ہندوستان
گنگا معیار سے کہیں زیادہ آلودہ ہے، کمبھ میں آچمن کے لائق نہیں: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ اگلے ماہ سے پریاگ راج میں مہا کمبھ کا انعقاد ہونا ہے لیکن گنگا کا پانی معیار سے کہیں زیادہ آلودہ ہے اور اس سے عقیدت مند آچمن نہیں کرسکتے، اس لیے حکومت کو اس سمت میں ضروری اقدامات کرنے چاہئیں کانگریس کے میڈیا کوآرڈینیٹر ابھے دوبے نے پیر کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس میں بی جے پی حکومت پر لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام لگایا اور کہا کہ گنگا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔ گنگا کا پانی ڈبکی لگانے اور آچمن کے استعمال کے لیے موزوں نہیں پایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا، ‘بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومتیں ہمارے ایشوریہ اور ویدک عقائد کے ساتھ کھیل رہی ہیں۔ ہماری سناتن ثقافت پر حملہ کر رہی ہیں۔ مانا جاتا ہے کہ مہا کمبھ پوری دنیا کا سب سے بڑا مذہبی پروگرام ہے اور اس سال مہا کمبھ کا اہتمام پریاگ راج میں 13 جنوری، پوش پورنیما سے شروع ہو کر 26 فروری مہاشیو راتری تک جاری رہے گا۔ اس میں 6 بڑے شاہی اشنان ہوں گے۔
ترجمان نے کہا، “یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ حال ہی میں نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) نے اتر پردیش اور ملک کی بی جے پی حکومتوں پر تلخ تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر گنگا میں سیوریج کو روکنے کے لیے فوری طور پر سخت اقدامات نہیں اٹھائے گئے، تومہا کمبھ میں آنے والے لوگوں کی صحت متاثر ہوگی۔
انہوں نے کہا، ‘اتراکھنڈ میں گنگا کا اصل مقام ہی آلودہ پایا گیا۔ این جی ٹی نے اتراکھنڈ کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر تک کے حکم دئے۔ اتراکھنڈ میں بھی گنگا میں نالوں کے پانی کو ملائے جانے کی ہولناکی ایسی تھی کہ این جی ٹی نے 9 فروری 2024 کو اپنے حکم نامے میں یہ لکھ دیا کہ متعلقہ ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کیا جانا چاہئے اور ایف آئی آر کا حکم دے دیا۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیمانی حلقہ وارانسی میں آسی اور ورونا ندیوں کی حالت زار سے متعلق دو عرضیوں کی سماعت کے دوران این جی ٹی نے گنگا کے پانی کی پاکیزگی کو لے کر کلکٹر کی سرزنش کرتے ہوئے پوچھا کی کیا آپ گنگا کا پانی پی سکتے ہیں؟ کیوں نہیں بورڈ لگادیتے ہیں کہ کہ گنگا کا پانی نہانے اور پینے کے قابل نہیں ہے۔
مسٹر دوبے نے کہا، “جن کو ماں گنگا نے بلایا ہے، انہوں نے گنگا میں گٹر کا پانی ملایا ہے۔ کیا اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ، کروڑوں عقیدت مندوں کو یہ یقین دلائیں گے کہ کمبھ تک گنگا کا پانی اشنان اور آچمن کے لائق ہوگا۔ کیا اعلیٰ سطحی کمیٹی کی پوری ریاست کے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس اور نالوں کو گنگا میں ملائے جانے کی حقیقت پر مبنی رپورٹ فوری طور پر این جی ٹی میں پیش کریں گے۔ کیا مسٹرمودی قوم سے معافی مانگیں گے اور کمبھ اور ماں گنگا کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے فوری طور پر مناسب قدم اٹھائیں گے
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے یوم تاسیس پر آئی ٹی بی پی کے دلیر جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ہند تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے جوانوں، جنہیں عام طور پر باہمت جوان کہا جاتا ہے، کی غیر معمولی بہادری، عزم اور بے لوث خدمات کی ستائش کی۔ انہوں نے فورس کے یوم تاسیس پر مبارک باد دیتے ہوئے ملک کی سلامتی کے تحفظ میں اس کے جوانوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں مودی نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے جوانوں نے اپنی غیر معمولی بہادری سے نمایاں شناخت بنائی ہے اور ہر چیلنج کا مسلسل غیر معمولی عزم کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ان کی بے لوث خدمات اور قربانیاں ملک کے لیے بے پناہ ترغیب کا ذریعہ ہیں۔”
ہند تبت سرحدی پولیس کا قیام 24 اکتوبر 1962 کو ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ کے بعد ہمالیائی سرحد پر سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ یہ ہندوستان کی مرکزی مسلح پولیس فورسز میں سے ایک ہے اور بنیادی طور پر ہندوستان اور چین کی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اس کے جوان دنیا کے انتہائی دشوار گزار بلند پہاڑی علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔
اس فورس کے جوان سخت موسمی حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں، جہاں انہیں نقطۂ انجماد سے نیچے درجہ حرارت، خطرناک پہاڑی درّوں، دشوار گزار راستوں اور آکسیجن کی کمی جیسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کی خصوصی تربیت انہیں مشکل گشت انجام دینے اور حساس سرحد پر مسلسل نگرانی رکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اکثر انہیں ایسے دور دراز علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے، جہاں پہنچنا اور ضروری سامان فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران باہمت جوانوں نے پہاڑی علاقوں میں آفات سے نمٹنے، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں اور انسانی امداد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی عملی مہارت اور برداشت نے انہیں ہندوستان کی سرحدی سلامتی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ بنا دیا ہے۔
فورس کے یوم تاسیس پر مودی کے پیغام میں ان جوانوں کی لگن اور قربانیوں کو تسلیم کیا گیا، جو ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے انتہائی دشوار حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ سالانہ دن فورس کی شاندار روایات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لیے اس کے جوانوں کے عزم کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ جوان اکثر اپنے اہل خانہ سے دور رہ کر ملک کے انتہائی سخت اور دشوار گزار علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
نئی دہلی، مرکزی وزارت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے نئی دہلی میں واقع کمیشن میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ضرورت کے مطابق تقرریوں کی تعداد 2 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ان عہدوں کو ضرورت کے مطابق پُر کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت 2 سے کم اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری بھی کرسکتی ہے۔
محکمے نے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اہلیت کی شرائط اور درخواست کا مقررہ نمونہ سرکاری ویب سائٹ سے حاصل کرلیں۔ تقرری کے لیے غور کیے جانے کی خاطر امیدواروں کو اپنی مکمل طور پر بھری ہوئی درخواست 20 نومبر 2026 تک محکمے میں جمع کرانی ہوگی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اشوک سین 2026 کا آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بنے
نئی دہلی، بنگلورو میں انفوسس مادھو چیئر کے پروفیسر ڈاکٹر اشوک سین 2026 کا باوقار آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بن گئے ہیں۔ حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے اس اعزاز کے لیے انہیں مبارک باد دی ہے۔
پروفیسر سین اسٹرنگ تھیوری میں اپنی اہم اور انقلابی خدمات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ خاص طور پر ایس ڈوئلٹی، بلیک ہول کی اینٹروپی کی درست گنتی اور اسٹرنگ فیلڈ تھیوری کے شعبوں میں ان کی تحقیق نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی تحقیق نے جدید اسٹرنگ تھیوری کو آگے بڑھانے اور بنیادی طبیعیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آسکر کلائن میڈل مشترکہ طور پر اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی نوبل کمیٹی برائے طبیعیات کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز طبیعیات کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔
پروفیسر سین کے اس اعزاز سے ان کی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور اہم اعزاز کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کی دیگر نمایاں کامیابیوں میں 2012 کا بریک تھرو پرائز برائے بنیادی طبیعیات، 2014 کا ڈیرک میڈل، 2001 کا پدم شری اور 2013 کا پدم بھوشن شامل ہیں۔
یو این آئی ایم جے
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
