جموں و کشمیر
2مراحل میں برسات کی پیش گوئی کے بیچ جموں وکشمیرمیں بارشوں کا سلسلہ تسلسل سے جاری
موسمیاتی ماہرین کی جانب سے موسمی الرٹ جاری
موسلادھار بارش ہونے کے باعث خطرناک مقامات پر سیلاب اورزمین کھسکنے کا خطرہ لاحق
بارشوں کا پانی جمع ہونے سے لوگوںکو عبور ومرور میں مشکلات، ٹریفک کی روانی میں بھی خلل
سرینگر :جے کے این ایس : موسمیاتی ماہرین کی اس پیش گوئی کہ جموں وکشمیرمیں21جولائی تک 2مراحل میں ہلکی ،تیز اور موسلا دار بارش ہوگی،منگل کی رات سے کہیں ہلکی ،کہیں تیز اور کہیں شدید بارشوںکا سلسلہ جاری ہے ،جسکے نتیجے میں سری نگرسمیت پوری کشمیروادی میں معمولات ِزندگی پراثر پڑا ہے۔اس دوران بارشوں کا پانی سڑکوں ،نکڑوں ،چوراہوں اور گلی کوچوں میں جمع ہونے سے لوگوںکو عبور ومرور میں مشکلات درپیش ہیں جبکہ ٹریفک کی روانی میں خلل پڑرہاہے۔جے کے این ایس کے مطابق بارش کی تازہ کاری سے متعلق سرکاری اعداد و شمار میں جموں و کشمیر کے مختلف حصوں میں گزشتہ 36 گھنٹوں کے دوران مختلف مقدار میں بارش ہوئی۔ کشمیر کے علاقے میں بدھ کی دوپہر پہلگام میں 18.0 ملی میٹر، کولگام (21.5 ملی میٹر)، گلمرگ (17.0 ملی میٹر) اور اونتی پورہ (13.8 ملی میٹر) ریکارڈ کی گئی۔ دیگر قابل ذکر اعداد و شمار میں ٹنگمرگ (13.9 ملی میٹر)، کوکرناگ (11.6 ملی میٹر)، نوگام ہندواڑہ (11.7 ملی میٹر)، قاضی گنڈ (10.8 ملی میٹر)، چرار شریف (10.0 ملی میٹر) اور سونمرگ (9.7 ملی میٹر) شامل ہیں۔سری نگر شہر میں 6.4 ملی میٹر جبکہ اس کے ہوائی اڈے میں5.7 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ پلوامہ اور کپوارہ میں بالترتیب 7.6 ملی میٹر اور6.5 ملی میٹر بارش ہوئی۔ سوپور (3.6 ملی میٹر)، بانڈی پورہ (1.8 ملی میٹر) اور شوپیان (1.2 ملی میٹر) میں بھی ہلکی بارش کی اطلاع ملی۔جموں ریجن میں ادھم پور میں سب سے زیادہ بارش 48.2 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، اس کے بعد کٹرا (37.3 ملی میٹر)، ریاسی (26.7 ملی میٹر) اور راجوری (24.3 ملی میٹر) میں بارش ہوئی۔ جموں شہر اور اس کے ہوائی اڈے پر بالترتیب 16.7 ملی میٹر اور 16.3 ملی میٹر بارش ہوئی۔ پونچھ میں 13.5 ملی میٹر، جبکہ بانہال، بٹوٹ اور رام بن میں 4تا6 ملی میٹر کے درمیان بارش ہوئی۔ کٹھوعہ میں اس دوران کوئی بارش ریکارڈ نہیں ہوئی۔اس دوران موسمیاتی مرکز سری نگر نے پورے جموں وکشمیرکیلئے ویدر یا موسمی الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیاکہ کئی علاقوںمیں موسلادھار بارش ہونے کیساتھ ساتھ خطرناک مقامات پر طوفانی سیلاب اورزمین کھسکنے کا خطرہ لاحق ہے ۔ موسمیاتی مرکز سری نگرکے ڈائریکٹر ڈاکٹر مختار نے کہاکہ چند ایک مقامات پر شدید بارش اورکچھ مقامات پر موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔موسمیاتی مرکز سری نگرنے جموں و کشمیر کےلئے ایک ایڈوائزری جاری کی ہے، جس میں آنے والے دنوں میں بھاری سے بہت زیادہ بارش، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کی وارننگ دی گئی ہے۔ڈائریکٹر ڈاکٹر مختار احمد نے کہا کہ 16اور17 جولائی اور 21تا23 جولائی تک موسم عام طور پر ابر آلود رہنے کی توقع ہے، مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے کئی حصوں میں وقفے وقفے سے ہلکی سے درمیانی بارش،گرج چمک کے ساتھ بارشیں ہوں گی۔ڈاکٹر مختار نے کہا کہ ان ادوار کے دوران شدید بارشوں اور شدید سے بہت زیادہ بارشوں کے الگ تھلگ واقعات کا امکان ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 18 سے 20 جولائی تک پھیلے ہوئے علاقوں میں ہلکی سے درمیانی بارش ،گرج چمک کے ساتھ بارش کی بھی توقع ہے۔موسمیاتی مرکز سری نگر کی طرف سے جاری کردہ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ خطرناک مقامات پر ممکنہ طوفانی سیلاب کے ساتھ ساتھ پہاڑی علاقوں اور بڑی شاہراہوں پر لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے تودے گرنے اور پتھروں کی فائرنگ سے بھی خبردار کیا گیا ہے۔رہائشیوں بالخصوص سیلاب زدہ اور لینڈ سلائیڈنگ کے شکار علاقوں میں رہنے والوں کو چوکس رہنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ حکام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ چوکس رہیں اور خلل کو روکنے اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔جموں و کشمیر میں گزشتہ دو دنوں سے بارش ہو رہی ہے، جس سے حالیہ شدید گرمی کی لہر سے بہت زیادہ راحت ملی ہے۔شہریوں کو اس دوران الرٹ رہنے اور ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
