تازہ ترین
وادی کے شمال و جنوب میں خونین تصاد م آرائیاں،3جنگجو، 2عام شہری، اہلکار سمیت 6افراد جاں بحق
خبراردو:
وادی میں تشدد کی تازہ لہر کے بیچ جمعرات کو شمالی، وسطی اور جنوبی کشمیر میں فوج اور جنگجوؤں کے درمیان الگ الگ خونین تصادم آرائیوں میں 3جنگجوؤں سمیت 2عام شہری جاں بحق ہوئے جبکہ اس دوران ڈورو قاضی گنڈ میں جنگجوؤں کی جوابی فائرنگ سے ایک فوجی اہلکار بھی ہلاک ہوا۔ ادھر فوجی آپریشن کے بیچ بھڑک اُٹھے عوامی احتجاج کو کچلنے اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فورسز نے الگ الگ مقامات پر طاقت کا استعمال کیا جس دوران 2درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں سے 9پیلٹ متاثرین کو نازک حالت میں سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ جمعرات کی علی الصبح 5بجے سیکورٹی فورسز نے شہر کے مضافاتی علاقے نورباغ قمرواری علاقے کو محاصرہ میں لیتے ہوئے یہاں گھر گھر تلاشی کاآغاز کیا۔ اطلاعات کے مطابق سیکورٹی فورسز کی بھاری جمعیت نے جنگجوؤں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد شہر کے نورباغ قمر واری علاقے کو کڑے محاصرے میں لے لیا جس دوران علاقے کی اندرون و بیرون سڑکوں پر فورسز کی اضافی نفری کو تعینات کرنے کے ساتھ ساتھ جگہ جگہ موبائل بنکروں کی تعیناتی یقینی بنائی گئی۔پویس نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ فورسزز نے جب مشتبہ مکان جو کہ محمد یعقوب ملک کا ہے، کے کی جانب پیش قدمی شروع کی تو مکان کے اندر چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے فورسز پارٹی پر فائرنگ جس کے بعد طرفین کے درمیان جھڑپ کا آغاز ہوا ۔ انہوں نے بتایا کہ اسی دوران طرفین کے درمیان گولیوں کے تبادلے کے دوران مالک مکان کا بیٹا محمد سلیم ملک گولیوں کی زد میں آکر جاں بحق ہوگیا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نوجوان کی ہلاکت سے متعلق حالات و واقعات کی چھان بین کررہی ہے۔ اس دوران نوجوان کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی شہر کے مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے جس کے بعد انتظامیہ نے پائین شہر کے مختلف علاقوں میں سخت کرفیو نافذ کردیا۔ انتظامیہ نے کسی بھی امکانی گڑ بڑ سے نمٹنے کی خاطر شہر کے مختلف علاقوں میں سخت بندشیں عائد کی جس دوران یہاں حساس مقامات پر فورسز اہلکاروں کے اضافے دستوں کو تعینات کردیا گیا۔

ا دھر نوجوان کے جلوس جنازہ میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی جنہوں نے اسلام و آزادی کے حق میں زور دار نعرے لگائے۔ انہوں نے اس موقعے پر مظاہرین نے فورسز کارروائی کے خلاف بھی جم کر نعرے بازی کی۔جلوس جونہی صفاکدل اور عیدگاہ کے مقام پر پہنچا تو یہاں رتعینات فورسز اہلکاروں نے جلوس کو تتر بتر کرنے کے لیے درجنوں آنسو گیس کے گولے داغنے کے ساتھ ساتھ پیلٹ فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کئی مظاہرین زخمی ہوئے۔ اس دوران ضلعی انتظامیہ نے افواہ بازی پر روک لگانے کے لیے جمعرات کی صبح سے ہی موبائل انٹرنیٹ خدمات کو معطل رکھا۔ادھر مقامی لوگوں نے پولیس بیان کو نکارتے ہوئے بتایا کہ علاقے میں کوئی بھی جھڑپ نہیں ہوئی ۔ انہوں نے بتایا کہ فورسز اہلکاروں نے علاقے کا محاصرہ کرتے ہوئے تلاشی کے دوران محمد سلیم ملک پر اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے اسے موقعے پر ہی جاں بحق کردیا۔

ادھر جنوبی کشمیر کے کولگام میں فوج کی 19آر آر نے گاسی گنڈ ڈورو میں ایک مصدقہ اطلاع ملنے پر ناکہ لگایا جس دوران یہاں جنگجوؤں کی ایک جمعیت کا فورسز کے ساتھ آمنا سامنا ہوا جس کے بعد ہتھیار بند جنگجوؤں نے فوجی اہلکاروں پر شدید فائرنگ کی جس کے ساتھ ہی طرفین کے درمیان جھڑپ کا باضابطہ آغاز ہوگیا۔ نمائندے کے مطابق اس موقعے پر فوجی اہلکاروں نے جنگجوؤں کو زیر کرنے کے لیے علاقے کے باہری راستوں پر اضافی دستوں کو تعینات کرتے ہوئے تمام راستوں کو مکمل طور پر سیل کردیا ۔ فوج نے اس موقعے پر علاقے میں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کے خلاف حتمی کارروائی کرتے ہوئے گھماسان کی لڑائی شروع کی جس کے نتیجے میں لشکر طیبہ کا مقامی کمانڈر آصف ملک عرف ابو عکاشا ساکن کھاہ گنڈ ویری ناگ جاں بحق ہوا۔ معلوم ہوا ہے کہ مہلوک جنگجو کمانڈر نے انجینئرنگ مضمون میں گریجویشن حاصل کی تھی اور بعد میں جنگجوؤں کی صفوں میں شامل ہوا تھا۔ طرفین کی گولہ باری کے نتیجے میں فوج کے 3اہلکار بھی بری طرح زخمی ہوگئے جن کی شناخت ہیپی سنگھ، بھوپندر سنگھ اور کلونت سنگھ کے طور پر کی گئی جنہیں بعد میں علاج و معالجے کی خاطر فوجی ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم ہیپی سنگھ نامی فوجی اہلکار یہاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ بیٹھا۔ ادھر معلوم ہوا ہے کہ جھڑپ کے دوران مزید جنگجو فوج کے چنگل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں جن میں معروف عسکری کمانڈر نوید جٹ بھی شامل ہیں۔ معلوام ہوا ہے کہ جھڑپ کے دوران نوید جاٹ بھی زخمی ہوا ہے تاہم فوج اور فورسز نے فرار ہوئے جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کے لیے بڑے پیمانے پر قاضی گنڈ اور جنوبی کشمیر کے دیگر علاقوں کا تلاشی آپریشن تیز کردیا ہے۔ادھر مہلوک جنگجو آصف ملک کو جونہی اپنی آبائی گاؤں ویری ناگ میں سپرد خاک کیا جارہا تھا تو یہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے اُن کی آخری رسومات میں شرکت کی۔ نمائندے کے مطابق اس موقعے پر جاں بحق جنگجو کی نماز جنازہ کئی بار ادا کی گئی جن میں جنوبی کشمیر کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے شرکت کی۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ جونہی آصف کا جلوس جنازہ رواں دواں تھا تو اسی دوران چند ہتھیار بند جنگجو نمودار ہوئے جنہوں نے اپنی ساتھی کو خراج عقیدت ادا کرنے کے لیے سلامی پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ جنگجوؤں نے اس موقعے پر ہوا میں گولیوں کے کئی راؤنڈ فائر کئے اور اسلام و آزادی کے حق میں زور دار نعرے بازی کی۔
ویڈیو دیکھیں:
ادھر جنگجو کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی ڈورو، لارکی پورہ، دیالگام، شاہ آباد، کیموہ سمیت متعدد علاقوں میں نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے فورسز کارروائی کے خلاف جم کر نعرہ بازی کی۔ نمائندے کے مطابق اس موقعے پر جنوبی اضلاع کے کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرین نے فورسز اہلکاروں پر سنگ باری کی جس کے جواب میں فورسز نے مظاہرین کو منتشرکرنے کے لیے آنسو گیس کے درجنوں گولے داغے جس دوران یہاں افرا تفری کا ماحول بپا ہوا۔ ادھر وسطی کشمیر کے پانزن بڈگام میں فوج اور جنگجوؤں کے درمیان خونین مڈبھیڑ میں حزب المجاہدین سے وابستہ 2جنگجو جاں بحق ہوئے جس کے بعد یہاں عوامی احتجاج بھڑک اُٹھا جسے منتشر کرنے کے لیے فورسز نے آنسو گیس کے گولے داغنے کے ساتھ ساتھ پیلٹ فائرنگ کی جس کے نتیجے میں یہاں درجنوں افراد زخمی ہوئے جن میں سے 9پیلٹ متاثرین کو شہر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال منتقل کیا گیا۔کے این ایس نمائندے کے مطابق فوج نے جمعرات کی صبح پانزن نامی بستی کو محاصرے میں لیتے ہوئے یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کی خاطر تلاشی آپریش شروع کردیا ۔ فوج، سی آر پی ایف اور ایس او جی کی مشترکہ تلاشی پارٹی جونہی پانزن نامی بستی میں داخل ہوگئی اور گھر گھر تلاشی کا باضابطہ آغاز کیا تو یہاں مسجد میں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے فورسز پارٹی پر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کردی جس کے ساتھ ہی یہاں بھی جھڑپ کا باضابطہ آغاز ہوگیا۔ پولیس نے بتایا کہ اس مسجد کے تقدس کو مدنظر رکھتے ہوئے جنگجوؤں کو خودسپردگی کرنے کی پیش کش کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ اس موقعے پر مقامی اوقاف کمیٹی سے بھی جنگجوؤں کو سرینڈر کرنے کو کہا گیا تاہم انہوں نے فورسز کے سامنے سرنڈر کرنے سے انکار کردیا جس کے بعد ہی مسجد میں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کے خلاف حتمی کارروائی تیز کی گئی جس کے نتیجے میں یہاں حزب المجاہدین سے وابستہ 2جنگجوؤں کوجاں بحقکردیا گیا۔ پولیس نے مارے گئے جنگجوؤں کی شناخت شیراز احمد بٹ ساکن کرالہ واری چاڈورہ اور عرفان احمد ڈار ساکن کاکہ پورہ پلوامہ کے بطور کی ۔ انہوں نے کہا کہ عرفان نامی جنگجو حزب میں شامل ہونے سے قبل محکمہ پولیس میں بطور ایس پی او کام کرتا تھا جس کے بعد وہ اچانک لاپتہ ہوا اور جنگجوؤں کی صف میں شامل ہوا۔
اس دوران جنگجوؤں کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہیں پانزن اور ملحقہ علاقوں میں زبردست افرا تفری پھیل گئی جس کے نتیجے میں یہاں عوامی مظاہرے بھڑک اُٹھے۔ نمائندے کے مطابق پانزن اور ملحقہ علاقوں میں نوجوانوں کی مختلف ٹکڑیوں نے فورسز اہلکاروں پر پتھراؤ کیا اور آزادی کے حق میں زور دار نعرے بازی کی تاہم فورسز نے انہیں منتشر کرنے کے لیے درجنوں آنسو گیس کے گولے داغنے کے ساتھ ساتھ پیلٹ فائرنگ کی جس کے نتیجے میں یہاں ایک درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ معلوم ہوا ہے کہ اس دوران زخمیوں میں سے 9پیلٹ متاثرین کو نازک حالت میں سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اُن کا علاج و معالجہ جاری ہے۔

ادھر جمعرات کو وادی بھر میں خونین تصادم آرائیوں کے مابعد حالات کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے انتظامیہ نے امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے سرینگر، بڈگام اور کولگام کے کئی علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ خدمات کو معطل رکھا۔ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ افسر نے کے این ایس کو بتایا کہ وادی بھر میں ممکنہ عوامی احتجاج کے پیش نظر انتظامیہ نے سرینگر، بڈگام اور کولگام کے کئی علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل رکھا تاہم جمعرات کی شام کو سرینگر میں انٹرنیٹ خدمات کو بحال کردیا گیا۔ اس دوران محکمہ ریلوے نے بھی مسافروں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے وادی بھر میں ریل خدمات کو بند کردیاہے۔

اس دوران مشترکہ مزاحمتی قیادت نے وادی بھر میں نہتے عوام کیخلاف اختیار کی گئی جارحانہ اور نسل کشی سے عبارت پالیسیوں، پائین شہر میں ایک نہتے شہری محمد سلیم ملک کو اپنے ہی گھر میں ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے جاں بحق کئے جانے، نام نہاد انتخابات کو بنیاد بناکر درجنوں حریت پسند قائدین اور کارکنوں کو پابند سلاسل کرنے اور وادی کے طول و ارض میں قتل و غارت گری، عوام کو زدو کوب کرنے اور تلاشی آپریشن کی آڑ میں فوجی آپریشن کے ذریعہ نوجوانوں کو جاں بحق کرنے کو بھارتی استعماریت کے مذموم حربے قرار دیتے ہوئے ان واقعات کیخلاف جمعتہ المبارک 28 ستمبر کو پوری ریاست جموں وکشمیر میں ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال کی اپیل کی ہے۔KNS
ہندوستان
لداخ میں 23 دنوں میں 6,000 میٹر سے اونچی 20 چوٹیوں پر لہرایا گیا ترنگا
نئی دہلی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے لداخ میں 23 دنوں میں 6,000 میٹر سے زیادہ اونچی 20 چوٹیوں پر کامیاب چڑھائی کرنے والی کوہ پیما ٹیم کا جمعہ کے روز یہاں استقبال کیا۔
اس ٹیم نے چامسیر-لنگسیر، گیاما نالا اور چوکسلا علاقوں میں 20 ایسی چوٹیوں پر پہلی بار چڑھائی کی جہاں پہلے کسی نے چڑھائی نہیں کی تھی۔ وزارت دفاع نے بتایا کہ یہ مہم دیرانگ میں واقع ‘نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ماؤنٹینیئرنگ اینڈ ایڈونچر اسپورٹس’ کے 20 کوہ پیماؤں کی ٹیم نے کامیابی کے ساتھ مکمل کی۔ ٹیم کی قیادت کرنل رنویر سنگھ جموال نے کی۔
وزیر دفاع نے کوہ پیماؤں کی ہمت اور عزم و حوصلے کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مہم ہندوستان کی کوہ پیمائی کی صلاحیت اور ایڈونچر اسپورٹس میں قیادت کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کوہ پیماؤں کو نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا اور کہا کہ ان کامیاب مہمات سے ملک کے نوجوان کوہ پیماؤں کو ایڈونچر کی سرگرمیوں اور دریافتوں کی ترغیب ملے گی۔
مہم کے دوران اس ٹیم نے اونچائی والے علاقوں میں بہتر منصوبہ بندی، تکنیکی مہارت، صبر اور ٹیم ورک کا مظاہرہ کیا۔ اس کا مقصد اونچائی والے سرحدی علاقوں میں ہمت اور دریافت کرنے کے جذبے کو فروغ دینا نیز آنے والی نسلوں کو کوہ پیمائی کے لیے بیدار کرنا تھا۔
فلیگ ان تقریب میں سکریٹری دفاع راجیش کمار سنگھ اور وزارت دفاع کے دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرسکتا ہے : مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو ’میک اِن انڈیا‘ پہل کے 12 سال مکمل ہونے پر اس کی کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اب پوری دنیا کی ضروریات کے لیے مصنوعات تیار کرنے میں بھی اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پہل سے ملک میں پیداوار، سرمایہ کاری اور برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’میک اِن انڈیا‘ کے نتیجے میں ہندوستان میں زیادہ پیداوار، زیادہ سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافہ ہوا ہے اور یہ تبدیلی تمام شعبوں میں واضح طور پر نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہل اس یقین پر مبنی تھی کہ ’’ہندوستان دنیا کے لیے مینوفیکچرنگ کرسکتا ہے۔‘‘
وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے کہا کہ ’میک اِن انڈیا‘ کے 12 سال مکمل ہونا صرف ایک سنگ میل نہیں، بلکہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جب کوئی ملک اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرتا ہے اور حکومت مسلسل اصلاحات کے ذریعے اس اعتماد کو مضبوط کرتی ہے تو بڑی کامیابیاں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں وزیر اعظم نے ایسے ہندوستان کا تصور پیش کیا تھا جو نہ صرف اپنی ضروریات پوری کرے بلکہ دنیا کے لیے بھی مصنوعات تیار کرے۔
گوئل نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 میں ہندوستان میں اب تک کی سب سے زیادہ 94.53 ارب ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) ہوئی، جبکہ مالی سال 2014-15 سے 2025-26 تک مجموعی ایف ڈی آئی 843 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل انڈسٹریل کوریڈور ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت ملک بھر میں جدید صنعتی شہر قائم کیے جارہے ہیں اور کاروبار میں آسانی کے لیے قوانین کو بھی آسان بنایا جارہا ہے۔
وزیر تجارت نے کہا کہ پیداوار سے منسلک ترغیبی اسکیم (پی ایل آئی) نے سرمایہ کاری اور مینوفیکچرنگ کو مزید رفتار دی ہے۔ 31 مارچ 2026 تک پی ایل آئی پروگرام کے تحت مختلف شعبوں میں 2.40 لاکھ کروڑ روپے کی حقیقی سرمایہ کاری، 23.8 لاکھ کروڑ روپے کی پیداوار یا فروخت اور 15.2 لاکھ کروڑ روپے کی برآمدات ہوئی ہیں، جبکہ اس کے نتیجے میں براہ راست اور بالواسطہ طور پر 14.6 لاکھ سے زیادہ روزگار پیدا ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ الیکٹرانکس و ٹیلی کام، دواسازی، طبی آلات، آٹوموبائل، انفارمیشن ٹیکنالوجی ہارڈویئر اور اسپیشلٹی اسٹیل سمیت کئی شعبوں کو پی ایل آئی اسکیم سے فائدہ ہوا ہے۔ انہوں نے اوپن نیٹ ورک فار ڈیجیٹل کامرس (او این ڈی سی) کا بھی ذکر کیا، جس کے ذریعے اب تک 470 کروڑ سے زیادہ آرڈر دیے جاچکے ہیں۔
گوئل نے کہا کہ ’میک اِن انڈیا‘ کی اصل کامیابی صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ اس اعتماد میں ہے جو اس نے پیدا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹارٹ اپ فاونڈر، صنعت کاروں، مینوفیکچررز، اختراع کاروں، برآمد کنندگان اور عوام میں یہ اعتماد پیدا ہوا ہے کہ ’’ہندوستان بنا سکتا ہے، ہندوستان اختراع کرسکتا ہے اور ہندوستان دنیا کے ساتھ مقابلہ کرسکتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’میک اِن انڈیا‘ کا سفر ہندوستان کو عالمی مینوفیکچرنگ پاور ہاؤس بنانے کے بڑے ہدف کے ساتھ جاری ہے، جو 2047 تک ’وکست بھارت‘ کے وژن کو بھی مضبوط کرے گا۔
یو این آئی۔ م س
جموں و کشمیر
بی جے پی نے عمر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد کی مخالفت کی، 2000 کی خود مختاری قرارداد کے حوالہ پر سوال اٹھایا
سری نگر، جموں و کشمیر کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے جمعہ کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے قانون ساز اسمبلی میں پیش کی گئی ریاستی حیثیت کی بحالی سے متعلق قرارداد کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اس میں سابق اسمبلی کی 2000 کی خود مختاری کی قرارداد کے حوالے پر سوال اٹھایا۔
شرما نے کہا کہ بی جے پی نے 2000 میں خود مختاری کی قرارداد منظور ہونے کے وقت اسے مسترد کردیا تھا، پھر موجودہ ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد میں اسی قرارداد کا حوالہ کیوں دیا گیا ہے؟
انہوں نے جموں و کشمیر اسمبلی کے باہر صحافیوں سے کہاکہ ’’یہ مکمل طور پر متنازع اور ناقابل قبول قرارداد ہے، جسے بی جے پی کبھی برداشت نہیں کرے گی۔‘‘
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر اسمبلی میں مرکز کے زیر انتظام خطے کا ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے قرارداد پیش کی۔ جموں و کشمیر اسمبلی کی جانب سے ماضی میں منظور کی گئی قراردادوں، جن میں 2000 کی جموں و کشمیر خود مختاری کی قرارداد بھی شامل ہے، کے حوالے نے ایوان میں ہنگامہ برپا کردیا۔ بی جے پی ارکان نے قرارداد کی نقول پھاڑ دیں، جس کے بعد ارکان کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔
قائد حزب اختلاف نے کانگریس کی قیادت، بشمول راہل گاندھی اور جموں و کشمیر کانگریس کی قیادت سے ’’آرٹیکل 370 اور خود مختاری کے حوالوں‘‘ پر پارٹی کا موقف واضح کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
شرما نے سوال کیاکہ ’’کانگریس کو اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔ کیا وہ آرٹیکل 370 اور خود مختاری کی قرارداد کے ساتھ ہے یا حکومت کے ساتھ؟‘‘
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو نشانہ بناتے ہوئے شرما نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت نے خود مختاری کی قرارداد کو مسترد کیا تھا، اس وقت عمر عبداللہ کا اس حکومت سے کیا تعلق تھا۔
انہوں نے سوال کیاکہ ’’جب بی جے پی نے اس قرارداد کو مسترد کرکے پھاڑ دیا تھا، تو کیا اس وقت عمر عبداللہ این ڈی اے میں وزیر نہیں تھے؟ کیا وہ این ڈی اے کے ساتھی کے طور پر برقرار نہیں رہے؟‘‘
شرما نے الزام لگایا کہ عمر عبداللہ حکومت حکمرانی کی ان ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے جذباتی مسائل کو اٹھا رہی ہے اور ریاستی حیثیت کی بحالی کے عمل کو طول دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی ریاستی حیثیت کی بحالی پر بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن اسے خود مختاری یا آرٹیکل 370 سے جوڑنے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کرے گی۔
انہوں نے کہاکہ ’’ہم ان سوالات کے جواب چاہتے ہیں اور جب تک ہمیں جواب نہیں ملتا، ہم احتجاج جاری رکھیں گے۔‘‘
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
جموں و کشمیر6 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر6 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا1 week agoامریکی ویزا سے انکار کے بعد اقوام متحدہ نے فلسطینی صدر عباس کو ویڈیو خطاب کی اجازت دی
-
دنیا1 week agoباب المندب سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اٹلی جنگی بحری جہاز تعینات کرے گا
-
دنیا1 week agoامریکہ کی سعودی عرب کو 48 ایف-35 طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری
-
دنیا6 days agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoہائی کورٹ نے معزول حضرت بل امام کی عرضی پر نوٹس جاری کیا، 2024 کی عرضداشت پر غور کی ہدایت
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں میں سالگرہ کی تقریب کے دوران 35 سالہ شخص قتل، 2 گرفتار
-
جموں و کشمیر7 days agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
