تازہ ترین
وادی کے مختلف علاقوں میں گیارویں جماعت کے طلبا کا احتجاج ،امتحانات کو مؤخر کرانے کا مطالبہ
خبراردو:
بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کے خلاف شہر سرینگر سے تعلق رکھنے والے گیارہویں جماعت کے سینکڑوں طلاب نے پریس کالونی میں جمع ہوکرامتحانات کو مؤخر کرنے اور بورڈ سے غیر منسلک کرنے کے خلاف احتجاج کرنے کی کوشش کی تاہم یہاں تعینات پولیس اہلکاروں نے انہیں اس کی اجازت نہیں دی جس کے بعد پولیس نے کئی طلبا کو گاڑیوں میں بھر کر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کے دفتر واقع بمنہ پہنچادیا اور طلبا کو احتجاج سے قبل اجازت نامہ حاصل کرنے کو کہا۔ طلبا نے بتایا کہ طالب علموں کا نصاب ابھی نامکمل ہے اور ایسی حالات میں امتحان منعقد کرنا طلبا پر اپنی من مانی ٹھونسنے کے مترادف ہے۔ محکمہ تعلیم نے حال ہی میں رواں مہینے کے آخری ہفتے میں گیارویں جماعت کے امتحانات منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم ابھی طلبا کا نصاب مکمل نہیں ہوا ہے جس کے لیے ہمیں مزید وقت درکار ہے۔ طلبا نے بتایا کہ محکمہ تعلیم کو چاہیے تھا کہ وہ پہلے اسکولوں میں زمینی صورتحال کا جائزہ لیتی اور اس کے بعد ہی آگے کا لائحہ عمل طے کرتی تاہم بدقسمتی کی بات ہے کہ محکمہ تعلیم یہاں کے طلبا کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کررہی ہے اور اپنی مان مانی کے ذریعے امتحانات کو پوری طلبا برادری پر ٹھونس رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمیں مزید وقت فراہم کیا جائے تاکہ اسکولوں میں نصاب کو مکمل کیا جائے جس کے بعد ہی امتحانات منعقد ہونے چاہیے۔ اس دوران احتجاج کے نتیجے میں کئی گھنٹوں تک ہندوارہ مین بازار میں گاڑیوں کی نقل و حرکت مسدود ہوکر رہ گئی جس کے نتیجے میں لوگوں کو سخت مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑا۔ ادھر پولیس نے طلبائی احتجاج میں مداخلت کرتے ہوئے انہیں یقین دلایا کہ ان کی جائز مانگوں کو بھر طریقے سے اعلیٰ حکام تک پہنچایا جائے گا جس کے بعد ہی احتجاج اختتام پذیر ہوا۔
ادھر شمالی کشمیر کے قصبہ سوپور میں بھی طلبا نے محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے امتحانات کو نومبر کے وسط تک مؤخر کرنے کا مطالبہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق گورنمنٹ بائز ہائر اسکینڈری اسکول کے سینکڑوں طلبا نے اقبال نگر مارکیٹ میں جمع ہوکر احتجاجی مظاہرے کئے۔ طلبا مانگ کررہے تھے کہ رواں مہینے میں طے شدہ امتحانات کو وسط نومبر تک مؤخر کیا گیا۔ اس موقعے پر طلبا نے بتایا کہ ابھی تعلیمی اداروں میں نصاف مکمل نہیں ہوا ہے لیکن دوسری طرف محکمہ تعلیم کی طرف سے امتحانات کے حوالے سے ڈیٹ شیٹ اجرا کردیا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم ریاستی طلبا کے مستقبل کو داؤ پر لگارہی ہے جس کی قطعی طور پر اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس موقعے پر یہاں کچھ دیر تک تجارتی سرگرمیاں معطل ہویر رہ گئی جبکہ ٹریفک بھی بری طرح سے متاثر ہوا۔
ادھر پولیس نے احتجاجی طلبا کو منشتر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا جس دوران فورسز نے آنسو گیس کے کئی گولے داغے جس کے بعد یہاں بڑے پیمانے پر افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔ احتجاجی طلبا نے بھی فورسز پر کئی اطراف سے پتھراؤ کیا۔ادھر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کے خلاف شہر سرینگر سے تعلق رکھنے والے گیارویں جماعت کے سینکڑوں طلبا نے پریس کالونی میں جمع ہوکر احتجاج کرنے کی کوشش کی تاہم یہاں تعینات پولیس اہلکاروں نے انہیں اس کی اجازت نہیں دی جس کے بعد پولیس نے کئی طلبا کو گاڑیوں میں بھر کر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کے دفتر واقع بمنہ پہنچادیا اور طلبا کو احتجاج سے قبل اجازت نامہ حاصل کرنے کو کہا۔ معلوم ہوا ہے کہ شہر کے ٹنڈل بسکو اسکول، گرین ویلی، ایس پی ہائر اسکینڈری اسکول سمیت درجنوں تعلیمی اداروں سے وابستہ گیارویں جماعت کے طلبا نے امتحانات کو مؤخرنہ کرنے کے خلاف پریس کالونی میں جمع ہوکر احتجاج کرنے کی کوشش کی جس دوران یہاں تعینات پولیس اہلکاروں نے انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی۔
پولیس اہلکاروں نے اس موقعے پر بضد طلبا کو گاڑیوں میں بھرکر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کے دفتر واقع بمنہ بائی پاس پہنچایا جہاں طلبا کو احتجاج سے قبل اجازت نامہ حاصل کرنے کو کہا گیا۔یاد رہے بورڈ آف اسکول ایجوکیشن نے گیارہویں جماعت کے امتحانات کوگزشتہ مہینے بورڈ سے منسلک کردیا جس پر طلاب میں کافی غم و غصہ پایا جارہا ہے۔ طلبا کا کہنا ہے کہ آج بھی گیارہویں جماعت کے امتحانات اسکول انتظامیہ ہی منعقد کراتی تھی اور وقت پر ہی نتائج نکلنے کے ساتھ ساتھ طلبا کا وقت ضائع ہونے سے بچ جاتا تھا لیکن جونہی بورڈ نے امتحانات کو اپنے ساتھ منسلک کردیا ہمیں خدشہ ہے کہ اس عمل سے طالب علموں کا کافی سارا وقت ضائع ہوگا جس کے طلبا برادری پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
جموں و کشمیر
دہلی میں مودی کے حامی کشمیری نوجوان پر حملے کے خلاف سری نگر میں احتجاج
سری نگر، نئی دہلی کے کناٹ پلیس میں کانگریس کے احتجاج کے دوران سری نگر کے رہائشی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ حملے کے خلاف جمعہ کو کشمیری نوجوانوں کے ایک گروپ نے سری نگر میں احتجاج کیا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی نوجوان ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے اور کانگریس کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے شہر کے مرکزی علاقے کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔
وزیراعظم نریندر مودی کے حامی فہیم نذیر شاہ پر مبینہ طور پر جمعرات کو اس وقت حملہ کیا گیا، جب وہ ایک پلے کارڈ لے کر کانگریس کے احتجاجی مقام پر پہنچے۔ پلے کارڈ پر ”وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے معافی مانگو” درج تھا۔ وہاں انہوں نے نعرے بھی لگائے۔ اس واقعے کے بعد، بالخصوص بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔
سری نگر میں احتجاج کرنے والوں نے سوال کیا کہ سیاسی خیالات کا اظہار کرنے پر فہیم شاہ کو نشانہ کیوں بنایا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو تشدد کے خوف کے بغیر اپنی رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
ایک احتجاجی نے سوال کیاکہ ”کیا ان کا قصور یہ تھا کہ وہ کشمیری یا مسلمان ہیں، یا انہوں نے وزیراعظم کی حمایت میں بینر اٹھایا تھا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیریوں کا احترام کیا جائے اور وہ جہاں بھی جائیں، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ایک دوسرے احتجاجی نے کہا کہ فہیم شاہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور انہیں انصاف دلانے کے مطالبے کے لیے یہ مظاہرہ منعقد کیا گیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ اور دہلی انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 نشستوں پر بلا مقابلہ انتخاب، بی جے پی کے 8 اور سماجوادی پارٹی کے 2 امیدوار کامیاب
لکھنؤ، اتر پردیش میں راجیہ سبھا کی تمام 10 سیٹوں پر بلامقابلہ انتخاب ہو گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دو امیدواروں کو منتخب قرار دیا گیا ہے۔ ووٹنگ کی ضرورت نہیں تھی کیوں کہ تمام نشستوں پر امیدواروں کی تعداد نشستوں کی تعداد کے برابر تھی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور دستبرداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ آفیسر نے تمام 10 امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا۔
بعد ازاں اسمبلی میں منتخب اراکین اسمبلی کو سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ بی جے پی کے منتخب امیدواروں میں ودیا ساگر سونکر، پرینکا سنگھ راوت، گوپی کرشنا پانڈے، دھرمپال سنگھ، رادھاکانت اوجھا، پرکاش پال، رام پرتاپ سنگھ چوہان اور شروتی گنگوار شامل ہیں، جب کہ سماج وادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو اور دھن راج پریمل ناتھوپوانی راجپوت سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ چوں کہ ان راجیہ سبھا سیٹوں کے لیے کوئی اور امیدوار مقابلہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے الیکشن بغیر ووٹ کے ختم ہو گیا۔ الیکشن کے بعد اتر پردیش سے بی جے پی کے آٹھ اور سماج وادی پارٹی کے دو نمائندے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔
یو این آئی۔ این یو۔ م الف
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر پولیس نے بین ریاستی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، آٹھ افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoروس پر براہِ راست حملے کی صورت میں ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنےکا معاملہ ایجنڈے پر ہو گا :پوتن
-
جموں و کشمیر1 week agoگاندھی کے عدم تشدد اور سودیشی کے نظریات آج بھی اہم ہیں: جموں کے ڈویژنل کمشنر
-
ہندوستان1 week agoوندے بھارت نے چِناب پل اور کیبل اسٹڈ انجی پل کو 100 کلومیٹر کی رفتار سے عبور کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میراتھن اتحاد اور نوجوانوں کے متبادل خواہشات کا پیغام دیتی ہے: ایل جی سنہا
-
دنیا7 days agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
دنیا1 week agoایران امریکہ سے مذاکرات کی کوشش جاری رکھے گا: پیزشکیان
-
ہندوستان1 week agoکھرگے- راہل نے گاندھی اور شاستری کو یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کیا
-
دنیا1 week agoمعاہدہ نہ ہونے پر وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی ممکن: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکہ، ایران جنگ بندی معاہدے کی راہ میں بداعتمادی اور گہرے اختلافات حائل
-
ہندوستان1 week agoڈیفنس اکاونٹس کے شعبے کے مالیاتی نظام کو زیادہ ڈیجیٹل اور شفاف بنانے کی ضرورت: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
