جموں و کشمیر
ہندوستان دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے ہر طریقہ استعمال کرنے سے دریغ نہیں کرے گا
پاکستان کی دوبارہ غلطی پر بھارت کا جواب سخت ہوگا
اگر بحریہ نے آپریشن سندور میں کام کیا ہوتا تو پاکستان4 حصوں میں بٹ سکتا تھا:وزیردفاع راج ناتھ سنگھ
سری نگر:جے کے این ایس : وزیردفاع راجناتھ سنگھ نے جمعہ کے روز خبردار کیاکہ اگرپاکستان نے پھرکوئی بری حرکت کی توا س کابھاری خمیازہ اُٹھانا پڑے گا۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے جمعہ کے روز گوا کے ساحل پر ہندوستان کے پہلے مقامی طیارہ بردار بحری جہاز INS وکرانت پر سوار افسران اور ملاحوں سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ آپریشن سندور صرف ایک فوجی کارروائی نہیں ہے، بلکہ دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کا اگلا حملہ ہے۔وزیر دفاع نے کہاکہ اگر پاکستان کسی بھی برائی یا غیر اخلاقی حرکت کا سہارا لیتا ہے، تو اسے اس بار ہندوستانی بحریہ کے فائر پاور اور غصے کا سامنا کرنا پڑے گا۔آپریشن سندورکے دوران ہندوستانی بحریہ کی خاموش خدمات کو سراہتے ہوئے، راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ طاقتور کیریئر بیٹل گروپ نے اس بات کو یقینی بنایا کہ پاکستانی بحریہ باہر نہ نکلے، ورنہ اسے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے پاکستان کو واضح پیغام دیا کہ اگر اس نے بری نظر ڈالنے کی کوشش کی تو نئی دہلی کا منہ توڑ جواب ہندوستانی بحریہ کے ہاتھوں ہوگا۔
وزیردفاع راجناتھ سنگھ نے زور دے کر کہا کہ پاکستان کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دہشت گردی کے اس خطرناک کھیل کا وقت آ گیا ہے جو وہ اپنی آزادی کے بعد سے کھیل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب اگر پاکستان نے بھارت کے خلاف کوئی دہشت گردی کی کارروائی کی تو اسے اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا اور اسے شکست کا سامنا کرنا پڑے گا، بھارت پیچھے نہیں ہٹے گا، وہ دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ہر طریقہ استعمال کرے گا۔وزیر دفاع نے مزید کہا کہ پاکستانی سرزمین سے کھلے عام بھارت مخالف سرگرمیاں کی جا رہی ہیں، اور بھارت سرحد اور سمندر کے دونوں جانب دہشت گردوں کے خلاف ہر قسم کا آپریشن کرنے میں مکمل طور پر آزاد ہے۔انہوںنے کہاکہ آج، پوری دنیا دہشت گردی کے خلاف اپنے شہریوں کی حفاظت کے ہندوستان کے حق کو تسلیم کر رہی ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اپنی سرزمین پر دہشت گردی کی نرسری کو اپنے ہاتھوں سے اکھاڑ پھینکنا چاہیے۔راج ناتھ سنگھ نے حافظ سعید اور مسعود اظہر جیسے دہشت گردوں کو بھارت کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔ یہ دونوں نہ صرف ہندوستان کی انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ہیں، بلکہ وہ اقوام متحدہ کے نامزد دہشت گرد بھی ہیں۔راجناتھ نے کہاکہ ممبئی حملوں کے ملزم تہور رانا کو حال ہی میں بھارت لایا گیا ہے۔ حافظ سعید ممبئی حملوں کا بھی مجرم ہے، اور اس کے جرم کے لیے انصاف ہونا چاہیے۔پاکستان کی جانب سے بار بار مذاکرات کی پیشکش پر، وزیردفاع نے پھر واضح کیاکہ اگر بات چیت ہوتی ہے تو وہ صرف دہشت گردی اور پی او کے پر ہوگی، اگر پاکستان بات چیت میں سنجیدہ ہے تو اسے حافظ سعید اور مسعود اظہر جیسے دہشت گردوں کو ہندوستان کے حوالے کرنا چاہیے تاکہ انصاف ہو سکے۔ مربوط آپریشن میں ہندوستانی بحریہ کے کردار کو قابل ستائش قرار دیتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ جب ہندوستانی فضائیہ نے پاکستانی سرزمین پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کیا تو بحیرہ عرب میں بحریہ کی جارحانہ تعیناتی، اس کی بے مثال بحری حدود سے متعلق آگاہی اور بالادستی نے پاکستانی بحریہ کو اپنی حدود تک محدود کردیا۔انہوں نے مزید کہا کہ کیریئر بیٹل گروپ کے فورس پروجیکشن نے مو ¿ثر طریقے سے ہندوستان کے ارادے اور صلاحیت کی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی بحریہ کی زبردست طاقت، اس کی فوجی ذہانت اور تباہ کن صلاحیتوں نے دشمن کے حوصلے کو توڑ دیا ہے۔ انہوں نے بحریہ پر زور دیا کہ وہ اپنی تیاریوں میں کوئی کسر نہ چھوڑے، وزیر اعظم نریندر مودی کے اس واضح پیغام کو دہراتے ہوئے کہ اگر ہندوستانی سرزمین پر کوئی دہشت گرد حملہ ہوتا ہے، تو اسے ’ایکٹ آف وار‘ سمجھا جائے گا اور اسی طرح جواب دیا جائے گا۔راج ناتھ سنگھ نے دوبارہ زور دے کر کہا کہ آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ یہ صرف ایک وقفہ ہے، ایک انتباہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر پاکستان نے دوبارہ وہی غلطی کی تو بھارت کا جواب سخت ہوگا۔آپریشن سندور کے دوران مسلح افواج کی رفتار، گہرائی اور وضاحت کو سراہتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ درست حملوں نے تینوں سروسز کے درمیان ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ وزارتوں اور سرکاری اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو ظاہر کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپریشن نے دہشت گردوں اور اس کے سرپرستوں کو واضح پیغام دیا کہ بھارت مزید برداشت نہیں کرے گا اور منہ توڑ جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ بہت کم وقت میں ہم نے پاکستان کے دہشت گردوں کے ٹھکانے اور اس کے ارادوں کو تباہ کر دیا، ہمارا ردعمل اتنا مضبوط تھا کہ پاکستان نے رکنے کی درخواست کی، ہم نے اپنی شرائط پر اپنی فوجی کارروائیاں روک دیں۔راجناتھ سنگھ نے کہاکہ اگر بحریہ نے آپریشن سندھ میں کام کیا ہوتا تو پاکستان چار حصوں میں بٹ سکتا تھا ۔وزیردفاع نے کہاکہ 1971اس بات کا گواہ ہے کہ جب ہندوستانی بحریہ حرکت میں آئی تو پاکستان ایک سے2حصوںمیں بٹ گیا، اگر ہندوستانی بحریہ آپریشن سندورمیں حرکت میں آتی تو پاکستان نہ صرف2 حصوں میں بٹ جاتا بلکہ میرے خیال میں یہ 4 حصوں میں تقسیم ہو چکا ہوتا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
