تازہ ترین
سوپورسانحہ کی آہیں اور سسکیاں 26سال بعد بھی موجود،قصبہ میں مکمل تعزیتی ہڑتال؛ عوامی ، تجارتی و کاروباری سرگرمیاں ٹھپ
خبراردو:
1993میں شمالی قصبہ سوپور میں سیکورٹی فورسز کی طرف سے عام شہریوں کے قتل عام کے خلاف مکمل ہڑتال رہی جس دوران عوام کی ایک بڑی تعداد نے سانحہ میں جاں بحق ہوئے افراد کے حق میں دعائیہ و تعزیتی مجالس منعقد کیں۔ اس موقعے پر مقررین نے بشری حقوق کی انجمنوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سانحہ میں ملوث فورسز اہلکار وں کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ متاثرین کو انصاف فراہم ہوسکے۔ اس دوران تعزیتی ہڑتال کے بیچ قصبہ میں عوامی، تجارتی و کاروباری سرگرمیاں مفلوج رہیں جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حرکت بھی متاثر تھی۔
6جنوری1993کوسوپور کے مین قصبہ میں ایک المناک سانحہ رونما ہوا جس کے نتیجے میں درجنوں کنبوں کے آشیانے ویران ہوگئے جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں کے مال و جائیداد کو بھی بھاری نقصان سے دوچار ہونا پڑا۔ خیال رہے 6جنوری 1993کو قصبہ کے بس اڈے کے باہر جنگجوؤں نے فائرنگ کی جس کے بعد چند جائے حادثے سے کافی دور قصبہ کی دوسری جانب بی ایس ایف اہلکاروں نے عام شہریوں پر بندوقوں کے دہانے کھول دئے جس کے نتیجے میں فورسز اہلکاروں نے قصبہ میں خونین رقص کھیلا۔ درج اعداد و شمار کے مطابق بی ایس ایف اہلکاروں نے عام شہریوں کو نزلہ گراتے ہوئے آو دیکھا نہ تاؤ بلکہ ہر سو لاشوں کی ڈھیر بکھیر دئے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ اس موقعے پر بی ایس ایف اہلکاروں کی کاررروائی میں 57عام اور نہتے شہریوں کو گولیوں سے بھون ڈالا گیا جبکہ فورسز اہلکاروں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ کمیکل پاؤڈر کا استعمال کرتے ہوئے 400دوکانات سمیت 75رہائشی مکانات کو پھونک ڈالا۔ واقعے کے عینی شاہدین جو اس وقت ادھیڑ عمر کو پہنچ چکے ہیں اور اُس وقت معجزاتی طور بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے نے کشمیر نیوز سروس کو بتایا کہ جس طرح بی ایس ایف اہلکاروں نے قصبہ میں خونین رقص کھیلا اُس سے صاف واضح ہوتا ہے کہ انہیں کشمیریوں کو مارنے کی کھلی اجازت دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بی ایس ایف اہلکاروں نے اُس وقت دوکانوں میں پناہ لئے گئے عام شہریوں کو ایک ایک کرکے باہر نکالا اور ان کے جسم میں سینکڑوں گولیاں پیوست کی اور بعد میں قصبہ کے مین بازار میں سبھی دوکانات کے اندر گن پاؤڈر چھڑک کر آگ لگادی۔انہوں نے بتایا کہ آج 26سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی سانحہ میں ملوث فورسز اہلکاروں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا گیا اور نہ ہی متاثرین کو انصاف فراہم کرنے کی کوشش کی گئی۔
ادھر سانحہ کے خلاف سوپور قصبہ اور مضافات میں اتوار کو مکمل احتجاجی و تعزیتی ہڑتال رہی جس دوران یہاں عوامی، تجارتی اور کاروباری سرگرمیاں مکمل طو رپر مفلوج رہی جبکہ قصبہ کی سڑکوں پر اتوار کو الو بولتے ہوئے نظر آئے۔ سانحہ میں مارے گئے افراد کے حق میں اتوار کو صبح سے ہی مختلف مقامات پر تعزیتی و دعائیہ مجالس کا اہتمام جاری رہا جس دوران دور دور سے لوگوں کی بڑی تعداد نے مارے گئے افراد کے لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے اُن کے گھروں کا رخ کیا اور یہاں دعائیہ مجالس میں شرکت کی۔یہاں تعزیت پر آئے ایک عمر رسیدہ بزرگ نے ماضی کی یاد کو تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ سال 1993میں آج ہی کے روز جنگجو کی فائرنگ سے ایک بی ایس ایف اہلکار مارا گیا تاہم فورسز نے اس کا بدلہ لینے کے لیے سوپور میں قیامت صغریٰ بپا کی۔ انہوں نے کہا کہ فورسز اہلکاروں نے بے تحاشا عام شہریوں پر بندوقوں کے دہانے کھلوتے ہوئے یہاں خون کی ندیاں بہادیں جس کے نتیجے میں قصبہ میں ہر سو لاشوں کے ڈھیر بکھیرتے ہوئے نظر آئے۔اس دوران اتوار کو قصبہ کی مساجد میں سانحہ میں مارے گئے افراد کے حق میں خصوصی دعاؤں کا اہتمام ہوا جس میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ ادھر سوپور کی سیول سوسائٹی سے وابستہ ممبران اور تاجر انجمنوں نے بھی مزار شہدا جاکر جاں بحق افراد کے حق میں خصوصی دعائیں کیں۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
