جموں و کشمیر
گزشتہ24گھنٹوں سے موسلادار بارش،خطرناک ژالہ باری ،آندھی نماتیز ہوائیں،سنگرامہ سوپور میںآسمانی بجلی گری
جموں وکشمیرمیں موسم کاخطرناک رُخ
شوپیان ،کولگام،بارہمولہ ،گاندربل،راجوری اور دیگرکئی علاقوںمیں پھل داردرخت اور سبزیاں ملیا میٹ،املاک کونقصان
21اپریل تک خطہ پیرپنچال کے آرپارگرج چمک کیساتھ موسلا دار بارشیں ،تیز ہوائیں اوربالائی علاقوںمیںبرف باری
سری نگر: جے کے این ایس : گزشتہ 24گھنٹوں سے خطہ پیرپنچال کے آرپار جاری موسلا دار بارشوں ،تیز ہواﺅں اوربالائی علاقوںمیں تازہ برف باری کے بیچ موسمیاتی مرکز سری نگرکے ڈائریکٹر ڈاکٹر مختار احمد نے ہفتہ کی سہ پہر خبردارکیاکہ اگلے 6سے8گھنٹوں کے دوران اننت ناگ ،بڈگام ،بانڈی پورہ ،بارہمولہ ،ڈوڈہ،گاندربل ،جموں ،کشتواڑ ،کولگام ،کپوارہ ،پونچھ ،پلوامہ ،رام بن ،ریاسی ،شوپیان ،،سری نگر اور اودھم پوراضلاع میں گرج چمک کیساتھ موسلا داربارشوں ،تیز ہواﺅں،بجلی کڑکنے ،اورژالہ باری کاقومی امکان ہے ۔
انہوںنے موسم کی خطرناک صورتحال کے حوالے سے صوبائی کمشنر کشمیر کو ایک تفصیلی مکتوب کیساتھ پیشگی مطلع کردیاہے ۔اس دوران کشمیر وادی ،وادی چناب،خطہ پیرپنچال اور جموں صوبے کے دیگر اضلاع میں جمعہ کی شام اور دیر رات شروع ہونے والی بارشوں کا سلسلہ ہفتہ کی شام تک جاری تھا۔ادھر سنگرامہ سوپورمیں سری نگربارہمولہ شاہراہ پراسوقت دہشت پھیل گئی ،جب یہاں شاہراہ کے کنارے آسمانی بجلی بجلی ،تاہم خوش قسمتی سے اسے کوئی نقصان نہیں ہوا ۔جے کے این ایس کے مطابق جموں وکشمیرمیں جمعہ کو شام دیر گئے شروع ہونے والی تیز بارشوں ،شدیدژالہ باری اور آندھی نما ہواﺅںنے ضلع بارہمولہ کے کنڈی ونارواﺅ علاقوں ،رفیع آباد کے بالائی علاقوں کنگن گاندربل ،شوپیان ،کولگام اور راجوری میں املاک اور پھلوں وفصلوںکو بھاری نقصان پہنچادیا۔ژالہ باری سے متاثرہ علاقوں میں پھل دار درختوںکی شاخیں اور فصلیں زمین بوس ہوگئیں جبکہ کالاکوٹ راجوری میں درجنوں رہائشی مکانات اور اسکولی عمارات کو نقصان پہنچاہے ۔محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق، شمالی کشمیر کے گلمرگ میں 35.2 ملی میٹر بارش ہوئی، اس کے بعد جنوبی کشمیر کے کوکرناگ میں33.2 ملی میٹر، کپواڑہ میں 20 ملی میٹر اور قاضی گنڈ میں27.4 ملی میٹر بارش ہوئی۔ گرمائی دارالحکومت سری نگر میں18.3 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جموں ڈویڑن میں بٹوٹ میں15.4 ملی میٹر بارش ہوئی جو خطے میں سب سے زیادہ ہے۔شوپیان ،کولگام،بارہمولہ ،گاندربل،راجوری اضلاع کیساتھ ساتھ اور دیگرکئی علاقوںمیں پھل داردرخت اور سبزیاں ملیا میٹ ہوکررہ گئی ہیں جبکہ املاک کوبھی بھاری نقصان پہنچاہے۔عہدیداروں نے بتایا کہ کشمیر کے بیشتر علاقوں میں رات کے وقت گرج چمک کیساتھ تیز ومتواتر بارشیں ہونے کیساتھ ساتھ تیز ہوائیں چلیں، کچھ علاقوں میں اولے پڑے جس سے باغات کی پیداوار کو نقصان پہنچا۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اتوار کی شام تک بیشتر مقامات پر ہلکی سے درمیانی بارش یا برفباری کا امکان ہے، الگ تھلگ اور بکھرے ہوئے مقامات پر درمیانے سے بھاری بارش اور گرج چمک کے ساتھ تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔پیر کے روز موسم عام طور پر ابر آلود رہے گا اور کہیں کہیں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات نے کسانوں کو سوموار تک کام معطل کرنے کا مشورہ دیا ہے اور خطرناک جگہوں پر لینڈ سلائیڈنگ یا مٹی کے تودے گرنے یا پتھر برسانے کے امکان سے بھی خبردار کیا ہے۔موسمیاتی مرکز سری نگرکے ڈائریکٹر ڈاکٹر مختار احمد نے ہفتہ کی سہ پہر خبردارکیاکہ اگلے 6سے8گھنٹوں کے دوران جموں وکشمیرکے17اضلاع بشمول اننت ناگ ،بڈگام ،بانڈی پورہ ،بارہمولہ ،ڈوڈہ،گاندربل ،جموں ،کشتواڑ ،کولگام ،کپوارہ ،پونچھ ،پلوامہ ،رام بن ،ریاسی ،شوپیان ،،سری نگر اور اودھم پوراضلاع میں گرج چمک کیساتھ موسلا داربارشوں ،تیز ہواﺅں،بجلی کڑکنے ،اورژالہ باری کاقومی امکان ہے ۔
انہوںنے صوبائی کمشنرکشمیر کو مطلع کیاکہ 18اپریل سے جموں وکشمیر فعال مغربی ہواﺅںکے زیراثر ہے ،اور اگلے کم سے کم اڑتالیس گھنٹے تک موسمی صورتحال یونہی پیچیدہ اور ابتررہنے کاامکان ہے ۔ڈائریکٹر موسمیاتی مرکز سری نگر ڈاکٹر مختار احمد نے صوبائی کمشنر کشمیرکو ارسال کردہ مکتوب نما ایڈوائزری میں خبردارکیاہے کہ کشمیر وادی اور خطہ پیرپنچال کے بالائی علاقوں میں تازہ برف باری ہونے کیساتھ موسلا دار بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کاامکان ہے جبکہ اس دوران کچھ علاقوںمیں 40سے50اورکچھ علاقوںمیں 60سے70کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے کا ابھی امکان ہے ۔انہوںنے صوبائی کمشنر کو صلاح دی ہے کہ 21اپریل تک موسمی صورتحال دگرگوں رہنے کے پیش نظر احتیاطی اقدامات اُٹھائے جائیں۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے 500 گرام گانجا کے ساتھ منشیات کے اسمگلر کو گرفتار کیا
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے فوجی کالونی کے علاقے میں منشیات کے 3 اسمگلروں کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے تقریباً 500 گرام گانجا برآمد کیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی۔
حکام کے مطابق، معمول کی گشت کے دوران پولیس کی ایک ٹیم نے دشہرہ میدان کے قریب سینک پبلک اسکول کے سامنے 3 افراد کو روکا۔ اس کے بعد ان کی تلاشی لی گئی، جس میں تقریباً 500 گرام گانجا برآمد ہوا۔
ملزمین کی شناخت مغربی بنگال کے رہنے والے ایشَر علی اور مدھیہ پردیش کے چھترپور کے رہنے والے اجے اہروار اور منوج بنسل کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے تینوں کو موقع پر ہی گرفتار کرلیا۔ برآمد شدہ منشیات کو مقررہ قانونی کارروائی کے تحت ضبط کرلیا گیا ہے اور ملزمین کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
اس سلسلے میں متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس یہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے کہ برآمد شدہ منشیات کہاں سے لائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ منشیات کی مبینہ سپلائی کے نیٹ ورک سے وابستہ تمام رابطوں کا بھی پتہ لگایا جا رہا ہے۔ جموں پولیس نے منشیات کی اسمگلنگ پر روک لگانے اور جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک بنانے کے اپنے عزم کو دہرایا ہے۔
پولیس نے عام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے بارے میں مستند معلومات ڈائل 112 یا 9858034100 پر فراہم کریں۔ حکام نے کہا کہ اطلاع دینے والوں کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے جے کے آئی ایم کے خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، چار خواتین سمیت چھ افراد گرفتار
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے ہفتہ کے روز ممنوعہ تنظیم ‘جموں و کشمیر اتحاد المسلمین’ (جے کے آئی ایم) کے ایک خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے چار خواتین سمیت چھ افراد کو گرفتار کرلیا۔
بانڈی پورہ ضلع پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نیٹ ورک کو پاکستان میں موجود ایک ہینڈلر چلا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق، یہ نیٹ ورک علیحدگی پسند نظریات اور گمراہ کن پروپیگنڈے کو فروغ دے رہا تھا، جس میں خاص طور پر خواتین کو نشانہ بنایا جارہا تھا۔
پولیس نے گرفتار افراد میں کاچلو قاضی پورہ کے رہنے والے وحید احمد بھٹ کو اس معاملے کا مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ بانڈی پورہ کے دچی گام کی رہائشی مبینہ بانو، چیک پنجی گام کی خوشبو جان، مہک جان اور عالیہ جان، نیز ہندواڑہ کے انن وان کے رہنے والے عرفان احمد ریشی عرف رئیس کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور نیٹ ورک کی سرگرمیوں، اس سے وابستہ دیگر افراد اور اس کے مبینہ رابطوں کے بارے میں معلومات جمع کی جارہی ہیں۔
واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے 2025 میں جے کے آئی ایم پر پانچ سال کے لیے پابندی عائد کردی تھی۔ تنظیم پر ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے، دہشت گردی کی حمایت کرنے اور علیحدگی پسند سرگرمیوں کو فروغ دینے کے الزامات ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی خاموشی کو ہتھیار ڈالنا نہ سمجھا جائے: کے ڈی اے کی مرکز کو تنبیہ
سرینگر، مرکزی وزارت داخلہ اور لداخ کے رہنماؤں کے درمیان بات چیت میں تعطل کے درمیان کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) نے ہفتے کے روز مرکز کو خبردار کیا کہ وہ لداخ کے لیے آئینی تحفظات اور جمہوری حقوق کے مطالبات کو مزید تاخیر کا شکار نہ بنائے۔ الائنس نے کہا کہ عوام غیر معینہ مدت تک خاموش نہیں رہیں گے۔
کرگل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کے ڈی اے کے رہنماؤں نے مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو مسترد کردیا۔ ان کا الزام تھا کہ یہ تجویز سابقہ اجلاسوں کی کارروائی کے منٹس میں درج وعدوں پر پوری نہیں اترتی اور لداخ کے عوام کی امنگوں کو پورا کرنے میں ناکام ہے۔
کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی (ایل اے بی) گزشتہ کئی برسوں سے لداخ کے لیے آئینی تحفظات کے مطالبے کی قیادت کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں مرکز کے ساتھ بات چیت بھی کرتے رہے ہیں۔
کے ڈی اے کے شریک چیئرمین سجاد کرگلی نے کہا کہ مجوزہ انتظام عوام کی امنگوں کو مدنظر رکھ کر تیار نہیں کیا گیا، بلکہ ان کے بقول اسے مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کے مفادات کو سامنے رکھ کر وضع کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اپنے اعتراضات مرکز کے سامنے پیش کردیے ہیں۔
کرگلی نے لداخ انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ مسلسل احکامات اور نوٹیفکیشن جاری کرکے جمہوری حقوق کو کمزور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الائنس آئینی تحفظات اور عوام کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”ہم مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کی اس آمرانہ روش کی مذمت کرتے ہیں، جس کے تحت ہم پر یکے بعد دیگرے احکامات مسلط کیے جا رہے ہیں۔ یہ لداخ کے عوام کے حقوق پر حملہ ہے۔”
ملک کے دیگر حصوں میں انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کرگلی نے کہا کہ لداخ کو ایک ”تجربہ گاہ” بنا دیا گیا ہے اور الزام لگایا کہ خطے کی سیاسی نمائندگی کو کمزور کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”لداخ کو ایک تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے۔ یہاں تو عوام کی نمائندگی ہی چھین لی گئی ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے دیگر حصوں میں ووٹوں کی چوری کے الزامات سامنے آتے ہیں، جبکہ ان کے مطابق لداخ میں عوام کی سیاسی نمائندگی چھیننے کا معاملہ ہے۔
کے ڈی اے کے دوسرے شریک چیئرمین اسگر علی کربلائی نے کہا کہ لداخ میں چھائی خاموشی کو خوف یا ہتھیار ڈالنے سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ”طوفان سے پہلے کی خاموشی” ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”انتظامیہ کو موجودہ خاموشی کو خوف، تابع داری یا ہتھیار ڈالنے کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔”
کربلائی نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی گزشتہ چھ برس سے مرکزی وزارت داخلہ کے ساتھ اپنے چار نکاتی ایجنڈے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ ریاست کا درجہ اور آئینی تحفظات ان کے دو اہم مطالبات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 22 مئی کو منعقدہ اجلاس کی کارروائی کے منٹس میں، جن پر 7 جولائی کو دستخط کیے گئے تھے، لداخ کے لیے خصوصی انتظامی ڈھانچے پر اتفاق درج تھا۔ اس انتظام میں قانون سازی، انتظامی اور مالی اختیارات کے ساتھ آئینی تحفظات فراہم کرنے کی بات شامل تھی۔
تاہم، ان کا الزام تھا کہ 15 اکتوبر کے اجلاس میں مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ خاکہ ان وعدوں کے برعکس تھا اور اس میں بامعنی اختیارات یا آئینی ضمانتوں کے بغیر ایک انتظامی ڈھانچہ پیش کیا گیا۔
کربلائی نے کہاکہ ”جن حقوق کو فراہم کرنے پر تحریری طور پر اتفاق کیا گیا تھا اور جن کے لیے اجلاس کی کارروائی کے منٹس پر دستخط کیے گئے تھے، اب وہی حقوق ہمیں دینے سے انکار کیا جا رہا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ مجوزہ کونسل کو بامعنی مالی اختیارات حاصل نہیں ہیں، نہ ہی اسے زمین سے متعلق معاملات پر اختیار دیا گیا ہے اور نہ ہی آزادانہ انتظامی اختیارات فراہم کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق، کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے آئینی اور قانونی ماہرین سے مشورے کے بعد اس تجویز پر اپنا تفصیلی جواب مرکز کو پیش کردیا ہے۔
کربلائی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت اس معاملے میں مزید تاخیر کرتی ہے تو الائنس اپنی احتجاجی تحریک تیز کردے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”اگر کل ہمیں اپنے ایجنڈے اور مطالبات کے لیے سڑکوں پر اترنا پڑا، تحریک چلانی پڑی، احتجاج کرنا پڑا، بند کی اپیل کرنی پڑی، ہڑتال کرنی پڑی یا جیلیں بھرنی پڑیں تو ہم ایسا کریں گے۔”
لداخ کے رکن پارلیمنٹ حاجی محمد حنیفہ جان نے کہا کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے نے ان امیدوں کو ختم کردیا ہے جو سابقہ بات چیت کے دوران پیدا ہوئی تھیں، جب دونوں فریق ایک انتظامی نظام کے بنیادی خدوخال پر متفق ہوگئے تھے۔
انہوں نے مرکز سے اپیل کی کہ ملتوی شدہ اجلاس جلد از جلد طلب کیا جائے اور دستخط شدہ منٹس میں درج وعدوں کے مطابق مسودہ پیش کیا جائے۔
جان نے کہا کہ لداخ کے عوام اپنی پالیسیاں خود طے کرنا اور خطے کی ترقی کی سمت کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ الائنس لداخ میں امن برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل تاخیر سے عوام میں، خصوصاً نوجوانوں میں، ایک بار پھر غم و غصہ پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں پیش کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
کے ڈی اے نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ اپنے ایجنڈے سے دست بردار نہیں ہوگا۔ الائنس نے مرکزی وزارت داخلہ اور مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان ضوابط کو واپس لیں جنہیں وہ لداخ کے عوام کے مفادات کے خلاف سمجھتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا
