جموں و کشمیر
صورتحال سے نمٹنے میں کشمیر کے لوگوں کی ہمت و تعاون اورمحکمانہ چوکسی قابل تعریف
مون سون کا خطرہ برقرار، اگلے15 دن نازک
لوگ موسمی ایڈوائزری پر عمل کریں،طویل مدتی سیلاب کی تیاری کےلئے تجاویز شیئر کریں
مواصلاتی خدمات چند گھنٹوں میں بحال ہو نے کایقین:ڈویژنل کمشنر کشمیر انشول گرگ
سری نگر:جے کے این ایس : ڈویژنل کمشنر کشمیرانشول گرگ نے جمعرات کو سیلاب کی حالیہ صورتحال سے نمٹنے میں کشمیر کے لوگوں کی ہمت اور تعاون کی تعریف کرتے ہوئے خبردارکیاکہ اگلے10سے15 دن انتہائی اہم اورنازک ہیں۔ ڈویژنل کمشنر کشمیرنے کہا کہ دریائے جہلم میں پانی کی سطح کم ہو گئی ہے۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ایڈوائزری پر عمل کریں جبکہ ٹیمیں ہائی الرٹ پر رہیں۔جے کے این ایس کے مطابق کشمیرکی صوبائی کمشنرانشول گرگ نے جمعرات جو اپنے دفتر کے چیمبر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میں کشمیرکے لوگوں کو پرسکون اور لچک کےساتھ حالات کو سنبھالنے پر مبارکباد دینا چاہوں گا۔ ڈویژنل کمشنر کشمیر نے کہاکہ تمام ٹیمیں قریب سے نگرانی کر رہی تھیں، لیکن یہ شہریوں کی بیداری اور ہمت نے ہی فرق کیا ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ آنے والے10سے15 دن انتہائی اہم ہیں۔انشول گرگ نے رہائشیوں پر زور دیا کہ وہ موسمی ہدایات پر عمل کریں اور جہلم اور اس کے معاون ندیوں کے قریب چوکس رہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگلے 40 دن اہم ہیں کیونکہ مون سون جاری ہے۔ عوامی تعاون سے ہماری ٹیمیں کسی بھی چیلنج سے نمٹ سکتی ہیں۔ ڈویژنل کمشنر کشمیرانشول گرگ نے کہا کہ رام منشی باغ اور سنگم میں پانی کی سطح کم ہو گئی ہے، جو مو ¿ثر محکمانہ کام اور کمیونٹی بیداری دونوں کی عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ طویل مدتی سیلاب کی تیاری کےلئے تجاویز شیئر کریں۔ڈویڑنل کمشنر نے مکینوں کو یقین دلایا کہ صورتحال قابو میں ہے اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مسلسل تعاون کشمیر کو مون سون کے موسم میں محفوظ رکھے گا۔ڈویڑنل کمشنر کشمیر انشول گرگ نے کہا کہ سرکاری ایجنسیاں تیاری کی حالت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں اور فیلڈ افسران ضرورت پڑنے پر بروقت مداخلت کو یقینی بنانے کے لیے قریبی تال میل کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایمرجنسی رسپانس سسٹم اور انخلاءکے منصوبے بدستور موجود ہیں۔دریں اثنا، انشول گرگ نے فوج، پولیس، ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف، اور محکمہ آبپاشی اور فلڈ کنٹرول کی مربوط کوششوں کی بھی تعریف کی، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ150 سے زیادہ خطرناک مقامات کی قریب سے نگرانی کی گئی، گزشتہ48 گھنٹوں میں کسی خلاف ورزی کی اطلاع نہیں ملی۔ ڈویڑنل کمشنر کشمیر، انشول گرگ نے جمعرات کو یقین دلایا کہ خراب موسم کی وجہ سے متاثر ٹیلی کام اور انٹرنیٹ خدمات چند گھنٹوں میں بحال ہونے کی اُمید ہے۔کشمیروادی کو منگل سے فون اور انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی میں مسلسل رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، کیونکہ شدید بارش کے بعد سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہوئی اور ضروری بنیادی ڈھانچہ متاثر ہوا۔ مواصلاتی خرابی نے لوگوں کو خاص طور پر سیلاب زدہ علاقوں میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جہاں جہلم میں پانی کی سطح بڑھنے کی وجہ سے رہائشی پہلے ہی ہائی الرٹ پر تھے۔صوبائی کمشنر کشمیر نے کہا کہ معاملہ اعلیٰ سطح پر اٹھایا گیا ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر اور وزیر اعلی نے صورتحال کا نوٹس لیا ہے۔ انہوںنے یقین دلایاکہ میں نے ذاتی طور پر BSNL اورAirtel کے حکام سے بات کی، اور انہوں نے مجھے یقین دلایا کہ ٹیمیں خدمات کو بحال کرنے کےلئے جنگی بنیادوں پر کام کر رہی ہیں ۔ڈویژنل کمشنر موصوف نے کہا کہ بحالی کا عمل پہلے سے جاری ہے اور امید ظاہر کی کہ چند گھنٹوں میں خدمات دوبارہ شروع ہو جائیں گی۔ حکام نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ پرسکون اور صبر سے رہیں، اس بات کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہ مواصلاتی نیٹ ورک جلد ہی فعال ہو جائیں گے تاکہ موسم کی موجودہ صورتحال کے درمیان راحت اور ہم آہنگی کے اقدامات کو آسان بنایا جا سکے۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
