ہندوستان
جے پور میں گیس ٹینکر میں آگ لگ جانے سے آٹھ افراد ہلاک
جے پور، راجستھان کی راجدھانی جے پور میں اجمیر-جے پور قومی شاہراہ پر جمعہ کی صبح ایک گیس ٹینکر میں آگ لگ جانے سے آٹھ لوگوں کی موت اور تقریباً تین درجن زخمی ہو گئے۔
اجمیر روڈ پر بھانکروٹا کے نزدیک ایک پٹرول پمپ کے قریب ایل پی جی گیس سے بھرے ٹینکر میں اچانک زبردست آگ بھڑک اٹھی اور دھماکہ بھی ہوا۔ اس دوران آس پاس کی کئی گاڑیوں میں بھی آگ لگ گئی۔ موقع پر افراتفری مچ گئی اور علاقے میں خوف وہراس پھیل گیا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق حادثے میں پانچ افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے اور جھلسنے والے افراد کو علاج کے لیے سوائی مان سنگھ اسپتال لایا گیا، جن میں سے تین افراد کی موت ہوگئی۔ اسپتال کے سرکاری ذرائع کے مطابق حادثے میں شدید جھلسنے والے 28 افراد اسپتال کے برن وارڈ میں داخل ہیں جن میں سے 6 وینٹی لیٹر پر ہیں۔ زخمیوں میں سے 15 افراد 50 فیصد سے زیادہ جھلس چکے ہیں اور شدید زخمی ہیں۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی وزیر اعلیٰ بھجن لال شرما ایس ایم ایس اسپتال پہنچے اور زخمیوں کی خیریت دریافت کی اور ان کے بہتر علاج کی ہدایات دیں۔ انہوں نے ہسپتال حکام کو ہدایت کی کہ زخمیوں کے علاج میں کسی قسم کی غفلت نہ برتی جائے۔ وزیراعلیٰ نے زخمیوں کو فوری امداد فراہم کرنے کی ہدایت بھی دی۔ اس کے بعد وزیر اعلیٰ موقع پر پہنچے جہاں جے پور کے پولیس کمشنر بیجو جارج جوزف نے واقعہ اور حادثے کے بعد کی صورتحال کے بارے میں معلومات دیں۔
مسٹر شرما نے اس واقعہ میں مرنے والوں کے ہر زیر کفالت کو 5 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 1 لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے حادثے پر گہرے غم کا اظہار کیا ہے اور سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ جے پور میں سڑک حادثے میں کئی لوگوں کی موت کی خبر انتہائی تکلیف دہ ہے۔
انہوں نے بھگوان سے مرحوم کی روح کے سکون کے لیے پرارتھنا کی اور ان کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی بھی خواہش کی۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور ہر مرنے والوں کے لواحقین کو وزیر اعظم کے قومی ریلیف فنڈ سے 2 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50 ہزار روپے کی امداد کا اعلان کیا۔ گورنر ہری بھاؤ کسان راؤ باگڑے نے بھی اس واقعہ پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ مسٹر باگڑے نے بھگوان سے پرارتھنا کی کہ وہ مرحوم کی روح کو سکون دے اور سوگوار کنبہ کے افراد کو یہ نقصان برداشت کرنے کی طاقت دے۔ انہوں نے حادثے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کی۔
نائب وزیر اعلیٰ دیا کماری اور ڈاکٹر پریم چند بیروا، سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت، کانگریس کے ریاستی صدر گووند سنگھ دوٹاسرا، بی جے پی کے ریاستی صدر مدن راٹھور اور ریاست کے کئی وزراء اور ایم ایل اے اور کئی دیگر لیڈروں نے حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ لیڈروں کے ہسپتال آنے کا سلسلہ جاری ہے۔
طبی وزیر گجیندر سنگھ کھینوسر نے اسپتال پہنچ کر زخمیوں کے بہتر علاج اور مناسب انتظامات کی ہدایات دیں۔ کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے۔ آگ میں شدید زخمی ہونے والے افراد کی شناخت اور ان کے اہل خانہ کی مدد کے لیے محکمہ انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کی ایک ٹیم بھی تعینات کی گئی ہے جو آدھار نمبر، انگوٹھے کے نشان اور دیگر معلومات کی بنیاد پر مدد فراہم کر رہی ہے۔
مسٹر کھینوسر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بھجن لال شرما کی ہدایات کے مطابق زخمیوں کا فوری علاج اور بہتر طبی سہولیات کی دستیابی کو یقینی بنایا گیا ہے۔
یو این آئی۔ م ع۔ 1555
ہندوستان
مودی-شاہ انتخابی میچ فکسنگ کے لیے گیانیش کمار کا استعمال کرتے ہیں: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ہفتہ کے روز چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے حوالے سے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ پر نشانہ لگایا اور الزام لگایا کہ وہ مسٹر کمار کا استعمال انتخابات کی ‘میچ فکسنگ’ کے لیے کرتے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے ہفتہ کی دیر شام سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ مسٹر مودی اور مسٹر شاہ نے پہلے مسٹر کمار کو بی جے پی کے لیے بھرتی کرنے میں استعمال کیا اور بعد میں انہیں انتخابات میں ‘میچ فکسنگ’ کی ذمہ داری سونپ دی۔
انہوں نے لکھا، “پہلے گیانیش کمار— پھرحاضر سروس آئی اے ایس افسر —کا استعمال بی جے پی کے لیے بھرتی کرنے میں کیا گیا۔ پھر مودی اور شاہ نے انہیں (گیانیش کمار) امپائر بنا دیا اور ہندستان کے انتخابات کی میچ فکسنگ کی ذمہ داری سونپ دی۔”
مسٹر گاندھی کا یہ بیان کیرالہ کانگریس کے ایک بیان کے بعد آیا ہے جس میں پارٹی سوشل میڈیا ایکس پر دعویٰ کرتے ہوئے کہتی ہے، “گیانیش کمار کو لے کر بڑا انکشاف۔ کیرالہ کے سابق چیف سکریٹری جی جی تھامسن نے کہا ہے کہ مسٹر کمار نے ان سے رابطہ کر کے بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کے لیے کہا تھا اور انہیں وزیر کے عہدے کی پیشکش بھی کی تھی۔”
کیرالہ کانگریس نے سوال کرتے ہوئے کہا، “گیانیش کمار یہ تجویز کس حیثیت سے دے رہے تھے۔ وہ کس کے اختیار سے بول رہے تھے اور 2016 میں بی جے پی کے لیے سیاسی بھرتی میں ایک الیکشن کمشنر مبینہ طور پر کیوں شامل تھے؟”
اس کے ساتھ ہی کیرالہ کانگریس نے مسٹر تھامسن کا ایک ویڈیو بھی شیئر کیا ہے جس میں وہ ملیالم میں مسٹر گیانیش کمار کے بارے میں دعویٰ کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
سونیا-راہل نے منموہن سنگھ کو خراجِ عقیدت پیش کیا
نئی دہلی، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر محترمہ سونیا گاندھی اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے یومِ پیدائش پر انہیں گلہائے عقیدت نذر کر کے خراجِ عقیدت پیش کیا۔
محترمہ گاندھی نے ڈاکٹر سنگھ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ان کی دانشمندی، عاجزی اور قوم کے لیے غیر متزلزل عزم کے لیے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی معاشی تبدیلی میں ان کا تعاون اور ملک کے لیے ان کی خدمات تاریخ کا ایک دائمی حصہ ہیں۔
مسٹر گاندھی نے ڈاکٹر سنگھ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں معاشی اصلاحات کا معمار قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے دانشمندی، ایمانداری اور عاجزی کے ساتھ ملک کی خدمت کی نیز ان کے پرسکون عزم اور مدبرانہ بصیرت نے چیلنجنگ اوقات میں ملک کی رہنمائی کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمہ گیر ترقی اور عوامی خدمت کے لیے ڈاکٹر سنگھ کا عزم لوگوں کو تحریک دیتا رہے گا۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
ہندوستان- خلیجی کونسل تجارتی بات چیت آگے بڑھی، تجارت اور توانائی کے تعاون کو مضبوط کرنے پر زور
نئی دہلی، ہندوستان اور خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے درمیان وزرا کی سطح کی میٹنگ میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، سکیورٹی اور عوامی رابطوں کو مضبوط کرنے پر تبادلہ خیال ہوا۔
دونوں فریقوں نے ہندوستان-جی سی سی آزادانہ تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کی بات چیت کو آگے بڑھانے اور 2024-28 کے مشترکہ عمل کے منصوبے پر تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز بتایا کہ وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر کی قیادت میں جمعہ کے روز نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے حاشیے پر منعقدہ میٹنگ میں رکن ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ دونوں فریقوں نے بتایا کہ مالیاتی سال 2025-26 میں ہندوستان اور جی سی سی کے درمیان کل تجارت 178.66 ارب ڈالر رہی۔
میٹنگ میں ہندوستان-جی سی سی مشترکہ عمل کا منصوبہ 2024-28 کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اس میں تجارت اور سرمایہ کاری، غذائی تحفظ، نقل و حمل، توانائی، صحت، ثقافت اور تعلیم جیسے شعبے شامل ہیں۔
ہندوستان اور جی سی سی نے اس سال فروری میں آزادانہ تجارتی معاہدے کے لیے شرائط و ضوابط اور دائرہ کار طے ہونے کے بعد شروع ہونے والی بات چیت کا خیرمقدم کیا۔ دونوں فریقوں نے کہا کہ معاہدے سے تجارت بڑھانے اور برآمدات میں تنوع لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
ڈاکٹر جے شنکر نے مغربی ایشیا میں حالیہ کشیدگی کے دوران توانائی اور کھاد کی سپلائی جاری رکھنے کے لیے خلیجی ممالک کا شکریہ ادا کیا۔ قابلِ تجدید توانائی، بایو فیول اور گرین ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔
میٹنگ میں مغربی ایشیا کی صورت حال، بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں تجارتی جہازوں کی سکیورٹی، کثیر ملکی اداروں میں اصلاحات، استحکام اور دہشت گردی جیسے مسائل پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا گیا۔ دونوں فریقوں نے اگلی ہندوستان-جی سی سی اسٹریٹجک ڈائیلاگ میٹنگ جلد منعقد کرنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
-
جموں و کشمیر1 week agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی، لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
-
دنیا6 days agoمیں پورے ایران کو ہوا میں اڑا سکتا ہوں:ٹرمپ
-
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا بین الاقوامی قانون کے بلاامتیاز نفاذ پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoنو قائم شدہ جے کے فور سی متاثرین پر مرکوز طریقہ کار اختیار کرے گا
-
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کے پتھریلے چیک ڈیمز نے 200 کیوسک سے زائد پانی کا بہاؤ برداشت کیا، اپشی میں معمولی شگاف
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر کے ایل جی نے جاں بحق پی ایس آئی کی اہلیہ کو تقرری نامہ دیا
-
دنیا5 days agoروبیو کی آرکٹک اتحادی ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، سلامتی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
-
جموں و کشمیر1 week agoماتا لَلّیشوری مرکز نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کا ذریعہ ہوگا: جموں و کشمیر ایل جی
-
دنیا1 week agoایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
