فن و ادب
ہیما مالنی 76 برس کی ہو ئیں
(16 اکتوبر سالگرہ کے موقع پر)
ممبئی، بالی ووڈ کی معروف اداکارہ ہیما مالنی آج 76 برس کی ہو گئی ہیں۔
16 اکتوبر 1948 کو امان کنڈی، تمل ناڈو میں پیدا ہوئیں ہیما مالنی کی والدہ جیا چکرورتی ایک فلم پروڈیوسر تھیں۔ ہیما نے اپنی ابتدائی تعلیم چنئی سے مکمل کی۔ سال 1961 میں ہیما مالنی کو ایک مختصر ڈرامے پانڈو ونواسم میں بطور ڈانسر کام کرنے کا موقع ملا۔1968 میں ہیما مالنی کو پہلی بار راج کپور کے ساتھ سپنوں کا سوداگر میں کام کرنے کا موقع ملا۔ فلم کی پروموشن کے دوران ہیما مالنی کو ڈریم گرل کے طور پر پروموٹ کیا گیا۔ بدقسمتی سے یہ فلم باکس آفس پر ناکام ثابت ہوئی لیکن بطور اداکارہ ہیما مالنی کو ناظرین نے پسند کیا۔
ہیما مالنی کو پہلی کامیابی 1970 میں ریلیز ہونے والی فلم جانی میرا نام سے ملی۔ اس میں ان کے ساتھ اداکار دیوآنند مرکزی کردار میں تھے۔ فلم میں ہیما اور دیوآنند کی جوڑی کو شائقین نے بے حد سراہا اور فلم سپرہٹ رہی۔اس کے بعد رمیش سپی کی 1971 میں ریلیز ہونے والی رمیش سپی کی فلم انداز میں ہیما مالنی نے اپنی اداکاری سے ناظرین کو مسحور کردیا۔سال 1972 میں ہیما کو رمیش سپی کی ہی فلم سیتا اور گیتا میں کام کرنے کا موقع ملا، جو ان کے فلمی کیریئر میں سنگ میل ثابت ہوا۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد وہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئیں۔ اس فلم میں ان کی زبردست اداکاری کے لئے انہیں بہترین اداکارہ کے فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
ہیما مالنی نے جب فلم انڈسٹری میں قدم رکھا تھا تو ایک تامل ہدایت کار سریدھر نے انہیں اپنی فلم میں کام دینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ان کے پاس اسٹار اپیل نہیں ہے۔ بعد ازاں ستر کی دہائی میں اسی پروڈیوسر اور ہدایت کار نے ان کی مقبولیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 1973 میں ان کے ساتھ فلم ’گہری چال‘ بنائی۔ دھرمیندر کے ساتھ ہیما مالنی کی جوڑی سلور اسکرین پر کامیاب کامیاب رہی۔ یہ فلمی جوڑی پہلی بار فلم شرافت سے روشنی میں آئی تھی۔ سال 1975 میں ریلیز ہونے والی فلم شعلے میں دھرمیندر نے ویرو اور ہیما مالنی بسنتی کے کردار نے شائقین کو محظوظ کیا، ہیما اور دھرمیندر کی اس جوڑی کو اس قدر پسند کیا گیا کہ دھرمیندر کی ریل لائف ڈریم گرل ہیما مالنی ان کی حقیقی زندگی کی ڈریم گرل بن گئیں۔ بعد میں اس جوڑی نے ڈریم گرل، چرس، آس پاس، پرتیگیا، راجہ جانی، رضیہ سلطان، علی بابا چالیس چور، بغاوت، آتنک، دی برننگ ٹرین، دوست وغیرہ جیسی فلموں میں ایک ساتھ کام کیا۔
ستر کی دہائی میں ہیما مالنی پر یہ الزام لگایا جانے لگا کہ وہ صرف گلیمر کردار ہی ادا کرسکتی ہیں لیکن انہوں نے خوشبو، کنارا اور میرا جیسی فلموں میں سنجیدہ کردار ادا کر کے اپنے ناقدین کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا۔اس دوران ہیما مالنی نے ان کی خوبصورتی اور اداکاری کا جلوہ چھایا ہوا تھا جسے دیکھ کر پروڈیوسر پرمود چکرورتی نے ان کے ساتھ فلم ڈریم گرل بنائی۔
سال 1990 میں ہیما مالنی نے چھوٹے پردے کا رخ کیا اور سیریل نوپور کی ہدایت کاری کی، اس کے بعد سال 1992 میں انہوں نے فلم اداکار شاہ رخ خان کے ساتھ فلم دل آشنا ہے کی فلم سازی اور ہدایت کاری کی۔سال 1995 میں انہوں نے چھوٹے پردے کے لئے موہنی پروڈیوس اور ڈائریکٹ کی۔ فلموں میں کئی کردار ادا کرنے کے بعد ہیما مالنی نے سماجی خدمت کے لیے سیاست میں قدم رکھا۔ سال 2000 میں ہیما مالنی کو پدم شری ایوارڈ سے نوازا گیا۔ہیما مالنی نے اپنے چار دہائیوں کے طویل فلمی کیریئر میں تقریباً 150 فلموں میں کام کیا۔ ہیما مالنی بھارتیہ جنتا پارٹی کے ٹکٹ پر متھرا پارلیمانی سیٹ سے الیکشن جیت کر پارلیمنٹ پہنچی ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
فن و ادب
رانی مکھرجی کو راج کپور خصوصی تعاون ایوارڈ
ممبئی، بالی ووڈ اداکارہ رانی مکھرجی کو ہندوستانی سنیما میں نمایاں تعاون اور مہاراشٹر کے ساتھ ان کی طویل وابستگی کے لیے مہاراشٹر حکومت کی جانب سے باوقار راج کپور خصوصی تعاون ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔
62ویں مہاراشٹر ریاستی فلم ایوارڈز کی تقریب میں وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے رانی مکھرجی کو یہ اعزاز پیش کیا۔
اعزاز ملنے پر رانی نے کہا، ’’میرے لیے مہاراشٹر صرف ایک ریاست نہیں ہے۔ مہاراشٹر میری جائے پیدائش، میری جائے کار اور میری زندگی کا لازمی حصہ ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’سنیما میرے لیے ایک گہرا جذبہ ہے اور مہاراشٹر اس جذبے کا گھر ہے۔ یہ ایوارڈ میرے لیے اس لیے بھی خاص ہے کہ یہ مجھے میرے اپنے لوگوں اور اس جگہ سے مل رہا ہے، جس سے میں گہری وابستگی رکھتی ہوں۔‘‘
ممبئی میں پیدا ہونے اور پرورش پانے والی رانی نے تقریباً 3 دہائیوں پر محیط اپنے فلمی کریئر میں ’بلیک‘، ’نو ون کلڈ جیسیکا‘، ’ہچکی‘، ’مردانی‘ سلسلے کی فلموں اور ’مسز چٹرجی ورسز ناروے‘ جیسی فلموں میں مؤثر کردار ادا کیے ہیں۔
رانی نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ ایسی کہانیوں اور کرداروں کا انتخاب کیا جن میں انہیں سچائی اور حوصلہ نظر آیا۔ انہوں نے پردے پر مضبوط خواتین کی نمائندگی کرنے کی اپنی کوشش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ہمیشہ ایسی خواتین متاثر کرتی رہی ہیں جو کسی دوسرے شخص کے انہیں بچانے کا انتظار نہیں کرتیں۔
رانی نے یہ اعزاز مہاراشٹر کے فنکاروں، تکنیکی ماہرین، فلم سازوں اور پوری فلم برادری کے نام کرتے ہوئے کہا کہ ریاست نے نسلوں سے ہندوستانی سنیما کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
رانی نے کہا، ’’جب بھی میں اس ایوارڈ کو دیکھوں گی، مجھے صرف ایک ایوارڈ نظر نہیں آئے گا۔ مجھے اپنا ممبئی، اپنا مہاراشٹر نظر آئے گا۔‘‘
یو این آئی۔ ایم جے
فن و ادب
جموں و کشمیر کی پانچ فلمیں پہلے بین الاقوامی فلم فیسٹیول کے لیے منتخب
سری نگر، جموں و کشمیر کے ہدایت کاروں کی بنائی ہوئی پانچ فلموں کو پہلے بین الاقوامی فلم فیسٹیول آف جموں و کشمیر 2026 کے مسابقتی ’’جموں و کشمیر سلیکٹ‘‘ حصے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
منتخب فلموں میں محمد ولی کی ہدایت کاری میں بننے والی ’سرچنگ فار دی گرینڈپا‘، روہن رویندرن نائر کی ’عریفہ‘، سدھارتھ کول اور انکت ولی کی ’بٹ کوچ‘ (گم شدہ گلی)، کپل متو کی ’تصرف دار‘ (کشمیر کے جنات) اور بابا تصدق حسین کی ’نقشِ دور‘ (غلام نبی دھر کی کہانی) شامل ہیں۔
حکام کے مطابق فیسٹیول کے لیے قائم پیش نظارہ کمیٹی نے موصولہ فلموں کا جائزہ لینے اور ان کی فنی خوبیوں اور مسابقتی حصے کے لیے موزونیت کا جائزہ لینے کے بعد ان فلموں کی سفارش کی۔ اس انتخاب میں مختلف النوع کہانیوں، اصناف اور نقطۂ نظر کو جگہ دی گئی ہے، جن میں خاص طور پر جموں و کشمیر کے ثقافتی ورثے، سماجی حقائق اور انسانی تجربات سے جڑی کہانیوں پر توجہ دی گئی ہے۔
کشمیری اور ہندی زبانوں میں بنائی گئی یہ پانچوں فلمیں بچپن، خاندان اور یادداشت سے لے کر نقل مکانی، شناخت، ورثے، ثابت قدمی اور کشمیر کے بدلتے سماجی منظرنامے جیسے موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں۔
’سرچنگ فار دی گرینڈپا‘ عید کے موقع پر کشمیر کے ایک گاؤں میں رہنے والے دو کم عمر بہن بھائیوں کی کہانی ہے۔ ’عریفہ‘ ایک ایسی خاتون کے گرد گھومتی ہے جو کشمیر میں اپنے آبائی گھر واپس آتی ہے اور بچپن اور اپنے والد سے جڑی یادوں کا سامنا کرتی ہے۔
’بٹ کوچ‘ ایک کشمیری مہاجر خاندان کی کہانی کے ذریعے نقل مکانی، شناخت اور گھر سے جڑے دیرینہ تصور کو پیش کرتی ہے۔ ’تصرف دار‘ کشمیر کے ماضی کے پراسرار واقعات، یادوں اور زخموں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے، جبکہ ’نقشِ دور‘ پدم شری سے سرفراز لکڑی کے ایک کاریگر کی زندگی اور خدمات کو پیش کرتی ہے جو سری نگر کے وسطی علاقے میں رہتے ہوئے کشمیر کی دستکاری، ثقافتی ورثے اور ثابت قدمی کو اجاگر کرتے ہیں۔
منتخب فلمیں چار روزہ بین الاقوامی فلم فیسٹیول کے مسابقتی پروگرام کا حصہ ہوں گی، جہاں ناظرین اور فلم سازوں کو جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والی منفرد فلمی آوازوں اور کہانیوں سے روبرو ہونے اور ان پر تبادلۂ خیال کا موقع ملے گا۔
یو این آئی۔ م ع
فن و ادب
جموں فلم فیسٹیول کا پانچواں ایڈیشن 28-29 ستمبر کو ہوگا: منتظمین
جموں، وومیدھ کی جانب سے دی اوانتی فاؤنڈیشن کے اشتراک سے پیش کیا جانے والا جموں فلم فیسٹیول (جے ایف ایف) کا پانچواں ایڈیشن 28 اور 29 ستمبر کو یہاں منعقد ہوگا۔
پیر کے روز اس کے پانچویں ایڈیشن کا باضابطہ اعلان کیا گیا، جو خطے کے ثقافتی اور سنیما کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے۔
پریس کانفرنس میں آئندہ ایڈیشن کا اعلان کرتے ہوئے فیسٹیول ڈائریکٹر راکیش روشن بھٹ نے تمام شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ “یہ سفر یقین، ثابت قدمی اور بے شمار افراد و تنظیموں کی حمایت سے ممکن ہوا ہے۔ ہم ان سب کے شکر گزار ہیں جنہوں نے جے ایف ایف کو ایک بامعنی پلیٹ فارم بنانے میں تعاون دیا۔ یہ سنگ میل پوری تخلیقی برادری کا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اس ایڈیشن کی ایک خاص جھلک بہترین مقامی پروڈکشن کے لیے ایک لاکھ روپے کا انعام ہوگا، جس کا مقصد علاقائی ٹیلنٹ کو فروغ دینا اور بین الاقوامی معیار کو برقرار رکھنا ہے۔
فیسٹیول ڈائریکٹر روہت بھٹ نے بتایاکہ“پانچویں ایڈیشن کے ساتھ ہم علاقائی کہانیوں کو فروغ دینے کی سمت ایک اہم قدم اٹھا رہے ہیں۔ بہترین مقامی پروڈکشن کے لیے ایک لاکھ روپے کا انعام رکھا گیا ہے تاکہ جموں و کشمیر کے فلم سازوں کو مضبوط پلیٹ فارم مل سکے۔”
فیسٹیول کے مشیر ڈاکٹر امیت وانچو نے کہا کہ جموں فلم فیسٹیول ایک معتبر پلیٹ فارم بن چکا ہے جو بامعنی سنیما کو فروغ دیتا ہے اور اس کی مسلسل ترقی منتظمین کی محنت اور معیاری کہانیوں میں بڑھتی دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے۔
شریک پیش کنندہ کی جانب سے سنجیو کاک نے کہاکہ“ہمیں خوشی ہے کہ ہم وومیدھ کے ذریعے جموں و کشمیر میں جے ایف ایف اور ٹی آئی ایف ایف ایس جیسے بین الاقوامی فلمی میلوں سے وابستہ ہیں۔ یہ پلیٹ فارم عالمی سنیما کو یہاں کے ناظرین تک پہنچانے اور مقامی ٹیلنٹ کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔”
وومیدھ کی مشیر بھاونا پنڈیتا نے کہا کہ تنظیم فن و ثقافت کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے اور جے ایف ایف جیسے اقدامات کے ذریعے فنکاروں اور فلم سازوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔
سینئر اداکارہ کسم ٹیکو نے کہا کہ ابتدا سے اس سفر کا حصہ ہونا خوش آئند ہے اور یہ دیکھ کر اطمینان ہوتا ہے کہ یہ پلیٹ فارم وقت کے ساتھ ایک اہم ثقافتی سنگ میل بن چکا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
دنیا1 week agoکم جونگ ان نے شمالی کوریا کے نظریاتی طریقہ کار کو جدید بنانے پر زور دیا
-
ہندوستان1 week agoعالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
-
ہندوستان1 week agoخواتین کی سکیورٹی یقینی بنائے بغیر بڑے منصوبوں کا کوئی مطلب نہیں : پرینکا
-
جموں و کشمیر1 week agoوقفہ صفر میں جنوبی کشمیر میں شاہراہ پر پابندیوں کا معاملہ اٹھایا گیا
-
ہندوستان1 week agoہندوستان نے جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے بیان کو مسترد کر دیا
-
دنیا1 week agoروس-یوکرین امن معاہدے کی شرائط پر بات چیت جاری : ٹرمپ
-
دنیا7 days agoایران کی وارننگ، امریکہ کے دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ بحر ہند تک پھیل سکتی ہے
-
دنیا1 week agoیمن کے بندرگاہی شہر موخا پر سعودی فضائی حملوں میں چھ افراد ہلاک
-
ہندوستان7 days agoلداخ میں چھٹے شیڈول کو نافذ کر کے پولیس فائرنگ میں شہید نوجوانوں کو ملے انصاف: کانگریس
-
دنیا7 days agoایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ، برینٹ 106.24 ڈالر فی بیرل
-
ہندوستان1 week agoانتخابی کمیشن میں مبینہ اختلافات کی رپورٹ پر اپوزیشن کا چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کا مطالبہ
