جموں و کشمیر
درگاہ حضرت بل: حالیہ زیبائش و آرائش کے بعد زائرین و سیاحوں کی خاص دلچسپی کا مرکز
سری نگر، جموں و کشمیر کے موسم گرما کے دارالحکومت سری نگر میں واقع تاریخی حیثیت کی حامل اور روحانی مرکز در گاہ حضرت بل حالیہ زیبائش و آرائش کے بعد نہ صرف زائرین بلکہ سیاحوں کے لئے بھی دلچسپی کا باعث بن گیا ہے۔
جموں و کشمیر وقف بورڈ کی طرف سے تجدیدی کاموں کے مکمل ہونے کے بعد درگاہ میں زائرین اور سیاحوں کا غیر معمولی رش دیکھنے کو مل رہا ہے جو اس تاریخی اور روحانی مقام کی اہمیت اور کشش کو مزید اجاگر کرتا ہے۔
حالیہ تجدید و آرائش کے دوران درگاہ کی داخلی و خارجی تزئین نو کی گئی، جس میں جدید لائٹنگ، اور زائرین کے لیے جدید سہولتیں شامل ہیں۔ انتظامیہ نے یہاں جدید وضو خانے، بیٹھنے کے انتظامات، اور سکیورٹی کے اقدامات بھی متعارف کروائے تاکہ ہر زائر یا سیاح سکون اور آرام کے ساتھ عبادت یا سیاحت کر سکے۔
زائرین نے درگاہ کی تزئین نو کو نہایت خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ اس سے روحانی سکون میں اضافہ ہوا ہے۔
جب زائرین درگاہ حضرت بل کے اندر داخل ہوتے ہیں تو ایک الگ ہی روحانی سکون محسوس ہوتا ہے۔ ہر قدم کے ساتھ دل کو راحت اور ذہن کو سکون ملتا ہے۔ داخلی راستوں اور اندر کی تزئین و آرائش اتنی نفاست اور مہارت سے کی گئی ہے کہ اس کی مثال کم ہی کہیں ملتی ہے۔
زائرین کا کہنا ہے کہ درگاہ کے اندرونی حصے کی کاریگری واقعی اپنی مثال آپ ہے۔ چھتوں پر بنائے گئے نقش و نگار، دیواروں کی نفیس پتھروں سے تراش خراش، اور لکڑی پر کی گئی باریک کاریگری نہ صرف قدیم کشمیری فنِ تعمیر کی عکاسی کرتی ہے بلکہ جدید روشنیوں کے ساتھ اس کی خوبصورتی دوچند ہو گئی ہے۔ ہر ستون، ہر محراب، اور ہر گوشہ ایک داستان سناتا ہے، جو آنے والے کو ماضی کی یاد دلاتا ہے اور موجودہ لمحے میں سکون بخشتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کاریگری اتنی منفرد اور بے مثال ہے کہ اسے دیکھ کر ہر زائر یا سیاح حیرت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ درگاہ کے اندر روشنی کی ترتیب، رنگوں کا امتزاج، اور فرش کی صفائی، سب مل کر ایک ایسا ماحول تخلیق کرتے ہیں جہاں عبادت کے دوران روحانی سکون اور ذہنی سکون دونوں ایک ساتھ محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
زائرین کا کہنا ہے کہ درگاہ میں داخل ہوتے ہی ایک سکون اور خوشگوار احساس دل و دماغ پر چھا جاتا ہے، اور اندر موجود ہر عنصر، چاہے وہ چھوٹے نقش ہوں یا بڑی دیواریں، اپنی مثال آپ ہیں۔ یہاں کی تزئین و آرائش واقعی نہ صرف جمالیاتی لحاظ سے قابلِ تحسین ہے بلکہ روحانی تجربے کو بھی بڑھا دیتی ہے، جو کم ہی کسی دوسرے روحانی مقام میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔
سری نگر سے تعلق رکھنے والے محمد شفیع نے یو این آئی کو بتایا کہ درگاہ حضرت بل کی زیبائش واقعی شاندار ہے۔ یہاں آ کر دل کو سکون ملتا ہے اور روحانی توانائی محسوس ہوتی ہے۔ انتظامات بہت بہتر ہیں اور زائرین کے لیے سہولتیں قابل تحسین ہیں۔ اب اندر کا ماحول نہایت پرامن اور سکون بخش ہے، جو ہر آنے والے کو متاثر کرتا ہے۔
بڈگام سے تعلق رکھنے والی خاتون عائشہ فاروق نے کہا :’ہم یہاں اکثر آتے ہیں، لیکن تجدید کے بعد درگاہ کی خوبصورتی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ جدید لائٹنگ اور صاف ستھرا ماحول عبادت کو مزید خوشگوار بنا دیتا ہے۔ یہاں آ کر دل اور دماغ دونوں پرسکون ہو جاتے ہیں’۔
سیاحوں نے بھی درگاہ کی تزئین نو کو سراہا اور کہا کہ یہ جگہ نہ صرف روحانی بلکہ ثقافتی لحاظ سے بھی قابلِ توجہ ہے۔
دہلی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون سیاح نیہا نے کہا: ‘ یہ میری پہلی بار کشمیر آمد ہے اور میں نے درگاہ حضرت بل دیکھی۔ یہاں کا داخلی اور بیرونی ماحول دل کو بھا گیا۔ تجدید کے بعد یہ جگہ پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت اور آرام دہ ہو گئی ہے۔ میں یہاں کی تصویریں لے کر اپنے لوگوں کو بھی دکھاؤں گی’۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ تجدیدی کام کے دوران نہ صرف تاریخی اہمیت کو مدنظر رکھا گیا بلکہ جدید دور کے تقاضے بھی پورے کیے گئے۔
سیاحوں کا کہنا ہے کہ درگاہ کی تزئین نو کے بعد یہاں آنا ایک نیا تجربہ ہے۔ داخلی ماحول میں سکون اور بیرونی حصہ کی خوبصورتی دیکھ کر ہر آنے والا متاثر ہوتا ہے۔ زائرین اور سیاح دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ درگاہ حضرت بل روحانی سکون اور تاریخی یادوں کا حسین امتزاج ہے، جو کشمیری ثقافت کا اہم جزو ہے۔
ایک مقامی دکاندار نے بتایا کہ یہاں غیر مقامی سیاح بھی آنے لگے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کچھ روز پہلے یہاں ایک غیر ملکی وفد آیا جس کے ارکان درگاہ حضرت بل کی خوبصورتی کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے۔
یو این آئی ارشید بٹ، ایم افضل۔ایف اے
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے 500 گرام گانجا کے ساتھ منشیات کے اسمگلر کو گرفتار کیا
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے فوجی کالونی کے علاقے میں منشیات کے 3 اسمگلروں کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے تقریباً 500 گرام گانجا برآمد کیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی۔
حکام کے مطابق، معمول کی گشت کے دوران پولیس کی ایک ٹیم نے دشہرہ میدان کے قریب سینک پبلک اسکول کے سامنے 3 افراد کو روکا۔ اس کے بعد ان کی تلاشی لی گئی، جس میں تقریباً 500 گرام گانجا برآمد ہوا۔
ملزمین کی شناخت مغربی بنگال کے رہنے والے ایشَر علی اور مدھیہ پردیش کے چھترپور کے رہنے والے اجے اہروار اور منوج بنسل کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے تینوں کو موقع پر ہی گرفتار کرلیا۔ برآمد شدہ منشیات کو مقررہ قانونی کارروائی کے تحت ضبط کرلیا گیا ہے اور ملزمین کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
اس سلسلے میں متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس یہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے کہ برآمد شدہ منشیات کہاں سے لائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ منشیات کی مبینہ سپلائی کے نیٹ ورک سے وابستہ تمام رابطوں کا بھی پتہ لگایا جا رہا ہے۔ جموں پولیس نے منشیات کی اسمگلنگ پر روک لگانے اور جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک بنانے کے اپنے عزم کو دہرایا ہے۔
پولیس نے عام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے بارے میں مستند معلومات ڈائل 112 یا 9858034100 پر فراہم کریں۔ حکام نے کہا کہ اطلاع دینے والوں کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے جے کے آئی ایم کے خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، چار خواتین سمیت چھ افراد گرفتار
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے ہفتہ کے روز ممنوعہ تنظیم ‘جموں و کشمیر اتحاد المسلمین’ (جے کے آئی ایم) کے ایک خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے چار خواتین سمیت چھ افراد کو گرفتار کرلیا۔
بانڈی پورہ ضلع پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نیٹ ورک کو پاکستان میں موجود ایک ہینڈلر چلا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق، یہ نیٹ ورک علیحدگی پسند نظریات اور گمراہ کن پروپیگنڈے کو فروغ دے رہا تھا، جس میں خاص طور پر خواتین کو نشانہ بنایا جارہا تھا۔
پولیس نے گرفتار افراد میں کاچلو قاضی پورہ کے رہنے والے وحید احمد بھٹ کو اس معاملے کا مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ بانڈی پورہ کے دچی گام کی رہائشی مبینہ بانو، چیک پنجی گام کی خوشبو جان، مہک جان اور عالیہ جان، نیز ہندواڑہ کے انن وان کے رہنے والے عرفان احمد ریشی عرف رئیس کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور نیٹ ورک کی سرگرمیوں، اس سے وابستہ دیگر افراد اور اس کے مبینہ رابطوں کے بارے میں معلومات جمع کی جارہی ہیں۔
واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے 2025 میں جے کے آئی ایم پر پانچ سال کے لیے پابندی عائد کردی تھی۔ تنظیم پر ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے، دہشت گردی کی حمایت کرنے اور علیحدگی پسند سرگرمیوں کو فروغ دینے کے الزامات ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی خاموشی کو ہتھیار ڈالنا نہ سمجھا جائے: کے ڈی اے کی مرکز کو تنبیہ
سرینگر، مرکزی وزارت داخلہ اور لداخ کے رہنماؤں کے درمیان بات چیت میں تعطل کے درمیان کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) نے ہفتے کے روز مرکز کو خبردار کیا کہ وہ لداخ کے لیے آئینی تحفظات اور جمہوری حقوق کے مطالبات کو مزید تاخیر کا شکار نہ بنائے۔ الائنس نے کہا کہ عوام غیر معینہ مدت تک خاموش نہیں رہیں گے۔
کرگل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کے ڈی اے کے رہنماؤں نے مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو مسترد کردیا۔ ان کا الزام تھا کہ یہ تجویز سابقہ اجلاسوں کی کارروائی کے منٹس میں درج وعدوں پر پوری نہیں اترتی اور لداخ کے عوام کی امنگوں کو پورا کرنے میں ناکام ہے۔
کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی (ایل اے بی) گزشتہ کئی برسوں سے لداخ کے لیے آئینی تحفظات کے مطالبے کی قیادت کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں مرکز کے ساتھ بات چیت بھی کرتے رہے ہیں۔
کے ڈی اے کے شریک چیئرمین سجاد کرگلی نے کہا کہ مجوزہ انتظام عوام کی امنگوں کو مدنظر رکھ کر تیار نہیں کیا گیا، بلکہ ان کے بقول اسے مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کے مفادات کو سامنے رکھ کر وضع کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اپنے اعتراضات مرکز کے سامنے پیش کردیے ہیں۔
کرگلی نے لداخ انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ مسلسل احکامات اور نوٹیفکیشن جاری کرکے جمہوری حقوق کو کمزور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الائنس آئینی تحفظات اور عوام کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”ہم مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کی اس آمرانہ روش کی مذمت کرتے ہیں، جس کے تحت ہم پر یکے بعد دیگرے احکامات مسلط کیے جا رہے ہیں۔ یہ لداخ کے عوام کے حقوق پر حملہ ہے۔”
ملک کے دیگر حصوں میں انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کرگلی نے کہا کہ لداخ کو ایک ”تجربہ گاہ” بنا دیا گیا ہے اور الزام لگایا کہ خطے کی سیاسی نمائندگی کو کمزور کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”لداخ کو ایک تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے۔ یہاں تو عوام کی نمائندگی ہی چھین لی گئی ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے دیگر حصوں میں ووٹوں کی چوری کے الزامات سامنے آتے ہیں، جبکہ ان کے مطابق لداخ میں عوام کی سیاسی نمائندگی چھیننے کا معاملہ ہے۔
کے ڈی اے کے دوسرے شریک چیئرمین اسگر علی کربلائی نے کہا کہ لداخ میں چھائی خاموشی کو خوف یا ہتھیار ڈالنے سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ”طوفان سے پہلے کی خاموشی” ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”انتظامیہ کو موجودہ خاموشی کو خوف، تابع داری یا ہتھیار ڈالنے کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔”
کربلائی نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی گزشتہ چھ برس سے مرکزی وزارت داخلہ کے ساتھ اپنے چار نکاتی ایجنڈے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ ریاست کا درجہ اور آئینی تحفظات ان کے دو اہم مطالبات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 22 مئی کو منعقدہ اجلاس کی کارروائی کے منٹس میں، جن پر 7 جولائی کو دستخط کیے گئے تھے، لداخ کے لیے خصوصی انتظامی ڈھانچے پر اتفاق درج تھا۔ اس انتظام میں قانون سازی، انتظامی اور مالی اختیارات کے ساتھ آئینی تحفظات فراہم کرنے کی بات شامل تھی۔
تاہم، ان کا الزام تھا کہ 15 اکتوبر کے اجلاس میں مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ خاکہ ان وعدوں کے برعکس تھا اور اس میں بامعنی اختیارات یا آئینی ضمانتوں کے بغیر ایک انتظامی ڈھانچہ پیش کیا گیا۔
کربلائی نے کہاکہ ”جن حقوق کو فراہم کرنے پر تحریری طور پر اتفاق کیا گیا تھا اور جن کے لیے اجلاس کی کارروائی کے منٹس پر دستخط کیے گئے تھے، اب وہی حقوق ہمیں دینے سے انکار کیا جا رہا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ مجوزہ کونسل کو بامعنی مالی اختیارات حاصل نہیں ہیں، نہ ہی اسے زمین سے متعلق معاملات پر اختیار دیا گیا ہے اور نہ ہی آزادانہ انتظامی اختیارات فراہم کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق، کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے آئینی اور قانونی ماہرین سے مشورے کے بعد اس تجویز پر اپنا تفصیلی جواب مرکز کو پیش کردیا ہے۔
کربلائی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت اس معاملے میں مزید تاخیر کرتی ہے تو الائنس اپنی احتجاجی تحریک تیز کردے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”اگر کل ہمیں اپنے ایجنڈے اور مطالبات کے لیے سڑکوں پر اترنا پڑا، تحریک چلانی پڑی، احتجاج کرنا پڑا، بند کی اپیل کرنی پڑی، ہڑتال کرنی پڑی یا جیلیں بھرنی پڑیں تو ہم ایسا کریں گے۔”
لداخ کے رکن پارلیمنٹ حاجی محمد حنیفہ جان نے کہا کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے نے ان امیدوں کو ختم کردیا ہے جو سابقہ بات چیت کے دوران پیدا ہوئی تھیں، جب دونوں فریق ایک انتظامی نظام کے بنیادی خدوخال پر متفق ہوگئے تھے۔
انہوں نے مرکز سے اپیل کی کہ ملتوی شدہ اجلاس جلد از جلد طلب کیا جائے اور دستخط شدہ منٹس میں درج وعدوں کے مطابق مسودہ پیش کیا جائے۔
جان نے کہا کہ لداخ کے عوام اپنی پالیسیاں خود طے کرنا اور خطے کی ترقی کی سمت کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ الائنس لداخ میں امن برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل تاخیر سے عوام میں، خصوصاً نوجوانوں میں، ایک بار پھر غم و غصہ پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں پیش کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
کے ڈی اے نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ اپنے ایجنڈے سے دست بردار نہیں ہوگا۔ الائنس نے مرکزی وزارت داخلہ اور مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان ضوابط کو واپس لیں جنہیں وہ لداخ کے عوام کے مفادات کے خلاف سمجھتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
ہندوستان1 week agoتمل ناڈو اور کرناٹک میں شدید بارش کی وارننگ، جنوبی ریاستوں میں بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان
