جموں و کشمیر
کشمیری قراقلی:آج بھی سیاستدانوں اور معروف شخصیات کی پہلی پسند
سری نگر،6 اکتوبر(یو این آئی) کشمیر کی شاندار تہذیبی و ثقافتی منظر نامے میں قراقلی ٹوپی کی بھی ایک شاندار اور طویل تاریخ ہے اور یہ مخصوص ٹوپی عصر حاضر میں بھی سیاستدانوں، ممتاز شخصیات اور نوجوان نسل کی پہلی پسند بھی بنی ہوئی ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ اس کی مانگ میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے اور کاریگروں نے اس کے نئے ڈیزائن متعارف کرا کے اس روایت کو ایک نئی زندگی عطا کی ہے۔
سری نگر کے شہر خاص کے نوابازار علاقے میں قائم 125 سالہ قدیمی دکان “کشمیر کیپ ہاؤس” آج بھی قراقلی خریدنے والوں کے لیے ایک معتبر مقام ہے جہاں مختلف شعبہ ہائے حیات کی قد آور شخصیات پہنچ کر اپنی پسند کی قراقلی ٹوپیاں خریدنے کے لئے پہنچ جاتی ہیں۔
اس دکان کے مالک فاضل ریاض جان نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے بتایا: ‘یہ دکان میرے دادا نے 1920 میں شروع کی تھی۔ اُس وقت بھی قراقلی بڑی شخصیتوں کی پہچان سمجھی جاتی تھی۔ دادا کے بعد والد نے یہ ہنر اپنایا اور اب میں نے یہ روایت سنبھال لی ہے۔
اللہ کا شکر ہے کہ کاروبار آج بھی اچھا چل رہا ہے اور قراقلی کی مانگ میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘اب وقت کے ساتھ مارکیٹ کے رجحانات بھی بدلے ہیں، ہم انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر قراقلی کی تشہیر بھی کرتے ہیں، جس سے ملک اور بیرون ممالک سے آرڈر موصول ہوتے ہیں۔ افغانستان سے مخصوص کھال منگوائی جاتی ہے، جس سے اصل قراقلی تیار کی جاتی ہے’۔
کشمیری قراقلی طویل عرصے سے سیاستدانوں اور قومی و بین الاقوامی سطح کی معروف شخصیات کی پسندیدہ ٹوپی رہی ہے۔
’کشمیر کیپ ہاؤس‘ کے مالک نے بتایا: ‘ ڈاکٹر فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور غلام نبی آزاد سمیت کئی نامور سیاستدانوں نے یہاں سے قراقلی ٹوپیاں خریدی ہیں’۔
ان کا کہنا ہے کہ آج بھی یہی سیاستدان اور اُن کے خاندان کے لوگ ہم سے قراقلی خریدتے ہیں۔
یہ ٹوپی محض ایک لباس کا حصہ نہیں بلکہ وقار، شرافت اور کشمیری تہذیب کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ شادی بیاہ کی تقریبات میں دولہے کے لیے قراقلی پہننے کی روایت آج بھی زندہ ہے۔
موصوف نے بتایا: ‘کسی بھی شادی بیاہ کی تقریب میں دولہے کے لیے قراقلی لانا لازمی ہوتا ہے’۔
قراقلی ٹوپی تیار کرنا ایک نہایت باریک اور صبر آزما عمل ہے۔ کاریگروں کے مطابق، ایک قراقلی بنانے میں پانچ سے چھ گھنٹے صرف ہوتے ہیں اور یہ مکمل طور پر ہاتھ سے تیار کی جاتی ہے۔ اس میں مشین کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔
فاضل ریاض جان نے بتایا: ‘یہ فن کشمیر میں چند ہی افراد جانتے ہیں، میں اُن میں واحد نوجوان ہوں جو آج بھی اس پیشے سے جڑا ہوا ہے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘ سرکار کی طرف سے اس ہنر کے فروغ یا کاریگروں کی حوصلہ افزائی کے لیے کوئی خاص قدم نہیں اٹھایا گیا’۔
قراقلی کی اصل شناخت اس میں استعمال ہونے والی کھال سے ہوتی ہے۔ افغانستان سے منگوائی جانے والی مخصوص بھیڑ کی کھال کو سب سے اعلیٰ معیار کا مانا جاتا ہے۔
مقامی کاریگر بتاتے ہیں کہ مختلف اقسام کی کھالوں سے تیار کی جانے والی قراقلی کی قیمت میں بھی فرق ہوتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ عام کھال سے تیار ہونے والی قرقلی 2000 سے 10,000 روپے تک فروخت ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اعلیٰ درجے کی کھال سے بنائی گئی قراقلی کی قیمت 50 سے 60 ہزار روپے تک پہنچ جاتی ہے۔ تاہم، یہ ٹوپیاں کم ہی لوگ خریدتے ہیں اور زیادہ تر وہی شخصیات ان میں دلچسپی دکھاتی ہیں جن کے لیے قرقلی وقار کی علامت ہے۔
وقت کے بدلتے تقاضوں کے مطابق کاریگروں نے قراقلی کے نئے ڈیزائن بھی متعارف کرائے ہیں تاکہ نوجوان نسل بھی اس کی جانب راغب ہو۔
فاضل ریاض جان کا کہنا ہے:’ماضی میں قراقلی صرف معمر افراد اور سیاستدان پہنتے تھے، لیکن سوشل میڈیا پر اس کی تشہیر کے بعد نوجوان بھی اسے پسند کرنے لگے ہیں۔ ہم نے اس میں کئی نئے ڈیزائن شامل کیے ہیں جن میں ترکی طرز کی قرقلی اس وقت سب سے زیادہ مقبول ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘یہی وجہ ہے کہ بازار میں ترکی ڈیزائن کی قراقلی خوب فروخت ہو رہی ہے اور شادی بیاہ کے موقع پر نوجوان دولہے بھی یہ ٹوپی فخر کے ساتھ پہنتے ہیں’۔
یو این آئی ارشید بٹ، ایم افضل
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
