جموں و کشمیر
امن وسلامتی استحکام اورترقی کےلئے دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی بڑے چیلنج:وزیر اعظم مودی
پہلگام دہشت گردانہ حملہ: ہندوستان کے ضمیر پر حملہ ، انسانیت پر یقین رکھنے والی ہر قوم کےلئے کھلا چیلنج
دہشت گردی کےخلاف جنگ انسانیت کا فرض
سری نگر:جے کے این ایس : وزیر اعظم نریندر مودی نے پیرکو چین کے ساحلی شہر تیانجن میں25ویں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہان ریاستی کونسل کے سربراہی اجلاس سے خطاب کیا۔ اس دوران انہوں نے عالمی چیلنجز سمیت دہشت گردی کا مسئلہ بھی اٹھایا۔وزیر اعظم مودی نے ہندوستان اور چین کے درمیان باہمی احترام،حدی علاقوں میں امن اور استحکام، باہمی دلچسپی اور باہمی حساسیت پر مبنی مستحکم تعلقات اور تعاون پر زور دیا۔ کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں کہاکہ ہمیں واضح اور متفقہ طور پر کہنا ہے کہ دہشت گردی پر کوئی بھی دوہرا معیار قابل قبول نہیں ہے۔ پہلگام حملے کاذکر کرتے ہوئے وزیراعظم مودی نے کہاکہ یہ حملہ ہر اس ملک اور انسان کے لیے کھلا چیلنج تھا جو انسانیت پر یقین رکھتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ایسے میں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا کچھ ممالک کی طرف سے دہشت گردی کی کھلی حمایت ہمارے لیے قابل قبول ہو سکتی ہے؟ ۔وزیر اعظم نریندر مودی نے کہاکہہمیں متفقہ طور پر ہر رنگ و نسل کی دہشت گردی کی مخالفت کرنی ہوگی۔ یہ انسانیت کے تئیں ہمارا فرض ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے کہاکہ ہندوستان گزشتہ چار دہائیوں سے دہشت گردی کا شکار ہے۔انہوںنے کہاکہ حال ہی میں ہم نے پہلگام میں دہشت گردی کی بدترین شکل دیکھی۔وزیر اعظم نریندر مودی نے کہاکہ میں اس دوست ملک کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو دکھ کی اس گھڑی میں ہمارے ساتھ کھڑا رہا۔، وزیر اعظم نریندر مودی نے دہشت گردی سے نمٹنے میں دوہرے معیار سے پرہیز کرنے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ پہلگام دہشت گردانہ حملہ نہ صرف ہندوستان کے ضمیر پر حملہ تھا، بلکہ یہ انسانیت پر یقین رکھنے والی ہر قوم کے لیے کھلا چیلنج بھی تھا۔پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف، چینی صدر شی جن پنگ اور کئی دیگر عالمی رہنماو ¿ں کی موجودگی میں مودی نے شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ انسانیت کا فرض ہے۔
پاکستان اور اس کی حمایت کرنے والوں کو واضح پیغام دیتے ہوئے وزیراعظم مو دی نے پوچھا ”یہ سوال کرنا فطری ہے کہ کیا بعض ممالک کی طرف سے دہشت گردی کی کھلی حمایت ہمارے لیے کبھی قابل قبول ہوسکتی ہے؟“۔انہوںنے کہاکہ ہمیں اسے واضح طور پر اور ایک آواز میں بیان کرنا چاہیے: دہشت گردی پر دوہرا معیار ناقابل قبول ہے۔ ہمیں مل کر دہشت گردی کی ہر شکل اور صورت میں مخالفت کرنی چاہیے۔ یہ انسانیت کے تئیں ہماری ذمہ داری ہے۔اپنے ریمارکس میں، وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان پچھلی کئی دہائیوں سے بے رحم دہشت گردی کے سنگین زخموں کو برداشت کر رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ بے شمار مائیں اپنے بچوں کو کھو چکی ہیں، اور بے شمار بچے یتیم ہو گئے ہیں۔ حال ہی میں، ہم نے پہلگام میں دہشت گردی کا سب سے گھناو ¿نا چہرہ دیکھا۔انہوں نے کہا کہ یہ حملہ نہ صرف ہندوستان کے ضمیر پر حملہ تھا بلکہ ہر قوم اور ہر اس فرد کے لیے کھلا چیلنج تھا جو انسانیت پر یقین رکھتا ہے۔مودی نے ان تمام دوست ممالک کے ساتھ گہرا شکریہ کیا جو غم کی اس گھڑی میں ہندوستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے کہا، میں اس بات پر زور دینا چاہوں گا کہ سلامتی، امن اور استحکام کسی بھی ملک کی ترقی کی بنیاد ہے،تاہم، دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی اس راستے میں بڑے چیلنجز بنے ہوئے ہیں۔مودی نے کہا کہ دہشت گردی نہ صرف انفرادی قوموں کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے بلکہ پوری انسانیت کے لیے مشترکہ چیلنج ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک، کوئی معاشرہ، کوئی بھی شہری خود کو اس سے مکمل طور پر محفوظ نہیں سمجھ سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحاد کی اہمیت پر مسلسل زور دیا ہے۔
وزیراعظم نے علاقائی ترقی اور ترقی کے لیے رابطے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ رابطے کے لیے ہر کوشش کو خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے اصولوں کو برقرار رکھنا چاہیے۔ یہ SCO چارٹر کے بنیادی اصولوں میں بھی شامل ہے۔ (ایجنسیاں)
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
