ہندوستان
مودی کی 11 سال کی اصلاحات نے معیشت کو تقویت دی ہے، جی ایس ٹی اصلاحات نئی کڑی ہے
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی کے 11 سالہ دور حکومت میں گڈز اینڈ سروس ٹیکس (جی ایس ٹی) کے نفاذ، بینکنگ اصلاحات، جن دھن-آدھار-موبائل پر مبنی جن دھن اکاؤنٹس کھولنے کی مہم، انسولوینسی کوڈ اور آر ای آر اے جیسی اصلاحات نے معیشت کو زبردست تقویت دی ہے اور آج ملک دنیا کی چار بڑی معیشت بن گیا ہے جغرافیائی سیاسی حالات کی غیر یقینی صورتحال کے باوجود ہندوستان موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 7.8 فیصد کی اقتصادی ترقی کے ساتھ آج دنیا کی بڑی معیشتوں میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا ہے کہ ملک جلد ہی امریکہ اور چین کے بعد تیسری سب سے بڑی معیشت بن جائے گا۔ ہندوستان کی رینکنگ 2013-14 میں 11 ویں تھی۔
مسٹر مودی حکومت کے جن دھن کھاتوں کے ذریعے اسکیموں کے فوائد کی براہ راست منتقلی (ڈی بی ٹی) کے نظام نے عوامی بجٹ کے رساؤ کو روک دیا ہے اور اسکیموں کو چلانے کی لاگت کو کم کیا ہے۔ بینکوں کے این پی اے کی نشاندہی اور حل کرنے کے حکومت کے فیصلے سے پبلک سیکٹر کے بینکوں کو تقویت ملی ہے اور انہیں منافع بخش بنایا گیا ہے اور ان کی قرض دینے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ دیوالیہ پن کے ضابطہ نے لاکھوں کروڑوں روپے کے نان پرفارمنگ اثاثوں کو زندہ کر دیا ہے اور کمپنیوں اور بینکوں کی بیلنس شیٹ کی دوہری کمزوری کو دور کر دیا ہے۔
جی ایس ٹی نے پورے ملک کی مارکیٹ کو مربوط کر دیا ہے اور تجارت کی راہ میں ریاست کے سیلز ٹیکس چوکیوں اور کسٹم چوکیوں کی رکاوٹیں تاریخ بن چکی ہیں۔ جولائی 2017 میں جی ایس ٹی کو لاگو کرنے کی تاریخی اصلاحات کے بعد مودی حکومت کی قیادت میں جی ایس ٹی کونسل نے اس ماہ جی ایس ٹی میں دوسری نسل کے اصلاحات کا اعلان کیا ہے۔
اب حکومت کو جی ایس ٹی کی نئی شرحوں کا فائدہ عام لوگوں تک پہنچانے کے چیلنج کا سامنا ہے، جو اس مہینے کی 22 تاریخ سے لاگو ہو رہی ہیں۔ جی ایس ٹی اصلاحات کے دوسرے مرحلے سے عام لوگوں کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے، حالانکہ اس سے مرکزی حکومت کی مالیاتی صورتحال کے لیے کچھ وقت کے لیے چیلنج بڑھ سکتا ہے۔ جی ایس ٹی 2.0 میں 99 فیصد اشیاء جو 12 فیصد کی شرح میں تھیں وہ 5 فیصد کی شرح کے تحت آ گئی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کمپنیاں عوام کو کتنا فائدہ پہنچاتی ہیں۔
اگر مودی حکومت کی 11 سالہ تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو اس نے نہ صرف سیاسی تنقید کی قیمت پر نئے قوانین بنانے کی جرات کی ہے بلکہ ان پر عمل درآمد میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ اگرچہ کوئی بھی سیاسی پارٹی جی ایس ٹی اصلاحات کی مخالفت نہیں کر رہی ہے لیکن کچھ سیاسی ناقدین اسے بہار انتخابات کے نقطہ نظر سے ضرور دیکھ رہے ہیں۔
مودی حکومت کا اقتدار میں آتے ہی سب سے بڑا فیصلہ جن دھن یوجنا تھا۔ اس نے نہ صرف براہ راست فائدہ کی منتقلی اور سماجی تحفظ کی اسکیموں میں بے ضابطگیوں کو روکنے کے لیے زمین تیار کی بلکہ کروڑوں لوگوں کو بینکنگ نیٹ ورک سے بھی جوڑا۔ اس اسکیم کے تحت اب تک 56 کروڑ سے زیادہ بینک اکاؤنٹس کھولے جاچکے ہیں، جن میں کل جمع رقم تقریباً 2,64,910 کروڑ روپے ہے۔
نوٹ بندی کا فیصلہ ایک ایسا فیصلہ تھا جس نے کئی تنازعات کو جنم دیا۔ 8 نومبر 2016 کو، صرف چار گھنٹے کے نوٹس کے ساتھ، حکومت نے رات 8 بجے 500 اور 1000 روپے کے نوٹوں کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔ جس سے عام لوگوں کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ حکومت نے دعویٰ کیا کہ اس سے کالے دھن کا استعمال بند ہو جائے گا اور دہشت گردی کی مالی معاونت بند ہو جائے گی۔ لیکن، اگر ہم ریزرو بینک اور حکومت کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں، تو ان دونوں میں سے کوئی بھی ہدف حاصل نہیں ہوا۔
میک ان انڈیا مشن، جو ابھی جاری ہے، ملک میں مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ اس کا آغاز 25 مئی 2014 کو ہوا۔ اس کی وجہ سے بہت سی غیر ملکی کمپنیوں نے ہندوستان میں اپنے پلانٹ لگائے اور ہماری خود انحصاری کی طرف بڑھنے کی رفتار بڑھ گئی۔ بعد میں میک ان انڈیا کو ہر حکومتی پالیسی میں شامل کیا گیا۔
ڈیجیٹل انڈیا مشن کو جے اے ایم (جن دھن آدھار موبائل) کے ذریعے بغیر کسی رساؤ کے لوگوں کو سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی بنیاد کہا جا سکتا ہے۔ چاہے وہ یو پی آئی ہو یا آدھار پر مبنی لین دین کی سہولت، اس مشن نے ان سب کے لیے رابطے کو فروغ دینے کا کام کیا۔ پچھلی حکومتیں بھی اس سمت میں کام کر رہی تھیں لیکن اسے مشن موڈ میں شروع کیا گیا تھا۔ اس میں آن لائن انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا، انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی میں اضافہ، دیہی علاقوں کو تیز رفتار انٹرنیٹ سے جوڑنا شامل ہے۔
پچھلی حکومتوں کی جانب سے بھی سرکاری اسکیموں کے فوائد حاصل کرنے کے لیے آدھار کو لازمی بنانے اور ملک کے ہر فرد کے لیے آدھار کارڈ بنانے کی کوششیں کی گئی تھیں، لیکن انھیں اس میں معمولی کامیابی حاصل ہوسکی۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی مضبوط سیاسی قوت ارادی نے اسے ممکن بنایا۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ بل راجیہ سبھا میں نہ جائے، آدھار ایکٹ کو فنانس بل کے طور پر پیش کیا گیا۔ سیاسی طور پر بھی اس پر تنقید کی گئی لیکن اس نے وہ کام کر دیا جسے لوگ ناممکن سمجھتے تھے۔
اجولا یوجنا کے ذریعے روایتی ایندھن کے بجائے کھانا پکانے والی گیس (ایل پی جی) کے استعمال کے لیے زمین تیار کی گئی تھی۔ اس کے تحت غریب خاندانوں کی خواتین کو ایل پی جی کنکشن کے لیے سیکیورٹی رقم جمع نہیں کرانی ہوگی۔ گیس کے چولہے کی رقم قسطوں میں کاٹی جاتی ہے اور حکومت سلنڈر پر سبسڈی دے رہی ہے۔ اس کے باوجود، اسکیم کے تحت سلنڈر کی اوسط بکنگ ایک سال میں تقریباً چار ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دیہاتوں میں لوگ روایتی ایندھن بھی استعمال کر رہے ہیں۔ یہ اسکیم مئی 2016 میں اتر پردیش کے بلیا سے شروع کی گئی تھی۔
سال 2017 میں یکم جولائی سے ملک میں ویٹ کی جگہ جی ایس ٹی لاگو کیا گیا تھا۔ یہ بھی ایک ایسا قدم تھا جس کے لیے پچھلی حکومت کوشش کر رہی تھی لیکن کامیاب نہ ہو سکی۔ مودی حکومت نے ریونیو معاوضہ کا انتظام کرکے ریاستوں کو اس کے لیے تیار کیا۔
آیوشمان بھارت یوجنا میں ہر مستحق خاندان کو سالانہ 5 لاکھ روپے تک مفت علاج کی سہولت دی جاتی ہے۔ اس اسکیم سے واقعی غریب لوگوں کو فائدہ ہوا ہے۔ سال 2024 میں اس اسکیم میں 70 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو شامل کیا گیا تھا، جس سے بوڑھوں کو بڑھاپے میں علاج کی پریشانی سے نجات ملی ہے۔ ہاؤسنگ مارکیٹ میں کمپنیوں کی دھوکہ دہی کو روکنے کے لیے حکومت نے ایک ماڈل ریئل اسٹیٹ ریگولیشن ایکٹ (آر ای آر اے) بنایا جسے آج تمام ریاستوں میں نافذ کیا جا رہا ہے۔
نئے انکم ٹیکس ایکٹ کو بھی اس سال پارلیمنٹ نے منظوری دے دی ہے جو اگلے مالی سال سے نافذ العمل ہو گا۔ اس کا مقصد 64 سال پرانے انکم ٹیکس ایکٹ کو موجودہ ضروریات کے مطابق ایک نئے قانون سے تبدیل کرنا اور بہت سی ترامیم کی وجہ سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کو دور کرنا ہے۔
ان میں سے زیادہ تر فیصلوں کے لیے صرف سیاسی مرضی ہی کافی تھی۔ اس کے پیش نظر توقع کی جانی چاہئے کہ حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ عام لوگوں کو جی ایس ٹی 2.0 کا پورا فائدہ ملے۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
نہرو-گاندھی خاندان نے ملک کی تباہی کی بنیاد پر اقتدار کی عمارت کھڑی کی: بی جے پی
نئی دہلی، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے کانگریس پر لوٹ مار، سماج میں تقسیم اور ہندوستانی مذہب و ثقافت کے تئیں نفرت رکھنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اس خاندان (گاندھی خاندان) نے ملک کی تباہی کی بنیاد پر اپنے اقتدار کی عمارت کھڑی کی ہے۔
بی جے پی کے ترجمان سدھانشو ترویدی نے جمعہ کو پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اقتدار سے باہر رہنے پر پانی سے باہر مچھلی کی طرح تڑپ رہی ہے اور کسی بھی طرح اقتدار میں واپس آنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بدقسمتی سے، ایسی سوچ رکھنے والی کانگریس کی باگ ڈور راہل گاندھی کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ بدقسمتی ملک سے زیادہ کانگریس کے لیے ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پنڈت جواہر لعل نہرو نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کو ان کا حق نہ دے کر اپنی سیاسی طاقت قائم کی اور ایک بھی ووٹ نہ ملنے کے باوجود وزیر اعظم بن گئے۔ ان کے دورِ اقتدار میں ملک نے تقسیم کا درد دیکھا، جو انسانی تاریخ کے خونریز ترین ابواب میں سے ایک تھا۔
مسٹر ترویدی نے کہا کہ پنڈت نہرو 15 اگست 1947 کو نہیں، بلکہ 2 ستمبر 1946 کو عبوری حکومت کے وزیر اعظم بنے تھے اور ان کے دور میں ملک کی تقسیم ہوئی۔ اس کے بعد محترمہ اندرا گاندھی نے اپنی پارٹی کو تقسیم کرنے کے بعد اپنی طاقت مضبوط کی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ محترمہ گاندھی نے مسٹر نیلم سنجیو ریڈی سے متعلق صدارتی انتخاب کے دوران اپنے ارکانِ پارلیمنٹ سے کانگریس کے سرکاری موقف کے خلاف ووٹ دینے کو کہا، جس کے نتیجے میں پارٹی تقسیم ہو گئی۔ محترمہ گاندھی کے قتل کے بعد 1984 میں دہلی میں سکھوں کے قتلِ عام کے دوران مسٹر راجیو گاندھی اقتدار میں آئے۔ سکھ مخالف تشدد یکم نومبر 1984 کو شروع ہوا تھا۔ بی جے پی ترجمان نے کہا، ”کانگریس اب اسی تاریخ کو دہلی میں مظاہرہ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے اور میرا خیال ہے کہ وہ شہر کو 1984 میں دیکھی گئی افراتفری کی یاد دلانا چاہتی ہے۔”
مسٹر گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت وہ ملک سے باہر چلے گئے ہیں اور ذرائع کے مطابق چمپا (ویتنام کا قدیم نام) میں بھٹک رہے ہیں۔ وہ ملک اور کانگریس، دونوں کے لیے ایک معمہ بن گئے ہیں۔
بی جے پی رہنما نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا ریکارڈ شاندار اور کامیابیوں سے بھرپور رہا ہے، جبکہ مسٹر گاندھی کا ریکارڈ کانگریس کے لیے مسائل سے بھرا رہا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کانگریس کے اندر کئی طرح کے تجربات کیے۔ انہوں نے کہا تھا کہ یوتھ کانگریس کے انتخابات کو جمہوری بنایا جائے گا، لیکن اس کے بعد پورے ملک نے دیکھا کہ یوتھ کانگریس میں بھیڑ کی حکمرانی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سربراہ اجلاس میں برہنہ مظاہرے کے علاوہ کوئی جمہوری عمل نظر نہیں آیا۔
مسٹر ترویدی نے کہا کہ براک اوباما نے اپنی کتاب ‘اے پرامسڈ لینڈ’ میں 2010 میں راہل گاندھی سے ملاقات کے بعد باب 24 میں لکھا تھا، ”راہل گاندھی میں گھبراہٹ اور ناپختگی جھلکتی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ کوئی ایسا طالب علم ہو جس نے نصاب تو مکمل کر لیا ہو اور اساتذہ کو متاثر کرنے کے لیے بے چین ہو، لیکن اس میں نہ تو اس موضوع پر عبور حاصل کرنے کی صلاحیت تھی اور نہ ہی اس کے لیے جذبہ۔”
انہوں نے کہا کہ کانگریس کو کمزور کرنے اور اسے اپنی 140 سالہ تاریخ کی کم ترین سطحوں میں سے ایک پر پہنچانے کے بعد اب مسٹر گاندھی ملک کے اداروں اور نظام کو کمزور کرکے خود کو قائم کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بار کہا تھا کہ ناکام پروڈکٹ کو بار بار لانچ کرنے کے لیے کانگریس نے آج صرف اپنی پارٹی ہی نہیں، بلکہ ملک کے آئینی نظام کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے۔
بی جے پی ترجمان نے کہا کہ مسٹر گاندھی کس طرح ناکام پروڈکٹ ہیں، وہ اسے حقائق کے ساتھ ثابت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ”جب دہلی کے سینٹ اسٹیفن کالج میں ان کا داخلہ ہوا تھا تو وہ قومی سطح کے نشانے باز کھلاڑی کے طور پر داخل ہوئے تھے۔ لیکن اس کے بعد ان کا نشانہ ایسا چُوکا کہ وہ ہر نشانہ چُوکتے چلے گئے۔ یہ ان کی پہلی ناکامی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے خاندانی رواج کو برقرار رکھتے ہوئے تعلیم حاصل کرنے کے لیے انگلینڈ کا رخ کیا۔ پھر 1996 سے 1999 کے درمیان انہوں نے ایک برطانوی کمپنی میں ملازمت کی، جو بند ہو گئی۔ یعنی آپ سوچئے کہ وہ کتنے اہم پروڈکٹ ہیں کہ جہاں جہاں راہل کے قدم پڑے، وہاں وہاں تباہی مچ گئی۔”
اس کے بعد کانگریس کے بڑے رہنماؤں نے 2014 میں انہیں اپنا غیر اعلانیہ رہنما بنایا اور کانگریس لوک سبھا میں اپنی تاریخ کی اب تک کی سب سے کم نشستوں پر پہنچ گئی۔
مسٹر ترویدی نے کہا، ”مسٹر گاندھی نے پھر ایک اور تجربہ کیا اور کہا کہ ہم خاندانی سیاست ختم کریں گے، لیکن آج صورتِ حال یہ ہے کہ کانگریس کی تاریخ میں نہرو-گاندھی خاندان کے تینوں افراد (ماں، بیٹا اور بیٹی) پارلیمنٹ میں موجود ہیں۔”
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
چین کے تئیں نرمی اور بڑھتے معاشی انحصار پر جواب دیں مودی: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے چین کے ساتھ سرحد پر کشیدگی، بڑھتے تجارتی خسارے اور معاشی انحصار پر وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے اس معاملے پر ان سے واضح جواب دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ایک طرف وزیر اعظم کی جانب سے چین کو مسلسل رعایتیں دینے کا سلسلہ جاری ہے، تو دوسری طرف ہندوستان اور چین کی سرحد پر حالیہ جھڑپوں کے دوران انڈو تبتن بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کی کارکردگی کی اس کے ڈائریکٹر جنرل نے ستائش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی اور ان کا پورا نظام اس سنگین معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ اروناچل پردیش کے تاکسنگ میں تصادم کے بعد گزشتہ ماہ ریاست کے واچا اور دمائی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت ہوئی۔ مقامی لوگوں کے مطابق، لداخ کی طرح ایک بار پھر گشت کے بعض مقامات ہندوستان کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے چین کی جانب سے اروناچل پردیش کے شہروں کے نام تبدیل کرنے اور وہاں 60 ہزار میگاواٹ کا ڈیم بنانے کے منصوبے پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ماحولیات اور آبی سلامتی کو بڑا خطرہ لاحق ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ چین کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی خسارہ مالی سال 2025-26 میں ریکارڈ 112 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جب کہ گزشتہ سال یہ 99 ارب ڈالر تھا۔ اس کے نتیجے میں کئی صنعتوں کے مائیکرو، چھوٹے اور درمیانہ درجے کے کاروباری ادارے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ‘میک اِن انڈیا’ اب ‘چین سے درآمد’ میں تبدیل ہوچکا ہے اور بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ملک کی معاشی سلامتی کے لیے سنگین چیلنج ہے۔
مسٹر رمیش نے 19 جون 2020 کو چین کے حوالے سے وزیر اعظم کے بیان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان آج بھی اس بیان کی قیمت چکا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی کا یہ بیان 20 ہندوستانی جوانوں کی شہادت کے بعد سامنے آیا تھا۔
کانگریس لیڈر نے سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کے اس انکشاف کا بھی ذکر کیا، جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ لداخ میں چینی دراندازی کے دوران انہیں صرف یہ ہدایت ملی تھی کہ ”جو مناسب سمجھو، وہ کرو۔” انہوں نے کہا کہ 4 جولائی 2025 کو نائب آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل راہل سنگھ نے آپریشن سندور کے دوران پاکستان کی فوجی کارروائی میں چین کے وسیع کردار کا انکشاف کیا تھا، جب کہ گزشتہ 25 اگست کو سابق چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انل چوہان نے عوامی طور پر ان انکشافات کی تردید کی تھی۔ مسٹر رمیش نے اس واقعے کے بعد جنرل چوہان کی جانب سے آر ایس ایس اور بی جے پی کے نظریے سے وابستہ ایک اہم تھنک ٹینک کی سربراہی سنبھالنے کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے سوال کیا کہ سرحد پر کشیدگی کے باوجود چین کے تئیں نرمی اور معاشی محاذ پر بڑھتا ہوا انحصار کس طرح کی قوم پرستی ہے۔ مسٹر رمیش نے کہا کہ ملک کو کھوکھلے دعووں کی نہیں، بلکہ قومی سلامتی کے معاملے پر واضح جواب کی ضرورت ہے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
جرمنی کے ایک مطالعاتی و تحقیقی ادارے میں ہندوستان کے لیے خصوصی مرکز قائم
نئی دہلی، جرمنی میں بین الاقوامی تعلقات کے مطالعے اور تحقیق کرنے والے برلن کے خودمختار ادارے کونسل آن فارن ریلیشنز (ڈی جی اے پی) میں ہندوستان سے متعلق ایک مرکز قائم کیا گیا ہے۔
‘انڈیا سینٹر’ کے نام سے قائم اس مرکز کی افتتاحی تقریب میں ہندوستان کے وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل اور جرمنی کی وزیر برائے اقتصادی امور و توانائی کیتھرینا ریشے نے شرکت کی۔ مسٹر گوئل اس وقت جرمنی اور نیدرلینڈز کے سرکاری دورے پر ہیں۔
مسٹر گوئل نے کہا کہ ڈی جی اے پی میں ہندوستان کے لیے قائم کیا گیا یہ مرکز ہندوستان اور جرمنی کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیر تجارت نے کہا، ”ہماری ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی صلاحیتیں ہمارے بلند حوصلہ اقتصادی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ اس شراکت داری کو مزید رفتار دینے کا کام کرے گا۔”
اس موقع پر مسٹر گوئل نے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں سے اپیل کی کہ وہ باہمی خوشحالی اور ترقی کو مزید آگے بڑھانے کے لیے تعاون کے نئے راستے تلاش کریں۔
یو این آئی۔ ایم جے
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
