جموں و کشمیر
خالی ہوٹل، بند ٹیکسیاں، خاموش دکانیں: کشمیر کی سیاحت سسکنے لگی
سری نگر، مشہور سیاحتی مقام پہلگام کی بیسرین وادی میں برابر ایک ماہ قبل پیش آنے والے سانحے کے بعد بھی وادی کشمیر کے تمام سیاحتی مقامات جہاں ان دنوں مقامی و غیر مقامی سیاحوں کا رش بام عروج پر ہوتا تھا، بے رونق اور سنساں ہیں یہاں تک کہ سری نگر میں واقع تاریخی مغل باغات میں بھی معمول کی چہل پہل اور رش و رونق مفقود ہے۔
سری نگر کے نشاط باغ میں تعینات ایک سینئر عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا کہ رواں سال کے آغاز میں کشمیر میں سیاحت کا رجحان انتہائی حوصلہ افزا تھا۔ ان کے مطابق نشاط باغ کا سال 2025 کا ٹھیکہ ساڑھے چار کروڑ روپے میں ایک نجی کمپنی کو دیا گیا، جو کہ ایک ریکارڈ سمجھا جا رہا تھا۔
موصوف عہدیدار کے مطابق:’رواں سال کے پہلے چار مہینوں میں یومیہ آٹھ سے دس ہزار سیاح نشاط باغ کی سیر کو آتے تھے۔ باغات میں رش،جوش و خروش اور رونقیں تھیں، لیکن پہلگام حملے نے سب کچھ بدل کے رکھ دیا ہے۔ اب یہاں روزانہ صرف تین سے چار سو مقامی لوگ ہی آ رہے ہیں۔ غیر ملکی یا بیرونی ریاستوں کے سیاح مکمل طور پر غائب ہیں۔‘
نشاط باغ کی طرح سری نگر کے دیگر مغل باغات، جیسے شالیمار، چشمہ شاہی اور ہارون باغ میں بھی ویرانی چھائی ہوئی ہے۔ ہر سال گرمیوں کے سیزن میں یہ باغات سیاحوں سے کھچا کھچ بھرے ہوتے تھے، مگر اس بار صورتحال یکسر مختلف ہے۔
ادھر وادی میں سیاحوں کی دلچسپی کا ایک اور مرکز جھیل ڈل میں بھی سناٹا ہی چھایا ہوا ہے۔
شکارا چلانے والوں کا کہنا ہے: ہم پورا دن بیٹھے رہتے ہیں، کوئی سواری نہیں آتی، پہلگام واقعے سے پہلے کم سے کم دن بھر شکارا چلا کر دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرتے تھے لیکن اب نوبت فاقوں تک آ پہنچی ہے’۔
سیاحت سے وابستہ افراد، ٹور آپریٹرز، شکارا یونینز اور ہوٹل مالکان نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ موجودہ صورتحال کا نوٹس لے کر فوری عملی اقدامات کرے تاکہ بچا کھچا سیاحتی سیزن مکمل طور پر برباد نہ ہو جائے۔
سیاحتی امور سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاستی و مرکزی حکومت کو مشترکہ طور پر ایک بھرپور اعتماد سازی مہم شروع کرنی چاہیے، جس میں یہ باور کرایا جائے کہ کشمیر سیاحوں کے لیے محفوظ ہے اور یہاں کے لوگ ان کے خیرمقدم کے لیے تیار ہیں۔
شعبہ سیاحت کشمیر کی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڑی کی حیثیت رکھتی ہے ہے۔ ہر سال لاکھوں کی تعداد میں ملک کے گوشہ و کنار سے تعلق رکھنے سیاح وارد وادی ہوکر یہاں کے تمام سیاحتی مقامات کی خوبصورتی سے لفط اندوز ہوتے ہیں جس سے نہ صرف ہوٹل انڈسٹری بلکہ ٹیکسی ڈرائیورز، دستکار، دکاندار اور گائیڈز کو روزگار ملتا ہے۔ تاہم، موجودہ سیزن میں سیاحت کا پہیہ مکمل طور پر جام ہو چکا ہے۔
جموں و کشمیر کے معروف سیاحتی مقام سونہ مرگ، جو سری نگر سے تقریباً 80 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے، ان دنوں غیر معمولی ویرانی کا شکار ہے۔ جہاں ہر سال مئی کے مہینے میں سیاحوں کا ہجوم رہتا تھا، وہاں اب ہوٹل، بازار اور سیاحتی سرگرمیاں تقریباً ختم ہوچکی ہیں۔
ہوٹل گلیشئر ہائیٹس کے منیجر شوکت احمد نے یو این آئی کو بتایا کہ’سانحہ پہلگام سے قبل ہمارے ہوٹل میں جولائی تک کی تمام بکنگ مکمل تھی، لیکن حملے کے بعد تمام بُکنگس منسوخ کر دی گئیں۔ ہمیں ٹور آپریٹروں کو 30 لاکھ روپے سے زائد کی رقم واپس کرنا پڑی ہے’۔
ان کے مطابق 18 مئی تک سونہ مرگ میں کوئی سیاح دکھائی نہیں دیا۔ حالانکہ اب چند ایک سیاحوں کی آمد شروع ہوئی ہے، لیکن یہ تعداد نہ ہونے کے برابر ہے اور کاروبار کے احیاء کے لیے ناکافی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ’ہمارے ہوٹل میں مجموعی طور پر 40 ملازمین کام کرتے تھے، مگر اس وقت صرف چار ملازم کام کر رہے ہیں، باقی سب کو عارضی طور پر چھٹی دے دی گئی ہے۔ ہم نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ جیسے ہی حالات بہتر ہوں گے، انہیں دوبارہ بلایا جائے گا۔ مئی کی تنخواہ بھی انہیں ادا کی گئی ہے’۔
موصوف منیجر نے جموں و کشمیر انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ’اگر حکومت سیاحتی سیزن کو بچانا چاہتی ہے تو فوری طور پر ایک بیداری مہم چلانے کی ضرورت ہے تاکہ سیاحوں کو دوبارہ کشمیر آنے کی طرف راغب کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا، سوشل پلیٹ فارمز اور ٹور ازم ایجنسیوں کے ذریعے یہ پیغام عام کیا جانا ضروری ہے کہ کشمیر ایک محفوظ مقام ہے۔‘
ایک مقامی شخص نے بتایا: ‘ سونہ مرگ میں سینکڑوں خاندان براہِ راست یا بالواسطہ طور پر سیاحت کے شعبے کے ساتھ وابستہ ہیں۔ ہوٹل، ٹینٹ سروسز، ٹرانسپورٹ، گھوڑے بان، ہنڈی کرافٹ فروش اور دیگر خدمات سیاحوں کی آمد سے جڑی ہوئی ہیں۔ موجودہ صورتحال نے ان تمام طبقوں کو شدید مالی بحران میں مبتلا کر دیا ہے’۔
ادھر سری نگر سے تقریباً 48 کلومیٹر کی دوری پر واقع سیاحتی مقام یوسمرگ میں بھی سیاحوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے خاموشی کا ماحول چھایا ہوا ہے۔
مقامی ہوٹل مالک قاضی اعجاز نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پہلگام حملے سے قبل یہاں یومیہ 70 سے 80 سیاحتی گاڑیاں آتی تھیں۔ ہوٹل مالکان، گھوڑے بان اور ریڑھی لگانے والے اچھی آمدنی کر رہے تھے۔ مگر اب سارا کاروبار ٹھپ ہو گیا ہے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ حملے کے بعد یوسمرگ کو بھی سیاحوں کے لیے بند کر دیا گیا جس سے سیاحت سے وابستہ افراد کو مزید نقصان اٹھانا پڑا۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یوسمرگ میں اس وقت ہوٹل، ٹینٹ ہاؤسز، گھوڑے بان، مقامی کھانے پینے کی دکانیں، اور چھوٹے کاروباری سبھی معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو وہ اپنے گھروں کا چولہا جلانا بھی دشوار پائیں گے۔
عوام نے حکومت جموں و کشمیر سے اپیل کی ہے کہ کم از کم مقامی سیلانیوں کو اس مقام کی سیر و تفریح کی اجازت دی جائے تاکہ سیاحت سے وابستہ افراد اپنی روزی روٹی جاری رکھ سکیں۔
غلام رسول نامی ایک ایک گھوڑے بان کا کہنا تھا:’ہم نے گھوڑے کرایے پر لے کر رکھے ہیں، ان کےکھانے پینے کا خرچ، دیکھ بھال، سب ہم خود کرتے ہیں۔ اگر سیاح نہیں آئیں گے تو ہم کیسے گزارہ کریں گے’۔
وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں واقع دودھ پتھری کے ایک مقامی شہری کا کہنا تھا:’پہلی بار ہم نے دیکھا ہے کہ مئی کے مہینے میں یہاں اتنی خاموشی ہے۔ شکارے، گھوڑے، گائیڈ سب بے کار بیٹھے ہیں۔ لوگوں میں زبردست مایوسی ہے، اور کسی کو کوئی امید نظر نہیں آ رہی’۔
جموں و کشمیر کے عالمی شہرت یافتہ سیاحتی مقام گلمرگ، جو سری نگر سے تقریباً 80 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے،کا حال بھی مختلف نہپیں ہے،رواں سیزن میں سیاحوں سے بھرے ہوٹل، مصروف ریزورٹس، اور گونڈولا کی قطاریں اب سنسان ہیں۔ گلمرگ میں سیاحتی سرگرمیوں کی یہ خاموشی نہ صرف مقامی معیشت کو متاثر کر رہی ہے بلکہ ہزاروں افراد کی روزی روٹی بھی داؤ پر لگ گئی ہے۔
گلمرگ کے معروف ہوٹل “ہل ٹاپ” کے ایک سینئر عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا کہ پہلگام سانحہ سے قبل ہمارے ہوٹل میں دن رات کا فرق محسوس نہیں ہوتا تھا،ہمیں کھانا کھانے تک کی فرصت نہیں ہوتی تھی۔ لیکن آج ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ’گزشتہ ایک ماہ سے ہوٹل انڈسٹری کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے، اور اس کی بھرپائی آسان نہیں۔ سیاحوں کی آمد مکمل بند ہونے سے نہ صرف کاروبار ٹھپ ہوا ہے بلکہ ملازمین کو بھی فارغ کرنا پڑ رہا ہے’۔
سیاحت سے جڑے افراد کا کہنا ہے کہ ‘پہلگام حملے کے بعد وادی کشمیر میں سیاحتی صنعت بدترین بحران سے گزر رہی ہے، اور اس کا تازہ ترین ثبوت معروف ٹور اینڈ ٹریول ایجنسی “ریچنگ ہیون” کے متاثرہ شیڈول سے واضح ہوتا ہے’۔
کمپنی کے مالک نے یو این آئی کو بتایا کہ نہ صرف موسمِ بہار اور گرما کے تمام ٹور پیکج منسوخ کر دیے گئے ہیں یہاں تک کہ اب نومبر مہینے کی بکنگ بھی ختم کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ’اپریل، مئی اور جون کے مہینوں میں ہمارے پاس فل بکنگ تھی، لیکن پہلگام سانحے کے بعد سب کچھ بدل گیا۔ تمام ٹورز منسوخ کرنے پڑے اور گاہکوں کو رقم واپس کرنا پڑی’۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ‘یہ بات باعث حیرت ہے کہ نومبر کے لیے بکنگ کرنے والے ایک جوڑے نے بھی حالیہ حالات کے پیش نظر اپنا پروگرام منسوخ کر دیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک بھر میں کشمیر کے حالات کو کس نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے’۔
ان کا کہنا تھا کہ جولائی مہینے تک ہوٹلوں میں ایک بھی کمرہ خالی نہ تھا، لیکن صورتحال اس قدر تیزی سے بدلی کہ سیاحتی منظرنامہ یکسر تبدیل ہو گیا۔
ریچنگ ہیون ٹرول کمپنی کے مالک نے کہا کہ’میں ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہنا چاہتا ہوں کہ نومبر سے وادی کا سیاحتی شعبہ دوبارہ پٹری پر آئے گا۔ کیونکہ امرناتھ یاترا کے دوران عمومی طور پر سیاحتی سرگرمیوں میں کمی واقع ہوتی ہے، اور پھر نومبر سے سیاحوں کی آمد شروع ہو جاتی ہے’۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ زمینی سطح پر کام کر کے سیاحوں کا اعتماد بحال کرے اور ایسی پالیسیاں مرتب کرے جن سے ٹور آپریٹرز اور دیگر سیاحتی اسٹیک ہولڈرز کو سہارا مل سکے۔
قابل ذکر ہے کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کچھ روز قبل میڈیا کو بتایا کہ وادی میں موسم گرما سیاحتی سیزن لگ بھگ مکمل طور پر ختم ہوگیا ہے۔
حکومت کی طرف سے شعبہ سیاحت سے وابستہ لوگوں کے اشتراک کے ساتھ روڈ شو وغیرہ جیسے ایونٹس کا اہتمام کرکے اس شعبے کو بحال کرنے کی کاوشیں جاری ہیں۔
واضح رہے کہ پہلگام حملے کے بعد وادی کشمیر میں شعبہ سیاحت سب سے زیادہ متاثر ہونے والا شعبہ ہے۔
یو این آئی ارشید بٹ- ایم افضل
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
