تازہ ترین
انتہاپسندی وعدم برداشت کارُجحان اورموسمیاتی تبدیلی دنیاکیلئے بڑے چیلنج :سیکرٹری جنرل انتونیوگوترس
خبراردو:
سالِ نویعنی سال2019کی آمدپراپنے ایک پیغام میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوترس نے کہاہے کہ نئے سال عالمی ادارے کی توجہ بھی اسبات پرمرکوزرہے گی کہ عوام کے درمیان روابط کوبہتربنایاجائے اورحل طلب تنازعات کے حل کی راہیں تلاش کی جائیں ۔انہوں نے سال2019کیلئے اقوام متحدہ کے ایجنڈے کاخلاصہ کرتے ہوئے کہاکہ دنیابھرکے لوگوں کوبہترسیاسی ،امن وقانون اورموسمی ماحول فراہم کرنااولین ترجیحات ہونگی ۔انتونیوگوترس نے اقوام عالم کودرپیش خطرات اورچیلنجوں کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ دنیاکے کئی خطوں میں تیزی کیساتھ موسمی صورتحال تبدیل ہوتی جارہی ہے جسکے عام لوگوں پرمنفی اثرات مرتب ہونگے۔انہوں نے کہاکہ انتہاپسندی اورعدم برداشت کارُجحان بھی تیزی کیساتھ فروغ پاکرپھیل رہاہے اوریہ صورتحال صرف پریشان کن ہی نہیں بلکہ دنیاکیلئے بڑاچیلنج بن چکاہے ۔
اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل نے اسبات پرزوردیاکہ عالمی رہنماؤں اوربرادری کواسبات پرتوجہ مرکوزکرناہوگی کہ انتہاپسندی اورعدم برداشت کے فروغ پانے اورپھیلنے کے درپردہ محرکات اوروجوہات کیاہیں ۔انہوں نے کہاکہ اگرعالمی برادری نے ان محرکات اوروجوہات پرتوجہ مرکوزکرکے ان کاسدباب کرنے کیلئے پہل کی توانتہاپسندی اورعدم برداشت یاتشدد کے رُجحانات پرقابوپایاجاسکتاہے ۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوترس نے نئے سال کے اپنے خاص پیغام میں رُخصت ہورہے سال 2018کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ جن خطرات اورخدشات کے حوالے سے ہم نے سال2018میں ریڈالرٹ جاری کیاتھا،وہ خدشات اورخطرات اب بھی عالمی برادری کے سامنے سراُٹھائے موجودہیں ۔انہوں نے کہاکہ مختلف سطحوں یامحاذوں پرپائے جانے والے خدشات اورخطرات دنیاکے مختلف خطوں میں رہنے والے لوگوں کیلئے اب بھی باعث تشویش ہیں ۔ انتونیوگوترس نے خبردارکرتے ہوئے کہاکہ ہماری دنیاکومختلف سطحوں پرکشیدگی کے امتحانات درپیش ہیں ۔ اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل کاکہناتھاکہ دنیامیں موسمی صورتحال تیزی کیساتھ تبدیل ہوتی جارہی ہے اوریہ اقوام عالم کیلئے ایک سنگین مسئلہ ہی نہیں بلکہ فوری توجہ کاحامل چیلنج بھی ہے۔انہوں نے کہاکہ جغرافیائی نوعیت کی سیاست میں ملکوں اورخطوں کے درمیان اختلافات گہرے ہوتے جارہے ہیں ،جسکے نتیجے میں تنازعات سلجھنے کے بجائے مزیداُلجھتے جارہے ہیں ۔
سیکرٹری اقوام متحدہ جنرل انتونیوگوترس نے کشمیریافلسطین جیسے تنازعات کابراہ راست نام لئے یاذکرکئے بغیرکہاکہ دنیاکے مختلف خطوں میں پائے جانے والے تصفیہ طلب یاحل طلب تنازعات کے حل کی راہیں ابھی تک ہمواریااستوارنہیں ہوئی ہیں بلکہ یہ تنازعات مزیداُلجھ چکے ہیں جوکہ متعلقہ خطوں میں امن وامان کیلئے کوئی نیک شگون نہیں ۔انہوں نے عران ،افغانستان ،شام ،لیبیا،صومالیہ یاافغانستان کانام لئے بغیرکہاکہ دنیاکے کئی ملکوں میں صورتحال بہترنہیں ،اسلئے وہاں سے لوگوں کی نقل مکانی جارہی ہے جوکہ ایک تشویشناک بات ہے۔انتونیوگوترس کاکہناتھاکہ تنازعات کے طول پکڑجانے کے باعث لوگ سلامتی اورتحفظ کی خاطربھاگ رہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ دنیامیں نابرابری یاعدم رواداری کارُجحان بھی بڑھاہے اوراس میں پھنسنے والے لوگ بھی پریشان ہیں اوراُنھیں بھی گھربارچھوڑکردوسری جگہوں پرجاکرپناہ لیناپڑرہی ہے ۔اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل نے کہاکہ دنیابھی امیرلوگ مزیدامیربنتے جارہے ہیں اورغریبوں کی معاشی ومالی حالت ہرگزرتے دن کیساتھ مزیدابترہوتی جارہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ اقوام عالم کوکئی مسائل ،مشکلات اورچیلنج درپیش ہیں ،اوران کی جانب فوری توجہ دیکراورتنازعات کے حل کی راہیں ہموارکرکے ہی دنیابھرکے لوگ کوامن وسکون کاماحول فراہم کیاجاسکتاہے ۔انہوں نے کہاکہ دنیابھرمیں رہنے والے لوگوں کی گالب اکثریت امن پسندہے اوروہ پُرامن اُمیدہیں کہ دنیاکوفتنوں ،فسادات ،تنازعات اورجنگ وجدل سے نجات مل جائیگی لیکن بقول انتونیوگوترس امن صرف باتوں سے قائم نہیں ہوگابلکہ اس کیلئے ہمیں تنازعات اوراختلافات کودورکرناپڑے گا۔اقوام متحدہ سکرٹری جنرل کاکہناتھاکہ اعتمادکافقدان فروغ پاتاجارہاہے ،اوراس وجہ سے بھی دنیاکیلئے کئی سنگین مسائل پیداہوئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ دنیاکے جن ممالک نے امن کوموقعہ فراہم کیاہے ،وہاں تنازعات کے حل کی اُمیدبھی پیداہوئی ہے۔ یمن ،اتھوپیا،اری ٹریا،جنوبی سوڈان اوردیگرکچھ ممالک کاذکرتے ہوئے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے کہاکہ تشدد،فسادات اورجنگ وجدل میں پھنسے ممالک میں امن کوایک موقعہ دیاجاناچاہئے ۔انتونیوگوترس نے انتہاپسندی وعدم برداشت کارُجحان اورموسمیاتی تبدیلی جیسے بڑے چیلنجوں پرتوجہ مرکوزکرنے کی پُرزوروکالت کرتے ہوئے کہاکہ اگرہمیں اپنی دنیاکوپُرامن اورخوشحال بناناہے توہمیں تنازعات کے حل کی راہیں مل جلکرتلاش کرناہونگی ۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوترس نے اپنے پیغام میں کہاکہ ہمیں اپنی اس سرزمین کواپنے اورلوگوں کیلئے محفوظ اورصحت مند بناناہوگااوراس کیلئے لازم ہے کہ ہم سب ملکرپائیدارامن،انصاف اورخوشحالی کاایک ایسابلیوپرنٹ بناناچاہئے جوکہ پوری دنیاکیلئے ہو۔انہوں نے کہاکہ سال2019میں اقوام متحدہ کی یہ کوشش ہوگی کہ انسانوں کی جانوں کوبچایاجائے ،تنازعات کے حل کی راہیں تلاش کی جائیں ،عالمی برادری کے درمیان اتحادواتفاق کے جذبے کوفروغ دیاجائے کیونکہ بقول انتونیوگوترس ایساکرکے ہی ہم اپنی اس دنیاکواپنے اورباقی لوگوں کیلئے محفوظ ،صحت منداورپُرامن وپُرسکون جگہ بناسکتے ہیں ۔
دنیا
روس یورپ کے ساتھ کسی بھی جنگ کی تیاری میں نہیں، یورپی عوام روس سے لڑنا نہیں چاہتے:پوتن
ماسکو، روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو کہا کہ روس یورپ کے ساتھ کسی بھی جنگ کی تیاری نہیں کر رہا ہے اور اگر یورپ میں جاری سیاسی سرگرمیوں پر نظر ڈالی جائے تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ وہاں کے لوگ روس سے لڑنا نہیں چاہتے۔
مسٹر پوتن نے روسی ذرائع ابلاغ کو دیے گئے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ مغربی ممالک کے رہنما مسلسل ‘روسی خطرے’ اور روس کے ساتھ براہ راست فوجی تصادم کی تیاریوں کی بات کررہے ہیں۔ تاہم، امید ہے کہ اب یہ بات واضح ہوچکی ہوگی کہ روس کو شکست دینا ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے کہا، ”یہ بات سب کے سامنے واضح ہوچکی ہے کہ جنگ کے میدان میں روس کو شکست دینا ناممکن ہے اور اسے حکمت عملی کے اعتبار سے بھی شکست دینا غیر حقیقی ہے۔”
روسی صدر کے مطابق، یورپی سیاست دانوں کی جانب سے روس کے خلاف جنگ کی تیاریوں سے متعلق دیے جانے والے بیانات کسی طرح کی سیاسی ذہنی اختلال کی علامت ہیں۔
مسٹر پوتن نے کہا، ”میرا خیال ہے کہ جن لوگوں نے پوری تاریخ میں روس کو حکمت عملی کے اعتبار سے شکست دینے کی کوشش کی ہے اور بدقسمتی سے آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں، وہ جدید دنیا کی حقیقتوں کو سمجھتے ہیں اور سمجھیں گے کہ روس کے ساتھ ہم آہنگی سے رہنا ہی بہتر ہے۔ یہ ان کے اپنے عوام کے مفاد میں ہے۔”
یو این آئی/اسپوتنک
ہندوستان
جرمنی کے ایک مطالعاتی و تحقیقی ادارے میں ہندوستان کے لیے خصوصی مرکز قائم
نئی دہلی، جرمنی میں بین الاقوامی تعلقات کے مطالعے اور تحقیق کرنے والے برلن کے خودمختار ادارے کونسل آن فارن ریلیشنز (ڈی جی اے پی) میں ہندوستان سے متعلق ایک مرکز قائم کیا گیا ہے۔
‘انڈیا سینٹر’ کے نام سے قائم اس مرکز کی افتتاحی تقریب میں ہندوستان کے وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل اور جرمنی کی وزیر برائے اقتصادی امور و توانائی کیتھرینا ریشے نے شرکت کی۔ مسٹر گوئل اس وقت جرمنی اور نیدرلینڈز کے سرکاری دورے پر ہیں۔
مسٹر گوئل نے کہا کہ ڈی جی اے پی میں ہندوستان کے لیے قائم کیا گیا یہ مرکز ہندوستان اور جرمنی کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیر تجارت نے کہا، ”ہماری ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی صلاحیتیں ہمارے بلند حوصلہ اقتصادی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ اس شراکت داری کو مزید رفتار دینے کا کام کرے گا۔”
اس موقع پر مسٹر گوئل نے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں سے اپیل کی کہ وہ باہمی خوشحالی اور ترقی کو مزید آگے بڑھانے کے لیے تعاون کے نئے راستے تلاش کریں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی کے سورو داس اور آشوتوش رانکا پانچ دنوں کی عدالتی تحویل میں
