جموں و کشمیر
وزیراعلیٰ نے کیا گولہ باری سے متاثرہ اوڑی قصبہ اوردیگر کئی ملحقہ علاقوں کا دورہ
تباہ شدہ مکانات کی تعمیر نو میں مدد کی یقین دہانی
پہلے متاثرین کی بحالی اورپھربنکر تعمیرکرنے پر مرکز سے بات کی جائیگی :عمرعبداللہ
اوڑی،بارہمولہ :جے کے این ایس: منگل کو کرناہ کپوارہ میں گولہ باری سے ہوئے نقصان کا جائزہ لینے کے بعدبدھ کوجموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اوڑی بارہمولہ کادورہ کرکے لائن آف کنٹرول کے قریب پاکستانی گولہ باری سے متاثرہ لوگوں کے گھروں کی تعمیر نو کےلئے ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ’میرے لوگوں کا درد بہت ذاتی ہے‘۔انہوںنے اپنے دورے کے دوران گولہ باری کی زدمیں آکر جاں بحق ہونے والی خاتوننرگس بیگم کے لواحقین سے ملاقات کرکے اُن سے تعزیت کی۔جے کے این ایس کے مطابق وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع میں سلام آباد، لگامہ، بانڈی اور گنگل سمیت اوڑی کے گولہ باری سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ان کے ساتھ ان کے مشیر ناصر اسلم وانی،ممبراسمبلی اوڑی سجاد اوری،ڈی سی بارہمولہ اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران بھی تھے۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ ،جموں وکشمیرکے گولہ باری سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کر کے حالات کا جائزہ لے رہے ہیں، لوگوں کو ہونے والے نقصانات کا پہلے ہاتھ سے حساب کتاب حاصل کر رہے ہیں اور ان کا درد بانٹ رہے ہیں۔
عمرعبداللہ نے اوڑی میں گولہ باری سے متاثرہ خاندانوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ آپ کو حکومت کی طرف سے مدد فراہم کریں تاکہ آپ کے گھر دوبارہ تعمیر کیے جا سکیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اوڑی کے لوگوں نے کئی بار درد سہا ہے لیکن ہر بار ہمت اور لچک کے ساتھ اٹھے ہیں۔عمر عبداللہ نے نام لئے بغیر پاکستان کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہاکہ سرحد پار سے جو گولہ باری ہوئی، اس سے راجوری، اوڑی، پونچھ سمیت سبھی علاقوں میں جانی مالی نقصان ہوا اور ایسا لگ رہا تھا کہ گولہ باری جان بوجھ کر رہائشی علاقوں میں کی گئی تاکہ زیادہ سے زیادہ جانی نقصان ہو۔انہوں نے سرحدی علاقوں میں ہوئے نقصان پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کو فوری طور پر امداد فراہم کرنے کی یقین دہانی کی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت فوری طور پر متاثرین کے لیے امداد کے حوالہ سے کام کر رہی ہے تاہم مرکزی سرکار ان علاقوں میں کیا امداد فراہم کرے گی اس کے بارے میں انہیں کوئی علم نہیں۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ سرحدی علاقوں کے رہائشی نجی بنکرز کی مانگ کر رہے ہیں۔ عمر عبداللہ نے کہاکہ جہاں بھی ہم گئے، سبھی علاقوں کے باشندے زیر زمین بنکرز کی مانگ کر رہے ہیں۔سرحدی علاقوں میں مرکزی سرکار کی مدد سے جلد از جلد زیر زمین بنکرز کی تعمیر شروع کرنے کے حوالے سے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہاکہ لائن آف کنٹرول یا انٹرنیشنل بارڈر کے قریب رہائش پذیر زیادہ تر لوگ نجی زیر زمین بنکرز کا مطالبہ کر رہے ہیں، کیونکہ کیمونٹی بنکرز ناکافی ہیں اور اس طرح کی صورتحال میں جانی نقصان سے بچنے کے لیے زیر زمین بنکرز کی تعمیر ناگزیر ہے۔عمرعبداللہ نے ایک ایکس پوسٹ میں کہاکہ اوڑی کے گولہ باری سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا جن میں سلام آباد، لگامہ، بانڈی اور گنگل شامل ہیں۔ اس سرزمین نے2005 کے زلزلے کے اثرات سے لے کر سرحد پار گولہ باری کے درد تک بہت کچھ برداشت کیا ہے۔ پھر بھی، یہاںکے لوگ ہر بار اپنے دلوں میں ہمت اور روح میں لچک کے ساتھ اٹھتے ہیں۔ایک پہلے پوسٹ میں،عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں اور کشمیر کے لوگوں کا دردگہرا ذاتی ہے ۔انہوںنے کہاکہ حکومت تمام متاثرین کیساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے ،اوریہ کہ متاثرین کی مدد،حفاظت ،بحالی اور بازآبادکاری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔عمرعبداللہ نے لکھاکہ پچھلے کچھ دنوں میں، میں نے اپنے لوگوں کے بے پناہ درد، نقصان اور ناقابلِ تصور ہمت کا مشاہدہ کیا ہے۔ یہ دورے خوشیاں بانٹنے اور ترقی کی بات کرنے کےلئے ہونے چاہیے تھے، تعزیت کے لیے نہیں۔ میرے لوگوں کا درد گہرا ذاتی ہے۔وزیراعلیٰ نے سرحدی علاقوںمیں بنکروںکی مانگ کے حوالے سے کہاکہ پہلے متاثرین کو راحت پہنچائی جائے گی اور اسکے بعد اضافی بنکروںکی تعمیرکا معاملہ مرکزکی نوٹس میں لایاجائے گا۔انہوںنے کہاکہ مرکز کیساتھ بات کرکے ایک منصوبے کے تحت بنکروں کی تعمیرکاانتظام کیاجائے گا۔
جموں و کشمیر
اگلے ہفتے کے آغاز میں کابینہ میں توسیع ہوسکتی ہے: عمر عبداللہ
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کو کہا کہ ان کی کابینہ میں ردوبدل اور توسیع اگلے ہفتے کے آغاز میں ہوسکتی ہے۔
انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقات کرکے ان سے اس کے لیے ایک تاریخ طے کرنے کی درخواست کی ہے۔ عمر عبداللہ نے بتایا کہ لیفٹیننٹ گورنر کچھ دن پہلے ہی سری نگر واپس آئے ہیں۔ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر کی خیریت بھی دریافت کی، کیونکہ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر کے ساتھ کئی معاملات پر بات چیت کی، جن میں کابینہ میں ردوبدل بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا، ”میں نے ان سے کابینہ میں توسیع کے لیے وقت مانگا ہے اور درخواست کی ہے کہ وہ اگلے ہفتے کے ابتدائی 2 سے 3 دنوں میں کوئی وقت طے کردیں۔”
انہوں نے کہا کہ وہ اپنی کابینہ کے ساتھیوں سے کچھ تبدیلیاں کرنے کے لیے کہیں گے اور جیسے ہی لیفٹیننٹ گورنر وقت طے کردیں گے، کابینہ میں توسیع کردی جائے گی۔ عمر عبداللہ نے بتایا کہ وزیروں کی فہرست تیار ہے اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ سے مشورے کے بعد اسے حتمی شکل دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا، ”فاروق صاحب یا میرے یا کسی اور کے دروازے پر دستک دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کون وزیر بنے گا، اس کا فیصلہ کیا جاچکا ہے۔” انہوں نے پارٹی کے ساتھیوں سے صبر و تحمل سے کام لینے کی اپیل کی۔
وزیر اعلیٰ نے وزیر بننے کے خواہش مند لوگوں کی جانب سے انہیں بڑی تعداد میں پیغامات بھیجنے اور رابطہ کرنے پر ناراضگی بھی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا، ”براہ کرم مجھے واٹس ایپ پیغامات نہ بھیجیں۔ مجھے واٹس ایپ پر بہت سارے پیغامات اور لمبے لمبے خطوط مل رہے ہیں۔ میں نہ تو ان کے سوانحی کوائف دیکھتا ہوں اور نہ ہی انہیں جانتا ہوں۔ فیصلہ کیا جاچکا ہے۔ براہ کرم مجھے نہ واٹس ایپ پیغامات بھیجیں، نہ فون کریں اور نہ ہی میرے دروازے پر دستک دیں۔ اگلے 2 سے 3 دنوں میں کابینہ میں ردوبدل ہوجائے گا۔”
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان7 days agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
ہندوستان7 days agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
