جموں و کشمیر
کشمیر: زعفران کی فصل پر زوال کی چھایا، کسان بے بسی کا شکار
سری نگر، وادیٔ کشمیر کی مشہور زعفران صنعت جو صدیوں سے یہاں کی معیشت، ثقافت اور شناخت کا حصہ رہی ہے، امسال شدید بحران سے دوچار ہے۔
کاشتکاروں کے مطابق اگرچہ اس سال موسم زعفران کی کاشت کے لیے موافق رہا، تاہم پیداوار میں غیر معمولی کمی نے ان کو سخت مالی مشکلات کے بھنور میں پھنسا دیا ہے۔
انہوں نے امسال پیداوار میں غیر معمولی کمی ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مختلف وجوہات بیان کی ہیں۔
پلوامہ کے مشہور زعفران کاشتکار نثار احمد نے یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا: ‘زعفرانی صنعت کی تباہی میں سب سے بڑا کردار متعلقہ سرکاری محکموں کی ناقص منصوبہ بندی کا ہے،اگر حکومت نے بروقت اریگیشن سسٹم (آبپاشی کے نظام) کو فعال بنایا ہوتا، تو آج وادی میں زعفران کی یہ قیمتی صنعت زوال کا شکار نہ ہوتی’۔
انہوں نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا: ‘ سال 2010-11 میں مرکزی سرکار نے ’زعفران مشن‘ کے تحت کروڑوں روپے کی خطیر رقم جموں و کشمیر حکومت کو فراہم کی تھی تاکہ زعفرانی اراضی میں آبپاشی کے جدید نظام کو متعارف کرایا جائے’۔
انہوں نے کہا: ‘تب بھی اریگیشن کا مسئلہ اہم تھا اور آج بھی وہی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ متعلقہ ایجنسیاں اس مشن کو کامیابی کے ساتھ آگے بڑھانے میں ناکام رہیں’۔
نثار احمد نے بتایا: ‘زعفران مشن کا مقصد یہ تھا کہ پانی کی فراہمی کو یقینی بنا کر زعفرانی کھیتوں کو خشک سالی کے اثرات سے محفوظ رکھا جائے۔ تاہم، زمینی سطح پر اس منصوبے کا کوئی نمایاں اثر دیکھنے کو نہیں ملا۔کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود نہ تو آبپاشی کے نظام میں بہتری آئی، نہ ہی زعفرانی زمینوں کی دیکھ بھال کے لیے کوئی مؤثر قدم اٹھایا گیا’۔
انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی نے اس صنعت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے،گزشتہ سال بھی پیداوار اتنی زیادہ نہیں تھی جتنی سرکاری اعداد و شمار میں ظاہر کی گئی۔
ان کے مطابق، غیر متوقع بارشوں، خشک سالی اور درجہ حرارت میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ نے زعفران کے پھولوں کی افزائش پر براہِ راست منفی اثر ڈالا ہے۔
انہوں نے واضح طور پر کہا: ‘پانپور اور اس کے ملحقہ علاقوں میں کسی بھی جگہ نہ تو کوئی بڑی انڈسٹری موجود ہے اور نہ ہی زمین کی کھدائی کی جا رہی ہے’۔
ان کے بقول، اصل مسئلہ پانی کی عدم دستیابی اور زمین کی کمزور ہوتی زرخیزی ہے، نہ کہ صنعتی سرگرمیاں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر حکومت زعفران کے کھیتوں کو پانی فراہم کرے تو کیا اس صنعت کو دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے، تو نثار احمد نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ‘اب یہ صنعت زوال پذیر ہو چکی ہے۔ اگر حکومت آج سے بھی کام شروع کرے، تو بھی اس کو بچانا بہت مشکل ہے۔ زمین کی زرخیزی ختم ہو رہی ہے، اور پھولوں کی پیداوار میں وہ قوت نہیں رہی جو پہلے تھی’۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال ایک کنال زمین سے تقریباً دو کلو زعفران کے پھول نکلے تھے، لیکن امسال صرف آدھا کلوگرام پھول ہی حاصل ہوا۔یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ زعفران کی صنعت کتنی تیزی سے تباہی کی جانب بڑھ رہی ہے۔
پلوامہ ضلع کے پانپور علاقے کے کسان مشتاق احمد، جو گذشتہ دو دہائیوں سے زعفران کی کاشت سے وابستہ ہیں، نے یو این آئی کو بتایا کہ اس سال کسانوں میں امید تھی کہ موسم کی بہتر صورتحال کے باعث فصل عمدہ ہوگی، مگر نتیجہ اس کے برعکس نکلا۔ ان کے بقول، ’امسال بارش بھی مناسب ہوئی، گرمی بھی موسم کے مطابق رہی، اور تمام قدرتی حالات سازگار تھے، اس کے باوجود زعفران کے پھول بہت کم نکلے۔
زعفران کشمیر کی ایک قدیم ترین اور قیمتی فصل مانی جاتی ہے، جس کی کاشت بنیادی طور پر پانپور، کھریو، وئن، اور پلوامہ کے دیگر علاقوں میں ہوتی ہے۔ ’زعفران کشمیر‘ کو بین الاقوامی سطح پر جغرافیائی اشاریہ جی آئی ٹیگ بھی حاصل ہے، جو اس کی انفرادیت اور معیار کو عالمی سطح پر تسلیم کرتا ہے۔
مشتاق احمد نے یو این آئی کو بتایا: ‘ اس سال قدرتی طور پر ہر چیز بہتر رہی۔ موسم بھی ساز گار رہا اور ہم نے امید کی تھی کہ اس بار زعفران کی اچھی فصل نکلے گی، مگر ایسا نہیں ہوا’۔
انہوں نے کہا: ‘ہمارے پاس 16 کنال زعفران کی اراضی ہے۔ پچھلے سال اس اراضی سے تقریباً 30 کلوگرام زعفران کے پھول نکلے تھے، جب کہ اس سال بمشکل ایک کلوگرام پھول حاصل ہوئے ہیں’۔
مشتاق احمد کے مطابق زعفران کی کم پیداواری کی سب سے بڑی وجہ ماحولیاتی آلودگی ہے۔
انہوں نے کہا: ‘ پانپور اور اس کے مضافات میں اراضی مافیا سرگرم ہے جو قیمتی زعفرانی زمینوں سے مٹی نکال کر دیگر مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے’۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ‘آس پاس علاقوں میں قائم فیکٹریاں بھی فضائی اور زمینی آلودگی کا باعث بن رہی ہیں، جس سے زعفران کی افزائش کی صلاحیت کم ہوتی جا رہی ہے’۔
مشتاق احمد نے بتایا کہ حال ہی میں چیف سیکریٹری کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں زعفرانی اراضی کی کھدائی کے خلاف سخت کارروائی کے احکامات جاری کیے گئے۔
انہوں نے کہا: ‘یہ ایک خوش آئند قدم ہے، مگر زمینی سطح پر اب تک کوئی نمایاں تبدیلی نظر نہیں آتی۔ کھدائی کرنے والوں کے خلاف کارروائی صرف کاغذوں تک محدود ہے’۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر حکومت نے فوری اور ٹھوس اقدامات نہ کیے تو زعفران کی یہ صنعت ’مکمل زوال‘ کا شکار ہو جائے گی۔
ان کا کہنا تھا: ‘سرکار کو چاہیے کہ پانپور اور ملحقہ علاقوں میں زعفرانی زمینوں کی کھدائی پر مکمل پابندی عائد کرے، فیکٹریوں سے نکلنے والے کوڑے کرکٹ کو کنٹرول کرے، اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے عملی منصوبہ بندی کرے’۔
مشتاق احمد کے مطابق، سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کے دورِ حکومت میں زعفرانی اراضی پر کسی بھی قسم کی تعمیر یا زمین کے استعمال میں تبدیلی پر مکمل پابندی تھی۔اس وقت غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کیا گیا تھا اور زعفران کے تحفظ کے لیے حقیقی کوششیں کی گئی تھیں، مگر آج صورت حال اس کے برعکس ہے
انہوں نے مزید کہا: ‘متعلقہ محکمے یا تو غیر فعال ہیں یا صرف خانہ پوری کر رہے ہیں۔ اس صنعت سے وابستہ ہزاروں خاندان اس وقت مالی بدحالی کا شکار ہیں’۔
مشتاق احمد کے مطابق، انہوں نے اس سال زعفران کی کاشت پر تقریباً دو لاکھ روپے خرچ کیے، مگر ساری رقم ضائع ہو گئی۔
انہوں نے کہا: ‘پانی دینا، زمین صاف کرنا، کھاد ڈالنا، مزدور رکھنا سب کچھ کیا، مگر نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔ اس سال صرف دو فیصد پیداوار حاصل ہوئی ہے، جو کچھ نہ ہونے کے برابر ہے’۔
ماہرینِ زراعت کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو زعفران کی زمینیں آنے والے پانچ سے سات برسوں میں بنجر ہو سکتی ہیں۔
دریں اثنا، یو این آئی نے اس حوالے سے جب چیف ایگریکلچر آفیسر پلوامہ، وحید الرحمن سے رابطہ کیا تو انہوں نے تسلیم کیا کہ زعفران کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ان کے مطابق، اس کی بنیادی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے۔
موصوف آفیسر کے مطابق گزشتہ سال موسمِ سرما میں برف باری نہ ہونے کے برابر تھی، جس کا براہِ راست اثر زمین کی نمی اور زرخیزی پر پڑا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ بھی کئی دیگر عوامل ہیں جو اس فصل پر منفی اثرات مرتب ہونے کے باعث ہیں۔
یو این آئی ارشید بٹ، ایم افضل
جموں و کشمیر
انتخابی شکست کے خوف سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات ٹال رہی ہے نیشنل کانفرنس: سنیل شرما
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے جمعرات کو نیشنل کانفرنس حکومت پر انتخابی شکست کے خوف سے پنچایت اور بلدیاتی انتخابات میں جان بوجھ کر تاخیر کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکمراں جماعت نہیں چاہتی کہ دوسری جماعتوں کو زمینی سطح پر نمائندگی ملے۔
بی جے پی کے سابق تنظیمی جنرل سکریٹری اشوک کول کے اعزاز میں پارٹی کی جموں و کشمیر شاخ کی جانب سے منعقدہ الوداعی تقریب کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مسٹر شرما نے کہا کہ مقامی بلدیاتی انتخابات عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کے لیے ‘لٹمس ٹیسٹ’ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے حکومت پر بجلی، ایل پی جی سلنڈر، ملازمتوں اور راشن کے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہنے کا الزام لگایا۔
مسٹر شرما نے کہاکہ ”عبداللہ خاندان کے تکبر اور ‘دبنگئی’ کی وجہ سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات نہیں ہونے دیے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ وزیر اعلیٰ نے اسمبلی میں کہا کہ وہ انتخابات نہیں کرائیں گے۔ ان کے والد فاروق عبداللہ صاحب بھی 2 سے 3 بار کہہ چکے ہیں کہ پنچایت انتخابات نہیں ہوں گے۔ نیشنل کانفرنس نہیں چاہتی کہ کوئی اور یہاں کے عوام کی نمائندگی کرے۔ وہ جانتے ہیں کہ انہیں منہ کی کھانی پڑے گی اور انہیں ڈر ہے کہ عوام ان سے ان کے دھوکے کا حساب مانگیں گے۔”
لداخ میں پنچایت انتخابات کے اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر شرما نے سوال کیا کہ جموں و کشمیر میں ایسے انتخابات کیوں نہیں کرائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ”یہ اس حکومت کے لیے ایک سخت امتحان ہوگا۔ جس حکومت نے بجلی، سلنڈر، ملازمت اور راشن کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیا ہے، اس کا امتحان پنچایتی راج اور بلدیاتی انتخابات کے ذریعے لیا جانا چاہیے۔”
مرکزی وزیر داخلہ کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے، جس میں کہا گیا تھا کہ کشمیر میں دہشت گردی ختم ہو گئی ہے، مسٹر شرما نے کہا کہ گزشتہ 5 سال میں دہشت گردی میں زبردست کمی آئی ہے۔ انہوں نے اس کا سہرا مرکزی حکومت اور خاص طور پر وزارت داخلہ کے سر باندھا۔ مسٹر شرما نے کہا کہ ”گزشتہ 2 سال میں ایک بھی کشمیری نوجوان کسی دہشت گرد تنظیم میں شامل نہیں ہوا ہے، جو دہشت گردی کے خاتمے کی ایک بڑی علامت ہے۔”
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا لداخ کی طرح کشمیر میں بھی مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جا سکتے ہیں، مسٹر شرما نے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ملزم افراد کا لداخ کے مظاہرین سے موازنہ کرنے کی کوشش کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جو لوگ اس وقت جیل میں ہیں، ان کے خلاف سابقہ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس حکومتوں کے دور میں عوامی تحفظ قانون کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔
مسٹر شرما نے واضح کیا کہ بی جے پی بے گناہوں کو انصاف دلانے کی حمایت کرے گی، لیکن ملک کے خلاف تشدد کرنے والوں کو بے قصور نہیں کہا جا سکتا۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکن گرفتار، آئی ای ڈی اور پستول برآمد
سری نگر، شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع میں سکیورٹی کارروائی کے دوران 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکنوں (او جی ڈبلیوز) کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے جمعرات کو بتایا کہ ان کے قبضے سے 2 دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) اور گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ برآمدگیاں گزشتہ شام بارہمولہ کے ڈیلینا علاقے میں کی گئیں۔ گرفتار کیے گئے دونوں افراد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ شمالی کشمیر کے سوپور کے چنکی پورہ علاقے کے رہنے والے ہیں۔
سرکاری ذرائع نے بتایاکہ ”ان کے قبضے سے 2 آئی ای ڈی، ایک پستول، گولہ بارود کے 10 کارتوس اور 6500 روپے برآمد کیے گئے ہیں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے مبینہ روابط کا پتہ لگانے اور معاملے کی دیگر تفصیلات معلوم کرنے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔
گرفتاریوں اور برآمدگی کے سلسلے میں پولیس کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔.
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے ‘میکانکی’ طریقے سے کی گئی احتیاطی حراست پر سوال اٹھائے، سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو طلب کیا
سری نگر، جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے عوامی تحفظ قانون (پی ایس اے) کے تحت ‘میکانکی’ (بغیر سوچے سمجھے) اور لاپروائی سے جاری کیے گئے احتیاطی حراست کے حکم پر سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ جسٹس وسیم صادق نرگل کی بنچ نے سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت دی ہے۔ گزشتہ ہفتے ہیبیئس کارپس کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس نرگل نے کہا کہ سری نگر کے زبیر امین بنگرو کے خلاف حراست کی وجوہات میں ٹھوس معلومات موجود نہیں ہیں۔ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے پولیس کی جانب سے فراہم کردہ مواد کا آزادانہ طور پر جائزہ لیا تھا یا نہیں۔
عدالت نے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت دی ہے کہ وہ پولیس ڈوزیئر، حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر کے سامنے پیش کیے گئے مواد اور متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ ذاتی طور پر پیش ہوں، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ حراست کا حکم دیتے وقت کن بنیادوں پر غور کیا گیا اور افسر کس طرح مطمئن ہوا۔
عدالت نے سخت الفاظ میں افسر سے سوال کیا کہ ”انہوں نے مناسب غور و فکر کیے بغیر، اتنی لاپروائی اور میکانکی انداز میں حراست کا یہ حکم کیوں جاری کیا؟”
عدالت نے ایک اہم تشویش یہ بھی ظاہر کی کہ حراست کی وجوہات کے دوسرے پیراگراف میں ”مذکورہ دہشت گرد” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے، حالانکہ اس سے پہلے کسی دہشت گرد کی شناخت یا اس کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔
عدالت نے پایا کہ پہلے پیراگراف میں صرف رسمی طور پر یہ کہا گیا ہے کہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے معاملے پر غور کیا ہے، لیکن اس میں کسی بھی دہشت گرد کی شناخت نہیں بتائی گئی ہے۔
اس تضاد کی جانب توجہ دلاتے ہوئے جسٹس نرگل نے تبصرہ کیا کہ الفاظ کی ترتیب سے ”واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ حراست کی وجوہات تیار کرتے وقت پولیس ڈوزیئر (دستاویزات) میں دی گئی معلومات کو مناسب غور و فکر کے بغیر جوں کا توں نقل کر لیا گیا ہے۔” عدالت نے کہا کہ یہ بات ”اس شبے کو مضبوط کرتی ہے کہ آیا حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے معاملے کی آزادانہ جانچ کرکے حراست کی وجوہات طے کیں یا محض پولیس ڈوزیئر میں درج باتوں کو دہرا دیا۔”
حراست کی وجوہات میں بنگرو پر الزام لگایا گیا تھا کہ ان کے دہشت گردوں کے ساتھ قریبی تعلقات تھے، وہ دہشت گردوں کو لاجسٹک اور اخلاقی مدد فراہم کرتے تھے، انہوں نے اپنے گھر اور دیگر مقامات کو دہشت گردوں کے چھپنے کے ٹھکانوں کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی تھی اور وہ ایک دہشت گرد نیٹ ورک کے ساتھیوں کے رابطے میں تھے۔ تاہم، عرضی گزار کی وکیل ندا نذیر نے دلیل دی کہ یہ الزامات مبہم ہیں اور ان میں ضروری تفصیلات کی کمی ہے۔ ان میں دہشت گردوں کی شناخت، نیٹ ورک کے ساتھیوں کے نام، چھپنے کے ٹھکانوں کے طور پر استعمال ہونے والی جگہوں کی تفصیلات اور ان مخصوص واقعات کا ذکر نہیں ہے جن میں مبینہ طور پر مدد فراہم کی گئی تھی۔
وکیل نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ ان افراد کی شناخت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں، جنہیں مبینہ طور پر بنگرو نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے لیے ترغیب دی تھی یا اکسایا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس بات کی بھی کوئی واضح تفصیل موجود نہیں ہے کہ ان مبینہ کارروائیوں سے ریاست کی سلامتی پر کیا منفی اثر پڑا۔
عدالت نے اپنی ابتدائی جانچ میں اس دلیل میں ”خاصا وزن” پایا کہ ان وجوہات میں اس وضاحت اور تفصیل کا فقدان ہے، جس کی توقع کسی شخص کی شخصی آزادی سلب کرنے والے حکم میں کی جاتی ہے۔
عدالت نے تبصرہ کیا کہ ”محض الزام کی سنگینی متعلقہ مواد اور آزادانہ غور و فکر کی ضرورت کی جگہ نہیں لے سکتی۔” عدالت نے احتیاطی حراست کے احکامات کے حوالے سے ایک وسیع تر تشویش بھی ظاہر کی۔
عدالت نے اس معاملے سے عین پہلے فہرست میں شامل ایک اور ہیبیئس کارپس کی عرضی کا بھی ذکر کیا۔ اس معاملے میں بھی حراست کا ایسا حکم سامنے آیا تھا جو بادی النظر میں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر نے خود کوئی آزادانہ جائزہ لینے کے بجائے صرف پولیس رپورٹ (ڈوزیئر) کو جوں کا توں نقل کر دیا ہو۔
عدالت نے کہا کہ اس مماثلت نے ”ایک تشویش ناک سوال” پیدا کر دیا ہے: کیا احتیاطی حراست کے اختیارات کا استعمال مواد کے آزادانہ اور غیر جانب دارانہ جائزے کے ذریعے کیا جا رہا ہے، یا محض پولیس کے دعوؤں کو بغیر سوچے سمجھے دہرایا جا رہا ہے؟
تاہم، عدالت نے تسلیم کیا کہ پولیس رپورٹ (ڈوزیئر) پر غور کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ اس بات پر زور دیا کہ یہ حراست کا حکم جاری کرنے والے افسر کی اس ذمہ داری کا متبادل نہیں ہو سکتی کہ وہ مواد کی آزادانہ جانچ کرے، اس کی مطابقت کا جائزہ لے اور قانون کے مطابق خود مطمئن ہو۔
احتیاطی حراست سے متعلق آئینی تحفظات کو دہراتے ہوئے عدالت نے کہا کہ کسی شخص کو باقاعدہ فوجداری مقدمے کے بغیر حراست میں رکھنے کے غیر معمولی اختیار کے استعمال کے لیے اعلیٰ ترین درجے کی آئینی ذمہ داری اور طریقۂ کار سے متعلق احتیاط برتنا ضروری ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ ”ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 21 اور 22 میں شامل تحفظات محض دکھاوے کی رسمی کارروائیاں نہیں ہیں۔” عدالت نے واضح کیا کہ محض فوجداری مقدمہ نہ ہونے سے احتیاطی حراست کی قانونی حیثیت کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ تاہم، متعلقہ اتھارٹی کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ قانونی تقاضے آزادانہ طور پر اور قانون کے مطابق پورے کیے گئے ہیں۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
