فن و ادب
فیروز خان ایک ہمہ جہت اداکار
27 اپریل برسی کے موقع پر
ممبئی، فیروز خان کی پیدائش 25 ستمبر 1939کو بنگلور میں ہوئی تھی۔ والد پٹھان جب کہ والدہ کا تعلق ایرانی نسل سے تھا۔ وہ بنگلور سے بمبئی آئے تاکہ فلموں میں کام کر سکیں۔
فلم کے مختلف شعبوں سے وابستہ فیروز خان صرف ایک اداکار ہی نہیں تھے بلکہ ان کی اپنی الگ شناخت تھی‘ منفرد اسلوب تھا‘ جو انہوں دیگر فن کاروں سے ممتاز کرتا ہے اور اس انفرادیت کو انہوں نے تاحیات برقرار رکھا۔ کہا جاسکتا ہے کہ فیروز خان نے اپنی آرزؤوں اور امنگوں کے ساتھ پروقار اور شاہانہ زندگی بسرکی اور ہندوستانی سنیما کو اپنی اداکاری اور فن کاری کا بیش بہا خزانہ عطا کیا۔
ہندوستانی فلم انڈسٹری کی خوش قسمتی رہی ہے کہ یہاں متعدد ایسے فن کارپیدا ہوئے جنہوں نے پردۂ سیمیں پر اپنی فنی صلاحیتوں اور ہمہ جہت اداکاری کی بدولت فلم انڈسٹری میں وہ مقام حاصل کیا‘ جو انہیں مقبولیت اور شہرت کی بلندیوں پر لے گیا۔ بلاشبہ فیروز خان بھی ایک ایسے ہی فن کار تھے‘ جنہوں نے اپنی ہمہ جہت اداکاری کی بدولت لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچی۔ فلم انڈسٹری میں ان کی شناخت ایک اسٹائل آئی کون کے طور پر تھی۔ ان کی منفرد اداکاری اور شاہانہ انداز ہمیشہ لوگوں کے لئے باعث کشش رہا۔یہ بہت اہم بات ہے کہ تاحیات انہوں نے اپنی آن بان اور شان قائم رکھی۔ گورے چٹے‘ قدآور افغانی نسل کے اس پٹھان نے اس کے لئے کبھی کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کیا۔ خواہ اس کے لئے انہیں کتنا بھی خسارہ برداشت کرنا پڑا ہو۔وہ نہایت نفاست پسند انسان تھے۔ خوب صورت ملبوسات‘قیمتی گاڑیوں‘ عمدہ نسل کے گھوڑوں سے انہیں بے پناہ لگاؤ تھا‘ جس کا دیدار ان کی ہر فلم میں کیا جاسکتا ہے۔خان کا اداکاری کا اپنا انداز تھا۔ جس طرح آج کل سلمان خان اپنے سٹائل کے لیے مشہور ہیں اسی طرح کسی وقت فیروز خان جانے جاتے تھے۔
فیروز خان نے اپنے کیریئر کی ابتداثانوی درجے کی فلموں سے کی۔1960میں انہوں نے ’دیدی‘ نامی فلم میں بطور معاون اداکارکام کیا۔بعد ازاں کئی برسوں تک وہ بی اورسی گر یڈ فلموں میں کام کرتے رہے۔ لیکن یہ فیروز خان کی منزل نہیں تھی۔ انہوں نے اپنے اندر آگے بڑھنے کا حوصلہ اور لگن کو برقرار رکھا اوراپنی الگ شناخت کے لئے کوشاں رہے۔
1965میں ریلیز ہونے والی فلم ’اونچے لوگ‘ ان کے کیرےئر کا سنگ میل ثابت ہوئی ۔ اس فلم میں ان کی اداکاری کو کافی سراہا گیا۔پھر کامیابی ان کے قدم چومنے لگی۔ بعد ازاں انہوں نے سپرہٹ فلم’ آرزو‘میں بطور معاون اداکاربہترین کام کرکے خوب شہرت کمائی اور اب انہیں اول درجے کی فلموں میں کام ملنے کا راستہ ہموار ہوگیا۔1969 میں فیروز خان کو’آدمی اور انسان‘ میں بہترین اداکاری کے لئے فلم فئرک ایوارڈ سے نوازا گیا۔حالاں کہ اس وقت فیروز خان نے فلم انڈسٹری میں اپنی شناخت تو قائم کرلی تھی لیکن انہیں فلموں میں لیڈ رول کے لئے بہت کم ہدایت کار و فلم ساز منتخب کرتے تھے۔اس کا فیروز خاں کو کہیں نہ کہیں قلق ضرور تھا‘ اس لئے انہوں نے اپنی مدد آپ کرنے کا فیصلہ کیا جس سے ان کی زندگی میں ایک انقلاب پیدا ہوا۔ انہوں نے ایک نیا خواب دیکھنا شروع کیا یعنی ہدایت کاری اور فلم سازی کا۔ اور جلد ہی اس کی تعبیر بھی سامنے آگئی۔ انہوں نے خود کو اداکاری تک ہی محدود نہ رکھ کر فلم سازی اور ہدایت کاری کے میدان میں قدم رکھ دیا اور کامیاب بھی رہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ وہ اداکار سے زیادہ ہدایت کار اور فلم ساز تھے تو غلط نہ ہوگا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی شخصیت کو ذہن میں رکھ کر اسکرپٹ لکھی جاتی تھی اور وہ اپنی فلموں میں دل کھول کر پیسہ خرچ کرتے تھے۔
سال 1975 میں انہوں نے ’اپرادھ‘نامی فلم بنائی‘ جو زیادہ کامیاب تو نہ ہوسکی لیکن 1975میں جب انہوں نے فلم ’دھرماتما‘ بنائی‘تو وہ سپرہٹ فلم ثابت ہوئی اور ان کی شہرت و مقبولیت کا سبب بنی۔ اس فلم میں فیروز خان نے بطور ہدایت کار اور اداکار اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ اس فلم میں افغانستان کے قدرتی مناظر کو بہترین انداز میں پیش کیا گیا تھا۔یاد رہے کہ فیروز خاں کے آباء و اجدادکا تعلق افغانستان سے تھا۔ والدہ ایران سے تعلق رکھتی تھیں۔بہرحال ’دھرماتما‘ فلم کو انہوں نے جس خوب صورت انداز میں پیش کیا‘ اسے ناظرین نے بے حد سراہا او رآج بھی اگر ٹی وی اور سنیماہالوں میں اس فلم کی نمائش کی جاتی ہے تو کثیر تعداد میں ناظرین اسے دیکھنا پسند کرتے ہیں۔فنی کمالات سے بھرپو راس فلم کو ناقدین نے بے حد سراہا۔فیروز خاں ایسے فن کار تھے‘جو بیک وقت اداکار‘ ہدایت کار‘ فلم ساز‘ اسکرپٹ رائٹرا ور مدیرانہ صلاحیت کے حامل تھے۔فن کاری کے مختلف شعبوں پر عبور رکھنے کے ساتھ ان کے اندر جدو جہد کی کمی نہ تھی۔
ایک اور فلم جو ان کے نام کے ساتھ جڑگئی ہے اور جس کا نام آتے ہی فیروز خان کا چہرہ سامنے آتا ہے ‘ وہ ہے شہرہ آفاق فلم ’قربانی‘۔1980میں ریلیز ہونے والی یہ فلم اس قدرہٹ ثابت ہوئی کہ اس فلم کی ہدایت کاری کے بعد ان کا شمار صف اول کے ہدایت کاروں میں ہونے لگا۔ اس میں ایک نئی تکنیک سے متعارف کرایا گیا تھا۔قربانی اولین بالی ووڈ فلم تھی‘ جس میں ہالی ووڈ کی طرز پر گلاس کا استعمال کیا گیا۔اس فلم کو سپر ہٹ بنانے میں پاکستانی گلوکارہ نازیہ حسن کی آواز کا بھی بڑا رول تھا۔ انہوں نے اس فلم میں ’آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے تو بات بن جائے‘ گاکر لوگوں کو حیرت انگیز مسرت پر مجبور کردیا تھا اور ہر خاص وعام کے لبوں پر یہ گانا مچلتا رہا۔ اس طرح دیکھا جائے تو نازیہ حسن کو انڈین فلم انڈسٹری میں متعارف کرانے والے فیروز خان ہی تھے۔
جاری۔ یو این آئی۔ این یو۔
فن و ادب
ریکھا کی ادکاری ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب
ممبئی،
ریکھا محض ایک اداکارہ نہیں بلکہ ہندی سنیما کی تاریخ کا ایک یادگار باب ہیں۔ ان کی اداکاری، شخصیت اور فن آنے والی نسلوں کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا فلمی سفر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اصل عظمت صرف شہرت حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ اپنے فن کے ذریعے وقت کی حدود سے آگے نکل جانے میں ہے۔
ریکھا کی زندگی کامیابی، جدوجہد، تنہائی، شہرت اور خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔ انہوں نے بچپن کی مشکلات سے نکل کر ہندوستانی فلمی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جس تک پہنچنا ہر فنکار کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔
‘خوب صورت’ کی زندہ دل منجو ہو، ‘امراو جان’ کی غم زدہ شاعرہ، ‘گھر’ کی دکھ سہنے والی عورت یا ‘خون بھری مانگ’ کی مضبوط کردار والی ہیروئن، ریکھا نے ہر کردار میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
بالی وڈ کی امراؤ جان، قاتل نگاہیں اور نمکین رنگت والی مشہور اداکارہ ریکھا دس اکتوبر 1954 کو مدراس کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کا حقیقی نام بھانو ریکھا گنیشن ہے۔ان کے والد جیمنی گنیشن اور ان کی ماں تیلگو اداکارہ پشپ دیوی نے باقاعدہ شادی نہیں کی تھی۔ بچپن سے ہی تیلگو فلموں سے اپنا فلمی سفر شروع کرنے والی ریکھا کو کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
ریکھا نے محض گیارہ سال کی عمر میں تیلگو فلم میں اداکاری سے اپنےکیرئیر کاآغاز کیا، 1969 میں ہندی فلم ‘دو شکاری’ کی ہیروئن کے روپ میں جلوہ گر ہوئیں اور جلد ہی فلمی دنیا پر راج کرنے لگیں۔
سال 1976 میں انہوں نے پہلی بار امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ‘دو انجانے’ میں کام کیا اور فلم کو امر کردیا۔ اس کے بعد یہ جوڑی نٹور لال، خون پسینہ، مقدر کا سکندر اور بہت سی فلموں میں ایک ساتھ نظر آئی ۔
1978 میں فلم ‘مقدرکا سکندر’ نے ریکھا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا اورانہیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ایم جے
فن و ادب
نانا پاٹیکر: انسانی سچائی کی بے مثال آواز خاموش ہو گئی
نئی دہلی، معروف اداکار، فلم ساز اور تھیٹر فنکار نانا پاٹیکر، جن کی پُرجوش اداکاری، منفرد آواز اور انسانی جذبات سے بھرپور کرداروں نے ہندوستانی سنیما کو کئی یادگار کردار دیے، جمعرات کی صبح 75 سال کی عمر میں گوا میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کے ساتھ 5 دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ایک شاندار فلمی سفر کا اختتام ہو گیا۔
نانا پاٹیکر، جن کا اصل نام وشواناتھ پاٹیکر تھا، کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہیں گوا کے ڈونا پاؤلا میں واقع اپنی رہائش گاہ پر شدید دل کا دورہ پڑا۔ انہیں فوری طور پر منی پال اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے تقریباً 45 منٹ تک انہیں بچانے کی کوشش کی، لیکن صبح 5:20 بجے انہیں مردہ قرار دے دیا گیا۔ ان کے بیٹے ملہار پاٹیکر نے ان کے انتقال کی تصدیق کی۔
ان کے اچانک انتقال کی خبر سے ہندوستانی فلمی صنعت میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ لوگوں نے صرف ایک معروف اداکار کے انتقال پر افسوس نہیں کیا بلکہ ایسے فنکار کے کھو جانے کا دکھ منایا جس کی محض ایک نظر، ایک لمحے کی خاموشی یا مکالمے کی ایک سطر بھی پردے کو ہلا دینے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ نانا پاٹیکر کبھی روایتی معنوں میں فلمی ستارہ نہیں رہے۔ وہ ایسے اداکار تھے جو عام لوگوں کی جذباتی دنیا میں اتر جاتے تھے، ان کے غصے، زخموں، بے بسی، مزاحمت، کمزوری اور کبھی کبھی بے باک مزاح کو اپنے کرداروں میں پوری سچائی سے پیش کرتے تھے۔
ان کی اداکاری میں ایک ایسی بے ساختگی تھی جو مرکزی دھارے کی فلموں کے بناوٹی انداز کو قبول نہیں کرتی تھی۔ ان کی منفرد آواز اور مکالمے ادا کرنے کی غیر معمولی صلاحیت عام سے عام جملے کو بھی جذبات اور اثر سے بھر دیتی تھی۔ وہ اپنی آواز بلند کیے بغیر بھی پورے منظر پر چھا جانے کی صلاحیت رکھتے تھے اور خاموشی کے ذریعے بھی کسی کردار کی پوری جذباتی داستان بیان کر دیتے تھے۔
یکم جنوری 1951 کو مہاراشٹر کے رائے گڑھ ضلع کے مروڈ-جنجیرہ میں پیدا ہونے والے نانا پاٹیکر نے مشکلات سے بھرے بچپن کے بعد اپنی نسل کے سب سے قابل احترام اداکاروں میں جگہ بنائی۔ انہوں نے 1978 میں ‘گمن’ کے ذریعے ہندی سنیما میں قدم رکھا اور ہندی و مراٹھی فلموں میں مشکل اور چیلنجنگ کردار ادا کرتے ہوئے اپنے لیے ایک منفرد مقام بنایا۔
ان کی اصل شناخت ایسے کرداروں سے بنی جن میں ظاہری خوبصورتی سے زیادہ اداکاری کی طاقت اور شخصیت کا اثر درکار تھا۔ 1989 کی فلم ‘پرندہ’ میں بے رحم انا کا خوفناک کردار ادا کرنے پر انہیں بہترین معاون اداکار کا قومی فلم ایوارڈ ملا۔ اس کے بعد انہوں نے ‘پراہار: دی فائنل اٹیک’ میں شاندار اداکاری کی، جس کی ہدایت کاری بھی انہوں نے کی تھی۔ اس کے علاوہ ‘انگار’، ‘ترنگا’، ‘اگنی ساکشی’ اور ‘خاموشی: دی میوزیکل’ جیسی فلموں میں بھی ان کی اداکاری کو بے حد سراہا گیا۔
جاری یو این آئی۔ ۔ایم جے
فن و ادب
رانی مکھرجی کو راج کپور خصوصی تعاون ایوارڈ
ممبئی، بالی ووڈ اداکارہ رانی مکھرجی کو ہندوستانی سنیما میں نمایاں تعاون اور مہاراشٹر کے ساتھ ان کی طویل وابستگی کے لیے مہاراشٹر حکومت کی جانب سے باوقار راج کپور خصوصی تعاون ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔
62ویں مہاراشٹر ریاستی فلم ایوارڈز کی تقریب میں وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے رانی مکھرجی کو یہ اعزاز پیش کیا۔
اعزاز ملنے پر رانی نے کہا، ’’میرے لیے مہاراشٹر صرف ایک ریاست نہیں ہے۔ مہاراشٹر میری جائے پیدائش، میری جائے کار اور میری زندگی کا لازمی حصہ ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’سنیما میرے لیے ایک گہرا جذبہ ہے اور مہاراشٹر اس جذبے کا گھر ہے۔ یہ ایوارڈ میرے لیے اس لیے بھی خاص ہے کہ یہ مجھے میرے اپنے لوگوں اور اس جگہ سے مل رہا ہے، جس سے میں گہری وابستگی رکھتی ہوں۔‘‘
ممبئی میں پیدا ہونے اور پرورش پانے والی رانی نے تقریباً 3 دہائیوں پر محیط اپنے فلمی کریئر میں ’بلیک‘، ’نو ون کلڈ جیسیکا‘، ’ہچکی‘، ’مردانی‘ سلسلے کی فلموں اور ’مسز چٹرجی ورسز ناروے‘ جیسی فلموں میں مؤثر کردار ادا کیے ہیں۔
رانی نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ ایسی کہانیوں اور کرداروں کا انتخاب کیا جن میں انہیں سچائی اور حوصلہ نظر آیا۔ انہوں نے پردے پر مضبوط خواتین کی نمائندگی کرنے کی اپنی کوشش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ہمیشہ ایسی خواتین متاثر کرتی رہی ہیں جو کسی دوسرے شخص کے انہیں بچانے کا انتظار نہیں کرتیں۔
رانی نے یہ اعزاز مہاراشٹر کے فنکاروں، تکنیکی ماہرین، فلم سازوں اور پوری فلم برادری کے نام کرتے ہوئے کہا کہ ریاست نے نسلوں سے ہندوستانی سنیما کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
رانی نے کہا، ’’جب بھی میں اس ایوارڈ کو دیکھوں گی، مجھے صرف ایک ایوارڈ نظر نہیں آئے گا۔ مجھے اپنا ممبئی، اپنا مہاراشٹر نظر آئے گا۔‘‘
یو این آئی۔ ایم جے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
