تازہ ترین
آبی وسائل پرNHPC کاقبضہ منصوبہ بندسازش کی کڑی:میرواعظ
خبراردو:
حریت کانفرنس (ع)کے چیرمین میرواعظ عمرفاروق نے مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ سے قبل ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف حکومتی سطح پر ظلم وجبر کی انتہا کی جارہی ہے ۔ نوجوانوں کا چن چن کر قتل عام کیا جارہا ہے ۔CASO اور سرچ آپریشن کے نام پر ان شدید سردی کے ایام میں بہانے جنوبی کشمیر کے متعدد علاقوں میں بڑے پیمانے پر لوگوں جن میں خواتین، بزرگ اور معصوم بچے شامل ہیں کو گھروں سے باہر نکال کر گھنٹوں ٹھٹھرتی سردی میں یرغمال بنایا گیا اور اس طرح اس منفی درجہ حرارت میں عوام کو اجتماعی سزا سے دوچار کیا گیا اور دوسری طرف انتظامی سطح پر لوگوں کو شدید مشکلات کا شکار بنائے جانے کا عمل جاری ہے ۔
میرواعظ نے سوال کیا کہ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ یہاں کے عوام، تاجر، ملازم، ٹریڈرس، ہزاروں نہیں بلکہ کروڑوں میں ٹیکس اور بجلی فیس ادا کرتے ہیں اور باوجود اس کے کہ ہماری ریاست آبی وسائل میں سب سے آگے ہے ۔ ہمارے اتنے قدرتی آبی وسائل ہیں کہ 20 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش موجود ہے جو 60 ہزار کروڑ روپے بنتا ہے لیکن اس کا 10 فیصد حصہ بھی explore نہیں کیا جارہا ۔ یہ ہمارے اپنے وسائل ہیں حکومت ہندوستان کا احسان نہیں لیکن اس کے باوجود آہستہ آہستہ ہم کو ان وسائل سے محروم کیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ NHPC جیسے غیر ریاستی اداروں کو Power Project دیئے جا رہے ہیں، یہاں کی بجلی بھارت کی مختلف ریاستوں کو سپلائی کی جارہی ہے اور یہاں کے عوام کو اس بنیادی ضرورت سے محروم رکھا جارہا ہے ۔
میرواعظ نے کہا کہ منفی8 ڈگری درجہ حرارت میں بہت سے علاقوں کو پانی، بجلی جیسی بنیادی ضروریات سے محروم رکھا جارہا ہے ، گاؤں اور دیہاتوں کی بات ہی نہیں شہروں کا بھی حال اتنا برا ہے کہ لوگ اس بنیادی سہولیات کو ترس رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جنوبی کشمیر سمیت وادی کے متعدد علاقوں میں پانی اور بجلی جیسی بنیادی ضرورت کا حال برا ہے اور ان علاقوں میں محدود پیمانے پر یہ ضرورتیں فراہم کی جارہی ہیں اوریہ ہماری سمجھ سے باہر ہے کہ یہ کوئی انتظامی مسئلہ ہے یا یہاں کے عوام کو جان بوجھ کر دیدہ دانستہ انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور تحریک نوازی کی سزا دی جارہی ہے۔میرواعظ نے کہا کہ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ہمارے وسائل پر قبضہ کیا جارہا ہے ۔ ایک دیدہ دانستہ پالیسی کے تحت کشمیری عوام کو ہر طرح سے تنگ کیا جارہا ہے ۔2019ء شروع ہونے والا ہے لیکن کشمیر میں آج تک بجلی کا مسئلہ حل نہیں ہوسکا۔ اگر یہاں کے عوام باضابطہ ٹیکس ادا کرتے ہیں اور بجلی فیس کے نام پر کروڑوں روپے حکومت کو دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود پانی اور بجلی جو بنیادی ضروریات میں آتا ہے اور جس پر ہر شہری کا حق ہے لیکن اس کے باوجود یہاں کے عوام کو طاقت اور فوج کے بل بوتے پر ہر طرح سے مظالم کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔
عوام کو فوج کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کی آمرانہ پالیسیوں سے بھارت پوری دنیا میں expose ہو رہا ہے ، یہاں کے لوگوں کو دیدہ دانستہ طور ہر طرح کی سہولیات کیلئے ترسایا جارہا ہے ، لوگ مصائب و مشکلات کے شکار ہیں۔ ایک سیاسی پالیسی اختیار کی گئی ہے تاکہ یہاں کے عوام کو جان بوجھ کر مشکلات سے دوچار کیا جائے۔ میرواعظ نے کہا کہ اگرچہ ہم حق و انصاف پر مبنی ایک جدوجہد میں مصروف ہیں اور اس جدوجہد کو منطقی انجام تک لیجانے کے وعدہ بند ہیں لیکن جہاں تک لوگوں کے روز مرہ کے مسائل اور مشکلات کا تعلق ہے تو ان سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی ۔ یہاں کے لوگوں کو انتظامی سطح پر جس طرح ایک منظم پالیسی کے تحت مفلوک الحال بنانے کا عمل جاری ہے ۔ حکومت مختلف سطحوں پر یہاں کے عوام کو غلام بنائے رکھنے کے منصوبوں پر عمل پیرا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہاں کے لوگوں کو زندگی کے بنیادی سہولیات سے محروم رکھنے کیخلاف زندگی کے مختلف مکاتب فکر کے لوگوں کو اپنی آواز بلند کرنی چاہئے کیونکہ یہ ہمارا حق ہے اور اس حق کے حصول کیلئے ہم وقتاً فوقتاً اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے ۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
