ہندوستان
کواڈ نے انتہائی اہم معدنیات اور ہند-بحر الکاہل سے متعلق اقدامات متعارف کرائے
نئی دہلی، کواڈ کے رکن ممالک ہندوستان، آسٹریلیا، جاپان اور امریکہ کے وزرائے خارجہ نے بین الاقوامی قانون، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے آزاد اور کھلے ہند-بحرالکاہل کے لئے اپنے عزم پر زور دیا ہے اس بلاک نے انتہائی اہم معدنیات سے متعلق کواڈپارٹنرشپ سمیت اہم اقدامات متعارف کرائے جن کا مقصد قابل اعتماد اور متنوع سپلائی چینز حاصل کرنا ہے تاکہ علاقائی لچیلے پن اور مشترکہ فلاح و بہبود میں اضافہ کیا جاسکے۔
وزیر خارجہ مارکو روبیو، ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جے شنکر، آسٹریلیا کے وزیر خارجہ پینی وونگ اور جاپان کے تاکیشی ایوایا نے واشنگٹن میں اپنی ملاقات کے بعد ایک مشترکہ بیان جاری کیا۔
ان رہنماؤں نے ہند-بحرالکاہل میں مواقع اورچیلنجوں کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا۔ انھوں نےعلاقائی شراکت داروں کے تعاون سے امن، سلامتی اور خوشحالی کو آگے بڑھانے کے لیے کواڈ کی صلاحیتوں اور وسائل کو مزید بروئے کار لانے کے بارے میں بھی تبادلۂ خیال کیا۔
ایک مشترکہ بیان میں، کواڈ ممالک نے ایک نئے، جرأت مندانہ اور مضبوط ایجنڈے کا اعلان کیا۔ اس ایجنڈے میں چار اہم شعبوں-سمندری اور بین الاقوامی سلامتی، اقتصادی خوشحالی اورسلامتی، انتہائی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد اور ہنگامی صورتحال میں ردعمل-کو مرکزی توجہ حاصل ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’اس نئے سرے سے توجہ مرکوز کرنے کےعمل کے ذریعے، ہم کواڈ کی صلاحیت کو بڑھائیں گےتاکہ خطے کے سب سے اہم چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اپنے وسائل سے استفادہ کرسکیں۔‘‘
مشترکہ بیان میں کہا گیاکہ خطے کے لیے مشترکہ مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے ممالک متحد ہیں اور’’آسیان اور اس کی مرکزیت اور اتحاد اورپیسیفک آئی لینڈز فورم اور پیسفک کے زیر قیادت علاقائی گروپس اور انڈین اوشین رم ایسوسی ایشن(آئی او آر اے) کے لیے کواڈ کا تعاون اور اُس کی حمایت مضبوط رہےگی۔‘‘
مزید برآں، رکن ممالک نے مشرقی اور جنوبی بحیرہ چین کی صورتحال پرسخت تشویش کا اظہار کیا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’ہم کسی بھی قسم کےایسے یکطرفہ اقدامات کے خلاف اپنی سخت مخالفت کا اعادہ کرتے ہیں جن کا مقصد طاقت یا زور زبردستی کے ذریعے موجودہ حالت کو تبدیل کرناہو۔ ہمیں خطرناک اور اشتعال انگیز اقدامات کے بارے میں سخت تشویش ہے۔ ان میں ساحلی وسائل کی ترقی میں مداخلت، جہاز رانی اور اوور فلائٹ کی آزادی میں لگاتار رکاوٹ اور فوجی طیاروں اورساحلی محافظوں اور بحری فوجی کشتیوں کی خطرناک حرکتوں خاص طور پر واٹر کینن کے غیر محفوظ طریقے سے استعمال اور جنوبی بحیرۂ چین میں جہازوں کو ٹکر مارنا اور اُن کی آمد و رفت میں رخنہ ڈالنا شامل ہے۔ ان کارروائیوں سے خطے میں امن و استحکام کو خطرہ لاحق ہے۔
کواڈ ممالک نے ’’متنازع خصوصیات کی حامل عسکریت کاری‘‘ کے تئیں تشویش کا اظہار کیا اور ’’جہاز رانی اور اوور فلائٹ کی آزادی، سمندر کے دیگر قانونی استعمال اور بین الاقوامی قانون کے مطابق بلاروک ٹوک تجارت کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا، جس کا ذکر سمندر کے قانون سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن(یو این سی ایل او ایس)میں کیا گیا ہے۔‘‘
گروپ میں شامل وزرائے خارجہ نے اس بات کی توثیق کی کہ سمندری تنازعات کو پرامن طریقے سے اور بین الاقوامی قانون کے مطابق حل کیا جانا چاہیے اور اس بات کا اعادہ کیا کہ 12 جولائی 2016 کو ثالثی ٹریبونل کی طرف سے دیا جانے والا ایوارڈ ایک اہم سنگ میل ہے اور فریقین کے درمیان تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی بنیاد ہے۔
اہم سپلائی چین خاص طور پر اُن اہم معدنیات کے لیے جس میں اہم معدنیات، بعض ماخوذ مصنوعات اور معدنی پروسیسنگ ٹیکنالوجی کے لیے غیرمارکیٹ پالیسیوں اور طریقوں کا استعمال بھی شامل ہے،کی اچانک کمی اور مستقبل میں ان کی اعتباریت کو اہمیت دیتے ہوئے،ہم متنوع اور قابل اعتماد عالمی سپلائی چینز کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا ’’اہم معدنیات اور مشتق اشیا کی تیاری کے لیے کسی ایک ملک پر انحصار ہماری صنعتوں کو معاشی دباؤ، قیمتوں میں ہیرا پھیری اور سپلائی چین میں رکاوٹوں سے دوچار کرتا ہے، جس سے ہماری اقتصادی اور قومی سلامتی کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔‘‘
انھوں نے کہا’’ہم شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے غیر مستحکم کرنے والے لانچوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں(یو این ایس سی آرز) کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جوہری ہتھیاروں بنانے کی مسلسل کوشش کی مذمت کرتے ہیں۔ ہم متعلقہ یو این ایس سی آرزکے مطابق جزیرہ نما کوریا کو مکمل طور پر جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں اور ہم شمالی کوریا پر زور دیتے ہیں کہ وہ یو این ایس سی آرز کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے۔ ہمیں شمالی کوریا کی بدنیتی پر مبنی سائبر سرگرمی، بشمول کرپٹو کرنسی کی چوری اور شمالی کوریا کے غیر قانونی ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائل کے پروگراموں کے لیے شمالی کوریا کے باہر کام کرنے والے ورکرس کا استعمال کیے جانے کے تعلق سے بھی سخت تشویش ہے۔ ہم شمالی کوریا سے متعلق یو این ایس سی آرز کی خلاف ورزیوں سے نمٹنے کی کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔‘‘
رکن ممالک نے مشترکہ بیان کے ذریعے اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک سے زور دے کر کہاکہ وہ یو این ایس سی آرزکے تحت شمالی کوریا کو سبھی ہتھیار اور ان سے متعلقہ مواد کی منتقلی یا اس کی خریداری پر روک لگانے سمیت پابندیوں کے نفاذ کے لیے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔
رہنماؤں نے ان ممالک کے بارے میں گہری تشویش کا اظہار کیا جو شمالی کوریا کے ساتھ فوجی تعاون کو گہرا کر رہے ہیں، جو عالمی عدم پھیلاؤ کے نظام کو براہ راست نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ہم ایک بار پھر اغوا کے معاملے کے فوری حل کی ضرورت کی تصدیق کرتے ہیں۔
اس مشترکہ بیان میں میانمار کے بگڑتے ہوئے بحران اور خطے پر اس کے اثرات کا بھی ذکر کیا گیا اور میانمار کی حکومت سے جنگ بندی کے اپنے عزم پر قائم رہنے کا مطالبہ کیا گیا اور تمام فریقوں سے جنگ بندی کے اقدامات پر عمل درآمد، اس میں توسیع اور اسے وسیع کرنے کا مطالبہ کیاگیاہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ’’ہم آسیان کی کوششوں کے لیے اپنی مضبوط حمایت کا اعادہ کرتے ہیں اور بحران کے ایک جامع، پائیدار اور پرامن حل کے لیے پانچ نکاتی اتفاق رائے پر مکمل اور موثر عمل درآمد کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم تمام فریقوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ انسانی امداد کی محفوظ اور بلا روک ٹوک فراہمی میں مدد کریں۔ ہم علاقائی سلامتی پر بحران کے اثرات اور جرائم کے بین الاقوامی پھیلاؤ کے کے بارے میں بھی فکر مند ہیں۔ ہم سائبر کرائم اور آن لائن دھوکہ دہی کے معاملات سے نمٹنے کے تئیں پُر عزم ہیں۔
کواڈ لیڈوں کی اگلی سربراہ کانفرنس کی میزبانی اس سال کے آخر میں ہندوستان کرے گا اور اگلی کواڈ وزرائے خارجہ کی میٹنگ 2026 میں آسٹریلیا کی میزبانی میں ہوگی۔
رکن ممالک نے 22 اپریل کوجموں و کشمیرکے پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کی واضح الفاظ میں مذمت کی، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
متاثرین کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کرتے ہوئے وزراء نے دہشت گردی کی تمام شکلوں سے نمٹنے کے لیے اپنے اجتماعی عزم کا اعادہ کیا۔
بلاک نےدہشت گردی کے مرتکب افراد کے خلاف فوری طور پر کارروائی کیے جانے پر زور دیا۔
یو این آئی-ک ح
ہندوستان
اگلے 20 سے 30 سال کے چیلنجز کے لیے تیار رہے فوج: راج ناتھ
نئی دہلی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے فوج کے سینئر کمانڈروں سے کہا ہے کہ وہ اگلے 20 سے 30 سال کے چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے طویل مدتی حکمت عملی تیار کریں اور موجودہ نیز ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھی تیار رہیں۔
مسٹر سنگھ نے جمعہ کو یہاں فوجی کمانڈروں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق فوجی حکمت عملیوں میں تبدیلی کے لیے لچک برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اس موقع پر انہوں نے فوج کی مستقبل کی تیاری کے لیے فوجی آپریشنز کا نظریہ بھی جاری کیا۔
وزیر دفاع نے آپریشن سندور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نئی سوچ، بہتر تال میل، مضبوط ہم آہنگی اور جدید ہتھیاروں نے اس کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم نے واضح پیغام دیا کہ ہندوستان اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
مسٹر سنگھ نے فوج میں تنظیم نو اور ڈرون سمیت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے کی جانے والی کوششوں کی ستائش کی۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت، خودکار نظام، اعداد و شمار کے تجزیے، سائبر سکیورٹی اور محفوظ مواصلاتی نظام جیسے شعبوں میں صلاحیت بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ فضائی، سمندری، خلائی اور سائبر شعبوں میں چیلنجز بڑھنے کے باوجود زمینی جنگ اور فوج کا کردار اہم رہے گا۔ جدید جنگ میں کامیابی کے لیے متعدد شعبوں میں بیک وقت کام کرنے کی صلاحیت اور مشترکہ آپریشنز میں بہتر تال میل ضروری ہے۔
وزیر دفاع نے دفاعی پیداوار میں خود انحصاری کے لیے کی جانے والی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025-26 میں ملک کی دفاعی پیداوار بڑھ کر ریکارڈ 1.78 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جبکہ دفاعی برآمدات تقریباً 38 ہزار کروڑ روپے کی اب تک کی بلند ترین سطح پر رہیں۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی شعبے میں خود انحصاری مرکزی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
سال 2025 کو اصلاحات کا سال قرار دیتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ اصلاحات ایک مسلسل عمل ہے اور ان کی کامیابی مؤثر نفاذ پر منحصر ہے۔ انہوں نے فوجی کمانڈروں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے شعبوں میں اصلاحات کو آگے بڑھائیں اور انہیں فوجی صلاحیت میں حقیقی بہتری کی شکل میں نافذ کریں۔ انہوں نے انسانی وسائل کے بہتر انتظام، فوج میں خواتین کی زیادہ شمولیت اور قومی سلامتی کے لیے متحدہ نقطۂ نظر اپنانے پر بھی زور دیا۔
اس موقع پر وزیر دفاع نے فوجی آپریشنز کا نظریہ جاری کیا۔ یہ بدلتی ہوئی جنگی نوعیت اور مستقبل کے تنازعات کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے ہندوستانی فوج کی تیاری کا ایک جامع خاکہ پیش کرتا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے جریدے کا سالانہ شمارہ بھی جاری کیا اور اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں نمایاں تعاون کرنے والے ہندوستانی فوج کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
اس پروگرام میں وزیر مملکت برائے دفاع سنجے سیٹھ، چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل این ایس راجا سبرامنی، فوج کے سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ، دفاعی سکریٹری راجیش کمار سنگھ اور دیگر سینئر افسران موجود تھے۔ فوجی کمانڈروں کی یہ کانفرنس موجودہ اقدامات کا جائزہ لینے، مستقبل کی ترجیحات طے کرنے اور ٹیکنالوجی سے لیس نیز بدلتے ہوئے حالات کے مطابق تیار فوج کی تشکیل کے لیے پالیسی کی سمت متعین کرنے کے مقصد سے منعقد کی گئی ہے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
اروناچل میں چین کے ساتھ تصادم پر حکومت سچ چھپا رہی ہے، ملک کو پوری معلومات دی جائیں: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر اروناچل پردیش میں چینی فوج کے ساتھ ہندوستانی فوجیوں کے تصادم کی معلومات چھپانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ملک کو گمراہ کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور عوام کو پوری حقیقت بتانی چاہیے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کو یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ انڈو-تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے ڈائریکٹر جنرل نے اروناچل پردیش میں چینی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے ساتھ مسلسل ہونے والے تصادم کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ڈوکلام اور گلوان کے بعد یہ ایک اور سنگین تصادم ہے؟ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگست میں تکسنگ کے قریب چینی دراندازی کی خبریں آئی تھیں اور واچا-دمئی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت کے 47 دن بعد بھی تصادم جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس معاملے میں ملک کو اندھیرے میں نہیں رکھا جانا چاہیے۔ حکومت کو بتانا چاہیے کہ کیا اس علاقے میں ہندوستان کی گشت کرنے کی رسائی متاثر ہوئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے وزیر اعظم سے چین کو بار بار کلین چٹ دینا بند کرنے اور ملک کے سامنے صورتِ حال واضح کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملے میں جواب دہی ضروری ہے، نہ کہ سفارتی ملاقاتیں اور گلے ملنا۔
چین پر اقتصادی انحصار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گلوان میں 20 ہندوستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد مالی سال 2020-21 سے چین سے درآمدات میں 102 فیصد اضافہ ہوا ہے اور چین کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 112.16 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن تسلیم کر چکی ہیں کہ چین ہندوستانی برآمدات میں رکاوٹیں ڈالتا ہے۔ چین سے وابستہ سرمایہ کاری پر پابندیوں میں نرمی اور اہل چینی کمپنیوں کو پیداوار سے منسلک ترغیبات (پی ایل آئی) دینے پر غور کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ کیا اب ‘میک اِن انڈیا’، ‘امپورٹ فرام چائنا’ بن گیا ہے؟
مسٹر کھرگے نے کہا، ”وزیر اعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان کم از کم 23 ملاقاتیں اور بات چیت ہوئی ہیں۔ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کی شرکت کے ساتھ خصوصی نمائندوں کی سطح پر 25 دور کی بات چیت ہوئی ہے اور سرحدی معاملات پر مشاورت و تال میل کے لیے ورکنگ میکانزم (ڈبلیو ایم سی سی) کی 36 میٹنگیں ہو چکی ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اور برکس کے سربراہ اجلاسوں میں بھی دونوں فریقوں کے درمیان رابطہ ہوا ہے۔ ان ملاقاتوں کے کیا ٹھوس نتائج برآمد ہوئے اور کیا مئی 2020 سے پہلے گشت کرنے کی رسائی مکمل طور پر بحال ہو گئی ہے؟ ہمیں مسلح افواج پر پورا بھروسہ ہے، لیکن قومی سلامتی کے معاملے میں جواب دہی بھی ضروری ہے۔ وزیر اعظم کو اپوزیشن پر حملے کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور ملک کے عوام کو پوری صورتِ حال سے آگاہ کرنا چاہیے۔”
اس دوران کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے سربراہ پون کھیڑا نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جون-جولائی سے اروناچل پردیش میں چین کی سرگرمیوں سے متعلق خبروں کو دبانے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل شتروجیت کپور نے اب تصدیق کی ہے کہ ہندوستانی فوجیوں اور چینی فوج کے درمیان تصادم جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس آئی ٹی بی پی سمیت تمام بہادر فوجیوں کو سلام کرتی ہے، جو نامساعد حالات میں بھی ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک میں ایسی حکومت ہے جو نہ تو فوجیوں کی قربانی کو سلام کرتی ہے اور نہ ہی ان کی بہادری کی ستائش کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2020 میں وادیٔ گلوان میں 20 ہندوستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد مسٹر مودی نے چین کو کلین چٹ دے دی تھی، جس کے نتیجے میں لداخ سے اروناچل پردیش تک چین کے حوصلے بڑھ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل کے بیان کے فوراً بعد ذرائع کے حوالے سے خبریں آنے لگیں کہ فورس اس معاملے پر جلد ہی باضابطہ بیان جاری کرے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت سچائی کو سامنے آنے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے؟ انہوں نے پوچھا کہ کیا ہندوستان آج بھی اروناچل پردیش میں شیرا-5 گشت چوکی تک پہنچ پا رہا ہے اور کیا چین نے اسافلا، ماجا اور تکسنگ میں سات کلومیٹر اندر تک خیمے لگا رکھے ہیں؟
انہوں نے مشرقی لداخ میں 2020 سے پہلے کی صورتِ حال بحال ہونے کے بارے میں بھی سوال اٹھایا اور پوچھا کہ اگر ایسا نہیں ہوا ہے تو کب ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ بار بار ملاقاتوں کے باوجود ملک کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہندوستان کو ان سے کیا حاصل ہوا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے چین پر اقتصادی انحصار بڑھایا ہے اور چینی سرمایہ کاری نیز پی ایل اے سے وابستہ کمپنیوں کے لیے راستے آسان کیے ہیں۔
مسٹر کھیڑا نے کہا کہ ہندوستان چین کی شرائط مانتا رہا ہے اور اس کے حملوں کا سامنا بھی کرتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین کے ساتھ تجارتی خسارہ 99 ارب ڈالر سے بڑھ کر 112 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے چینی شہریوں کے لیے سفری پابندیاں ہٹائیں، ویزوں کی تعداد بڑھائی اور پریس نوٹ-3 میں ترمیم کرکے چین پر سرمایہ کاری سے متعلق پابندیوں میں نرمی کی، لیکن اس کے بدلے ہندوستان کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا ہندوستانی فوجی آج بھی ان گشت چوکیوں تک پہنچ پا رہے ہیں جہاں وہ 20 اپریل 2020 سے پہلے گشت کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بین الاقوامی فورموں پر چین کے سامنے سخت موقف اختیار کرنے کے بجائے اپوزیشن کو برا بھلا کہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو چین سے کس بات کا خوف ہے؟ چینی صدر کے ساتھ ملاقاتوں کے باوجود انہوں نے لداخ اور اروناچل پردیش جیسے حساس معاملات کیوں نہیں اٹھائے؟
مسٹر کھیڑا نے طنز کرتے ہوئے کہا، ”ملک میں 56 انچ کا ایک چینی کھلونا ہے، جس کی چابی کئی ممالک کے پاس ہے۔”
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے کہا کہ مسٹر مودی چین کو مسلسل رعایتیں دے رہے ہیں، جبکہ آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل نے اروناچل پردیش میں چینی پی ایل اے کے ساتھ حالیہ تصادم کے دوران فورس کی کارکردگی کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم اور ان کا پورا نظام اس سنگین معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ تکسنگ میں تصادم کے بعد گزشتہ ماہ واچا اور دمئی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت ہوئی تھی۔ مقامی لوگوں کے حوالے سے انہوں نے دعویٰ کیا کہ لداخ کی طرح اروناچل پردیش میں بھی ہندوستان کے کچھ گشت کے مقامات اس کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین اروناچل پردیش کے شہروں کے نام تبدیل کر رہا ہے اور 60 ہزار میگاواٹ کی صلاحیت والا ڈیم تعمیر کر رہا ہے، جو ہندوستان کے ماحولیاتی نظام اور آبی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں نوجوانوں کا کردار اہم: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو ملک کی ترقی سے جوڑنا، سماج کو تقسیم کرنے والی طاقتوں کے خلاف متحد کرنا اور خود انحصاری کے تئیں بیداری پیدا کرنا ضروری ہے۔
مسٹر مودی آج یہاں چنمیہ امرت مہوتسو عالمی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے چنمیہ مشن سے وکست بھارت کے عزم کو آگے بڑھانے میں فعال کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ سوامی چنمیانند جی کا بنیادی نظریہ نوجوانوں کی طاقت کو فروغ دے کر ایک مضبوط ہندوستان کی تعمیر کرنا تھا۔ چنمیہ مشن کے نوجوان کارکنوں نے تقریباً 300 دنوں میں 40 ہزار کلومیٹر کا سفر کرکے ایک لاکھ سے زیادہ نوجوانوں سے رابطہ قائم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2047 میں ملک کی آزادی کے 100 سال مکمل ہوں گے اور اسی عرصے میں چنمیہ مشن بھی اپنی صد سالہ تقریبات منائے گا۔ ایسے میں وکست بھارت اور چنمیہ مشن کے سفر کو ساتھ ساتھ آگے بڑھانا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مشن کے سنت، آچاریہ، سادھک اور کارکن وکست بھارت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کریں گے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سوامی چنمیانند جی نے ہندوستانی علم، ثقافت اور ورثے کو عوام تک پہنچانے کا کام کیا۔
چنمیہ مشن کے 100 سے زیادہ تعلیمی ادارے بچوں اور نوجوانوں کو جدید تعلیم کے ساتھ ہندوستانی اقدار بھی سکھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوامی جی روحانی ترقی کو انفرادی نشوونما اور انفرادی نشوونما کو ملک کی ترقی سے جوڑنے کی تعلیم دیتے تھے۔
مسٹر مودی نے نئی قومی تعلیمی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ہندوستانی علمی روایت، مادری زبان میں تعلیم، جدید سائنس اور نئی ٹیکنالوجی کو اہمیت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے ثقافتی ورثے کا تحفظ اور اس کے تئیں فخر کے احساس کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ کاشی وشوناتھ دھام، ایودھیا میں رام مندر اور اجین کے مہاکال مہالوک جیسے مراکز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ثقافتی مراکز کا احیا ہو رہا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں بیرونِ ملک چوری کرکے لے جائی گئی 650 سے زیادہ قدیم مورتیاں واپس لائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اداروں کے مقاصد الگ الگ ہو سکتے ہیں، لیکن ملک کی ترقی اور وقار سب کا مشترکہ ہدف ہے۔ وکست بھارت کے عزم کو پورا کرنے کے لیے سب کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
