جموں و کشمیر
پاکستانی فوج کی کمزوریوں، طاقتوں اورتمام پریشر پوائنٹس کا مکمل علم:اعلیٰ فوجی کمانڈر
آپریشن سندور صرف ملتوی کیاگیاہے ، ختم نہیں ہوا ، اس کی بدترین شکل آنا ابھی باقی
کسی بھی مہم جوئی کےخلاف پاکستان کو سخت وارننگ
سری نگر :جے کے این ایس: فوج کی15ویں انفنٹری ڈویڑن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل کارتک سی شیشادری نے پیر کو پاکستان کو ایک سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ پڑوسی ملک کو کسی بھی قسم کی غلط مہم جوئی میں ملوث ہونے سے باز رہنا چاہیے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ آپریشن سندور صرف روکا گیا ہے، ختم نہیں ہواہے۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق ایک خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے میجر جنرل شیشادری نے کہاکہ یاد رکھیں، آپریشن سندور صرف ملتوی کیا گیا ہے، یہ ختم نہیں ہوا ہے۔ اس کی بدترین شکل ابھی آنا باقی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بھارت کی فیصلہ کن فتح کو دوسری طرف کو مزید کسی بھی مہم جوئی سے روکنا چاہیے کیونکہ بقول میجرجنرل شیشادری بھارتی مسلح افواج کو پاک فوج کی کمزوریوں، طاقتوں اور پریشر پوائنٹس کا مکمل علم ہے۔میجر جنرل نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو بھارت پاکستان کو ’تباہ کن‘ جواب دے گا۔ انہوںنے کہاکہ بھارت کی فوجی صلاحیتیں انتہائی پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ تمام سیاسی اور فوجی مقاصد کو حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ میجر جنرل کارتک سی شیشادری نے کہاکہ آپریشن سندور کے حصے کے طور پر، ہم نے شاندار اور فیصلہ کن فتح حاصل کی ہے۔ اس سے پاکستانی فوج کو کسی بھی مہم جوئی سے بچنا چاہیے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی مسلح افواج پاکستانی فوج کی کوتاہیوں، مجبوریوں اور تمام پریشر پوائنٹس سے بخوبی واقف ہیں، اگر پاکستانی فوج نے کوئی مہم جوئی کرنے کی کوشش کی تو وہ خود کو مکمل خطرے میں ڈال دے گی۔انہوںنے کہاکہ جدید ہتھیاروں اور بہتر جنگی صلاحیتوں کے ساتھ، ہم انہیں اگلی بار منہ توڑ جواب دیں گے، اگر ضرورت پڑی تو ہم پاکستان کی مکمل تباہی کو یقینی بنائیں گے ۔بھارتی فوج کے فضائی دفاعی نظام نے پاکستان کی جانب سے کسی بھی مہم جوئی کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ فوج نے پیر کو ایک مظاہرہ کیا جس میں دکھایا گیا کہ کس طرح ہندوستانی فضائی دفاعی نظام بشمول آکاش میزائل سسٹم اور L-70 ایئر ڈیفنس گنوں نے امرتسر اور پنجاب کے دیگر شہروں میں گولڈن ٹیمپل کو پاکستانی میزائل اور ڈرون حملوں سے محفوظ رکھا۔ یہ مظاہرہ ہندوستان کی مضبوط فضائی دفاعی صلاحیتوں کو ظاہر کرتا ہے، جو کسی بھی فضائی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔میجر جنرل نے کہا کہ خود انحصاری کے معاملے میں ہندوستان کے لیے جدید ہتھیاروں کا مقامی بننا نہایت اہم ہے۔
یہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے اس اعلان کے مطابق ہے، جس میں انہوں نے2025 کو اصلاحات کا سال قرار دیا تھا۔ حکومت اور ہندوستانی فوج دونوں دفاعی شعبے میں خود انحصاری حاصل کرنے کےلئے میک ان انڈیا اقدام کو فروغ دے رہے ہیں۔میجر جنرل شیشادری نے کہاکہ ہندوستانی فوج جدیدیت اور توجہ مرکوز تبدیلی کے راستے پر گامزن ہے، جس میں خود انحصاری کےلئے مقامی بنانا ایک اہم جزو ہے۔انہوں نے مزید وضاحت کی کہ مسلح افواج کے پاس دیگر جدید ہتھیاروں اور نظاموں کے ساتھ ملٹی لیئرڈ ایئر ڈیفنس سسٹم انہیں وسیع پیمانے پر صلاحیت فراہم کرتا ہے۔میجر جنرل شیشادری کاکہناتھاکہ آکاش سسٹم کے ذریعہ مسلح افواج کے تمام وسائل کو مربوط کر دیا گیا ہے جس سے فوج کے جوانوں کیلئے کام آسان ہو گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ یہ مربوط نظام ہندوستان کو تیز فیصلے کرنے اور کسی بھی دشمن فضائی خطرے کو بے اثر کرنے کے قابل بناتا ہے۔موصوف میجر جنرل نے کہاکہ ہمارے پاس ہر موسم کے قابل پلیٹ فارمز کے ساتھ ملٹی لیئرڈ ایئر ڈیفنس کا تصور ہے۔ دن اور رات کی نگرانی، ٹریکنگ سسٹمز اور فائر کنٹرول ریڈار کے ساتھ مختلف رینجز کا پتہ لگانے اور نشانہ بنانے کی صلاحیت، بندوق اور میزائل ہتھیاروں کے مناسب مرکب کے ساتھ ہمیں ایک جامع صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ آکاش سسٹم تیار کیا، جو ہمیں ایک مشترکہ فضائی تصویر فراہم کرتا ہے جو تمام دشمن فضائی خطرات کو بے اثر کرنے کے لیے تیز رفتار فیصلہ سازی اور مو ¿ثر ٹیکنالوجیز کو نشانہ بنانے کے قابل بناتا ہے۔انہوںنے کہاکہ ہندوستان کے فضائی دفاعی نظام نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے عروج پر اپنی صلاحیت کو ثابت کیا ہے، متعدد ڈرونز، میزائلوں، مائیکروUAVs اور ہتھیاروں کو روک کر خود کو عالمی سطح پر قابل عمل دفاعی اثاثہ کے طور پر قائم کیا ہے۔ میجر جنرل شیشادری کا یہ بیان ہندوستان کی مضبوط فوجی تیاری کا واضح اشارہ ہے اور پاکستان کو کسی بھی قسم کی مہم جوئی نہ کرنے کا انتباہ ہے۔ بھارت اپنی سرحدی سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے 500 گرام گانجا کے ساتھ منشیات کے اسمگلر کو گرفتار کیا
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے فوجی کالونی کے علاقے میں منشیات کے 3 اسمگلروں کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے تقریباً 500 گرام گانجا برآمد کیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی۔
حکام کے مطابق، معمول کی گشت کے دوران پولیس کی ایک ٹیم نے دشہرہ میدان کے قریب سینک پبلک اسکول کے سامنے 3 افراد کو روکا۔ اس کے بعد ان کی تلاشی لی گئی، جس میں تقریباً 500 گرام گانجا برآمد ہوا۔
ملزمین کی شناخت مغربی بنگال کے رہنے والے ایشَر علی اور مدھیہ پردیش کے چھترپور کے رہنے والے اجے اہروار اور منوج بنسل کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے تینوں کو موقع پر ہی گرفتار کرلیا۔ برآمد شدہ منشیات کو مقررہ قانونی کارروائی کے تحت ضبط کرلیا گیا ہے اور ملزمین کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
اس سلسلے میں متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس یہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے کہ برآمد شدہ منشیات کہاں سے لائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ منشیات کی مبینہ سپلائی کے نیٹ ورک سے وابستہ تمام رابطوں کا بھی پتہ لگایا جا رہا ہے۔ جموں پولیس نے منشیات کی اسمگلنگ پر روک لگانے اور جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک بنانے کے اپنے عزم کو دہرایا ہے۔
پولیس نے عام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے بارے میں مستند معلومات ڈائل 112 یا 9858034100 پر فراہم کریں۔ حکام نے کہا کہ اطلاع دینے والوں کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے جے کے آئی ایم کے خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، چار خواتین سمیت چھ افراد گرفتار
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے ہفتہ کے روز ممنوعہ تنظیم ‘جموں و کشمیر اتحاد المسلمین’ (جے کے آئی ایم) کے ایک خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے چار خواتین سمیت چھ افراد کو گرفتار کرلیا۔
بانڈی پورہ ضلع پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نیٹ ورک کو پاکستان میں موجود ایک ہینڈلر چلا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق، یہ نیٹ ورک علیحدگی پسند نظریات اور گمراہ کن پروپیگنڈے کو فروغ دے رہا تھا، جس میں خاص طور پر خواتین کو نشانہ بنایا جارہا تھا۔
پولیس نے گرفتار افراد میں کاچلو قاضی پورہ کے رہنے والے وحید احمد بھٹ کو اس معاملے کا مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ بانڈی پورہ کے دچی گام کی رہائشی مبینہ بانو، چیک پنجی گام کی خوشبو جان، مہک جان اور عالیہ جان، نیز ہندواڑہ کے انن وان کے رہنے والے عرفان احمد ریشی عرف رئیس کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور نیٹ ورک کی سرگرمیوں، اس سے وابستہ دیگر افراد اور اس کے مبینہ رابطوں کے بارے میں معلومات جمع کی جارہی ہیں۔
واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے 2025 میں جے کے آئی ایم پر پانچ سال کے لیے پابندی عائد کردی تھی۔ تنظیم پر ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے، دہشت گردی کی حمایت کرنے اور علیحدگی پسند سرگرمیوں کو فروغ دینے کے الزامات ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی خاموشی کو ہتھیار ڈالنا نہ سمجھا جائے: کے ڈی اے کی مرکز کو تنبیہ
سرینگر، مرکزی وزارت داخلہ اور لداخ کے رہنماؤں کے درمیان بات چیت میں تعطل کے درمیان کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) نے ہفتے کے روز مرکز کو خبردار کیا کہ وہ لداخ کے لیے آئینی تحفظات اور جمہوری حقوق کے مطالبات کو مزید تاخیر کا شکار نہ بنائے۔ الائنس نے کہا کہ عوام غیر معینہ مدت تک خاموش نہیں رہیں گے۔
کرگل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کے ڈی اے کے رہنماؤں نے مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو مسترد کردیا۔ ان کا الزام تھا کہ یہ تجویز سابقہ اجلاسوں کی کارروائی کے منٹس میں درج وعدوں پر پوری نہیں اترتی اور لداخ کے عوام کی امنگوں کو پورا کرنے میں ناکام ہے۔
کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی (ایل اے بی) گزشتہ کئی برسوں سے لداخ کے لیے آئینی تحفظات کے مطالبے کی قیادت کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں مرکز کے ساتھ بات چیت بھی کرتے رہے ہیں۔
کے ڈی اے کے شریک چیئرمین سجاد کرگلی نے کہا کہ مجوزہ انتظام عوام کی امنگوں کو مدنظر رکھ کر تیار نہیں کیا گیا، بلکہ ان کے بقول اسے مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کے مفادات کو سامنے رکھ کر وضع کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اپنے اعتراضات مرکز کے سامنے پیش کردیے ہیں۔
کرگلی نے لداخ انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ مسلسل احکامات اور نوٹیفکیشن جاری کرکے جمہوری حقوق کو کمزور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الائنس آئینی تحفظات اور عوام کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”ہم مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کی اس آمرانہ روش کی مذمت کرتے ہیں، جس کے تحت ہم پر یکے بعد دیگرے احکامات مسلط کیے جا رہے ہیں۔ یہ لداخ کے عوام کے حقوق پر حملہ ہے۔”
ملک کے دیگر حصوں میں انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کرگلی نے کہا کہ لداخ کو ایک ”تجربہ گاہ” بنا دیا گیا ہے اور الزام لگایا کہ خطے کی سیاسی نمائندگی کو کمزور کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”لداخ کو ایک تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے۔ یہاں تو عوام کی نمائندگی ہی چھین لی گئی ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے دیگر حصوں میں ووٹوں کی چوری کے الزامات سامنے آتے ہیں، جبکہ ان کے مطابق لداخ میں عوام کی سیاسی نمائندگی چھیننے کا معاملہ ہے۔
کے ڈی اے کے دوسرے شریک چیئرمین اسگر علی کربلائی نے کہا کہ لداخ میں چھائی خاموشی کو خوف یا ہتھیار ڈالنے سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ”طوفان سے پہلے کی خاموشی” ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”انتظامیہ کو موجودہ خاموشی کو خوف، تابع داری یا ہتھیار ڈالنے کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔”
کربلائی نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی گزشتہ چھ برس سے مرکزی وزارت داخلہ کے ساتھ اپنے چار نکاتی ایجنڈے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ ریاست کا درجہ اور آئینی تحفظات ان کے دو اہم مطالبات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 22 مئی کو منعقدہ اجلاس کی کارروائی کے منٹس میں، جن پر 7 جولائی کو دستخط کیے گئے تھے، لداخ کے لیے خصوصی انتظامی ڈھانچے پر اتفاق درج تھا۔ اس انتظام میں قانون سازی، انتظامی اور مالی اختیارات کے ساتھ آئینی تحفظات فراہم کرنے کی بات شامل تھی۔
تاہم، ان کا الزام تھا کہ 15 اکتوبر کے اجلاس میں مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ خاکہ ان وعدوں کے برعکس تھا اور اس میں بامعنی اختیارات یا آئینی ضمانتوں کے بغیر ایک انتظامی ڈھانچہ پیش کیا گیا۔
کربلائی نے کہاکہ ”جن حقوق کو فراہم کرنے پر تحریری طور پر اتفاق کیا گیا تھا اور جن کے لیے اجلاس کی کارروائی کے منٹس پر دستخط کیے گئے تھے، اب وہی حقوق ہمیں دینے سے انکار کیا جا رہا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ مجوزہ کونسل کو بامعنی مالی اختیارات حاصل نہیں ہیں، نہ ہی اسے زمین سے متعلق معاملات پر اختیار دیا گیا ہے اور نہ ہی آزادانہ انتظامی اختیارات فراہم کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق، کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے آئینی اور قانونی ماہرین سے مشورے کے بعد اس تجویز پر اپنا تفصیلی جواب مرکز کو پیش کردیا ہے۔
کربلائی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت اس معاملے میں مزید تاخیر کرتی ہے تو الائنس اپنی احتجاجی تحریک تیز کردے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”اگر کل ہمیں اپنے ایجنڈے اور مطالبات کے لیے سڑکوں پر اترنا پڑا، تحریک چلانی پڑی، احتجاج کرنا پڑا، بند کی اپیل کرنی پڑی، ہڑتال کرنی پڑی یا جیلیں بھرنی پڑیں تو ہم ایسا کریں گے۔”
لداخ کے رکن پارلیمنٹ حاجی محمد حنیفہ جان نے کہا کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے نے ان امیدوں کو ختم کردیا ہے جو سابقہ بات چیت کے دوران پیدا ہوئی تھیں، جب دونوں فریق ایک انتظامی نظام کے بنیادی خدوخال پر متفق ہوگئے تھے۔
انہوں نے مرکز سے اپیل کی کہ ملتوی شدہ اجلاس جلد از جلد طلب کیا جائے اور دستخط شدہ منٹس میں درج وعدوں کے مطابق مسودہ پیش کیا جائے۔
جان نے کہا کہ لداخ کے عوام اپنی پالیسیاں خود طے کرنا اور خطے کی ترقی کی سمت کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ الائنس لداخ میں امن برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل تاخیر سے عوام میں، خصوصاً نوجوانوں میں، ایک بار پھر غم و غصہ پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں پیش کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
کے ڈی اے نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ اپنے ایجنڈے سے دست بردار نہیں ہوگا۔ الائنس نے مرکزی وزارت داخلہ اور مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان ضوابط کو واپس لیں جنہیں وہ لداخ کے عوام کے مفادات کے خلاف سمجھتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
