جموں و کشمیر
آپریشن سندور ہمارا عزم اور پاکستان کو فیصلہ کن جواب تھا: فوجی سربراہ
سری نگر، کرگل وجے دیوس کے موقع پر آرمی چیف جنرل اوپندرا دیویدی نے کہا کہ آپریشن سندور صرف ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ ہندوستان کا پختہ عزم، واضح پیغام اور پاکستان کو فیصلہ کن جواب تھا انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت کو غیر مستحکم کرنے کی کسی بھی کوشش کا بھرپور جواب دیا جائے گا فوجی سربراہ نے ان باتوں کا اظہار ہفتے کے روز دراس میں 26 ویں کرگل وجے دیوس کے سلسلے میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہا: ‘آپریشن سندور سال 1999 میں کرگل میں لڑے گئے آپریشن وجے کے سلسلے کی ایک کڑی تھا’۔ان کا کہنا تھا: ‘سال 1999 میں ہندوستان نے آپریشن وجے کے تحت ایک مثالی فتح حاصل کی، پاکستانی فوجیوں اور در اندازوں کو بھگا کر برف پوش پہاڑیوں پر ترنگے لہرائے گئے، اس وقت ہم نے یہ واضح کر دیا کہ کسی کو بھی ہندوستان کی سالمیت اور کود مختاری کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی’۔
آرمی چیف نے کہا: ‘آپریشن سندور کے دوران اس روایت کو جاری رکھتے ہوئے بھارتی فوج نے اسی ہمت اور عزم کے ساتھ پاکستان میں دیشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناکر ایک فیصلہ کن کامیابی حاصل کی’۔انہوں نے پہلگام حملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ‘ہندوستان ہمیشہ امن کا خواہاں رہا ہے لیکن پاکستان نے بزدلی کا مظاہر کیا اور ملک کو ایک گہرا زخم دیا’۔ان کا کہنا تھا کہ اس سانحے پر ملک نے صرف ماتم نہیں کیا بلکہ ایک فیصلہ کن جواب بھی دیا۔
سٹرائیک کے واقعات کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے فوجی سربراہ نے کہا: ‘6 اور 7 مئی کی رات ہماری فوج نے پاکستان اور پاکستان زیر قبضہ کشمیر میں دہشت گردوں کے 9 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جس میں کسی بھی عام شہری کو کوئی گزند نہیں پہنچائی گئی’۔انہوں نے کہا: ‘یہ محض ایک جواب نہیں تھا بلکہ ایک واضح پیغام تھا کہ دہشت گردی کی حمایت کرنے والوں کو کسی بھی صورت میں نہیں بخشا جائے گا’۔
ہندوستانی فوج کی تیاریوں اور تال میل کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ‘پاکستانی فوج کو ایک کرارا، فیصلہ کن اور بر وقت جواب دیا گیا’۔انہوں نے کہا: ‘ہماری فوج اور فضائی دفاع ایک دیوار بن کر کھڑی رہی جسے ڈرون یا میزائل سے توڑا نہیں جا سکتا، اس دوران زمینی، فضائی فوج، سرکاری و غیر سرکاری محکمے اور غیر سرکاری تنظیمیں ملک کے ساتھ متحد ہوکر کھڑی رہیں’۔
جنرل دیویدی نے کہا کہ کہ جو طاقتیں ہندوستان کی خودمختاری، سالمیت اور عوام کو نقصان پہنچانے کی سازش کر رہی ہیں، انہیں مستقبل میں بھی منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا: ‘یہ ہندوستان کا نیا نارمل ہے’۔ان کا کہنا تھا: ‘ہم امن پسند قوم ہیں، لیکن کمزور نہیں، ہم پرعزم، چوکس اور ہمیشہ تیار ہیں’۔
مستقبل کے لیے فوج کو مضبوط بنانے کے بارے میں، جنرل دیویدی نے کہا کہ آج کی ہندوستانی فوج نہ صرف جاری چیلنجوں کا کامیابی سے مقابلہ کر رہی ہے بلکہ ہر روز ایک تبدیلی، جدید اور مستقبل پر مبنی طاقت میں تبدیل ہو رہی ہے۔انہوں نے ‘رودرا’ آل آرمز بریگیڈ کے نام سے ایک نئی مربوط جنگی فارمیشن کی تشکیل کا بھی اعلان کیا، جس کی منظوری صرف ایک دن پہلے دی گئی تھی۔
ان کا کہنا تھا: ‘یہ بریگیڈ انفنٹری، میکانائزڈ انفنٹری، آرمرڈ یونٹس، آرٹلری، اسپیشل فورسز، اور بغیر پائلٹ کے فضائی نظام کو ایک مربوط اسٹرائیک فورس میں لائے گی، جس کی مدد مربوط لاجسٹکس اور کمبیٹ سپورٹ یونٹس کے ذریعے کی جائے گی’۔
فوج کی جارحانہ صلاحیتوں کو مزید تقویت دینے کے لئے جنرل دیویدی نے ’بھیرو لائٹ کمانڈو بٹالین‘ کی تشکیل کا اعلان کیا، جو کہ ایک ایلیٹ سپیشل فورس یونٹ ہے اور سرحدوں پر تیز اور مہلک ضربیں پہنچانے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔انہوں نے کہا: ‘ہر انفنٹری بٹالین میں ڈرون اور انسداد ڈرون پلاٹون شامل کیے جا رہے ہیں، جب کہ ایک نئی آرٹلری رجمنٹ کو تیار کیا جا رہا ہے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘ہر آرٹلری رجمنٹ کے پاس ایک جامع بیٹری بھی ہوگی جو ڈرون جنگ میں مہارت رکھتی ہے، جس سے درست حملوں اور نگرانی کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا’۔انہوں نے کہا کہ فوج کے فضائی دفاع کو بھی دیسی میزائل سسٹم کی شمولیت کے ساتھ تبدیل کیا جا رہا ہے، جس سے ایک مضبوط ڈھال کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
