جموں و کشمیر
پہلگام دہشت گردانہ حملے میں ملوث3مہلوک حملہ آوروںکی قومیت کامعاملہ پاکستانی شہریت کی تصدیق!،شواہدکی بناءپربڑا خلاصہ
سیکورٹی اورتحقیقاتی ایجنسیوںکی ابتک کی تحقیقات میں اہم ترین انکشافات
ہمارے پاس پاکستانی حکومت کی جاری کردہ پاکستانی دستاویزات ہیں
جو پہلگام کے حملہ آوروں کی قومیت کو شک سے بالاتر کرتے ہیں:حکام
سری نگر:جے کے این ایس : ایک اہم ترین پیش رفت میں سیکورٹی اور تحقیقاتی ایجنسیاں پہلگام حملے میں ملوث حملہ آوروں کی پاکستانی شہریت کی تصدیق کرنے والے شواہد اکٹھے کر رہی ہیں۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق سیکورٹی ایجنسیوں نے حکومت پاکستان کی طرف سے جاری کردہ دستاویزات اور بائیو میٹرک ڈیٹا سمیت شواہد اکٹھے کئے ہیں، جن سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ پہلگام حملے میں ملوث 3 مارے گئے غیر ملکی دہشت گرد پاکستانی شہری تھے۔ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق حکام نے پیر کو کہاکہ دہشت گرد، جن کی شناخت لشکر طیبہ کے سینئر کارندوں کے طور پر ہوئی ہے، 28 جولائی کو سری نگر کے مضافات میں داچھی گام جنگل میں ’آپریشن مہادیو‘ کے دوران سیکورٹی فورسز کے ساتھ ایک تصادم میں مارے گئے تھے۔ وہ 22 اپریل2025 کو پہلگام کے بیسران وادی میں ہوئے حملے،، جس میں26 افراد ہلاک ہوئے تھے، کے بعد سے داچھی گام،ہاروان جنگلاتی پٹی میں چھپے ہوئے تھے۔خبررساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق حکام نے بتایا کہ جمع کئے گئے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان دہشت گردوں میں کوئی مقامی نہیں تھا۔حکام نے بتایا کہ پاکستان کے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے بائیو میٹرک ریکارڈ، ووٹر کی شناختی سلپس اور ڈیجیٹل سیٹلائٹ فون ڈیٹا، بشمول لاگز اور جی پی ایس وے پوائنٹس، سیکورٹی ایجنسیوں کی طرف سے جمع کئے گئے ثبوتوں میں شامل ہیں جو تینوں دہشت گردوں کی پاکستانی شہریت کی تصدیق کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انکاو ¿نٹر کے بعد کی تفتیش، بشمول بیلسٹکس ہتھیار سے کارتوس میچ اور دو زیر حراست کشمیری مددگاروں کے بیانات نے پہلگام حملے میں دہشت گردوں کے ملوث ہونے کی تصدیق کی۔ ایک سینئر اہلکار نے کہاہے کہ پہلی بار، ہمارے پاس حکومت کی طرف سے جاری کردہ پاکستانی دستاویزات ہیں جو پہلگام کے حملہ آوروں کی قومیت کو شک سے بالاتر کرتے ہیں۔انہوںنے مزیدکہاکہ ’آپریشن مہادیو‘کے دوران اور اس کے بعد جمع کیے گئے فرانزک، دستاویزی اور شہادتی شواہد حتمی طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ تینوں حملہ آور پاکستانی شہری اور لشکر طیبہ کےسینئر کارکن تھے جو حملے کے دن سے داچی گام،ہاروان جنگلاتی پٹی میں چھپے ہوئے تھے، حکام نے مزید کہا کہ کوئی بھی کشمیری شوٹنگ ٹیم کا حصہ نہیں تھا۔حکام نے بتایاکہ مارے گئے دہشت گردوں کی شناخت سلیمان شاہ عرف فیصل جٹ کے نام سے ہوئی، جو A++ کیٹیگری کا دہشت گرد، ماسٹر مائنڈ اور لیڈ شوٹر تھا۔ اس کا قریبی ساتھی ابو حمزہ عرف’افغان‘، ایکAگریڈ کمانڈر اور دوسرا بندوق برداراور یاسر عرف جبران، ایک Aگریڈ کمانڈر اور تیسرا بندوق بردار، ۔انہوں نے کہا کہ ہتھیاروں کے ساتھ، سیکورٹی فورسز نے شاہ اور حمزہ کی جیبوں سے پاکستانی حکومت کی طرف سے جاری کردہ دستاویزات، جیسے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے جاری کردہ2پرتدار ووٹر سلپس برآمد کیں۔حکام کے مطابق ووٹر کے سیریل نمبر بالترتیب لاہور (این اے 125) اور گوجرانوالہ (این اے 79) کی انتخابی فہرستوں سے مطابقت رکھتے ہیں۔حکام نے بتایا کہ نادرا سے منسلک سمارٹ آئی ڈی چپس، ایک خراب سیٹ فون سے برآمد ہونے والی ایک مائیکرو ایس ڈی میں تینوں مردوں کے نادرا کے بائیو میٹرک ریکارڈ (فنگر پرنٹس، فیشل ٹیمپلیٹ، فیملی ٹری) شامل ہیں – ان کی پاکستانی شہریت اور پتوں کی تصدیق چھانگا مانگا (ضلع قصور) اور کوئیان گاو ¿ں کے قریب راولاکوٹ، کشمیر (پاکستان)۔پاکستان میں تیار کردہ ذاتی اشیاءجیسے کینڈی لینڈ اورچوکو میکس چاکلیٹ کے ریپر (دونوں برانڈز کراچی میں تیار ہوتے ہیں) ایک ہی رکسیک میں پائے گئے جس میں فالتو میگزین موجود تھے، حکام نے مزید کہا کہ ریپرز پر چھپنے والے لاٹ نمبرز مئی 2024 کے ایک کھیپ سے ٹریس کیے گئے۔فرانزک اور تکنیکی تصدیق پر، حکام نے بتایا کہ بیسرن میں ملنے والی39×7.62 ملی میٹر کے کیسنگ 28 جولائی کو ضبط کی گئی3،اے کے103 رائفلوں کے خلاف ٹیسٹ فائر کیے گئے تھے اور سٹرائیشن کے نشانات 100 فیصد مماثل تھے جبکہ ڈی این اے کی پھٹی ہوئی قمیض پر خون سے نکالے گئے مائٹوکونڈریل پروفائلز ڈی این اے میں پائے گئے تھے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ دہشت گردوں نے مئی 2022 میں شمالی کشمیر کے گریز سیکٹر کے ذریعے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کو عبور کیا، جب انٹیلی جنس انٹرسیپٹس نے پاکستانی جانب سے ان کا ریڈیو چیک ان کیا۔21 اپریل کو، وہ بیسران سے 2 کلومیٹر کے فاصلے پر ہل پارک میں ایک ڈھوک (موسمی جھونپڑی) میں چلے گئے، جیسا کہ2 زیر حراست مددگاروں، پرویز اور بشیر احمد جوتھر نے بتایا، جنہوں نے انہیں رات بھر پناہ دی اور انہیں پکا ہوا کھانا فراہم کیا، اس سے پہلے کہ وہ حملہ کرنے کے لیے اگلے دن بایسران کا سفر کریں۔سلیمان شاہ کے گارمن ڈیوائس سے برآمد ہونے والے جی پی ایس وے پوائنٹس عینی شاہدین کی طرف سے بتائی گئی فائرنگ کی جگہوں سے میل کھاتے ہیں، حکام نے مزید کہا کہ وہ حملہ کرنے کے بعد دچیگام کی طرف فرار ہو گئے۔
عہدیداروں نے بتایا کہ جائے وقوعہ پر موجود شیل کے ڈبے انکاو ¿نٹر کے بعد دہشت گردوں سے برآمد کی گئی تین AK-103 رائفلوں سے مماثل ہیں۔ڈیجیٹل فوٹ پرنٹس پر، انہوں نے بتایا کہ دہشت گردوں کے زیر استعمال ہواوے سیٹلائٹ فون(86761204IMEI-XXXXXX) ہر رات 22 اپریل سے25 جولائی کے درمیانInmarsat-4-F1کو پنگ کر رہا تھا۔جموں و کشمیر پولیس نے 24 اپریل کو3 افراد ،ہاشم موسیٰ، علی بھائی عرف طلحہ اور مقامی عادل حسین ٹھوکر کے خاکے جاری کیے تھے۔ تاہم28 جولائی کے انکاو ¿نٹر کے بعد، ایجنسیوں نے واضح کیا کہ وہ خاکے ایک فون پر ملنے والی تصویر پر مبنی تھے جو دسمبر 2024 کے غیر متعلقہ حملہ آوروں کے شوٹ آو ¿ٹ سے حاصل کیے گئے تھے۔
حکام نے بتایا کہ حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا ایک اور اہم ثبوت پڑوسی ملک کے اندر کمانڈ اینڈ کنٹرول روابط تھے۔ان کا کہنا تھا کہ لشکر طیبہ کے جنوبی کشمیر کے آپریشنز چیف، ساجد سیف اللہ جٹ آف چھانگا مانگا، مجموعی طور پر ہینڈلر تھے کیونکہ برآمد شدہ سیٹ فون سے ان کی آواز کے نمونے ان کی پہلے کی گئی کالوں سے مماثل تھے۔لشکر طیبہ راولاکوٹ کے سربراہ رضوان انیس نے29 جولائی کو ’غائبانہ نماز جنازہ‘ (غیر حاضری میں نماز جنازہ) کا اہتمام کرنے کے لیے مقتول حملہ آوروں کے اہل خانہ سے بھی ملاقات کی اور اس کی فوٹیج اب ہندوستانی دستاویز کا حصہ ہے۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
