جموں و کشمیر
سرینگر جموںقومی شاہراہ کی بندش،پھل کاشتکار پریشان، سوپور میں فروٹ گروورس کا پُرامن احتجاج
1000 سے 1200 کروڑ روپیوں تک کے نقصانات کا تخمینہ
درماندہ گاڑیوں کےلئے 2 دن کی خصوصی ٹریفک کلیئرنس ونڈو فراہم کی جائے:لیفٹیننٹ گورنر سے اپیل
سرکار سوپور ریلوے اسٹیشن پر فروٹ گروﺅرس کیلئے سہولیات دستیاب کرائے:فیاض ملک عرف کاکہ جی
سوپور:جے کے این ایس : 26اگست کو ہونے والی موسلا دار بارشوں کے نتیجے میں اودھم پورکے نزدیک سڑک کاایک بڑا حصہ ڈھہ جانے اوررام بن کی پٹی میں نزدیکی پہاڑیوں سے مٹی کے تودے اور چٹانیں گرآنے کے بعد سے بند ہونے والی سری نگرجموں قومی شاہراہ پرہزاروں ہلکی ومسافر اور 6تا12ٹائروں والی بڑی گاڑیاں درماندہ ہوکررہ گئیں ،جن میں کشمیر کے مختلف علاقوں سے سیب ،ناشپاتی اور دیگر میوہ جات سے بھری ڈبوں اور پیٹیوں سے لدی ہوئے بڑے ٹرک بھی شامل ہیں ۔جے کے این ایس کے مطابق حکومت نے کچھ دنوں بعد مغل روڈ سے مال بردار گاڑیوں کو بیرون کشمیر روانہ ہونے کی اجازت دی لیکن بعدازاں 12ٹائروں والے ٹرکوںکی مغل روڈ سے روانگی کو روک دیاگیا ۔ سرینگر جموںقومی شاہراہ کو کچھ دن قبل ہلکی اور چھوٹی مسافر گاڑیوں کیلئے کھول دیاگیا لیکن اودھم پور سے لیکر رام بن تک قومی شاہراہ کی خستہ حالی یا خراب حالت کو دیکھتے ہوئے حکام نے بڑی اورمال بردارگاڑیوں کو سری نگر سے بیرون کشمیر اور بیرون کشمیرسے کشمیرکی جانب جانے کی اجازت ابھی تک نہیں دی ہے ،جسکے باعث سیب کی پیٹیو ں اورڈبوں سے لدے سینکڑوں ٹرک قومی شاہراہ کے مختلف مقامات پر گزشتہ دوہفتوں سے زیادہ عرصے سےا درماندہ پڑئے ہوئے ہیں ،اور ان ٹرکوںمیں لدے ہوئے سیب سڑرہے ہیں ۔
اسی صورتحال کے چلتے ایشیا کءی دوسری سب سے بڑی فروٹ منڈی سوپور میں جموں سرینگر قومی شاہراہ پر تازہ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے قومی شاہراہ کی بندش کےخلاف پھل کاشتکاروں اور بیوپاریوں نے ہفتے کے روز پرامن احتجاج کیا ۔ شمالی کشمیر کے سوپور، زینہ گیر،بارہمولہ، رفیع آباد ، اور دیگر علاقوں سے آئے ہوئے پھل کاشتکاروں اور بیوپاریوں فروٹ منڈی سوپور فروٹ گروورس ایسوسی ایشن کے صدر فیاض احمد ملک عرف کاکہ جی اورایسوسی ایشن کے دوسرے سینئر کارکنوںکی قیادت میں پُرامن احتجاج کیا اور جموں سری نگر قومی شاہراہ کی بندش کی وجہ سے جاری بحران کے حوالے سے میڈیا نمائندوں سے بات کی ۔فیاض احمد ملک المعروف کاکہ جی نے بتایا کہ پھلوں سے لدے ہزاروں ٹرک اس وقت پھنسے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے1000 سے 1200 کروڑ روپیوں تک کے نقصانات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ انہوں نے حکام پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر راستہ صاف کریں اور ٹریفک کو جموں کی طرف جانے کی اجازت دیں تاکہ خراب ہونے والی پیداوار کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے سوپور فروٹ منڈی ایسوسی ایشن کے صدر فیاض احمد ملک نے بحران کی ایک بھیانک تصویر کشی کی۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ پھلوں سے لدے ہزاروں ٹرک قومی شاہراہ پر کئی دنوں سے پھنسے ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں1000 سے 1200 کروڑ کے درمیان نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پیداوار کی خراب ہونے والی نوعیت کا مطلب ہے کہ ہر گھنٹے کی تاخیر سے ہزاروں کاشتکاروں کی روزی روٹی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے اپیل میں، فیاض احمد ملک المعروف کاکہ جی نے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ جموں کی طرف جانے والی پھلوں سے لدی گاڑیوں کے لیے فوری طور پر2 دن کی خصوصی ٹریفک کلیئرنس ونڈو فراہم کرے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ صورتحال کو مزید قابو سے باہر ہونے سے روکنے کے لئے ایسا اقدام ضروری ہے۔فیاض ملک نے سوپور سے ٹرین خدمات کی فوری بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ریل رابطہ وادی کی پھلوں کی صنعت کے لیے لائف لائن کے طور پر کام کر سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر سیب اور دیگر باغبانی کی پیداوار کا ایک بڑا برآمد کنندہ ہے۔ قابل اعتماد نقل و حمل کے بغیر، پورا شعبہ مالی دباو ¿ میں گر رہا ہے۔فیاض احمد ملک المعروف کاکہ جی نے کہا کہ ہم سرکار سے چاہتے ہیں کہ سوپور ریلوے اسٹیشن میں ہم فروٹ گروورس کیلئے سہولیات دستیاب کی جائےں تاکہ جب بھی اگر کبھی جموں سرینگر ہائی وے بند رہے،تو ہم اپنا مال ٹرینوں کے ذریعہ ملک کی مختلف ریاستوں میں بھیج سکیں۔ تاکہ ہم اور تمام میوہ فروش اور دیگر تاجر نقصان سے بچ سکیں۔ مزید برآں،فیاض احمد ملک نے ان شدید مالی نقصانات پر روشنی ڈالی جو کاشتکاروں کو اس سیزن میں نقل و حمل کی مسلسل رکاوٹوں کی وجہ سے برداشت کرنا پڑے ہیں۔احتجاج کرنے والے کاشتکاروں نے افسوس کا اظہار کیا کہ یہ سیزن حالیہ یادوں میں بدترین رہا ہے، کیونکہ نقل و حمل میں بار بار رکاوٹوں نے انہیں بھاری نقصانات اور بڑھتے ہوئے قرضوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے حکومت سے بلاتاخیر قدم اٹھانے کی اپیل کی، خبردار کیا کہ مزید کوئی لاپرواہی باغبانی کے شعبے کو تباہ کر سکتی ہے، جو مقامی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
