جموں و کشمیر
نیشنل کانفرنس نے جموں وکشمیر میں کبھی بھی امن قائم کرنے کی کوشش نہیں کی: سنیل شرما
سری نگر، جموں وکشمیر اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور بی جے پی کے سینئر لیڈر سنیل شرما نے نیشنل کانفرنس کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ پارٹی اپنی کم وبیش 6 ماہ کی سرکار اور اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ عمر عبداللہ نے جو الیکشن منشور میں وعدے کئے تھے وہ نہ گورننس میں اور نہ ہی بجٹ سیشن میں کہیں دکھائی دے گئے۔ان کا کہنا تھا کہ نیشنل کانفرنس کے لیڈروں نے بجٹ اجلاس کو چلنے نہیں دیا۔
موصوف لیڈر نے ان باتوں کا اظہار ہفتے کو یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہا: ‘عمر عبداللہ نے الیکشن منشور میں بڑے بڑے وعدے کئے تھے،پانچ لاکھ نوکریاں دینے، مفت بجلی فراہم اور دفعہ 370 کو واپس لانے کا وعدہ کیا تھا اور اس طرح کے وعدے کرکے لوگوں کو گمراہ کیا تھا’۔ان کا کہنا تھا: ‘لیکن سرکار کو کم وبیش چھ ماہ ہوگئے بجٹ سیشن بھی ہوا لیکن یہ وعدے کہیں دکھائی نہیں دئے’۔انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا مذاق ڈیلی ویجروں کی مستقلی اور مفت بجلی کی فراہمی کے متعلق کیا گیا۔
مسٹر شرما نے کہا کہ معمول کی گورننس اور بجٹ سیشن نیشنل کانفرنس کی ناکامی کو اجا گر کرتی ہے۔انہوں نے کہا: ‘جموں وکشمیر کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ کسی سرکار نے ایوان کو چلنے نہیں دیا جس سرکار کا اسمبلی اسپیکر بھی اپنا تھا’۔ان کا کہنا تھا: ‘وقف بل پر نیشنل کانفرنس کے ممبروں نے ڈرامہ بازی کرکے ایوان کو چلنے نہیں دیا کیونکہ ہم لوگوں کے مسائل پر بات کرنا چاہتے تھے جن کا اس سرکار کے پاس کوئی جواب نہیں تھا’۔
لیڈر آف اپوزیشن نے بی جے پی کے جموں وکشمیر میں قیام امن کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا: ‘بی جے پی کی قیادت یہ عزم کرتی ہے کہ جموں و کشمیر میں پتھر بازی، ملی ٹنسی اور علاحدگی پسندی کے مکمل خاتمے تک کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا’۔انہوں نے کہا: ‘یہاں صورتحال بہتر ہوئی ہے، سکول کھلے رہتے ہیں، کوئی ہڑتال نہیں ہو رہی ہے،پتھر بازی نہیں ہو رہی ہے اور شعبہ سیاحت عروج پر ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ جو مرکزی اسکیمیں جموں و کشمیر میں چل رہی ہیں ان کی رفتار اور فنڈنگ میں کوئی کمی نہیں ہوگی چاہے سرکار کسی کی بھی ہو۔
سنیل شرما نے کہا: ‘نیشنل کانفرنس بار بار کہتی ہے کہ اس کے 10 ہزار ورکر مارے گئے لیکن یہ ہلاکتیں اس وقت ہوئی جب جموں و کشمیر میں ہوم ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ کے پاس تھا’۔انہوں نے کہا: ‘جب سے یہ محکمہ مرکزی سرکار کے ہاتھوں میں ہے تب سے نیشنل کانفرنس کے ورکر محفوظ ہیں’۔ان کا سوالیہ انداز میں کہنا تھا: ‘کیا نیشنل کانفرنس لاپراہ تھی یا مرتکبین کے ساتھ ملی ہوئی تھی’۔ان کا کہنا تھا: ‘ڈائون ٹائون میں گذشتہ بیس برسوں کے دوران دکانیں بند رہتی تھیں آج وہاں کاروبار پھل پھول رہا تھا یہاں اسکول بند رہتے تھے جس کی وجہ سے غریبوں کے بچے پڑھ نہیں پا رہے تھے جبکہ سیسی لیڈروں کے بچے باہر بڑے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے تھے’۔انہوں نے کہا: ‘نیشنل کانفرنس نے جموں وکشمیر میں امن قائم کرنے کے لئے کبھی کوشش نہیں کی’۔
موصوف لیڈر نے کہا: ‘نیشنل کانفرنس لوگوں کے مذہبی جذبات ابھارنے کے لئے اسمبلی میں جو نعرے لگائے گئے یہ لوگوں کے مسائل حل کرنے کی جگہ ہے وہاں ایسی نعرہ بازی نہیں کی جانی چاہئے’۔انہوں نے کہا کہ مفتی محمد سعید نے، جس وقت ہماری ان کے ساتھ حکومت تھی،علاحدگی پسند لیڈر مسرت عالم کو رہا کیا جس کی ہم نے مخالفت کی۔ریاستی درجے کی بحالی کے بارے میں ان کا کہنا تھا: ‘نیشنل کانفرنس ریاستی درجے کی بحالی کی بات کر رہی ہے، یہ بی جے پی کا وعدہ ہے اس کو ہم مناسب وقت آنے پر ضرور پورا کریں گے’۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کو چاہئے کہ وہ لوگوں کے بجلی، پانی سڑک، نوکریوں وغیرہ کے مسائل حل کریں۔مسٹر شرما نے کہا کہ ملی ٹنسی اب جنگلوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے مقامی سطح پر اس میں کوئی نئی بھرتی نہیں ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا: ‘جو گنے چنے ملی ٹنٹ ہیں آخری ملی ٹنٹ کی ہلاکت تک دم نہیں لیا جائے گا’۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
