جموں و کشمیر
لیفٹنٹ گورنر،وزیراعلیٰ ،کابینہ وزرائ،محبوبہ مفتی،سجادلون اور میرواعظ کااظہاررنج وغم حادثے میں2طالبات کی موت سانحہ قرار غمزدہ خاندانوں کیساتھ تعزیت کااظہار ،سبھی زخمیوںکی جلد اور مکمل صحت یابی کیلئے دعائیں
سری نگر :جے کے این ایس : جموں وکشمیرکے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا ،وزیراعلیٰ عمرعبداللہ ،کابینہ وزرائ،سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی ،سابق وزیرسجاد غنی لون اور میرواعظ عمرفاروق سمیت متعددسیاسی ومذہبی لیڈروں اورمختلف حلقوںنے ہندوارہ کالج بس حادثے میں دونوعمر کالج طالبات کے جاں بحق ہونے پرسخت صدمے کااظہار کرتے ہوئے سوگوارخاندانوں کیساتھ ہمدردی اور تعزیت کااظہارکیا ہے جبکہ اس حادثے میں زخمی ہونے والی طالبات اور کالج ملازمین کو معقول طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے وزیراعلیٰ اور دیگر لیڈروںنے سبھی زخمیوںکی فوری صحت یابی کیلئے دعائیں کیں۔جے کے این ایس کے مطابق لیفٹنٹ گورنر منوج سنہانے سماجی رابطہ گاہ ایکس پرایک پوسٹ میں لکھاکہ ہندواڑہ کالج بس حادثہ میں 2 نوجوان طالبات کی موت کی خبر انتہائی دل دہلا دینے والی ہے۔انہوںنے کہاکہ دکھ کی اس گھڑی میں میری ہمدردیاں سوگوار خاندان کے ساتھ ہیں۔
لیفٹنٹ گورنر منوج سنہانے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا۔وزیراعلیٰ کے دفتر نے ایکس پرایک پوسٹ میں لکھاکہ گورنمنٹ ڈگری کالج سوگام کی 2ہونہار طالبات کی ہندواڑہ کے قریب المناک حادثے میں جاں بحق ہونا ایک المیہ ہے جو ہم سب پر بھاری ہے۔وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہاکہ غم کی اس گھڑی میں ان کے اہل خانہ کے ساتھ میری گہری تعزیت ہے۔ زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور تمام ضروری مدد کو یقینی بنا رہی ہے۔سابق وزیراعلیٰ اور پی ڈی پی کی صدرمحبوبہ مفتی نے اپنے تعزیتی بیان میں کہاکہ ہندواڑہ میں بس حادثے میں 2طالبات کی المناک موت پر گہرا دکھ ہوا ہے۔ انہوںنے کہاکہ جاں بحق طالبات کے غمزدہ والدین کے ساتھ دلی تعزیت کرتی ہوں، اللہ تعالیٰ ان کو اس ناقابل تصور مشکل وقت میں ہمت اور صبر عطا فرمائے۔ محبوبہ مفتی نے طالبات سمیت تمام زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے دعاکی۔سابق وزیراور پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجادغنی لون نے حادثے کا شکار ہونے والی طالبات اوردیگرزخمیوں سے ملنے کے لیے جی ایم سی ہندواڑہ کا دورہ کیا۔انہوںنے کہاکہ میں ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکس کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو انتھک محنت کر رہے ہیں۔شکر ہے کہ اس وقت جی ایم سی ہندواڑہ میں داخل تمام طالبات اور دیگر افرادمحفوظ ہیں۔ ان کی صحت یابی کے لیے میری دعائیں۔سجادغنی لون نے مزید کہاکہسری نگر ریفرکی گئی دوطالبات کی جان چلی گئی۔ اللہ ان کو جنت عطا فرمائے۔اس دوران کشمیر کے چیف عالم دین میر واعظ کشمیر عمر فاروق نے بھی حادثے پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کیا ہے۔انہوںنے واقعہ کو دل دہلا دینے والا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے نوجوان، امید افزا جانوں کا ضیاع ایک بہت بڑا سانحہ ہے جس نے پوری کمیونٹی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔میر واعظ کشمیر عمر فاروق نے سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور انہیں اس ناقابل تلافی نقصان کو برداشت کرنے کی طاقت اور صبر کی دعا کی۔میرواعظ نے تمام زخمی طالبات اوردیگرافراد کی جلد اور مکمل صحت یابی کی دعا بھی کی اور اہل خانہ اور کالج کی پوری کمیونٹی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے المناک حادثات تعلیمی سفر اور عوامی سفر کے دوران طلباءکی حفاظت اور حفاظت کو یقینی بنانے کی فوری ضرورت کی یاد دہانی ہیں اور امید ظاہر کی کہ حکام اس سلسلے میں تمام ضروری اقدامات کریں گے۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
