوئے بیٹے کو طبلہ اور گاناسیکھنے کی اجازت دے دی۔کمار شانو نے اپنی گریجویشن کی تعلیم کولکتہ یونیورسٹی سے مکمل کی۔اس کے بعد انہیں کولکتہ کے کئی پروگراموں میں پلے بیک سنگر کی حیثیت سے اپنی کارکردگی پیش کی۔ کشور کمار سے متاثرہونے کی وجہ کمار شانو ان کی آواز میں ہی پروگراموں میں گیت گایا کرتے تھے۔80کی دہائی میں گلوکار بننے کا خواب لے کر وہ ممبئی آ ئے۔ ممبئی آنے کے بعد کمار شانو کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔یقین دہانی تو کئی لوگوں نے کرائی لیکن فلم میں کام کرنے کا موقع نہیں مل پایا۔ اس دوران ان کی ملاقات معروف غزل گلوکار اور موسیقار جگجیت سنگھ سے ہوئی جن کی سفارش پر انہیں فلم آندھیاں میں گانے کا موقع ملا۔سال 1989میں ریلیز فلم آندھیاں کی ناکامی سے کمار شانو کو گہرا صدمہ پہنچا۔اس دوران ان کی ملاقات موسیقار کلیان جی -انند جی سے ہوئی کلیان جی آنند جی نے ان کا نام کیدارناتھ بھٹاچاریہ سے بدل کر کمار شانورکھ دیا اور انہیں امیتابھ بچن کی فلم جادوگر میں گانے کا موقع دیا۔اگرچہ بدقسمتی سے یہ فلم بھی باکس آفس پر ناکام ثابت ہوئی۔کمار شانو کی قسمت کا ستارہ سال 1990میں آئی فلم عاشقی سے چمکا۔ بہترین گیت موسیقی سے آراستہ اس فلم کی زبردست کامیابی نے اداکار راہل رائے، گیت کار سمیر اور موسیقار ندیم-شرون کو نہ صرف شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا بلکہ کمار شانو کو فلم انڈسٹری میں اپنی ایک منفرد پہنچان بنانے میں مدد گار ثابت ہوئی۔فلم کے سدا بہار نغمات آج بھی ناظرین اور سامعین کو مسحور کر دیتے ہیں۔ندیم-شرون کی موسیقی میں کمار شانو کی آواز سے آراستہ نغمہ سانسوں کی ضرورت ہو جیسے، نظر کے سامنے جگر کے پار..اب تیرے بن جی لیں گے ہم.. دھیرے دھیرے سے میری زندگی میں آنا..میں دنیا بھولا دوں گا تیری چاہت میں،سامعین کے درمیان کافی مقبول ہوئے ان نغموں نے فلم کو سپر ہٹ بنانے میں اہم کردار نبھایا۔فلم عاشقی کی کامیابی کے بعد کمار شانو کو کئی بہترین فلموں کی پیشکش ملنا شروع ہو گئی جن میں سڑک، ساجن، دیوانہ، جادوگر جیسی بڑے بجٹ کی فلمیں شامل تھی۔ان فلموں کی کامیابی کے بعد کمار شانو نے کامیابی کی نئی بلندیوں کو چھو لیا اور ایک سے بڑھ کر ایک گیت گا کر سامعین کو محظوظ کیا۔فلم عاشقی کی کامیابی کے بعد موسیقار ندیم شرو ن، کمار شانو کے عزیز موسیقار بن گئے۔اس کے بعد کئی فلموں میں ان کی جوڑی نے اپنے نغموں اور موسیقی کے ذریعے سامعین کے دل جیتے۔ہندی فلم انڈسٹری میں مسلسل پانچ مرتبہ بہترین گلوکاری کے طور پر فلم فیئر ایوارڈ حاصل کرنے کا ریکارڈ کمار شانو کے نام درج ہے۔ان میں عاشقی (1990) ساجن (1991) دیوانہ (1992) بازیگر (1993)اور 1942اے لواسٹوری (1994)شامل ہیں۔سال 1993میں ایک دن میں 28گانے ریکارڈ کرنے کا ریکارڈ بھی کمار شانو بنا چکے ہیں۔ اس کے لئے ان کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی درج کیا گیا۔ہندوستانی سنیما میں ان کی شراکت کو دیکھتے ہوئے 2009میں انہیں ملک کے چوتھے سب سے بڑے شہری اعزاز پدم شری سے نوازا گیا۔عامر خان اور شاہ رخ خان جیسے نامور ہیرو کی آواز کہے جانے والے کمار شانو نے تین دہائیوں سے بھی زیادہ طویل کیریئر میں تقریباً دس ہزار فلمی اور غیر فلمی گانے گائے ہیں۔انہوں نے ہندی کے علاوہ بنگلہ فلموں کے گیتوں کو بھی اپنی آواز دی۔
یو این آئی۔ این یو۔
فن و ادب
رانی مکھرجی کو راج کپور خصوصی تعاون ایوارڈ
ممبئی، بالی ووڈ اداکارہ رانی مکھرجی کو ہندوستانی سنیما میں نمایاں تعاون اور مہاراشٹر کے ساتھ ان کی طویل وابستگی کے لیے مہاراشٹر حکومت کی جانب سے باوقار راج کپور خصوصی تعاون ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔
62ویں مہاراشٹر ریاستی فلم ایوارڈز کی تقریب میں وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے رانی مکھرجی کو یہ اعزاز پیش کیا۔
اعزاز ملنے پر رانی نے کہا، ’’میرے لیے مہاراشٹر صرف ایک ریاست نہیں ہے۔ مہاراشٹر میری جائے پیدائش، میری جائے کار اور میری زندگی کا لازمی حصہ ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’سنیما میرے لیے ایک گہرا جذبہ ہے اور مہاراشٹر اس جذبے کا گھر ہے۔ یہ ایوارڈ میرے لیے اس لیے بھی خاص ہے کہ یہ مجھے میرے اپنے لوگوں اور اس جگہ سے مل رہا ہے، جس سے میں گہری وابستگی رکھتی ہوں۔‘‘
ممبئی میں پیدا ہونے اور پرورش پانے والی رانی نے تقریباً 3 دہائیوں پر محیط اپنے فلمی کریئر میں ’بلیک‘، ’نو ون کلڈ جیسیکا‘، ’ہچکی‘، ’مردانی‘ سلسلے کی فلموں اور ’مسز چٹرجی ورسز ناروے‘ جیسی فلموں میں مؤثر کردار ادا کیے ہیں۔
رانی نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ ایسی کہانیوں اور کرداروں کا انتخاب کیا جن میں انہیں سچائی اور حوصلہ نظر آیا۔ انہوں نے پردے پر مضبوط خواتین کی نمائندگی کرنے کی اپنی کوشش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ہمیشہ ایسی خواتین متاثر کرتی رہی ہیں جو کسی دوسرے شخص کے انہیں بچانے کا انتظار نہیں کرتیں۔
رانی نے یہ اعزاز مہاراشٹر کے فنکاروں، تکنیکی ماہرین، فلم سازوں اور پوری فلم برادری کے نام کرتے ہوئے کہا کہ ریاست نے نسلوں سے ہندوستانی سنیما کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
رانی نے کہا، ’’جب بھی میں اس ایوارڈ کو دیکھوں گی، مجھے صرف ایک ایوارڈ نظر نہیں آئے گا۔ مجھے اپنا ممبئی، اپنا مہاراشٹر نظر آئے گا۔‘‘
یو این آئی۔ ایم جے
فن و ادب
جموں و کشمیر کی پانچ فلمیں پہلے بین الاقوامی فلم فیسٹیول کے لیے منتخب
سری نگر، جموں و کشمیر کے ہدایت کاروں کی بنائی ہوئی پانچ فلموں کو پہلے بین الاقوامی فلم فیسٹیول آف جموں و کشمیر 2026 کے مسابقتی ’’جموں و کشمیر سلیکٹ‘‘ حصے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
منتخب فلموں میں محمد ولی کی ہدایت کاری میں بننے والی ’سرچنگ فار دی گرینڈپا‘، روہن رویندرن نائر کی ’عریفہ‘، سدھارتھ کول اور انکت ولی کی ’بٹ کوچ‘ (گم شدہ گلی)، کپل متو کی ’تصرف دار‘ (کشمیر کے جنات) اور بابا تصدق حسین کی ’نقشِ دور‘ (غلام نبی دھر کی کہانی) شامل ہیں۔
حکام کے مطابق فیسٹیول کے لیے قائم پیش نظارہ کمیٹی نے موصولہ فلموں کا جائزہ لینے اور ان کی فنی خوبیوں اور مسابقتی حصے کے لیے موزونیت کا جائزہ لینے کے بعد ان فلموں کی سفارش کی۔ اس انتخاب میں مختلف النوع کہانیوں، اصناف اور نقطۂ نظر کو جگہ دی گئی ہے، جن میں خاص طور پر جموں و کشمیر کے ثقافتی ورثے، سماجی حقائق اور انسانی تجربات سے جڑی کہانیوں پر توجہ دی گئی ہے۔
کشمیری اور ہندی زبانوں میں بنائی گئی یہ پانچوں فلمیں بچپن، خاندان اور یادداشت سے لے کر نقل مکانی، شناخت، ورثے، ثابت قدمی اور کشمیر کے بدلتے سماجی منظرنامے جیسے موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں۔
’سرچنگ فار دی گرینڈپا‘ عید کے موقع پر کشمیر کے ایک گاؤں میں رہنے والے دو کم عمر بہن بھائیوں کی کہانی ہے۔ ’عریفہ‘ ایک ایسی خاتون کے گرد گھومتی ہے جو کشمیر میں اپنے آبائی گھر واپس آتی ہے اور بچپن اور اپنے والد سے جڑی یادوں کا سامنا کرتی ہے۔
’بٹ کوچ‘ ایک کشمیری مہاجر خاندان کی کہانی کے ذریعے نقل مکانی، شناخت اور گھر سے جڑے دیرینہ تصور کو پیش کرتی ہے۔ ’تصرف دار‘ کشمیر کے ماضی کے پراسرار واقعات، یادوں اور زخموں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے، جبکہ ’نقشِ دور‘ پدم شری سے سرفراز لکڑی کے ایک کاریگر کی زندگی اور خدمات کو پیش کرتی ہے جو سری نگر کے وسطی علاقے میں رہتے ہوئے کشمیر کی دستکاری، ثقافتی ورثے اور ثابت قدمی کو اجاگر کرتے ہیں۔
منتخب فلمیں چار روزہ بین الاقوامی فلم فیسٹیول کے مسابقتی پروگرام کا حصہ ہوں گی، جہاں ناظرین اور فلم سازوں کو جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والی منفرد فلمی آوازوں اور کہانیوں سے روبرو ہونے اور ان پر تبادلۂ خیال کا موقع ملے گا۔
یو این آئی۔ م ع
فن و ادب
جموں فلم فیسٹیول کا پانچواں ایڈیشن 28-29 ستمبر کو ہوگا: منتظمین
جموں، وومیدھ کی جانب سے دی اوانتی فاؤنڈیشن کے اشتراک سے پیش کیا جانے والا جموں فلم فیسٹیول (جے ایف ایف) کا پانچواں ایڈیشن 28 اور 29 ستمبر کو یہاں منعقد ہوگا۔
پیر کے روز اس کے پانچویں ایڈیشن کا باضابطہ اعلان کیا گیا، جو خطے کے ثقافتی اور سنیما کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے۔
پریس کانفرنس میں آئندہ ایڈیشن کا اعلان کرتے ہوئے فیسٹیول ڈائریکٹر راکیش روشن بھٹ نے تمام شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ “یہ سفر یقین، ثابت قدمی اور بے شمار افراد و تنظیموں کی حمایت سے ممکن ہوا ہے۔ ہم ان سب کے شکر گزار ہیں جنہوں نے جے ایف ایف کو ایک بامعنی پلیٹ فارم بنانے میں تعاون دیا۔ یہ سنگ میل پوری تخلیقی برادری کا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اس ایڈیشن کی ایک خاص جھلک بہترین مقامی پروڈکشن کے لیے ایک لاکھ روپے کا انعام ہوگا، جس کا مقصد علاقائی ٹیلنٹ کو فروغ دینا اور بین الاقوامی معیار کو برقرار رکھنا ہے۔
فیسٹیول ڈائریکٹر روہت بھٹ نے بتایاکہ“پانچویں ایڈیشن کے ساتھ ہم علاقائی کہانیوں کو فروغ دینے کی سمت ایک اہم قدم اٹھا رہے ہیں۔ بہترین مقامی پروڈکشن کے لیے ایک لاکھ روپے کا انعام رکھا گیا ہے تاکہ جموں و کشمیر کے فلم سازوں کو مضبوط پلیٹ فارم مل سکے۔”
فیسٹیول کے مشیر ڈاکٹر امیت وانچو نے کہا کہ جموں فلم فیسٹیول ایک معتبر پلیٹ فارم بن چکا ہے جو بامعنی سنیما کو فروغ دیتا ہے اور اس کی مسلسل ترقی منتظمین کی محنت اور معیاری کہانیوں میں بڑھتی دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے۔
شریک پیش کنندہ کی جانب سے سنجیو کاک نے کہاکہ“ہمیں خوشی ہے کہ ہم وومیدھ کے ذریعے جموں و کشمیر میں جے ایف ایف اور ٹی آئی ایف ایف ایس جیسے بین الاقوامی فلمی میلوں سے وابستہ ہیں۔ یہ پلیٹ فارم عالمی سنیما کو یہاں کے ناظرین تک پہنچانے اور مقامی ٹیلنٹ کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔”
وومیدھ کی مشیر بھاونا پنڈیتا نے کہا کہ تنظیم فن و ثقافت کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے اور جے ایف ایف جیسے اقدامات کے ذریعے فنکاروں اور فلم سازوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔
سینئر اداکارہ کسم ٹیکو نے کہا کہ ابتدا سے اس سفر کا حصہ ہونا خوش آئند ہے اور یہ دیکھ کر اطمینان ہوتا ہے کہ یہ پلیٹ فارم وقت کے ساتھ ایک اہم ثقافتی سنگ میل بن چکا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر1 week agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا7 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کے پتھریلے چیک ڈیمز نے 200 کیوسک سے زائد پانی کا بہاؤ برداشت کیا، اپشی میں معمولی شگاف
-
دنیا6 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا6 days agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
جموں و کشمیر1 week agoماتا لَلّیشوری مرکز نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کا ذریعہ ہوگا: جموں و کشمیر ایل جی
-
ہندوستان6 days agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
دنیا1 week agoایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
-
ہندوستان6 days agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
