تازہ ترین
زبان یا جر م:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کی شناخت پر بڑھتے سوالات
شمس آغاز
ایڈیٹر،دی کوریج
ہندوستان ایک ایسا عظیم ملک ہے جس کی بنیاد کثیر لسانی، کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی ہم آہنگی پر رکھی گئی ہے۔ یہاں زبان، مذہب، نسل اور تہذیب کی گوناگونی کو قومی وحدت کا جزو لاینفک تسلیم کیا گیا ہے۔ یہی تنوع
ہندوستانی آئین اور جمہوری روایات کی روح ہے۔ تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک میں جو سیاسی، انتظامی اور سماجی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، ان میں ایسے رجحانات واضح طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں جو نہ
صرف جمہوری اقدار سے متصادم ہیں بلکہ اقلیتوں کے بنیادی حقوق کو پامال کرنے کی سمت میں بڑھتے ہوئے قدم محسوس ہوتے ہیں۔ ایسا ہی ایک افسوسناک واقعہ حال ہی میں ہریانہ کے صنعتی شہر گروگرام میں پیش
آیا،جہاں مغربی بنگال اور آسام سے تعلق رکھنے والے 74 بنگالی بولنے والے مسلمان مزدوروں کو محض شک کی بنیاد پر حراست میں لیا گیا۔ ان میں سے اکثریت صفائی، کوڑا کرکٹ چننے اور کچی بستیوں میں رہنے والے مزدوروں پر مشتمل تھی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان لوگوں کو کسی باقاعدہ چارج، نوٹس یا قانونی کارروائی کے بغیر صرف اس شبہے میں حراست میں لیا گیا کہ یہ غیر ملکی ہیں، جبکہ ان میں سے بیشتر کے پاس
آدھار کارڈ، ووٹر شناختی کارڈ، پین کارڈ، اور یہاں تک کہ پاسپورٹ جیسےمستند اور قانونی دستاویزات موجود تھے۔
حراست میں لیے گئے ان افراد کے رشتہ داروں نے شہریت کے ثبوت کے طور پر مغربی بنگال کے مختلف تھانوں سے سرکاری دستاویزات فراہم کیےلیکن حکام نے ان ثبوتوں کو غیر مؤثر قرار دے کر نظر انداز کر دیا۔اس عمل سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ صرف شناختی دستاویزات کا نہیں بلکہ ایک منظم تعصب اور امتیازی رویے کا ہے۔ ان تمام تر واقعات میں نہ صرف انسانی وقار کو پامال کیا گیا بلکہ ہندوستانی آئین کی روح کو بھی مجروح کیا گیا،جو ہر فرد کو برابر کے حقوق، مساوی سلوک، اور قانونی تحفظ فراہم کرنے کی ضمانت دیتا ہے۔
یہ ایک نہایت اہم اور فکرانگیز سوال ہے کہ کیا اب اس ملک میں بنگالی زبان بولنا جرم تصور کیا جانے لگا ہے؟ بنگالی ہندوستان کی آٹھویں شیڈیول میں شامل تسلیم شدہ زبانوں میں سے ایک ہے۔ اسے بولنے والے کروڑوں
افراد نہ صرف مغربی بنگال بلکہ آسام، تریپورہ، جھارکھنڈ، بہار، دہلی اور دیگر کئی ریاستوں میں پائے جاتے ہیں۔ زبان کسی فرد کی شہریت یا وفاداری کا تعین نہیں کر سکتی، کیونکہ زبان کا تعلق تمدن اور تہذیب سے
ہوتا ہےنہ کہ سرحدوں سے۔ اگر محض زبان کی بنیاد پر کسی فرد کی شہریت پر سوال اٹھایا جائے تو یہ پورے لسانی تانے بانے کو بکھیرنے کا
پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
یہ معاملہ صرف ایک قانونی مسئلہ نہیں بلکہ ایک آئینی اور اخلاقی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ہندوستانی آئین کا آرٹیکل 21 ہر فرد کو زندگی اور شخصی آزادی کا حق دیتا ہے اور اس میں یہ بھی شامل ہے کہ کسی
فرد کو اس کے حقوق سے اس وقت تک محروم نہیں کیا جا سکتا جب تک مکمل قانونی طریقہ کار اختیار نہ کیا جائے۔ لیکن ان حراستوں میں قانونی عمل کی خلاف ورزی کھلم کھلا کی گئی ہے۔ بغیر کسی نوٹس کے، بغیر
عدالت کے حکم کے اور بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے لوگوں کو حراست میں رکھنا قانون کی روح کے خلاف ہے۔ ان واقعات سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ بنگالی بولنے والے مسلمان ایک خاص سیاسی و انتظامی تعصب کا نشانہ بنائے جا رہے ہیں۔ جب کسی خاص زبان بولنے والے یا مذہب کے ماننے والے طبقے کو بار بار شک کی نگاہ سے دیکھا جائے، ان کی دستاویزات کو جعلی قرار دے دیا جائے، ان کے
بچوں کو تعلیم سے محروم کر دیا جائے، ان کے گھروں کو بلڈوزر سے ڈھا دیا جائے، تو یہ صرف ان افراد پر ظلم نہیں بلکہ ملک کی جمہوری اقدار، آئینی اصولوں اور انسانی حقوق کی صریح پامالی ہے۔ درحقیقت،یہ واقعات
ملک کے جمہوری ڈھانچے اور برابری پر مبنی نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
آسام میں بھی گزشتہ کچھ برسوں سے ایسی ہی پالیسیوں کا مشاہدہ کیا گیا ہے، جہاں ریاستی حکومت نے مبینہ غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف بےدخلی مہم شروع کر رکھی ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ مہم بنگلہ دیش
سے غیر قانونی طور پر آ کر بسنے والوں کے خلاف ہے۔ لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ اس مہم کا اصل نشانہ بنگالی بولنے والے مسلمان ہیں، جن میں سے بیشتر دہائیوں سے آسام میں مقیم ہیں۔ ان کے پاس زمین کی دستاویزات، سرکاری اسکولوں سے تعلیم کے سرٹیفکیٹ، شناختی کارڈز، اور یہاں تک کہ ووٹر لسٹ میں نام بھی درج ہیں، پھر بھی ان کو غیر ملکی قرار دے کر گھروں سے نکالا جا رہا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق تقریباً
8,000 گھروں کو بلڈوزر کے ذریعے منہدم کر دیا گیا ہے۔ بے دخلی کی ان کارروائیوں کے دوران پیش آنے والے دل دہلا دینے والےواقعات نے ریاستی مشینری کی بے حسی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ایک واقعے میں 19 سالہ شاکور علی کی موت اس وقت ہوئی جب پولیس کی موجودگی میں اس کے گھر کو مسمار کیا جا رہا تھا۔ یہ واقعہ صرف ایک نوجوان کی موت نہیں بلکہ انسانی ہمدردی، عدالتی احکامات اور انتظامی ذمہ داری کی موت بھی ہے۔ گوہاٹی ہائی کورٹ نے پہلے ہی ہدایت دی تھی کہ کسی بھی بے دخلی سے قبل متبادل رہائش فراہم کی جائے، لیکن ان ہدایات کو یکسر نظر انداز کر کے ہزاروں افراد کو کھلے آسمان تلے چھوڑ دیا گیا۔بے دخلی کی یہ مہم صرف آسام تک محدود نہیں رہی۔ اس کا اثر شمال مشرق کی دیگر ریاستوں تک بھی پہنچ چکا ہے۔ ناگالینڈ، منی پور، اور میگھالیہ نے بھی ایسے افراد کو اپنی سرحدوں میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے خصوصی الرٹس جاری کیے ہیں، جنہیں وہ غیر قانونی تارکین وطن قرار دیتے ہیں۔ اس قسم کے اقدامات سے نسلی کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے اور علاقائی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ ان ریاستوں میں حالیہ بے دخلیوں اور نقل مکانی کی وجہ سے اب تک تقریبا پچاس سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ ان میں سے بیشتر لوگ غریب، مزدور اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتے ہیں جو اپنی روزیروٹی کمانے کے لیے دوسرے شہروں یا ریاستوں میں ہجرت کرتے ہیں۔ ان
کے لیے پہلے ہی تعلیم، صحت، رہائش اور تحفظ جیسی بنیادی سہولتیں دستیاب نہیں تھیں، اب جب ان کو جبراً ان کے گھروں سے نکالا جا رہا ہےتو ان کی زندگیاں مکمل طور پر اجڑ چکی ہیں۔انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے باوجود ان متاثرین کی باز آبادکاری کے لیے کوئی منصوبہ موجود نہیں ہے۔ حکومت کی خاموشی اور عدالتی نظام کی تاخیر ان لوگوں کی زندگی کو مزید کربناک بنا رہی ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ جب ان لوگوں کے پاس قانونی دستاویزات موجود ہیں، جب وہ ملک میں پیدا ہوئے، وہیں تعلیم حاصل کی، وہیں کام کرتے ہیں، تو انہیں غیر ملکی کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟۔ ان واقعات کا ایک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ بعض سیاسی بیانات کےذریعے معاشرے میں ایک مخصوص قسم کا خوف اور بے یقینی پیدا کی جارہی ہے۔ بعض سیاسی رہنما یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ آسام میں ہندو اگلے10 برسوں میں اقلیت بن جائیں گےکیونکہ مبینہ طور پر لاکھوں کی تعداد میں بنگلہ دیشی مسلمان آ کر بس گئے ہیں۔ یہ بیانات کسی مستند تحقیق یا ثبوت پر مبنی نہیں بلکہ محض سیاسی مقاصد کے لیے دیے جا رہے ہیں تاکہ اکثریتی طبقے میں خوف پیدا کیا جا سکے اور انہیں خاص رخ پر ووٹ
دینے کے لیے آمادہ کیا جا سکے۔ ان بیانات اور پالیسیوں کا مقصد 2026 میں ہونے والے ریاستی انتخابات سے پہلے ووٹروں کو مذہب اور نسل کی بنیاد پر تقسیم کرنا ہے۔ یہ خطرناک حکمت عملی نہ صرف فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچا رہی ہے بلک آئینی اصولوں اور انسانی شرافت کو بھی داغدار کر رہی ہے۔ غیر مصدقہ دعوے، جیسے کہ دس لاکھ ایکڑ زمین پر غیر قانونی تارکین وطن کا قبضہ نہ صرف خوف و ہراس پیدا کرتے ہیں بلکہ معاشرے میں شک و شبہ کا ایسا بیج بوتے ہیں جو دیرپا نفرت میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
ان تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومتیں اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں۔ ایسے تمام اقدامات جو کسی لسانییا مذہبی اقلیت کو نشانہ بناتے ہوں، انہیں فوری طور پر روکا جائے۔ عدالتوں
کو چاہیے کہ وہ ان حراستوں اور بے دخلیوں کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائیں۔ ان افراد کو فوری انصاف فراہم کیا جائے جنہیں بغیر کسیجرم کے، بغیر کسی مقدمے کے صرف زبان یا مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنایا
گیا۔
مرکزی حکومت کو بھی اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہیے اور یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ہر ریاست آئینِ ہند کی پاسداری کرے۔ اگر ریاستی حکومتیں انسانی حقوق اور آئینی اصولوں کی خلاف ورزی کرتی ہیں تو مرکز کی ذمہ
داری بنتی ہے کہ وہ ان خلاف ورزیوں کا نوٹس لے، اصلاحی اقدامات کرے اور ان مظلوم شہریوں کی زندگیوں کو بحال کرے۔ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ قومی سطح پر ایک ایسا مکالمہ شروع ہو جو لسانی، مذہبی اور نسلی تنوع کو تسلیم کرے اور اسے قومی طاقت میں تبدیل کرے۔ ہندوستان کی اصل طاقت اس کی تنوع میں ہے، اور جب اس تنوع کو جرم بنا دیا جائے تو یہ ملک کی روح کو مجروح کر دیتا ہے۔ بنگالی زبان ہو یا اُردو، تمل ہو یا تلگو یہ سب ہماری قومی میراث کا حصہ ہیں، نہ کہ کوئی خطرہ۔ اگر آج بنگالی بولنے والے مسلمان مزدور نشانہ بن رہے ہیں تو کل کوئی اور کمیونٹی بھی اس کی زد میں آ سکتی ہے۔ آج جب ہندوستان خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے پر فخر کرتا ہے، اور اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم پر انسانی حقوق کی وکالت کرتاہے، تو کیا یہ اُس کی اخلاقی، آئینی اور انسانی ذمہ داری نہیں بنتی کہ وہ اپنے ہی شہریوں کو انصاف، شناخت اور وقار کے ساتھ جینے کا حق فراہم کرے؟ اگر ریاستیں اپنی عوام کو محض ان کی زبان، مذہب یا نسل کی بنیاد پر شک کی نگاہ سے دیکھنے لگیں،تو جمہوریت اپنے حقیقی مقصد اور روح سے دور ہوتی چلی جائے گی۔ یہ وقت ہے کہ ہندوستان بحیثیت قوم اپنے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑے اور ہر اس پالیسی و عمل کی مخالفت کرے جو انسانی حقوق، آئینی اصولوں اور سماجی انصاف کے منافی ہو۔ ہمیں بطور شہری اس سچائی کو تسلیم کرنا ہوگا کہ بنگالی زبان بولنا کوئی جرم نہیں بلکہ ایک عظیم ثقافتی ورثہ ہے۔ کسی انسان کی زبان، اس کی شہریت یا حب الوطنی کا معیار نہیں ہو سکتی۔ زبان دلوں کو جوڑنے کا ذریعہ ہے، دیواریں کھڑی کرنے کا ہتھیارنہیں۔
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال
دمام، سعودی عرب کے دمام شہر میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہوگیا اور ہوائی ٹریفک معمول پر آگئی۔ سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے بتایا کہ حملے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
بدھ کی شام ہونے والا یہ حملہ مملکت کے مشرقی صوبے میں تیل کی ایک تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو کارکنوں کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد ہوا۔ ان واقعات نے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش مسلسل سلامتی کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔
جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر حملے میں ایک سعودی شہری اور ایک ہندوستانی باشندہ ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں سعودی عرب، ہندوستان، یمن، بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کی حالت معمولی سے شدید نوعیت کی ہے اور انہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
گاکا نے مزید کہا کہ حکام ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور مسافروں و عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے مطابق، جمعرات کو بھی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے جاری رہے۔ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پانچ ڈرونوں کو روک کر تباہ کردیا گیا، جبکہ اس سے قبل مشرقی صوبے میں چار دیگر ڈرون مار گرائے گئے تھے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کو یمن کی حوثی ملیشیا سے منسوب ڈرون اور میزائل حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کو سعودی وزارت توانائی نے بتایا تھا کہ مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک پروسیسنگ تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے فلپائن اور نیپال کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
وزارت کے مطابق، اس واقعے میں پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو دیگر کارکن بھی زخمی ہوئے۔
وزارت نے بتایا کہ اس واقعے کے نتیجے میں تنصیب کے احاطے سے باہر ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، تاہم آئل فیلڈ میں کام کاج متاثر نہیں ہوا۔
حملوں کے پیش نظر سعودی حکام آنے والے ڈرونوں اور میزائلوں کو روکنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے مملکت میں اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
یو این آئی۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی کے سورو داس اور آشوتوش رانکا پانچ دنوں کی عدالتی تحویل میں
-
دنیا1 week agoروس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
