جموں و کشمیر
گزشتہ سال جاب فیس کے طور پر اُمیدواروں سے 31 کروڑ75لاکھ32ہزار400 روپے وصول:حکومت
ملازمت امتحانی فیسوں کو ختم کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں
فیس کا مقصدملازمتوں کے امتحانات کے انعقاد میں ہونے والے انتظامی اور آپریشنل اخراجات کو پورا کرنا ہے
جموں وکشمیر میں کل 3لاکھ61ہزار146 تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوان رجسٹرڈ :الگ الگ سوالات پر جوابات
سری نگر:جے کے این ایس : جموں و کشمیر حکومت نے منگل کو انکشاف کیا ہے کہ مختلف سرکاری آسامیوں کیلئے درخواستیں دینے والے اُمیدواروں سے گزشتہ برس جاب ٹیسٹ فیس کے طور پر 31 کروڑ روپے وصول کیے گئے ہیں ا۔حکومت نے واضح کیاکہ اس کے پاس ملازمت کے امتحان کی فیسوں کو ختم کرنے کی کوئی تجویز نہیں ہے۔اس دوران حکومت نے کہاکہ ستمبر2025 تک مرکز کے زیر انتظام علاقے جموں وکشمیر میں کل 3لاکھ61ہزار146 تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوان رجسٹرڈ ہیں۔جے کے این ایس کے مطابق پیپلز کانفرنس کے چیئرمین اورممبراسمبلی ہندوارہ سجادغنی لون کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال کے تحریری جواب میں، جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (جی اے ڈی) کے وزیر انچارج(وزیراعلیٰ) نے ایوان کو بتایا کہ جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن اور جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ کی جانب سے گزشتہ سال درخواست فیس کے طور پر مختلف سرکاری آسامیوں کیلئے درخواستیں دینے والے اُمیدواروں سے 31 کروڑ75لاکھ32ہزار400 روپے جمع کیے گئے ہیں۔وزیر موصوف نے کہا کہ فی الحال جاب ٹیسٹ فیس ختم کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔انہوںنے کہاکہ بھرتی کرنے والی ایجنسیوں کی طرف سے وصول کی جانے والی درخواست کی فیس کا مقصد امتحانات کے انعقاد میں ہونے والے انتظامی اور آپریشنل اخراجات کو پورا کرنا ہے۔انچارج وزیر نے کہاکہ ان میں اشتہارات، درخواستوں کی پروسیسنگ، امتحانی مواد کی پرنٹنگ، افرادی قوت کی تعیناتی، انفراسٹرکچر، اور بھرتی کے عمل میں شفافیت اور کارکردگی کو یقینی بنانے کے لیے درکار تکنیکی انتظامات شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ فیس کا ڈھانچہ معقول ہے اور ملک بھر میں مختلف سرکاری ریکروٹنگ ایجنسیوں کی طرف سے وصول کی جانے والی فیس کے برابر ہے۔اس حوالے سے ایکس پر ایک پوسٹ میں، جو پہلے ٹویٹر تھا، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون نے اپنے وعدوں کی خلاف ورزی پر حکومت پر تنقید کی۔انہوںنے پوسٹ میں لکھاکہ اپنے انتخابی منشور میں، نیشنل کانفرنس نے جموں وکشمیر میں SSRB، JKPSC، اور دیگر اداروں جیسی بھرتی ایجنسیوں کے لئے درخواست کی فیس معاف کرنے کا وعدہ کیا۔انہوںنے کہاکہ میں نے یہ جاننے کےلئے ایک سوال پوچھا کہ آیا وہ انتخابی وعدہ پورا ہوا ہے۔سجادلون نے مزید کہا کہ جی اے ڈی کے وزیر انچارج ، جو گاندربل سے ممبراسمبلی اور وزیر اعلیٰ بھی ہیں، نے ایوان کو بتایا کہ پچھلے سال اکتوبر میں حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے 31 کروڑ روپے فیس کی مد میں جمع کیے گئے ہیں۔انہوںنے کہاکہ یہ31 کروڑ روپے بہت سے ٹوٹے ہوئے وعدوں میں سے ایک اور جھوٹ اور فریب کی پگڈنڈی کی عکاسی کرتا ہے۔سجاد لون نے کہاکہ براہ کرم، ایک بار کے لیے، کیا وہ یہ تسلیم کر سکتے ہیں کہ انھوں نے جھوٹ بولا اور معافی مانگیں؟۔اس دوران جموں و کشمیر حکومت نے کہا ہے کہ ستمبر 2025 تک مرکز کے زیر انتظام علاقے میں کل 3لاکھ61ہزار146تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوان رجسٹرڈ ہیں۔حکومت کا کہنا ہے کہ کشمیر ڈویڑن میں 2.08 لاکھ سے زیادہ اور جموں ڈویڑن میں1.52 لاکھ سے زیادہ تعلیم یافتہ بے روزگار رجسٹرڈ ہیں۔ایوان کے سامنے رکھے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، سری نگر ضلع23,826 رجسٹرڈ بے روزگار نوجوانوں کےساتھ سرفہرست ہے، اس کے بعد اننت ناگ32,298، پلوامہ28.671، کٹھوعہ 26,798 اور کولگام ضلع میں21,446تعلیم یافتہ بے روزگاررجسٹرڈ ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رجسٹریشن کی سب سے کم تعداد کشتواڑ (8.870 اور ریاسی 12,376 اضلاع سے ہوئی ہے۔اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جموں وکشمیرمیں کل تعلیم یافتہ رجسٹرڈ بے روزگاروں میں 2لاکھ33ہزار845 مرد اور ایک لاکھ27ہزار301 خواتین ہیں۔حکومت نے کہا کہ محکمہ روزگار، مشن یوتھ،مشن یووا کے تحت، 1.37 لاکھ انٹرپرینیورشپ یونٹس کے قیام کے ذریعے4.25 لاکھ ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کے لیے کام کر رہا ہے، جو جموں و کشمیر کے تعلیم یافتہ نوجوانوں میں خود روزگار، اسٹارٹ اپس، اور ہنر مندی کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ ضلعی سطح کے روزگار اور مشاورتی مراکز نوجوانوں کی مصروفیت، جدت طرازی اور معاش سے متعلق آگاہی کو فروغ دینے کے لیے کیریئر میلے اور روزگار میلے بھی منعقد کر رہے ہیں۔
جموں و کشمیر
اگلے ہفتے کے آغاز میں کابینہ میں توسیع ہوسکتی ہے: عمر عبداللہ
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کو کہا کہ ان کی کابینہ میں ردوبدل اور توسیع اگلے ہفتے کے آغاز میں ہوسکتی ہے۔
انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقات کرکے ان سے اس کے لیے ایک تاریخ طے کرنے کی درخواست کی ہے۔ عمر عبداللہ نے بتایا کہ لیفٹیننٹ گورنر کچھ دن پہلے ہی سری نگر واپس آئے ہیں۔ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر کی خیریت بھی دریافت کی، کیونکہ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر کے ساتھ کئی معاملات پر بات چیت کی، جن میں کابینہ میں ردوبدل بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا، ”میں نے ان سے کابینہ میں توسیع کے لیے وقت مانگا ہے اور درخواست کی ہے کہ وہ اگلے ہفتے کے ابتدائی 2 سے 3 دنوں میں کوئی وقت طے کردیں۔”
انہوں نے کہا کہ وہ اپنی کابینہ کے ساتھیوں سے کچھ تبدیلیاں کرنے کے لیے کہیں گے اور جیسے ہی لیفٹیننٹ گورنر وقت طے کردیں گے، کابینہ میں توسیع کردی جائے گی۔ عمر عبداللہ نے بتایا کہ وزیروں کی فہرست تیار ہے اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ سے مشورے کے بعد اسے حتمی شکل دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا، ”فاروق صاحب یا میرے یا کسی اور کے دروازے پر دستک دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کون وزیر بنے گا، اس کا فیصلہ کیا جاچکا ہے۔” انہوں نے پارٹی کے ساتھیوں سے صبر و تحمل سے کام لینے کی اپیل کی۔
وزیر اعلیٰ نے وزیر بننے کے خواہش مند لوگوں کی جانب سے انہیں بڑی تعداد میں پیغامات بھیجنے اور رابطہ کرنے پر ناراضگی بھی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا، ”براہ کرم مجھے واٹس ایپ پیغامات نہ بھیجیں۔ مجھے واٹس ایپ پر بہت سارے پیغامات اور لمبے لمبے خطوط مل رہے ہیں۔ میں نہ تو ان کے سوانحی کوائف دیکھتا ہوں اور نہ ہی انہیں جانتا ہوں۔ فیصلہ کیا جاچکا ہے۔ براہ کرم مجھے نہ واٹس ایپ پیغامات بھیجیں، نہ فون کریں اور نہ ہی میرے دروازے پر دستک دیں۔ اگلے 2 سے 3 دنوں میں کابینہ میں ردوبدل ہوجائے گا۔”
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان7 days agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
