جموں و کشمیر
گلے سڑے گوشت کے غیرانسانی دھندے کا قلع قمع کرنے کیلئے جموں وکشمیر حکومت سرگرم عمل
FSSAIکے قوانین کی سختی سے تعمیل کرنے کا حکم
FDAنے کئے گوشت کوخریدنے سے لیکر اسکو ذخیرہ کرنے سے متعلق رہنما اصول جاری
غیر محفوظ خوراک کے جرم میں6 سال تک قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانہ ،دیگر انضباطی اقدامات
سری نگر:جے کے این ایس: جموں و کشمیر حکومت نے جمعرات کو فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (FSSAI) کے منجمد گوشت، چکن اور دیگر گوشت کی مصنوعات کی ہینڈلنگ، سٹوریج، پیکجنگ اور فروخت کے سلسلے میں سختی سے تعمیل کرنے کے احکامات جاری کیے، خلاف ورزی کی صورت میں سنگین نتائج کا انتباہ دیا۔حال ہی میں ایک اسکینڈل نے کشمیر کو ہلا کر رکھ دیا جب حکام نے غیر مجاز اور ناکافی ذخیرہ کرنے کی سہولیات سے سینکڑوں کلوگرام گلا سڑا ہوا گوشت برآمد کیا۔معاشرے کو جس چیز نے چونکا دیا وہ انکشاف تھا کہ یہ تجارت وادی میں ظاہر ہونے سے پہلے شاید کئی سالوں سے جاری تھی۔جے کے این ایس کے مطابق جے اینڈ کے فوڈ اینڈ ڈرگس ایڈمنسٹریشن نے ایک پبلک نوٹس جاری کیا ہے جس میں تمام فوڈ بزنس آپریٹرز کے لئے یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ منجمد کچے گوشت، چکن اور گوشت کی مصنوعات کی ہینڈلنگ، اسٹوریج، پیکجنگ اور فروخت کے سلسلے میں فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (FSSAI) کے رہنما اصولوں پر سختی سے عمل کریں۔ فوڈ اینڈ ڈرگس ایڈمنسٹریشن کمشنر نے نوٹیفکیشن میں کہا کہ ہدایات تمام مینوفیکچررز، پروسیسرز، تھوک فروشوں، خوردہ فروشوں، کولڈ اسٹوریج آپریٹرز، ٹرانسپورٹرز کے ساتھ ساتھ گوشت کی مصنوعات کی فروخت یا تقسیم میں مصروف ای کامرس پلیٹ فارمز پر لاگو ہوتی ہیں۔نوٹس میں واضح طور پر خبردار کیا گیا ہے کہ پیک شدہ منجمد گوشت یا چکن کی مناسب اور مکمل لیبلنگ کے بغیر فروخت ممنوع ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ایف ڈی اے کے مطابق، تازہ، ٹھنڈا اور منجمد گوشت کی واضح تعریفیں ہیں۔ تازہ گوشت سے مراد وہ گوشت ہے جسے محفوظ رکھنے کے لیے کسی بھی طرح سے علاج نہیں کیا گیا ہے اور اسے ذبح کرنے کے فوراً بعد فروخت کر دیا جاتا ہے۔ٹھنڈا گوشت کا مطلب ہے کہ قلیل مدتی شیلف لائف کو بڑھانے کے لیے صفر ڈگری سیلسیس اور 4ڈگری سیلسیس کے درمیان درجہ حرارت پر رکھا ہوا تازہ گوشت، استعمال سے صرف2ے4 دن پہلے ہی جائز ہے۔دوسری طرف، منجمد گوشت کو مائنس18 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے کم درجہ حرارت پر ذخیرہ اور منتقل کیا جانا چاہیے، اور اس طرح کی مصنوعات کو منجمد ہونے کی تاریخ سے12 ماہ کے اندر کھا جانا چاہیے۔
متعلقہ حکام کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کیلیبریٹڈ درجہ حرارت کی نگرانی کرنے والے آلات نصب کریں اور معائنہ کے لیے فزیکل اور ڈیجیٹل دونوں طرح کے درست ریکارڈ کو برقرار رکھیں۔FDAنے مزید وضاحت کی ہے کہ پیکیجنگ اور لیبلنگ ریگولیشنز 2020 کے تحت، منجمد گوشت اور چکن کے ہر پیکٹ پر پروڈکٹ کا نام، اجزاءکی مکمل فہرست، علامت کے ساتھ نان ویجیٹیرین اسٹیٹس کا اعلان، خالص مقدار، بیچ یا لاٹ نمبر، تیاری یا پیکنگ کی تاریخ، میعاد ختم ہونے یا استعمال کرنے والے کا نام یا استعمال کرنے والے کا نام، تاریخ یا استعمال کی تاریخ۔ درآمد کنندہ،FSSAI لائسنس نمبر اور لوگو کے ساتھ۔ای کامرس پلیٹ فارمز کے ذریعے فروخت ہونے والی مصنوعات کے لیے، ضوابط یہ لازمی بناتے ہیں کہ ڈیلیوری کے وقت، کل شیلف لائف کا کم از کم 30 فیصد دستیاب ہو یا میعاد ختم ہونے سے کم از کم45 دن پہلے، جو بھی پہلے ہو۔مصنوعات کے بارے میں تمام لازمی معلومات صارفین کے لیے خریداری سے پہلے آن لائن ظاہر کی جانی چاہیے، جب کہ پیکیجنگ مواد کو فوڈ گریڈ کا معیار، محفوظ اور غیر زہریلا ہونا چاہیے تاکہ آلودگی سے بچا جا سکے۔اگر کسی پروڈکٹ پر حلال سرٹیفائیڈ کا لیبل لگا ہوا ہے، جو کہ رضاکارانہ ہے، تب بھی اسے FSSAI کی حفاظت، حفظان صحت اور لیبلنگ کی تمام ضروریات کو پورا کرنا چاہیے۔انتظامیہ نے فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ 2006 کے تحت خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔جرمانے میں غیر تعمیل شدہ اسٹاک کو ضبط کرنا، غیر معیاری مصنوعات پر 5 لاکھ روپے تک جرمانہ، غلط برانڈ والی مصنوعات یا گمشدہ لیبل ڈیکلریشن پر 3 لاکھ روپے تک،FSSAI رجسٹریشن کے بغیر کام کرنے پر2 لاکھ روپے اور لائسنس کے بغیر کام کرنے پر10 لاکھ روپے تک جرمانہ شامل ہے۔غیر محفوظ خوراک کے جرم میں6 سال تک قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔کمشنر فوڈ اینڈ ڈرگس ایڈمنسٹریشن نے تمام فوڈ بزنس آپریٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے کاموں کا جائزہ لیں اور اپ گریڈ کریں، اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام ریکارڈ اپ ڈیٹ ہو جائیں اور ان کے آو ¿ٹ لیٹس اور آن لائن پلیٹ فارمز سے غیر تعمیل شدہ مصنوعات کو ہٹا دیں یا ڈی لسٹ کریں۔پبلک نوٹس میں متنبہ کیا گیا ہے کہ رہنما خطوط پر عمل کرنے میں ناکامی کے نتیجے میں بغیر کسی نوٹس کے فوری قانونی کارروائی کی جائے گی۔جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے ایکPIL پر عمل کرتے ہوئے منگل کو حکومت سے کہا کہ وہ چار دن کے اندر سڑے ہوئے گوشت کے اسکینڈل پر اپنا جواب داخل کرے۔ (ایجنسیاں)
جموں و کشمیر
انتخابی شکست کے خوف سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات ٹال رہی ہے نیشنل کانفرنس: سنیل شرما
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے جمعرات کو نیشنل کانفرنس حکومت پر انتخابی شکست کے خوف سے پنچایت اور بلدیاتی انتخابات میں جان بوجھ کر تاخیر کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکمراں جماعت نہیں چاہتی کہ دوسری جماعتوں کو زمینی سطح پر نمائندگی ملے۔
بی جے پی کے سابق تنظیمی جنرل سکریٹری اشوک کول کے اعزاز میں پارٹی کی جموں و کشمیر شاخ کی جانب سے منعقدہ الوداعی تقریب کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مسٹر شرما نے کہا کہ مقامی بلدیاتی انتخابات عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کے لیے ‘لٹمس ٹیسٹ’ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے حکومت پر بجلی، ایل پی جی سلنڈر، ملازمتوں اور راشن کے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہنے کا الزام لگایا۔
مسٹر شرما نے کہاکہ ”عبداللہ خاندان کے تکبر اور ‘دبنگئی’ کی وجہ سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات نہیں ہونے دیے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ وزیر اعلیٰ نے اسمبلی میں کہا کہ وہ انتخابات نہیں کرائیں گے۔ ان کے والد فاروق عبداللہ صاحب بھی 2 سے 3 بار کہہ چکے ہیں کہ پنچایت انتخابات نہیں ہوں گے۔ نیشنل کانفرنس نہیں چاہتی کہ کوئی اور یہاں کے عوام کی نمائندگی کرے۔ وہ جانتے ہیں کہ انہیں منہ کی کھانی پڑے گی اور انہیں ڈر ہے کہ عوام ان سے ان کے دھوکے کا حساب مانگیں گے۔”
لداخ میں پنچایت انتخابات کے اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر شرما نے سوال کیا کہ جموں و کشمیر میں ایسے انتخابات کیوں نہیں کرائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ”یہ اس حکومت کے لیے ایک سخت امتحان ہوگا۔ جس حکومت نے بجلی، سلنڈر، ملازمت اور راشن کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیا ہے، اس کا امتحان پنچایتی راج اور بلدیاتی انتخابات کے ذریعے لیا جانا چاہیے۔”
مرکزی وزیر داخلہ کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے، جس میں کہا گیا تھا کہ کشمیر میں دہشت گردی ختم ہو گئی ہے، مسٹر شرما نے کہا کہ گزشتہ 5 سال میں دہشت گردی میں زبردست کمی آئی ہے۔ انہوں نے اس کا سہرا مرکزی حکومت اور خاص طور پر وزارت داخلہ کے سر باندھا۔ مسٹر شرما نے کہا کہ ”گزشتہ 2 سال میں ایک بھی کشمیری نوجوان کسی دہشت گرد تنظیم میں شامل نہیں ہوا ہے، جو دہشت گردی کے خاتمے کی ایک بڑی علامت ہے۔”
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا لداخ کی طرح کشمیر میں بھی مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جا سکتے ہیں، مسٹر شرما نے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ملزم افراد کا لداخ کے مظاہرین سے موازنہ کرنے کی کوشش کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جو لوگ اس وقت جیل میں ہیں، ان کے خلاف سابقہ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس حکومتوں کے دور میں عوامی تحفظ قانون کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔
مسٹر شرما نے واضح کیا کہ بی جے پی بے گناہوں کو انصاف دلانے کی حمایت کرے گی، لیکن ملک کے خلاف تشدد کرنے والوں کو بے قصور نہیں کہا جا سکتا۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکن گرفتار، آئی ای ڈی اور پستول برآمد
سری نگر، شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع میں سکیورٹی کارروائی کے دوران 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکنوں (او جی ڈبلیوز) کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے جمعرات کو بتایا کہ ان کے قبضے سے 2 دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) اور گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ برآمدگیاں گزشتہ شام بارہمولہ کے ڈیلینا علاقے میں کی گئیں۔ گرفتار کیے گئے دونوں افراد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ شمالی کشمیر کے سوپور کے چنکی پورہ علاقے کے رہنے والے ہیں۔
سرکاری ذرائع نے بتایاکہ ”ان کے قبضے سے 2 آئی ای ڈی، ایک پستول، گولہ بارود کے 10 کارتوس اور 6500 روپے برآمد کیے گئے ہیں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے مبینہ روابط کا پتہ لگانے اور معاملے کی دیگر تفصیلات معلوم کرنے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔
گرفتاریوں اور برآمدگی کے سلسلے میں پولیس کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔.
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے ‘میکانکی’ طریقے سے کی گئی احتیاطی حراست پر سوال اٹھائے، سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو طلب کیا
سری نگر، جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے عوامی تحفظ قانون (پی ایس اے) کے تحت ‘میکانکی’ (بغیر سوچے سمجھے) اور لاپروائی سے جاری کیے گئے احتیاطی حراست کے حکم پر سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ جسٹس وسیم صادق نرگل کی بنچ نے سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت دی ہے۔ گزشتہ ہفتے ہیبیئس کارپس کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس نرگل نے کہا کہ سری نگر کے زبیر امین بنگرو کے خلاف حراست کی وجوہات میں ٹھوس معلومات موجود نہیں ہیں۔ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے پولیس کی جانب سے فراہم کردہ مواد کا آزادانہ طور پر جائزہ لیا تھا یا نہیں۔
عدالت نے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت دی ہے کہ وہ پولیس ڈوزیئر، حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر کے سامنے پیش کیے گئے مواد اور متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ ذاتی طور پر پیش ہوں، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ حراست کا حکم دیتے وقت کن بنیادوں پر غور کیا گیا اور افسر کس طرح مطمئن ہوا۔
عدالت نے سخت الفاظ میں افسر سے سوال کیا کہ ”انہوں نے مناسب غور و فکر کیے بغیر، اتنی لاپروائی اور میکانکی انداز میں حراست کا یہ حکم کیوں جاری کیا؟”
عدالت نے ایک اہم تشویش یہ بھی ظاہر کی کہ حراست کی وجوہات کے دوسرے پیراگراف میں ”مذکورہ دہشت گرد” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے، حالانکہ اس سے پہلے کسی دہشت گرد کی شناخت یا اس کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔
عدالت نے پایا کہ پہلے پیراگراف میں صرف رسمی طور پر یہ کہا گیا ہے کہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے معاملے پر غور کیا ہے، لیکن اس میں کسی بھی دہشت گرد کی شناخت نہیں بتائی گئی ہے۔
اس تضاد کی جانب توجہ دلاتے ہوئے جسٹس نرگل نے تبصرہ کیا کہ الفاظ کی ترتیب سے ”واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ حراست کی وجوہات تیار کرتے وقت پولیس ڈوزیئر (دستاویزات) میں دی گئی معلومات کو مناسب غور و فکر کے بغیر جوں کا توں نقل کر لیا گیا ہے۔” عدالت نے کہا کہ یہ بات ”اس شبے کو مضبوط کرتی ہے کہ آیا حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے معاملے کی آزادانہ جانچ کرکے حراست کی وجوہات طے کیں یا محض پولیس ڈوزیئر میں درج باتوں کو دہرا دیا۔”
حراست کی وجوہات میں بنگرو پر الزام لگایا گیا تھا کہ ان کے دہشت گردوں کے ساتھ قریبی تعلقات تھے، وہ دہشت گردوں کو لاجسٹک اور اخلاقی مدد فراہم کرتے تھے، انہوں نے اپنے گھر اور دیگر مقامات کو دہشت گردوں کے چھپنے کے ٹھکانوں کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی تھی اور وہ ایک دہشت گرد نیٹ ورک کے ساتھیوں کے رابطے میں تھے۔ تاہم، عرضی گزار کی وکیل ندا نذیر نے دلیل دی کہ یہ الزامات مبہم ہیں اور ان میں ضروری تفصیلات کی کمی ہے۔ ان میں دہشت گردوں کی شناخت، نیٹ ورک کے ساتھیوں کے نام، چھپنے کے ٹھکانوں کے طور پر استعمال ہونے والی جگہوں کی تفصیلات اور ان مخصوص واقعات کا ذکر نہیں ہے جن میں مبینہ طور پر مدد فراہم کی گئی تھی۔
وکیل نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ ان افراد کی شناخت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں، جنہیں مبینہ طور پر بنگرو نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے لیے ترغیب دی تھی یا اکسایا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس بات کی بھی کوئی واضح تفصیل موجود نہیں ہے کہ ان مبینہ کارروائیوں سے ریاست کی سلامتی پر کیا منفی اثر پڑا۔
عدالت نے اپنی ابتدائی جانچ میں اس دلیل میں ”خاصا وزن” پایا کہ ان وجوہات میں اس وضاحت اور تفصیل کا فقدان ہے، جس کی توقع کسی شخص کی شخصی آزادی سلب کرنے والے حکم میں کی جاتی ہے۔
عدالت نے تبصرہ کیا کہ ”محض الزام کی سنگینی متعلقہ مواد اور آزادانہ غور و فکر کی ضرورت کی جگہ نہیں لے سکتی۔” عدالت نے احتیاطی حراست کے احکامات کے حوالے سے ایک وسیع تر تشویش بھی ظاہر کی۔
عدالت نے اس معاملے سے عین پہلے فہرست میں شامل ایک اور ہیبیئس کارپس کی عرضی کا بھی ذکر کیا۔ اس معاملے میں بھی حراست کا ایسا حکم سامنے آیا تھا جو بادی النظر میں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے خود کوئی آزادانہ جائزہ لینے کے بجائے صرف پولیس رپورٹ (ڈوزیئر) کو جوں کا توں نقل کر دیا ہو۔
عدالت نے کہا کہ اس مماثلت نے ”ایک تشویش ناک سوال” پیدا کر دیا ہے: کیا احتیاطی حراست کے اختیارات کا استعمال مواد کے آزادانہ اور غیر جانب دارانہ جائزے کے ذریعے کیا جا رہا ہے، یا محض پولیس کے دعوؤں کو بغیر سوچے سمجھے دہرایا جا رہا ہے؟
تاہم، عدالت نے تسلیم کیا کہ پولیس رپورٹ (ڈوزیئر) پر غور کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ اس بات پر زور دیا کہ یہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر کی اس ذمہ داری کا متبادل نہیں ہو سکتی کہ وہ مواد کی آزادانہ جانچ کرے، اس کی مطابقت کا جائزہ لے اور قانون کے مطابق خود مطمئن ہو۔
احتیاطی حراست سے متعلق آئینی تحفظات کو دہراتے ہوئے عدالت نے کہا کہ کسی شخص کو باقاعدہ فوجداری مقدمے کے بغیر حراست میں رکھنے کے غیر معمولی اختیار کے استعمال کے لیے اعلیٰ ترین درجے کی آئینی ذمہ داری اور طریقۂ کار سے متعلق احتیاط برتنا ضروری ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ ”ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 21 اور 22 میں شامل تحفظات محض دکھاوے کی رسمی کارروائیاں نہیں ہیں۔” عدالت نے واضح کیا کہ محض فوجداری مقدمہ نہ ہونے سے احتیاطی حراست کی قانونی حیثیت کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ تاہم، متعلقہ اتھارٹی کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ قانونی تقاضے آزادانہ طور پر اور قانون کے مطابق پورے کیے گئے ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
