جموں و کشمیر
جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس کل سے شروع ہوگا، تمام تر تیاریاں مکمل
سری نگر،جموں و کشمیر اسمبلی کا اجلاس جمعرات سے شروع ہونے جا رہا ہے، جس کے پرجوش اور ہنگامہ خیز ہونے کے قوی امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ اس نو روزہ اجلاس کے دوران ریاستی درجہ کی بحالی، ریزرویشن پالیسی، اور یونین ٹیریٹری میں ہزاروں یومیہ مزدوروں کی مستقلی جیسے اہم مسائل ایوان کی کارروائی پر غالب رہیں گے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق اجلاس کا آغاز جمعرات کو صبح دس بجے ہوگا، جس کی پہلی نشست مرحوم ارکانِ اسمبلی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ شروع ہوگی۔ اسپیکر کی ہدایت پر ایوان میں اُن سابق قانون سازوں کو یاد کیا جائے گا جن کا حال ہی میں انتقال ہو چکا ہے۔ اس موقع پر تمام سیاسی جماعتوں کے رہنما تعزیتی کلمات ادا کریں گے۔
ذرائع کے مطابق جمعہ کے روز ایوان میں راجیہ سبھا کی چار خالی نشستوں پر ووٹنگ عمل میں لائی جائے گی۔ یہ نشستیں سنہ 2021 سے خالی چلی آ رہی ہیں کیونکہ اس دوران جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل تھی اور گزشتہ برس ہی نئے انتخابات مکمل ہوئے تھے۔
تین نشستوں پر حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کے امیدواروں کی جیت یقینی مانی جا رہی ہے کیونکہ ایوان میں انہیں اکثریت حاصل ہے۔ تاہم چوتھی نشست پر سخت مقابلہ متوقع ہے، جہاں بی جے پی کے سینئر رہنما ست پال شرما کا مقابلہ نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار سے ہوگا۔
ذرائع کے مطابق عمران نبی ڈار کو نہ صرف اپنی پارٹی کے ووٹ درکار ہوں گے بلکہ حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں مثلاً پی ڈی پی، عوامی اتحاد پارٹی اور عام آدمی پارٹی کی حمایت بھی درکار ہوگی۔ دوسری جانب، پیپلز کانفرنس کے سربراہ سجاد غنی لون نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس ووٹنگ میں حصہ نہیں لیں گے، جس سے بظاہر بی جے پی کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہفتہ کے اختتام کے بعد، پیر سے اسمبلی کی کارروائی میں حقیقی سیاسی گرما گرمی دیکھنے کو ملے گی۔ حزب اختلاف کی جماعتیں نیشنل کانفرنس حکومت کو کئی حساس مسائل پر گھیرنے کی تیاری کر چکی ہیں، جن میں ریاستی درجہ کی بحالی، ریزرویشن پالیسی کی از سرِ نو ترتیب، اور ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق اپوزیشن جماعتیں حکومت سے یہ سوال اٹھائیں گی کہ گزشتہ برس اسمبلی انتخابات کے دوران عوام سے کیے گئے وعدوں پر کتنا عمل ہوا ہے۔ نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ایک سال مکمل کر لیا ہے، تاہم حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ زمینی سطح پر بہت سے وعدے ابھی پورے نہیں ہوئے۔
ایوان میں یومیہ مزدوروں، عارضی ملازمین، اور مختلف محکموں میں کام کرنے والے عارضی عملے کی مستقلی کا مسئلہ بھی نمایاں طور پر اٹھایا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق متعدد اراکین اسمبلی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی سے خدمات انجام دینے والے ان ورکروں کو مستقل کیا جائے تاکہ ان کے معاشی حالات بہتر ہوں۔
حکومت کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ خزانہ نے اس مسئلے پر ایک پالیسی ڈرافٹ تیار کیا ہے جو ممکنہ طور پر اسی اجلاس کے دوران ایوان میں پیش کیا جائے گا۔ اگر یہ بل پیش ہوتا ہے تو ہزاروں عارضی ملازمین کے مستقبل کا تعین ہو سکتا ہے۔
اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق اراکینِ اسمبلی نے حکومت سے متعلقہ محکموں کے لیے 450 تحریری سوالات جمع کرائے ہیں، جو اجلاس کے مختلف دنوں میں زیر بحث آئیں گے۔ اس کے علاوہ 13 پرائیویٹ ممبران کے بل اور 50 سے زیادہ قراردادیں بھی ایوان میں بحث کے لیے رکھی گئی ہیں۔
بجٹ سیشن کے دوران متعارف کروائے گئے لگ بھگ تین درجن بلز ابھی زیرِ التوا ہیں، جن پر اس اجلاس کے دوران فیصلہ لیا جانا متوقع ہے۔ اسپیکر کے مطابق اجلاس کے دوران قانون سازی کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ عوامی مفاد کے بلز کو جلد از جلد منظور کیا جا سکے۔
ادھر اسمبلی اجلاس کے پیش نظر سری نگر شہر میں غیر معمولی سیکورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ پولیس اور نیم فوجی دستوں نے لالچوک، سول لائنز اور اسمبلی کے گردونواح میں گشت تیز کر دیا ہے۔ سیکورٹی اہلکاروں کو حساس چوراہوں، داخلی راستوں اور شاہراہوں پر تعینات کیا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق متعدد ناکے قائم کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کو بروقت ناکام بنایا جا سکے۔ اسمبلی عمارت کے اندر اور باہر ملٹی لیئر سیکیورٹی گرڈ قائم کیا گیا ہے، جبکہ داخلے کے تمام پوائنٹس پر میٹل ڈیٹیکٹر اور جدید نگرانی کے آلات نصب کیے گئے ہیں۔
ایک سینئر پولیس افسر نے یو این آئی کو بتایا کہ ہم نے تمام حفاظتی پہلوؤں کا جائزہ لیا ہے۔ اسمبلی اجلاس کے دوران شہر بھر میں الرٹ جاری رہے گا اور کسی کو بھی سیکورٹی کے دائرے سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
شہر کے مرکزی بازاروں، ہوٹلوں اور سرکاری دفاتر کے اطراف میں بھی چیکنگ کو سخت کیا گیا ہے۔ سادہ لباس میں سیکورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی مشکوک نقل و حرکت پر فوری کارروائی ممکن ہو سکے۔
ذرائع کے مطابق اسمبلی اجلاس کے دوران ڈرون سرویلنس بھی عمل میں لایا جائے گا تاکہ ایوان کے اطراف کے علاقوں پر فضائی نگرانی رکھی جا سکے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ تعاون کریں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوراً قریبی پولیس اسٹیشن یا کنٹرول روم کو دیں۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
