دنیا
اسرائیل کا ایران پر بڑا حملہ، پاسدران انقلاب کے سربراہ جنرل حسین سلامی، کئی جوہری سائنسدان اور کمانڈر شہید
تہران، اسرائیل نے ننگی جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایران پر بڑا حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ جنرل حسین سلامی، جوہری سائنسدان محمد مہدی طہرانچی اور فریدون عباسی بھی شہید ہوگئے۔
ڈان نیوز کے مطابق اس کے علاوہ اسرائیل نے حملے میں ایران کے جوہری اور عسکری مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ ایرانی میڈیا کے مطابق حملوں میں شہری آبادی کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے اور کئی بچے بھی شہید ہوئے ہیں۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے ایران پر رات کے وقت کیے گئے حملوں سے اپنی کڑوی اور تکلیف دہ تقدیر رقم کر دی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق اسرائیل نے کہا ہے کہ اس نے جمعے کو ایران کی جوہری تنصیبات، بیلسٹک میزائل فیکٹریوں اور عسکری کمانڈرز کو نشانہ بنایا ہے اور خبردار کیا کہ یہ ایک طویل آپریشن کا آغاز ہے جس کا مقصد تہران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنا ہے۔
ایرانی میڈیا اور عینی شاہدین نے اطلاع دی کہ ملک کی مرکزی یورینیم افزودگی تنصیب نطنز سمیت مختلف مقامات پر دھماکے ہوئے، جبکہ اسرائیل نے ممکنہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے خدشے کے پیش نظر ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ نے تصدیق کی ہے کہ پاسداران انقلاب کے چیف کمانڈر میجر جنرل حسین سلامی تہران میں اسرائیلی حملے میں شہید ہو گئے۔
سرکاری ٹی وی نے جمعہ کی صبح تسنیم نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ میجر جنرل حسین سلامی جمعہ کی شب اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کے جوہری سائنسدان اور اسلامی آزاد یونیورسٹی کے صدر محمد مہدی طہرانچی اور معروف جوہری سائنسدان اور ایرانی ایٹمی توانائی تنظیم کے سابق سربراہ فریدون عباسی اور خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر میجر جنرل غلام علی راشد بھی اسرائیلی حملوں میں شہید ہوگئے ہیں۔
اس سے قبل ایک اسرائیلی سیکیورٹی اہلکار نے حملوں میں میجر جنرل محمد باقری کو شہید کرنے کا دعویٰ کیا تھا تاہم ایرانی حکام نے محمد باقری کی شہادت کی تردید کردی۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے جمعے کی صبح قوم سے اپنے پیغام میں کہا کہ صہیونی حکومت کو سخت سزا کا انتظار کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ صیہونی حکومت نے اپنی خبیث اور خونی ہاتھوں سے ہمارے عزیز وطن میں ایک جرم کا ارتکاب کیا اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنا کر اپنی فطرت کی اور بھی زیادہ خباثت ظاہر کی۔
آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ اس حکومت کو سخت جواب کا سامنا کرنا ہوگا، انہوں نے تصدیق کی کہ اسرائیلی حملوں میں ہمارے کئی کمانڈرز اور سائنسدان شہید ہوئے، ان کے جانشین اور ساتھی فوراً ان کا کام سنبھال لیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس جرم کے ذریعے صیہونی حکومت نے اپنے لیے ایک کڑوی اور دردناک تقدیر لکھ دی ہے اور وہ یقینی طور پر اس انجام کو دیکھے گی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایران اسرائیلی حملے کا سخت جواب دینے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
ایک ایرانی سیکیورٹی ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ اسرائیلی حملے کا جواب سخت اور فیصلہ کن ہوگا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا حملہ فوری ہوگا یا نہیں، تو اہلکار نے کہا کہ ایران کی جوابی کارروائی کی تفصیلات اعلیٰ ترین سطح پر زیرِ غور ہیں ۔
دریں اثنا، اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کی کارروائی نے نطنز کی ایٹمی تنصیب اور جوہری سائنسدانوں سمیت ایران کے جوہری افزودگی کے پروگرام کے مرکز کو نشانہ بنایا ہے، ایران کے خلاف کارروائی جتنے دن بھی درکار ہوں جاری رہے گی۔
قبل ازیں اسرائیلی حکومت نے جمعہ کی شب تہران اور ایران کے دیگر شہروں میں فوجی حملے شروع کیے۔
تصاویر میں دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں تباہ شدہ رہائشی عمارتیں دکھائی گئیں، عینی شاہدین اور سرکاری ٹی وی کے رپورٹرز نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں خواتین اور بچوں کی لاشیں دیکھی گئیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران میں رہائشی عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد عام شہری ہلاک ہوئے، جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔
یہ حملے رات گئے کیے گئے، ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق سوشل میڈیا پر تہران کے افق پر دھوئیں کے بادلوں کی تصاویر اور ویڈیوز گردش کرنے لگیں۔
تصاویر میں دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں تباہ شدہ رہائشی عمارتیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ عینی شاہدین اور سرکاری ٹی وی کے رپورٹرز نے خواتین اور بچوں کی لاشیں دیکھنے کی تصدیق کی ہے۔
ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق، ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ایک اہم مقام پر آگ اور دھواں دیکھا گیا، جبکہ مرکزی صوبے میں نطنز شہر میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
تہران کے مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈے امام خمینی ایئرپورٹ پر فضائی ٹریفک روک دی گئی جبکہ عراق نے بھی اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں اور تمام ہوائی اڈوں پر پروازیں معطل کر دی گئی ہیں۔
اسرائیل نے ہنگامی حالت کا اعلان کرتے ہوئے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں، اسرائیلی وزیرِ دفاع، اسرائیل کاٹز نے کہا کہ تہران کی جانب سے جوابی کارروائی کا امکان موجود ہے۔
اسرائیل کاٹز نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر پیشگی حملے کے بعد اسرائیل اور اس کی شہری آبادی پر میزائل اور ڈرون حملہ کسی بھی لمحے متوقع ہے۔
ایک اسرائیلی فوجی اہلکار نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج کو یقین ہے کہ ایران کسی بھی وقت حملہ کر سکتا ہے۔
ٹرمپ کی وارننگ کے بعد کیے گئے ان حملوں کے باعث تیل کی قیمتوں میں8 فیصد تک اضافہ ہوا جبکہ اسٹاک مارکیٹس میں مندی دیکھی گئی ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ایران کو متنبہ کیا کہ وہ اسرائیلی حملے کے جواب میں امریکی اڈوں کو نشانہ نہ بنائے اور کہا کہ واشنگٹن ان حملوں میں شامل نہیں ہے۔
روبیو نے ایک بیان میں کہا کہ میں واضح کر دوں ایران کو امریکی مفادات یا اہلکاروں کو نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
کیا عالمی تیل کے ذخائر امریکہ اور ایران کے درمیان نئی جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی ہیں
ویانا، آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس تیل بردار جہازوں پر حملوں میں اضافے اور ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ ختم کرنے کی کوششوں میں تعطل کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پانچ ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں۔
عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت بدھ کو دو ڈالر سے زیادہ بڑھ کر 110.85 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جو تقریباً پانچ ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔
اس سے ایک روز قبل ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں ایک ایسے راستے پر بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد دو تیل بردار جہازوں میں آگ لگ گئی، جسے اس نے غیر قانونی گزرگاہ قرار دیا۔ جمعرات کو آئی آر جی سی نے مزید سات جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، تاہم واشنگٹن نے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔ آئی آر جی سی کے مطابق، نشانہ بننے والے جہازوں میں سے چار تیل منتقل کر رہے تھے اور رات کے دوران ان میں آگ لگ گئی۔
ستمبر میں حوثی باغیوں، جنہیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، نے یمن میں باب المندب آبنائے کے قریب علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ بحیرہ احمر میں داخلے اور وہاں سے نکلنے کی ایک اہم گزرگاہ ہے اور مصر کی نہر سویز تک رسائی کا راستہ بھی ہے۔
یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے عالمی ہنگامی تیل ذخائر سے بڑے پیمانے پر تیل نکالا جا چکا ہے اور اب یہ ذخائر کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر ہیں۔
الجزیرہ نے ماہرین سے یہ سوال کیا کہ اگر مکمل جنگ دوبارہ شروع ہوجائے، آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند کردی جائے اور حوثیوں کے حملوں سے باب المندب کی گزرگاہ بھی متاثر ہوجائے تو دنیا کے تیل ذخائر کتنے عرصے تک کام آسکتے ہیں؟
اسٹریٹجک تیل ذخائر خام تیل اور ایندھن کے وہ ذخیرے ہیں جنہیں حکومتیں یا ان کی جانب سے کام کرنے والی کمپنیاں ہنگامی صورت حال میں استعمال کے لیے محفوظ رکھتی ہیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے)، جو 1974 میں عرب تیل پابندی کے بعد قائم کی گئی تھی، ان ذخائر کے انتظام میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ایجنسی کے رکن ممالک کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی خالص تیل درآمدات کے کم از کم 90 دن کے برابر ذخائر رکھیں۔ چین اور ہندوستان اس ایجنسی کے رکن نہیں ہیں۔
اس سال ہنگامی ذخائر سے ریکارڈ مقدار میں تیل نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔
11 مارچ کو، ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے چند روز بعد، آئی ای اے کے 32 رکن ممالک نے ہنگامی ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل دستیاب کرانے پر اتفاق کیا۔ یہ مقدار 2022 میں یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے بعد جاری کیے گئے تیل سے دو گنا سے بھی زیادہ تھی۔
آئی ای اے کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ نے اپنے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو (ایس پی آر) سے 17 کروڑ 22 لاکھ بیرل جبکہ جاپان نے 7 کروڑ 98 لاکھ بیرل تیل فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
امریکی محکمہ توانائی کے مطابق، اس کے بعد امریکہ کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو میں تیل کی مقدار گھٹ کر 28 کروڑ 30 لاکھ بیرل رہ گئی ہے، جو اکتوبر 1982 کے بعد کی کم ترین سطح ہے۔
امریکی ادارے انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، اس تیل کا بڑا حصہ فروخت کرنے کے بجائے قرض کے طور پر دیا گیا تھا، جسے اضافی تیل کے ساتھ واپس کرنا ہوگا۔
فروری میں جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں اب کہیں کم تیل دستیاب ہے اور اس کا تمام حصہ فوری طور پر استعمال بھی نہیں کیا جا سکتا۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ کی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصِبات ہماری زد میں ہیں:ایران
تہران، ایران کی قومی سلامتی کونسل کے مشیر محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملہ کیا گیا تو تہران سات خلیجی ممالک میں امریکہ سے منسلک توانائی، ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
انہوں نے “زیرو ریڈ لائنز” کی حکمت عملی کا حوالہ دیا جبکہ دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اصرار کیا کہ ان کا ملک ایران پر دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔
محسن رضائی نے جمعرات کو سرکاری ٹی وی چینل ‘پریس ٹی وی’ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ “اس خطے میں امریکی معیشت کی نبض ہمارے خطے سے ہو کر گزرتی ہے۔
انہوں نے مشرق وسطیٰ میں ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات میں بڑے پیمانے پر ہونے والی امریکی سرمایہ کاری کی طرف اشارہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر دشمنی دوبارہ شروع ہوتی ہے تو اس غیر مستحکم خطے میں امریکہ سے منسلک 2 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کا تکنیکی انفراسٹرکچر خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
رضائی نے خبردار کیا کہ “ہم نے ابھی تک ان اثاثوں کو اپنے اہداف میں شامل نہیں کیا ہے لیکن اگر جنگ چھڑ گئی تو ان میں سے بہت سی کیبلز، ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت کی تنصیبات اور متعدد دیگر سائٹس تباہ ہو جائیں گی۔”
نیوز آؤٹ لیٹ ‘ڈراپ سائٹ’ کو دیے گئے ایک الگ انٹرویو میں رضائی نے کہا کہ ایران نے ثالثوں کے ذریعے سات شرائط رکھی ہیں اور جب تک وہ پوری نہیں ہوجاتیں، وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولے گا اور نہ ہی مذاکرات شروع کرے گا۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ جاری تنازعہ اور علاقائی تناؤ کی وجہ سے عالمی توانائی کی منڈیاں تین سال تک مستحکم ہونے سے رک سکتی ہیں۔
دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی رائے دہندگان میں ایک منقسم ردعمل پیدا کیا ہے۔ انہوں نے اس کی سیاسی قیمت کا اعتراف کیا لیکن ساتھ ہی اس بات پر اصرار کیا کہ یہ فوجی حملے بہت پہلے ہو جانے چاہیے تھے۔
آنے والے انتخابات پر جنگ کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا: “ایک طرح سے، وہ اسے پسند کر رہے ہیں کیونکہ میں وہ کر رہا ہوں جو دوسرے صدور کو کرنا چاہیے تھا، اور دوسری طرح سے شاید وہ اسے پسند نہیں کر رہے۔ اس کی ایک قیمت چکانی پڑتی ہے، جو میں فوری طور پر جان گیا تھا جب میں نے یہ کیا تھا، لیکن ہم ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
میرا مطلب ہے، ایک طرح سے لوگ شاید اسے پسند نہ کریں، لیکن بہت سے لوگ، بہت سے عظیم محب وطن، اسے واقعی پسند کر رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “یہ کام دوسرے صدور کو بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا۔ ایران کی جنگ اور ہم نے ان کا کباڑا کر دیا ہے اور ہم اس سلسلے کو تھوڑا مزید آگے بڑھا سکتے ہیں۔”
یہ بیانات فروری 2026 کو ایرانی سول، فوجی اور جوہری سائٹس پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ٹرمپ کے وسیع تر بیانیے کی عکاسی کرتے ہیں، جنہیں واشنگٹن نے “آپریشن ایپک فیوری” کا نام دیا تھا۔ ان ابتدائی حملوں کے نتیجے میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے ساتھ ساتھ دیگر اعلیٰ حکام اور سینکڑوں شہری ہلاک ہو گئے تھے۔
ایران نے جواب میں اسرائیلی اہداف اور خلیج میں امریکی مفادات کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے کیے، اور ساتھ ہی آبنائے ہرمز میں بار بار خلل ڈالا۔
یہ تنازعہ اب اپنے آٹھویں مہینے میں داخل ہو چکا ہے۔
جون میں پاکستان میں ہونے والی ایک مفاہمت کی یادداشت، جس کا مقصد دشمنی کو روکنا اور تجارتی جہاز رانی کو بحال کرنا تھا، تنازعات کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ناکام ہو گئی، جس کے بعد وقفے وقفے سے حملے جاری ہیں۔
امریکہ اور دیگر مقامات پر خام تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اکتوبر کے کئی سروے ظاہر کرتے ہیں کہ معاشی انتظام، مہنگائی اور ایران کی شمولیت والی جنگ پر بڑے پیمانے پر عوامی ناراضگی کے باعث صدر ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح گر کر 30 سے 36 فیصد رہ گئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
الحان عمر دھوکے باز ہے فوراً استعفی دے:ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ڈیموکریٹک رکن کانگریس الحان عمر کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، اور ان پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے عہدے کا حلف لیتے وقت ایک فرضی نام استعمال کیا تھا، تاہم ان کے دفتر نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا کہ “چونکہ انہوں نے حلف اٹھانے کے لیے ایک جعلی نام استعمال کیا، اس لیے میرا ماننا ہے کہ انہیں فوری طور پر کانگریس سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔”
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مینیسوٹا سے تعلق رکھنے والی خاتون قانون ساز کا اصل نام الحان نور سعید علمی ہے، جس کا خاندانی نام ان کے سابق شوہر احمد نور سعید علمی سے ملتا ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ الہان عمر نے “کھلے عام دھوکہ دہی کا اعتراف” کیا ہے اور ہاؤس اسپیکر مائیک جانسن سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ تسلیم کریں کہ ان کی کانگریس کی نشست خالی ہو چکی ہے۔تاہم، الحان عمر نے ایسا کوئی اعتراف نہیں کیا ہے اور نہ ہی کسی عدالت نے یہ ثابت کیا ہے کہ انہوں نے کوئی جعلی شناخت استعمال کی تھی۔
ٹرمپ کے یہ بیانات وزارتِ انصاف کی جانب سے 21 اکتوبر کو عدالت میں جمع کرائی گئی ایک دستاویز کے بعد سامنے آئے ہیں، جو الحان عمر کے واشنگٹن ڈی سی والے گھر پر وفاقی تلاشی سے متعلق تھی۔ اس دستاویز میں ان کی شناخت “الحان نور سعید علمی، عرف الہان عبداللہی عمر” کے طور پر کی گئی تھی۔ استغاثہ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ انہوں نے یہ متبادل نام کیوں استعمال کیا، اور نہ ہی اس دستاویز سے یہ ثابت ہوا کہ الہان عمر نے کوئی دھوکہ دہی کی ہے۔
خاتون رکن کانگریس کے ترجمان نے فاکس نیوز کو بتایا، “یہ بالکل جھوٹ ہے۔ الحان عمر ہی ان کا اصل نام ہے۔”
وفاقی ایجنٹوں نے 12 اکتوبر کو امیگریشن اور شہریت کے ریکارڈ میں ممکنہ غلط بیانات کی تحقیقات کے سلسلے میں الہان عمر کے گھر کی تلاشی لی تھی۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
