جموں و کشمیر
حکومت ملازمین کے تمام مطالبات کو پورا کرے:اعجازاحمدخان کی اپیل
مطالبات کے حق میں جموں وکشمیرکے سرکاری ملازمین کاانوکھاطریقہ
بازوﺅں پرسیاہ پٹیاں باندھ کرکیا علامتی احتجاج
سری نگر: سرکاری ملازمین نے دیرینہ مطالبات کولیکر منگل کے روزدوران ڈیوٹی بازوﺅں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر اپناعلازمتی احتجاج درج کرایا۔ملازم انجمنوںکے بڑے فورم EJCCکی کال پرکئے گئے اس پُرامن احتجاج کیلئے فورم نے تمام مستقل وعارضی ملازمین کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ جائز مطالبات کو منوانے کیلئے احتجاج کا جمہوری حق آئندہ بھی استعمال کیاجائے گا۔جے کے این ایس کے مطابق لاکھوں مستقل وعارضی ملازمین کے مطالبات کو اُجاگر کرانے کیلئے ملازم انجمنوں کے مشترکہ فورم ایمپلائز جوائنٹ کنسلٹیٹو کمیٹیEJCCنے 17جون کو سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج کی کال دی تھی ۔
ملازمین کے مطالبات بشمول جی پی فنڈکی فراہمی ،ریٹائرڈ ملازمین کو مراعات کی واگزاری،اولڈ پیشن اسکیم کانفاذ،ایس آراﺅ43میں ترمیم ،2فیصد ہاﺅس رینٹ کی فراہمی،میڈیکل الاﺅنس اور60 ہزار سے زیادہ ڈیلی ویجروں،کیجول لیبروں اور فیرپرائس شاپ ڈیلروںکی مستقلی کیساتھ ساتھ EJCC جموں وکشمیر بینک کی جانب سے گزشتہ 2مہینوںکے دوران ملازمین کے قرضوںکی دو،دو قسطیں کا ٹے جانے پر بھی نالاں ہے۔
منگل کے روز ای جے سی سی کی کال پر عمل کرتے ہوئے مختلف سرکاری محکموںمیں تعینات عارضی اور مستقل ملازمین نے اپنے دفتروں اور فیلڈ میں ڈیوٹیاں انجام دینے کے دوران اپنی بازوﺅں پرکالی پٹیاں باندھ رکھی تھیں۔اس دوران ملازمین اپنے فرائض بھی انجام دیتے رہے تاہم انہوںنے بازوﺅں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر اپنے مطالبات کو سرکار اور انتظامیہ کے اعلیٰ ذمہ داروںکی نوٹس میں لانے کیلئے احتجاج کایہ پُرامن طریقہ اختیار کیا ۔
EJCCکے ترجمان نے کہاکہ کشمیر وادی کیساتھ ساتھ جموں صوبے میں بھی ملازمین نے فورم کی کال پر دوران ڈیوٹی بازوﺅں پرکالی پٹیاں باندھ رکھی تھیں لیکن وہ اپنے فرائض چاہئے دفتروں میں یا فیلڈ میں انجا م دیتے رہے ۔ترجمان نے کہاکہ حکومت نے بار بارکی یقین دہانیوں کے باوجود اپنے ملازمین کاکوئی جائز مطالبہ اب تک پورا نہیں کیاہے ،جسکے باعث ملازمین کی حق تلفی کیساتھ ساتھ اُن کیساتھ ناانصافی بھی ہورہی ہے ۔
فورم ترجمان کے مطابق EJCCکے چیئرمین اعجاز احمدخان نے جمہوری حق کااستعمال کرتے ہوئے سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج کرنے پر ملازمین کا شکریہ ادا کیا ،اور کہاکہ ایمپلائز جوائنٹ کنسلٹیٹو کمیٹیEJCC،تمام مستقل و عارضی اور ریٹائرڈ ملازمین کے جائز مطالبات کو اُجاگر کرنے کیلئے پُرامن انداز میں اپنی آوازبلند کرتی رہے گی ۔انہوںنے یاددہانی کراتے ہوئے کہاکہ حاضرسروس ملازمین کیلئے جی پی فنڈ اورریٹائرڈ ملازمین نے بقایاجات ومراعات حاصل کرنا کارِدارد والا معاملہ بنادیاگیاہے ۔انہوںنے کہاکہ یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ جائز مطالبات کو پس پشت ڈالکر ملازمین کو مایوس کیاجارہاہے ۔
اعجاز احمدخان نے مزید کہاکہ منگل17جون کو لاکھوں ملازمین نے سیاہ پٹیاں باندھ کر ارباب حل وعقد تک پُرامن انداز میں اپنی بات پہنچائی ہے اوراب یہ حکومت وانتظامیہ کی ذمہ دار ی ہے کہ وہ اپنے ملازمین کے جائز مطالبات کو پورا کرنے کی پہل کرے تاکہ ملازمین کامتزلزل شدہ اعتماد بحال ہوسکے اوروہ اپنے فرائض حسب روایت احسن طریقے سے انجام دیتے رہیں ۔سینئر ٹریڈیونین رہنما اعجاز احمدخان نے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا ،وزیراعلیٰ عمرعبداللہ اور چیف سیکرٹری اتل ڈلو سے پھراپیل کی کہ ملازمین کے دیرینہ اور جائز مطالبات کو پورا کرنے کیساتھ ساتھ مشکلات بشمول جموں وکشمیر بینک کی ملازمین کے تئیں ناانصافی پر مبنی پالیسی کو رکوانے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں ،تاکہ ملازمین اپنے فرائض انجام دینے کے دوران کسی مایوسی اور بددلی کے شکار نہ رہیں ۔اُدھر جموں صوبے میں بھی سرکاری ملازمین نے اپنے مذکورہ بالامطالبات کو لیکر اپنے اپنے دفترمیں بطور احتجاج بازوﺅں پرکالی پٹیاں باندھ رکھی تھیں۔EJCCکے جنرل سیکرٹری ونود شرما نے جموں میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ایک جانب حکومت نے ملازمین کے جائز مطالبات کو سردخانے میں ڈال رکھاہے اوردوسری جانب جموں وکشمیر بینک کی انتظامیہ کے ملازمین کے تئیں غیر منصفانہ پالیسی اپنا رکھی ہے ۔
انہوںنے کہاکہ جنوری2025سے ملازمین کے جی پی فنڈ کیس سرکاری ٹریجریوںمیں دھول چاٹ رہے ہیں جبکہ ریٹائرڈ ملازمین اپنی گریجویٹی اور دوسرے بقایات کیلئے سڑکوںکی خاک چھان رہے ہیں ۔ونود شرما نے کہاکہ ڈیلی ویجروںکی کوئی سن نہیں رہاہے ،اورسرکاری ملازمین کے دوسری سارے جائز مطالبات کو پس پشت ڈال دیاگیاہے ۔انہوںنے کہاکہ اگر حکومت نے ہمارے مطالبات کے تئیں منصفانہ پالیسی نہ اپنائی تو ساڑھے چار لاکھ سے زیادہ ملازمین بڑے احتجاج کیلئے مجبور ہوجائیں گے ۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
