پاکستان
پاکستان‘ بھارتی منفی رویے کے باوجود قیام امن کیلئے کوشاں: پاکستان
خبراردو:
پاکستان کی خارجہ سیکرٹری تہمینہ جنجوعہ نے اسلام آباد میں منعقدہ کانفرنس بعنوان ’’ جنوبی ایشیا میں تنازعہ اور اتحاد: بڑی قوتوں کا رول‘‘کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں قیام امن کے لیے اسلام آباد اپنا بھر پور رول ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت کی ضدا ور ہٹ دھرمی کے باوجود اسلام آباد قیام امن کو ممکن بنانے کے لیے کوئی فروگذاشت نہیں کرے گا۔تہمینہ جنجوعہ نے بتایا کہ بھارت کے منفی رول کے باوجود پاکستان جنوبی ایشیائی خطے میں اپنے پڑوسی ممالک میں پرامن رول کا خواہاں ہیں اور اس کے لیے وہ اپنی کوششوں کا جاری وساری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کو ممکن بنانے کے لیے پوری طرح مطمئن ہے ۔بھارت کی طرف سے پاکستان کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے پاکستانی خارجہ سیکرٹری نے بتایا کہ بھارت پاکستان کے خلاف نفرت کا جال بننے میں مصروف عمل ہے اور اس کے لیے وہ ہر سطح پر دشمنانہ ماحول کو پروان چڑھارہا ہے۔اس طرح کا طریق کار نہ صرف دونوں ممالک کے آپسی تعلقات کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ جنوبی ایشیا ئی خطے میں اس طرح کے طرز عمل سے امن و ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا ناممکن ہے۔
بھارت کی طرف سے اسلام آباد میں ہونے والے سارک چوٹی کانفرنس میں شرکت نہ کرنے پر پاکستانی خارجہ سیکرٹری نے بتایا کہ اس طرح کے اپروچ سے بھارت نے پورے عمل کو یرغمال بنادیا۔سارک چوٹی کانفرنس جن میں جنوبی ایشیائی خطے سے تعلق رکھنے والے ممالک افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، بھارت، نیپال ، مال دیوز ، پاکستان اور شری لنکا شامل ہیں سربراہی اجلاس کے دوران خطے میں درپیش مسائل پر گفت و شنید کرکے اس کے تدارک کے لیے ٹھوس لائحہ عمل ترتیب دیتے ہیں لیکن بھارت نے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے پورے سیشن کو یرغمال بنادیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نئی حکومت کے قیام کے فوراً بعد ہی وزیر اعظم عمران خان نے صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ اگر بھارت پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے ایک قدم آگے بڑھے گا تو پاکستان بھارت کی کوشش کا خیر مقدم کرتے ہوئے دو قدم آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے۔
تحمینہ جنجوعہ کے مطابق پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے اپنا عہدہ سنبھالتے ہی نریندر مودی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کیا کہ تمام حل طلب معاملات کو مل بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے گا لیکن بدقسمتی سے بھارت کی طرف سے اس حوالے سے منفی رول سامنے آیا اور انہوں نے عمران خان کی پیش کش کا کوئی بھی جواب دینے کی زحمت گوارا نہیں کی۔کانفرنس کے دوران پاکستانی خارجہ سیکرٹری تحمینہ جنجوعہ نے اس بات پر بھارت کی کڑی نکتہ چینی کی کہ وہ خطے میں بڑے پیمانے پرہتھیاروں کی دوڑ میں آگے بڑھ رہا ہے لیکن المیہ ہے کہ چند عالمی قوتیں بھارت کی اس معاملے میں معاون کا کردار ادا کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حال میں بھارت کی امریکہ کے ساتھ خصوصی میٹنگیں منعقد ہوئی ہیں جس دوران انہوں نے امریکی فوج کے ساتھ اشتراک کرتے ہوئے حساس ہتھیار اور ٹیکنالوجی کی خرید اری عمل میں لائی ہے جبکہ روس نے بھی بھارت کے ساتھ ایک معاہدہ پر دستخط کرتے ہوئے S-400دفاعی سسٹم حاصل کرلیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ سے توازن بگڑنے کا بھر پور امکان ہے جبکہ اس کے مستقبل قریب میں منفی نتائج نکلنے کا بھی اندیشہ ہے۔پاکستان کی طرف سے دہشت گرد مخالف کارروائیوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کامیاب ثابت ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کی بہتر خارجہ پالیسیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ سی پیک مزید کامیوں کی طرف گامزن ہے جبکہ اس دوران مختلف سطحوں پر افغان تنازعے کے پرامن تصفیہ پر بھی آوازیں سامنے آرہی ہے۔
پاکستان
حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے: پاکستان
اسلام آباد، پاکستان نے یمن کے حوثی باغیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے بعد مملکت کے دفاع کے لیے ”ہر ممکن مدد” فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ‘انڈیپنڈنٹ عربیہ’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ بات کہی۔ ان کا یہ بیان ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی سرزمین پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافے کے درمیان سامنے آیا ہے۔
پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد کا رکن ہے، جس میں سعودی عرب اور ترکیہ بھی شامل ہیں۔ اس اجتماعی دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا اور دیگر ارکان متاثرہ ملک کے دفاع کے لیے آگے آئیں گے۔ تاہم، سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں مسلسل شدت کے باوجود اسلام آباد اور انقرہ نے اب تک بیانات جاری کرنے کے علاوہ کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا ہے۔
چوہدری نے کہا کہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی، بالخصوص حرمین شریفین کی حفاظت، پاکستان کے لیے اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا، ”پاکستان کے لیے یہ معاملہ ناقابلِ سمجھوتہ اور قطعی ہے۔ اس مقصد کے لیے جس مدد کی ضرورت ہے، وہ فراہم کی جا رہی ہے اور آئندہ بھی فراہم کی جائے گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ فوجی اتحاد اپنی مدد کی نوعیت اور اس کے پیمانے کی تفصیلات عام طور پر ظاہر نہیں کرتے۔
حوثی حملوں پر پاکستان میں ردعمل کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری نے کہا کہ ملک کے عوام، سیاسی قیادت اور فوجی قیادت میں بڑے پیمانے پر غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا، ”آخر کوئی بھی ذی شعور شخص سعودی عرب، مقدس مقامات پر حملہ کیوں کرے گا یا انہیں دھمکی کیوں دے گا، یا کم از کم ایسا تاثر کیوں پیدا کرے گا؟” ان کا کہنا تھا کہ اسلامی مقدس مقامات کی سلامتی کے معاملے میں کوئی شرط یا سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔
یہ پوچھے جانے پر کہ اگر حوثی حملے جاری رہے تو کیا اسلام آباد کی مدد صرف دفاعی نوعیت تک محدود رہے گی، چوہدری نے کہا کہ مکہ اتحاد کے تینوں ارکان اس بات پر متفق ہیں کہ معاہدے کا کوئی جارحانہ مقصد نہیں اور یہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔
اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 51 کا حوالہ دیتے ہوئے، جو حقِ دفاع کو تسلیم کرتی ہے، انہوں نے کہا کہ اس اتحاد کا مقصد اجتماعی ردعمل کے ذریعے رکن ممالک کو لاحق خطرات کی روک تھام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا، ”اگر یہ بازدارانہ حکمت عملی مؤثر ثابت نہیں ہوتی تو تینوں ممالک کو دستیاب تمام ذرائع استعمال کرتے ہوئے اسے دوبارہ مؤثر بنانا ہوگا۔”
سعودی نائب وزیر خارجہ کی جانب سے حوثیوں کے ساتھ ایران کے تعلقات کی نشاندہی کے بعد، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسلام آباد نے تہران کو حملوں کے حوالے سے خبردار کیا ہے، تو چوہدری نے کہا کہ پاکستان کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے تہران سمیت تمام فریقوں سے رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان رابطوں کا بنیادی مقصد ”کشیدگی کو کم کرنا” ہے اور تمام فریقوں کے ساتھ پاکستان کی بات چیت کا محور حالات کو معمول پر لانا ہے۔
چوہدری نے خبردار کیا کہ حوثیوں یا دیگر فریقوں کو تنازع میں شامل کرکے اس کا دائرہ وسیع کرنے سے بحران حل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا، ”خواہ آپ اس میں حوثیوں کو شامل کریں یا دوسرے علاقوں تک پھیلائیں، اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس کا فائدہ صرف ان لوگوں کو ہوگا جو خطے میں افراتفری چاہتے ہیں۔”
جاری ۔ یو این آئی ۔ ع ا ۔
پاکستان
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
اسلام آباد، پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ہفتہ کو 5.8 شدت کا زلزلہ آیا، جس کی گہرائی 15 کلومیٹر تھی۔ ہندوستان کے نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی (این سی ایس) نے یہ اطلاع دی۔
ادارے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ زلزلہ 17 اکتوبر کو ہندوستانی معیاری وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 37 منٹ پر آیا۔ زلزلے کا مرکز 27.944 ڈگری شمالی عرض البلد اور 66.532 ڈگری مشرقی طول البلد پر واقع تھا۔
زلزلے کے زمینی اثرات کا انحصار کئی عوامل پر ہوگا، جن میں آبادی والے علاقوں سے اس کا فاصلہ، مقامی ارضیاتی حالات اور زمین میں ارتعاش کی شدت شامل ہیں۔
زلزلے کے بعد فوری طور پر کسی جانی نقصان یا املاک کو پہنچنے والے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
پاکستان ہندوستانی اور یوریشیائی ٹیکٹونک پلیٹوں کی سرحد کے قریب واقع ہے، جہاں ان پلیٹوں کے ٹکراؤ سے زلزلہ خیز سرگرمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے ملک میں زلزلوں کا خطرہ رہتا ہے۔
جنوب مغربی پاکستان کا وسیع صوبہ بلوچستان زلزلے کے خطرات سے دوچار علاقوں میں شامل ہے۔ دیگر حساس علاقوں میں خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان شامل ہیں، جہاں فعال فالٹ لائنیں اور پیچیدہ پہاڑی سلسلے زلزلوں کے خطرے میں اضافہ کرتے ہیں۔ پنجاب اور سندھ کے بعض علاقے بھی زلزلہ خیز سرگرمیوں سے متاثر ہوسکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
اسلام آباد، پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور میں ایک اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 28 طلبہ اور ایک استاد ہلاک، جبکہ 20 سے زائد دیگر افراد زخمی ہوگئے۔
اسپتال کے ترجمان نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ زخمیوں میں سے بعض کی حالت نازک ہے۔
یہ حادثہ جمعرات کو خیبر پختونخوا کی راجدھانی پشاور میں واقع نجی اسکول الخیر ایجوکیشن سینٹر میں پیش آیا۔ حادثے کے بعد راحت اور بچاؤ کی ٹیمیں ملبے میں دبے افراد کی تلاش اور زندہ بچ جانے والوں کو نکالنے میں مصروف ہیں۔
اسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے بتایا کہ حادثے میں ہلاک یا زخمی ہونے والے تمام بچوں کی عمر 13 سال یا اس سے کم ہے۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال میں زخمیوں کے علاج کے لیے ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
اسلام آباد سے رپورٹنگ کرتے ہوئے الجزیرہ کے نمائندے کمال حیدر نے بتایا کہ گنجان آبادی والے علاقے میں اسکول واقع ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا، ”بھاری مشینری، جو امدادی کارروائیوں میں اہم ثابت ہوسکتی تھی، جائے حادثہ تک نہیں پہنچ سکی۔ مقامی افراد اور امدادی ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور اس کے نیچے دبے لوگوں کو نکالنے کے لیے بالٹیوں اور دیگر برتنوں کا استعمال کر رہی ہیں۔ اس اسکول میں تقریباً 350 طلبہ رجسٹرڈ ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ زخمی طلبہ کی بڑی تعداد اسپتال میں زیر علاج ہے، جن میں سے بعض کی حالت تشویش ناک ہے۔
حکام نے حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ”ہمارے بچے ہمارا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں اور اس طرح کا ہر نقصان پورے ملک کے لیے ایک سانحہ ہے۔ میری دلی تعزیت اور دعائیں سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، ”وزیر اعظم اور حکومت نے اس صورت حال کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے۔ ہمارے بچوں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانا اولین ترجیح رہنی چاہیے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
