ہندوستان
مولانا شاہ ہدایت علی نے دین کے ساتھ عصری علوم پر مبنی ادارہ قائم کرنے کا نظریہ 1911میں پیش کیا تھا: مولانا فضل الرحیم مجددی
نئی دہلی /جے پور، مولانا عبدالرحیم نقشبندی مجددی کے حیات و خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری اور جامعتہ الہدایہ جے پور کے سربراہ مولانا فضل الرحیم مجددی نے وضاحت کی کہ دینی و عصری علوم پرمبنی ادارہ قائم کرنے کا نظریہ مولانا عبدالرحیم نقشبندی کا نہیں بلکہ ان کے جد امجدمولانا شاہ ہدایت علی نقشبندی مجددی کا تھایہ وضاحت انہوں نے جامعتہ الہدایہ جے پور میں عالمی رابطہ ادب اسلامی کے زیر اہتمام منعقدہ سہ روزہ عالمی سیمینار بعنوان ’مولانا عبدلرحیم نقشبندی مجددی: حیات وخدمات‘ کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے تاریخ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مولانا شاہ ہدایت علی نقشبندی مجددی نے جے پور میں مدرسہ تعلیم الاسلام قائم کرتے ہوئے لکھا تھا کہ دین کے ساتھ مدارس اسلامیہ میں صنعت و حرفت کی تعلیم دی جائے۔ انہوں نے کہاکہ جب مولانا سید ابوالحسن علی ندوی نے مولانا شاہ عبدالرحیم سے دینی تعلیم کے ساتھ عصری علوم پر بات کی تھی تو مولانا شاہ عبدالرحیم نے کہا تھا کہ دین کے ساتھ دنیاوی تعلیم بہت ضروری ہے اور آج یہ ہمارے لئے اختیاری ہے لیکن کل اجباری ہوگا۔انہوں نے کہاکہ مولانا عبدالرحیم مجددی کی فہم و فراست تھی کہ انہوں نے پچاس سال پہلے اس بات کا ادراک کرلیا تھا کہ ایک دن ایسا آئے گا جب مدارس میں انگلیاں اٹھیں گی اور عصری تعلیم دینے پرنہ صرف زور دیا جائے گا بلکہ مجبور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ مولانا شاہ عبدالرحیم مجددی نے مولانا علی میاں سے کہا تھا کہ عصری تعلیم کے سلسلے میں اختیاری اور اجبار کے درمیان وقفہ تو ہوسکتا ہے لیکن یہ ہوکر رہے گا۔
مولانا فضل الرحیم مجددی نے کہاکہ جو تعلیم معاش کا ذریعہ نہ بنے وہ تعلیم زوال پذیر ہوجاتی ہے۔ اس لئے مولانا شاہ ہدایت اللہ نے دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم اور صنعت و حرفت کی تعلیم پر زور دیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ جب عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم دی جائے گی تو اس سے طلبہ میں خود اعتمادی پیدا ہوگی اور احساس کمتری سے چھٹکارا ملے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ سب سے پہلے شاہ ہدایت علی نے ہی مدرسہ کی خودکفالت پر نہ صرف زور دیا تھابلکہ عمل کرکے دکھایا تھا۔ انہوں نے جب مدرسہ تعلیم الاسلام کی داغ بیل ڈالی تھی تو اس کے اخراجات کے لئے انہوں نے مدرسہ کے ساتھ 12دکانیں اور 12مکانات بھی تعمیر کرائے تھے تاکہ اس کے کرائے سے مدرسہ کے اخراجات پورے ہوں۔ مولانا شاہ عبدالرحیم نے اسی نہج پر چلتے ہوئے جامعتہ الہدایہ قائم کیا جہاں دینی،عصری تعلیم کے ساتھ دیگر پیشہ وارانہ کورس بھی چلائے جاتے ہیں اور یہاں کے طلبہ مذہبی یونیورسٹی کے ساتھ عصری یونیورسٹی کی طرف رخ کر رہے ہیں۔
ندوۃ العلمائے لکھنؤ کے ناظم اعلی مولانا سید بلال عبدالحئی حسنی ندوی نے حالات کو سامنے رکھ کر لکھنے کی وکالت کرتے ہوئے کہاکہ اردو، عربی اور دیگر علاقائی زبانوں میں صالح تحریر کی ضرورت ہے۔ تاکہ لوگ رہنمائی حاصل کرسکیں۔ عالمی رابطہ ادب اسلامی کے صدر مولانا سید جعفر مسعود ندوی نے کہاکہ ادب اسلامی میں مسلسل کام کی ضرورت ہے اور یہ صرف سیمنار تک محدود نہیں رہنا چاہئے۔
تقریب کی صدارت پروفیسر محسن عثمانی ندوی نے کی۔اس کے علاوہ کئی کتابوں کا اجرا ء بھی عمل میں آیا۔اس کے مقررین میں مولانا سعید فیضی ندوی، ڈاکٹر اقبال مسعودی ندوی، مولانا افضل حسین قاسمی بنگلوراور دیگر اہم علمائے کرام شامل تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے یوم تاسیس پر آئی ٹی بی پی کے دلیر جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ہند تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے جوانوں، جنہیں عام طور پر باہمت جوان کہا جاتا ہے، کی غیر معمولی بہادری، عزم اور بے لوث خدمات کی ستائش کی۔ انہوں نے فورس کے یوم تاسیس پر مبارک باد دیتے ہوئے ملک کی سلامتی کے تحفظ میں اس کے جوانوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں مودی نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے جوانوں نے اپنی غیر معمولی بہادری سے نمایاں شناخت بنائی ہے اور ہر چیلنج کا مسلسل غیر معمولی عزم کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ان کی بے لوث خدمات اور قربانیاں ملک کے لیے بے پناہ ترغیب کا ذریعہ ہیں۔”
ہند تبت سرحدی پولیس کا قیام 24 اکتوبر 1962 کو ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ کے بعد ہمالیائی سرحد پر سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ یہ ہندوستان کی مرکزی مسلح پولیس فورسز میں سے ایک ہے اور بنیادی طور پر ہندوستان اور چین کی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اس کے جوان دنیا کے انتہائی دشوار گزار بلند پہاڑی علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔
اس فورس کے جوان سخت موسمی حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں، جہاں انہیں نقطۂ انجماد سے نیچے درجہ حرارت، خطرناک پہاڑی درّوں، دشوار گزار راستوں اور آکسیجن کی کمی جیسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کی خصوصی تربیت انہیں مشکل گشت انجام دینے اور حساس سرحد پر مسلسل نگرانی رکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اکثر انہیں ایسے دور دراز علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے، جہاں پہنچنا اور ضروری سامان فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران باہمت جوانوں نے پہاڑی علاقوں میں آفات سے نمٹنے، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں اور انسانی امداد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی عملی مہارت اور برداشت نے انہیں ہندوستان کی سرحدی سلامتی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ بنا دیا ہے۔
فورس کے یوم تاسیس پر مودی کے پیغام میں ان جوانوں کی لگن اور قربانیوں کو تسلیم کیا گیا، جو ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے انتہائی دشوار حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ سالانہ دن فورس کی شاندار روایات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لیے اس کے جوانوں کے عزم کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ جوان اکثر اپنے اہل خانہ سے دور رہ کر ملک کے انتہائی سخت اور دشوار گزار علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
نئی دہلی، مرکزی وزارت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے نئی دہلی میں واقع کمیشن میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ضرورت کے مطابق تقرریوں کی تعداد 2 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ان عہدوں کو ضرورت کے مطابق پُر کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت 2 سے کم اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری بھی کرسکتی ہے۔
محکمے نے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اہلیت کی شرائط اور درخواست کا مقررہ نمونہ سرکاری ویب سائٹ سے حاصل کرلیں۔ تقرری کے لیے غور کیے جانے کی خاطر امیدواروں کو اپنی مکمل طور پر بھری ہوئی درخواست 20 نومبر 2026 تک محکمے میں جمع کرانی ہوگی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اشوک سین 2026 کا آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بنے
نئی دہلی، بنگلورو میں انفوسس مادھو چیئر کے پروفیسر ڈاکٹر اشوک سین 2026 کا باوقار آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بن گئے ہیں۔ حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے اس اعزاز کے لیے انہیں مبارک باد دی ہے۔
پروفیسر سین اسٹرنگ تھیوری میں اپنی اہم اور انقلابی خدمات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ خاص طور پر ایس ڈوئلٹی، بلیک ہول کی اینٹروپی کی درست گنتی اور اسٹرنگ فیلڈ تھیوری کے شعبوں میں ان کی تحقیق نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی تحقیق نے جدید اسٹرنگ تھیوری کو آگے بڑھانے اور بنیادی طبیعیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آسکر کلائن میڈل مشترکہ طور پر اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی نوبل کمیٹی برائے طبیعیات کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز طبیعیات کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔
پروفیسر سین کے اس اعزاز سے ان کی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور اہم اعزاز کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کی دیگر نمایاں کامیابیوں میں 2012 کا بریک تھرو پرائز برائے بنیادی طبیعیات، 2014 کا ڈیرک میڈل، 2001 کا پدم شری اور 2013 کا پدم بھوشن شامل ہیں۔
یو این آئی ایم جے
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان7 days agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
