کھیل
مشکل ترین دوروں میں سے ایک: جنوبی افریقہ کی کھلاڑی لوس کا سری لنکا سہ رخی سیریز پر تبصرہ
ڈربن، جنوبی افریقہ کی خواتین ٹیم کی سہ رخی سیریز میں ناقص کارکردگی کے بعد، جہاں انہوں نے چار میچوں میں سے صرف ایک میں کامیابی حاصل کی، آل راؤنڈر سُن لوس نے برصغیر کے ٹورنامنٹ حالات پر دیانتدارانہ تبصرہ کیا۔
برصغیر کے مرطوب حالات پر بات کرتے ہوئے، جن کا مہمان ٹیم پر بڑا اثر پڑا، لوس نے کہا:”پہنچتے ہی ہمیں برصغیر کی شدید گرمی اور نمی کا سامنا کرنا پڑا، جس نے ڈربن کے موسم کو ہوا کا جھونکا بنا دیا۔ لوس نے کہا کج تپتی دھوپ میں موسم ایک مقبول موضوع بن گیا، خاص طور پر اس لیے کہ ہمیں دو برصغیر کی ٹیموں کے خلاف ان کے اپنے گھر میں کھیلنا تھا، جہاں حالات کم، سست اور اسپن کے لیے سازگار ہوتے ہیں”۔
انہوں نے کہاکہ میزبان ملک کو حالات کو سمجھنے اور ان کے مطابق ڈھالنے میں برتری حاصل تھی، لیکن وہ بھی نمی سے پریشان تھے،” “85 فیصد تک نمی اور درمیانی تیس ڈگری درجہ حرارت سے لڑتے ہوئے، ٹیم نے ہر میچ میں لڑنے کی زبردست لچک دکھائی۔ کچھ کھلاڑیوں نے اس دورے کو اپنے کیریئر کے مشکل ترین دوروں میں سے ایک قرار دیا۔”
لوس نے سیریز میں تین میچوں میں ایک وکٹ اور 61 رنز بنائے، جن میں سری لنکا کے خلاف پانچ وکٹوں کی شکست میں 31 رنز ان کا سب سے زیادہ اسکور تھا۔
جنوبی افریقہ نے سیریز کے پہلے تین میچ ہارے، جن میں دو شکست ہندوستان اور ایک میزبان ٹیم کے خلاف تھیں۔ ان کی واحد فتح سری لنکا کے خلاف آخری لیگ میچ میں تھی جہاں کلوئی ٹرائیون نے ہیٹ ٹرک سمیت پانچ وکٹیں لیں اور 51 گیندوں پر 74 رنز بنائے، جبکہ اینری ڈرکسن کے 84 گیندوں پر 104 رنز کی بدولت 76 رنز سے فتح حاصل کی۔
انہوں نے آل راؤنڈر نے کپتان لورا وولوارڈٹ کی قیادت کی تعریف کی اور بتایا کہ “کپتان لورا وولوارڈٹ کی قیادت میں، ہم نے ٹیم کی اقدار پر غور کیا اور اسے پورے دورے میں اپنی روزمرہ کی زندگی میں شامل کرنے کی کوشش کی، جس سے ہم بطور کھلاڑی اور ٹیم کے ساتھی آگے بڑھ سکے۔اگرچہ نتائج ان کے حق میں نہیں رہے، لوس نے تسلیم کیا کہ ٹیم نتائج سے زیادہ چھوٹی چھوٹی باتوں اور ہر میچ کے مثبت پہلوؤں کو منانے پر مرکوز تھی۔
انہوں نے کہا کہ “ہم نے اہم سنگ میل حاصل کئے جن میں تزمین برٹس کی سنچری، نادین ڈی کلرک کی 50ویں ون ڈے وکٹ، اینری ڈرکسن کی بلے اور بال سے مستقل مزاجی، کلوئی ٹرائیون کی ہیٹ ٹرک اور پانچ وکٹیں، نونڈومیسو کی بلے بازی سے کیریئر کی بہترین کارکردگی، سیشنی اور میانی کے ڈیبیو اور پہلی ون ڈے وکٹیں، اور اور کوچ منڈلا کا ٹیم کے ساتھ پہلا مکمل دورہ بھی شامل ہے۔
اینری ڈرکسن، جنہوں نے سیریز سے قبل جنوبی افریقہ کے ایک لیجنڈ کی پیروی کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی، سیریز کی ٹاپ اسکورر رہیں، جنہوں نے 92.00 کی شاندار اوسط سے 276 رنز بنائے اور 113.11 کے اسٹرائیک ریٹ سے کھیلا۔
کلوئی ٹرائیون پروٹیز کی سب سے زیادہ وکٹیں لینے والی گیندبازہیں، جنہوں نے 6 وکٹیں لیں اور سری لنکا کے خلاف واحد فتح میں 5/34 کے بہترین اعداد و شمار حاصل کیے۔
انہوں نے مزید کہاکہ”جب بات جنوبی افریقی خاتون ٹیم کی ہو، تو ایک دوسرے کی کامیابیوں اور سنگ میل کوحاصل کرنا ہمیں ایک ٹیم کے طور پر متحد کرتا ہے۔
ناکامی کے باوجود، لوس پرامید رہیں اور کہا کہ جنوبی افریقہ کا ہدف سال کے آخر میں ہونے والے اہم ایونٹ – آئی سی سی ویمن کرکٹ ورلڈ کپ 2025 پر مرکوز ہے ۔
انہوں نےمزید کہا”اگرچہ یہ میچز ہمارے حق میں نہیں رہے، ٹیم کی توجہ اس سال کے آخر میں ملنے والے بڑے انعام پر ہے۔ آئی سی سی ویمن کرکٹ ورلڈ کپ 2025 جو ہندوستان میں ہوگا، اس ٹرائی سیریز نے اس باوقار ٹورنامنٹ کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
یواین آئی۔ م س
کھیل
پاکستان کو 19 رن سے شکست دے کر ہندوستان نے ایشیائی کھیلوں کی کرکٹ کا طلائی تمغہ جیتا
نشین، (جاپان) ابھیشیک شرما (61)، تلک ورما (ناٹ آؤٹ 51) اور شیوم دوبے (27 رن/2 وکٹ) کی شاندار کارکردگی کی بدولت ہندوستان نے ہفتہ کو ایشیائی کھیل 2026 کی کرکٹ مقابلے کے فائنل میں روایتی حریف پاکستان کو 19 رن سے شکست دے کر خطاب اپنے نام کر لیا۔
212 رن کے ہدف کا تعاقب کرنے اتری پاکستان کی ٹیم کے لیے کپتان صاحبزادہ فرحان اور ماجد صاداقت کی افتتاحی جوڑی نے پہلی وکٹ کے لیے 33 رن جوڑے۔ چوتھے اوور میں واشنگٹن سندر نے صاحبزادہ فرحان (10) کو آؤٹ کرکے ہندوستان کو پہلی کامیابی دلائی۔ اگلے ہی اوور میں اکشر پٹیل نے عثمان خان (3) کو آؤٹ کردیا۔ پاکستان کی تیسری وکٹ ساتویں اوور میں ماجد صاداقت (23) کے طور پر گری۔ اس کے بعد حسن نواز اور صائم ایوب کی جوڑی نے پاکستان کی اننگز کو سنبھالا۔ دونوں بلے بازوں نے چوتھی وکٹ کے لیے 87 رن جوڑ کر پاکستان کی میچ میں واپسی کرائی۔ 15ویں اوور میں شیوم دوبے نے صائم ایوب (29) کو آؤٹ کرکے اس شراکت داری کا خاتمہ کیا۔ 18ویں اوور میں واشنگٹن سندر نے عبدالصمد (9) کو آؤٹ کرکے پاکستان کو پانچواں جھٹکا دیا۔ اس دوران حسن نواز نے ایک سرا سنبھالے رکھتے ہوئے تیزی سے رن بنائے۔
شیوم دوبے نے انہیں میچ کی آخری گیند پر وکٹ کیپر سنجو سیمسن کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کرایا۔ انہوں نے 51 گیندوں میں 5 چوکے اور 7 چھکوں کی مدد سے 96 رن کی اننگز کھیلی۔ پاکستان کی ٹیم مقررہ 20 اوور میں 6 وکٹ پر 192 رن ہی بنا سکی اور مقابلہ 19 رن سے ہار گئی۔ہندوستان کی جانب سے شیوم دوبے، واشنگٹن سندر اور اکشر پٹیل نے 2-2 وکٹیں حاصل کیں۔
اس سے پہلے آج یہاں ابھیشیک شرما (61) اور تلک ورما (ناٹ آؤٹ 51) کی جارحانہ نصف سنچری اننگز کی بدولت ہندوستان نے پاکستان کو جیت کے لیے 212 رن کا ہدف دیا تھا۔ ہندوستانی کپتان شریئس ایئر نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرنے کا فیصلہ کیا۔ بلے بازی کے لیے اتری ہندوستانی ٹیم کو تیسرے اوور کی پہلی گیند پر وائبھو سوریہ ونشی (15) کے طور پر پہلا جھٹکا لگا۔ اگلے ہی اوور میں سنجو سیمسن (2) رن بناکر پویلین لوٹ گئے۔ اس کے بعد کپتان شریئس ایئر نے ابھیشیک شرما کے ساتھ اننگز کو سنبھالا۔ دونوں بلے بازوں کے درمیان تیسری وکٹ کے لیے 42 رن کی شراکت داری ہوئی۔ آٹھویں اوور میں عرفات منہاس نے ابھیشیک شرما کو اسٹمپ آؤٹ کرکے اس شراکت داری کو توڑا۔ ابھیشیک نے 28 گیندوں میں 3 چوکے اور 7 چھکے لگاتے ہوئے 61 رن کی اننگز کھیلی۔
13ویں اوور میں ایشان کشن (20) رن اور اگلے اوور میں شریئس ایئر (21) رن بناکر آؤٹ ہوئے۔ شیوم دوبے نے 15 گیندوں میں 2 چوکے اور 2 چھکوں کی مدد سے 27 رن بنائے۔ ہندوستان نے مقررہ 20 اوور میں 6 وکٹ پر 211 رن کا چیلنجنگ اسکور کھڑا کیا۔ تلک ورما نے 22 گیندوں میں 3 چوکے اور 4 چھکے لگاتے ہوئے ناٹ آؤٹ 51 رن کی اننگز کھیلی۔ پاکستان کی جانب سے عرفات منہاس اور احمد دانیال نے 2-2 وکٹیں حاصل کیں۔ صائم ایوب اور ابرار احمد نے ایک ایک بلے باز کو آؤٹ کیا۔
یو این آئی۔ ایم جے
کھیل
ڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
سری نگر، موجودہ رنجی ٹرافی چیمپئن جموں و کشمیر نے سری نگر میں ایرانی کپ کے دوسرے دن زبردست حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو مشکل حالات سے نکل کر ’ریسٹ آف انڈیا‘ کے خلاف پہلی اننگز میں 41 رنز کی برتری حاصل کر لی۔
صبح 37 رنز پر چار وکٹ اور لنچ کے بعد 166 رنز پر آٹھ وکٹ کے مشکل مرحلے سے گزرنے والی موجودہ رنجی ٹرافی چیمپئن ٹیم کو تجربہ کار پارس ڈوگرا (75 رنز) اور نمبر 10 پر کھیلنے والے لون ناصر مظفر (58 گیندوں پر جارحانہ 64 رنز) نے سنبھالا اور ٹیم کو 278 رنز تک پہنچا دیا۔
’ریسٹ آف انڈیا‘ کی ٹیم پہلے دن 237 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی تھی۔ جموں و کشمیر کی برتری حاصل کرنے کی امیدوں کو اس وقت ابتدائی دھچکا لگا جب مکیش چودھری نے اوور نائٹ بلے باز شبھم کھجوریہ اور کامران اقبال کو پہلے ہی پانچ اووروں میں آؤٹ کر دیا۔
اس کے بعد ڈوگرا اور عبدالصمد نے 97 رنز کی شراکت قائم کرکے اننگز کو سنبھالا اور لنچ تک جموں و کشمیر کا اسکور 134 رنز پر چار وکٹ تک پہنچا دیا۔ صمد (57 رنز) اس جوڑی میں زیادہ جارحانہ رہے اور وقفے سے عین قبل انہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں اپنی 12ویں نصف سنچری مکمل کی۔
تاہم لنچ کے بعد ’ریسٹ آف انڈیا‘ نے واپسی کرتے ہوئے صمد کو آؤٹ کر دیا۔ اس کے بعد کنہیا ودھاون، عابد مشتاق اور ساحل لوٹرا بھی 11 اوور کے دوران آؤٹ ہوگئے۔ 166 رنز پر آٹھ وکٹ گرنے کے بعد بھی جموں و کشمیر 71 رنز پیچھے تھی۔
اس کے بعد ڈوگرا اور مظفر نے نویں وکٹ کے لیے 64 رنز کی شراکت قائم کرکے اننگز کا رخ بدل دیا۔
ڈوگرا 75 رنز بناکر آؤٹ ہوئے، جس کے ساتھ ہی چودھری نے اننگز میں اپنی پانچویں وکٹ حاصل کی، لیکن مظفر نے جارحانہ کھیل جاری رکھا اور آخری وکٹ کے لیے سنیل کمار کے ساتھ 48 رنز جوڑ کر جموں و کشمیر کو برتری دلا دی۔ مظفر بالآخر 64 رنز پر آؤٹ ہوئے اور جموں و کشمیر کی پوری ٹیم 278 رنز پر سمٹ گئی۔ چودھری نے 78 رنز دے کر پانچ وکٹ حاصل کیے، جبکہ آکاش دیپ نے 43 رنز دے کر تین وکٹ لیے۔
جواب میں ’ریسٹ آف انڈیا‘ نے اسٹمپس تک ایک وکٹ پر 24 رنز بنا لیے تھے اور وہ اب بھی 17 رنز پیچھے تھی۔ سودیپ گھرامی اور سَنَت سانگوان ناٹ آؤٹ تھے، جبکہ سست اوور ریٹ کے باعث 15 اوورز کا کھیل نہیں ہو سکا۔
مختصر اسکور:
ریسٹ آف انڈیا: 237 اور 1/24 (سنیل کمار 1/9)، جموں و کشمیر: 278 (پارس ڈوگرا 75، لون ناصر مظفر 64، عبدالصمد 57؛ مکیش چودھری 5/78، آکاش دیپ 3/43) — 17 رنز پیچھے۔
یواین آئی۔ ظ ا
کھیل
رضوان کو این سی سی آئی اے کا پراسس فالو کرنا چاہیے: یونس خان
کراچی، پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان یونس خان نے کہا ہے کہ وہ بطور کرکٹر محمد رضوان کے ساتھ کھڑے ہیں، تاہم رضوان سے متعلق جاری معاملے پر بات کرتے ہوئے احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔پاکستانی میڈیا رپورٹ کے مطابق یونس خان نے ایک پروگرام میں کہا کہ کرکٹرز پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے بڑے نہیں ہوسکتے اور اس معاملے میں محتاط انداز میں گفتگو کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) ایک معتبر ادارہ ہے اور محمد رضوان کو متعلقہ قانونی طریقہ کار پر عمل کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، ”ہم کسی کے وکیل نہیں ہیں اور نہ ہی ہمیں اس کیس سے متعلق مکمل معلومات ہیں۔”
یونس خان نے کہا کہ محمد رضوان سے متعلق معاملہ ایک سرکاری دورے کے دوران پیش آیا ہے، اس لیے کیس کا نتیجہ سامنے آنے تک اس پر گفتگو میں احتیاط ضروری ہے۔
سابق کپتان نے بتایا کہ ماضی میں انہیں بھی اسی نوعیت کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا اور ان کے معاملات تقریباً چار ماہ تک جاری رہے تھے۔
واضح رہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں محمد رضوان اور امام الحق سے متعلق این سی سی آئی اے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
