جموں و کشمیر
سیاحت اور تجارت کی بحالی کیلئے حقیقت پسندانہ اور قابلِ عمل منصوبہ تیار کریں گے: عمر عبداللہ
سری نگر،جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو سول سیکریٹریٹ سری نگر میں کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کہا کہ حکومت ایک حقیقت پسندانہ اور قابلِ عمل منصوبہ تیار کرے گی تاکہ وادی میں سیاحت اور تجارت کی بحالی کو ممکن بنایا جا سکے۔
’کے سی سی آئی‘ کے صدر جاوید احمد ٹینگا کی قیادت میں وفد نے صنعت و تجارت، سیاحت، زراعت، باغبانی، تعلیم، صحت، شہری ترقی اور ٹرانسپورٹ سمیت کئی اہم شعبوں سے وابستہ مسائل اور مشکلات وزیر اعلیٰ کے سامنے رکھے۔
وزیر اعلیٰ نے وفد کو مکمل سرکاری تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا، ’جو بھی مسائل آپ نے ہمارے سامنے رکھے ہیں، ان کا ہم سنجیدگی سے جائزہ لے رہے ہیں اور ضرورت پڑی تو مرکز سے بھی مدد طلب کریں گے۔‘
انہوں نے موجودہ معاشی سست روی کو محض حالیہ معاملہ نہ مانتے ہوئے اسے سابقہ حکومتوں کی پالیسیوں کا تسلسل قرار دیا اور کہا کہ اس صورتحال کا حل نکالنے کے لیے ایک مخصوص، بامقصد اور شراکت داری پر مبنی پیکیج تیار کیا جائے گا۔
’کے سی سی آئی‘ کی طرف سے قرضوں کی ادائیگی پر مہلت، سود میں نرمی، اکاؤنٹس کو این پی ایس قرار دینے سے تحفظ، ایمرجنسی کریڈٹ لائن، ٹرانسپورٹ سیکٹر کیلئے نرم قرضے، زمین کی الاٹمنٹ میں قانونی پیچیدگیاں، ملٹی ایئرلائنز کے ذریعے برآمدات کی سہولت، ویٹ لینڈز کا تحفظ، اور سرینگر کے پرانے شہر میں پارکنگ جیسے مسائل پر خاص طور پر زور دیا گیا۔
وزیر اعلیٰ نے یقین دلایا کہ ان مسائل کو نہ صرف ریاستی بلکہ مرکزی سطح پر، بالخصوص مرکزی وزارتِ خزانہ کے ساتھ مؤثر انداز میں اٹھایا جائے گا۔
وادی میں سیاحت پر پڑنے والے منفی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ سیاحوں کی آمد پر لگی پابندیوں کو بتدریج ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مقامی سیاحت کو فروغ دینے اور اسکول و کالجوں کو وادی کے اندر ہی تعلیمی و تفریحی دورے منعقد کرانے کی بھی تجویز دی۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے وزیراعظم اور پارلیمانی امور کے محکمے سے کشمیر میں پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹیوں اور مشاورتی اجلاسوں کے انعقاد کی درخواست کی ہے تاکہ اعتماد سازی اور کشمیر کی مثبت شبیہ اجاگر کی جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت جموں و کشمیر آئندہ کولکتہ اور احمد آباد میں ہونے والی ٹریول اینڈ ٹورازم فیئرز میں بھرپور شرکت کرے گی تاکہ ملک بھر سے سیاحوں کی توجہ وادی کی جانب مبذول کی جا سکے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کی حکومت کا فوکس ان چھوٹے تاجروں اور کارکنوں پر ہے جنہوں نے حال ہی میں ٹرانسپورٹ اور سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی تھی۔
“مجھے اس سومو ڈرائیور کی فکر ہے جس نے قرض لے کر انووا گاڑی خریدی، اس ہوم اسٹے مالک کی جو 15 کمروں کا ہوٹل بنارہا ہے، یا اس دکاندار کی جو روز کی کمائی سے اپنے بچوں کو کھانا کھلاتا ہے۔”
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چھوٹے کاروباری، خود روزگار یافتہ افراد اور گھریلو صنعتکاروں کو بڑے سرمایہ داروں کے مقابلے میں ترجیح دی جانی چاہیے۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ غیر منصفانہ تجارتی سرگرمیوں جیسے گمراہ کن اشیاء کی فروخت، جعلی مصنوعات اور سیاحوں سے زیادہ قیمتیں وصولنے جیسے عوامل کشمیر کی سیاحت اور مصنوعات کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ انہوں نے ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ ریاستی حکومت زرعی اور باغبانی مصنوعات کی نقل و حمل بہتر بنانے کیلئے وزارت ریلوے کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے اور اُمید ظاہر کی کہ جلد ہی اس شعبے میں بہتری آئے گی۔
آخر میں عمر عبداللہ نے کہا، ’ہم تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ایک جامع منصوبہ تیار کریں گے اور مرکز کے سامنے اپنی بات مضبوطی سے رکھیں گے۔ مرکزی وزیر خزانہ سے میری بات ہوئی ہے اور اُن کا ردعمل حوصلہ افزا تھا۔‘
انہوں نے تاجر برادری سے کہا کہ وہ حوصلہ نہ ہاریں، حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ایک پائیدار، خود انحصار اور ترقی پسند مستقبل کی سمت بڑھنے کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
اجلاس میں چیف سیکریٹری اتل دولو، وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری دیراج گپتا، پرنسپل سیکریٹری خزانہ شیلندر کمار، کمشنر سیکریٹری صنعت و تجارت وکرم جیت سنگھ، کمشنر سیکریٹری کھیل سرمد حفیظ، ڈائریکٹر ٹورازم کشمیر راجہ یعقوب اور دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
