ہندوستان
آپریشن سندور میں ملکی ہتھیاروں کی شاندار کارکردگی دفاعی اداروں کی قابلِ اعتماد صلاحیت کا ثبوت : راج ناتھ
نئی دہلی، وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے آتم نربھر بھارت کے وژن کو آگے بڑھانے میں دفاعی شعبے کے سرکاری اداروں کے رول کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن سندور میں ملک میں تیار کردہ پلیٹ فارموں کی شاندار کارکردگی ان اداروں کی قابلیت ہونے اور اس کی صلاحیت کو ثابت کرتی ہے۔
وزیر دفاع ڈی پی ایس یو بھون ، ورلڈ ٹریڈ سینٹر ، نوروجی نگر ، نئی دہلی میں ڈیفنس پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگز (ڈی پی ایس یو) کی ایک جامع جائزہ میٹنگ کی صدارت کررہے تھے ۔
میٹنگ میں چار ڈی پی ایس یو-میونشنز انڈیا لمیٹڈ (ایم آئی ایل) آرمرڈ وہیکلز نگم لمیٹڈ (اے وی این ایل) انڈیا آپٹل لمیٹڈ (آئی او ایل) اور ہندوستان شپ یارڈ لمیٹڈ (ایچ ایس ایل) کو منی رتن (زمرہ-1) کا درجہ دیے جانے پر مبارکباد دی گئی ۔
حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے ہندوستان کے دفاعی مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے اور خود کفیل ہندوستان کے وژن کو آگے بڑھانے میں ڈی پی ایس یو کے ثابت قدم تعاون کی تعریف کی ۔ انہوں نے تنظیموں کو ان کی مسلسل لگن اور عمدہ کارکردگی کے لیے مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ’’ ہمارے تمام 16 ڈی پی ایس یو ملک کی خود کفالت کے مضبوط ستونوں کے طور پر کام کر رہے ہیں ۔ آپریشن سندور جیسی کارروائیوں میں ان کی عمدہ کارکردگی ہمارے مقامی پلیٹ فارموں کےاعتماداور صلاحیت کی گواہی دیتی ہے ۔‘‘
مسٹر راج ناتھ سنگھ نے منی رتن کا درجہ حاصل کرنے کے لیے ایچ ایس ایل ، اے وی این ایل ، آئی او ایل اور ایم آئی ایل کی تعریف کی اور اسے دفاعی شعبے میں ان کی بڑھتی ہوئی کارکردگی ، خود مختاری اور تعاون کی عکاسی قرار دیا ۔ انہوں نے اس بات پربھی روشنی ڈالی کہ 2021 میں آرڈیننس فیکٹری بورڈ کو سات نئے ڈی پی ایس یو میں تبدیل کرنے سے زیادہ فعال آزادی ، اختراع اور مسابقت کا آغاز ہوا ۔ وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ان چار ڈی پی ایس یوز کو نیا دیا گیا منی رتن کا درجہ ان کی صلاحیت کو بڑھانے ، جدید کاری اور نئے منصوبوں اور تعاون کو تلاش کرنے کے لیے بااختیار بنائے گا ، جس میں مشترکہ منصوبے اور سرکاری اور نجی شعبے کے شراکت داروں کے ساتھ انضمام شامل ہیں ۔
اس شعبے کی قابل ذکر کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے مسٹرراج ناتھ سنگھ نے اس بات پر زور دیا کہ سال 25-2024 میں ہندوستان نے 1.51 لاکھ کروڑ روپے کی دفاعی پیداوار حاصل کی ۔ جس میں ڈی پی ایس یوز کی کل 71.6 فیصد شراکت داری ہے ۔اس سے دفاعی برآمدات میں بڑا اضافہ دیکھنے کو ملا اوریہ بڑھ کر 6,695 کروڑ روپے تک پہنچ گئیں ، جس سے ہندوستان کے مقامی نظام پر عالمی اعتمادکے قیام کی نشاندہی ہوتی ہے ۔ وزیر دفاع نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے مزید کہا کہ یہ واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ’میڈ ان انڈیا‘کے تصورسےدفاعی مصنوعات کو عالمی سطح پر عزت مل رہی ہےجس سے اس کے برآمدات کے امکانات روشن ہو رہے ہیں ۔
اس شعبے میں ترقی کی اس رفتار کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے تمام ڈی پی ایس یو پر زور دیا کہ وہ اہم ٹیکنالوجیز کی تیزی سے مقامی سطح پر ترقی ، جامع تحقیق و ترقی ، مصنوعات کے معیار میں اضافہ ، بروقت فراہمی اور برآمدات کو بڑھانے کے لیے ایک تزویراتی نقطۂ نظر کو اپنانے پر توجہ دیں ۔ انہوں نے ڈی پی ایس یوز کو ہدایت دی کہ وہ اگلی جائزہ میٹنگ میں پیش کیے جانے والے قابل پیمائش سنگ میل کے ساتھ واضح مقامی کاری اور آر اینڈ ڈی روڈ میپ کی وضاحت کریں ۔ انہوں نے کہا کہ ’’حکومت کی جانب سے میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جہاں بھی خصوصی مداخلت یا مدد کی ضرورت ہوگی اسے فوری طور پر فراہم کیا جائے گا‘‘ ۔
تقریب کے ایک حصے کے طور پر ڈی پی ایس یوز کے درمیان تین بڑے مفاہمت ناموں کا تبادلہ کیا گیا جو تعاون اور خود انحصاری کے جذبے کی عکاسی کرتے ہیں ۔ ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) اور بھارت ڈائنامکس لمیٹڈ (بی ڈی ایل) نے ینترا انڈیا لمیٹڈ (وائی آئی ایل) کے ساتھ ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے تاکہ اس کی جدید کاری کی کوششوں میں مدد ملے اور 10,000 ٹن فورجنگ پریس کی سہولت قائم کی جائے، جو ایلومینیم اور دفاعی شعبے میں استعمال ہونے والی مرکب دھاتوں کے لیے درآمدی انحصار کو کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ایچ اے ایل نے وائی آئی ایل کو 435 کروڑ روپے کی بلا سود پیشگی رقم دینے کا عہد کیا ہے ، جبکہ بی ڈی ایل دس سالوں میں 3000 میٹرک ٹن تک کا مستقل کام فراہم کرے گا ۔ تیسرے مفاہمت نامے پر مدھانی میں میٹل بینک کی تشکیل کے لیے دستخط کیے گئے تاکہ قومی اہمیت کے حامل دفاعی منصوبوں کے لیے اہم خام مال کی بلا رکاوٹ دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے ۔
وزیر دفاع نے تحقیق و ترقی کے اقدامات کی ایک سیریز کی نقاب کشائی کی ، جس میں ایچ اے ایل آر اینڈ ڈی مینوئل بھی شامل ہے ، جس کا مقصد ڈیجیٹائزیشن ، دانشورانہ املاک پیدا کرنے اور ہندوستانی تعلیمی اداروں کے ساتھ تعاون کے ذریعے تحقیق و ترقی کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط کرنا ہے ۔ ڈی پی ایس یوز کا آر اینڈ ڈی روڈ میپ جاری اقدامات اور مستقبل کی حکمت عملیوں کو مربوط کرتا ہے ، جو لائسنس یافتہ پیداوار سے دیسی ڈیزائن اور ترقی کی طرف تبدیلی کو نشان زد کرتا ہے ، جو دفاع میں تکنیکی خود کفالت کی طرف ایک فیصلہ کن قدم ہے ۔
پائیدار دفاعی مینوفیکچرنگ کی سمت میں ایک بڑے قدم کے طور پر وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے سویم-پائیدار اور سبز دفاعی مینوفیکچرنگ کا آغاز کیا ، جو ایک جامع مجموعہ ہے جو ڈی پی ایس یوز میں گرین ٹرانزیشن کو ظاہر کرتا ہے ۔ جامع توانائی کی کارکردگی کے ایکشن پلان (سی ای ای اے پی) 2023 میں شامل سویم توانائی کی کارکردگی کو بڑھانے ، قابل تجدید توانائی کو اپنانے کو بڑھانے اور دفاعی پیداوار کے ماحولیاتی نظام میں کاربن کے اخراج کو کم کرنے کی کوششوں کی تفصیلات پیش کرتا ہے ۔ سورن ڈیش بورڈ اور ڈی پی ایس یو انرجی ایفیشنسی انڈیکس جیسے ڈیجیٹل ٹولز کی مدد سے یہ پہل خود انحصاری کے ساتھ پائیداری کو یکجا کرنے کے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتی ہے ۔
وزیر دفاع نے 100فیصد سبز توانائی کے استعمال کے حصول کے لئے آئی او ایل اور بھارت الیکٹرانکس لمیٹڈ (بی ای ایل) کو بھی مبارکباد دی ۔ آئی او ایل نے ستمبر 2025 سے مکمل طور پر قابل تجدید توانائی کا رخ کیا ہے ، جس سے مالی سال 26-2025 کی پہلی سہ ماہی میں 8669 ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی آئی ہے اور 26.36 لاکھ روپے کی بچت ہوئی ہے ۔ بی ای ایل ایک نورتن ڈی پی ایس یو ، جنوری 2025 میں آر ای 100 کا سنگ میل حاصل کرنے والا پہلا ادارہ بن گیا ، جس نے اپنے دائرہ کار-2 کے اخراج کو 15,000 میٹرک ٹن سے کم کر کے مطلق صفر کر دیا ، جو اس کے نیٹ زیرو کے اہداف کی طرف ایک اہم پیش رفت ہے ۔
مسٹر سنگھ نے ہندوستان کے دفاعی مینوفیکچرنگ ماحولیاتی نظام کو آگے بڑھانے میں ڈی پی ایس یو کی قیادت ، اختراع اور عزم کی تعریف کی ۔ انہوں نے تمام ڈی پی ایس یو کو قومی سلامتی اور اقتصادی ترقی میں ان کے مسلسل تعاون کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ آئیے ہم سب نہ صرف دفاعی پیداوار میں ہندوستان کو خود کفیل بنانے کا عزم کریں بلکہ اسے عالمی مینوفیکچرنگ مرکز کے طور پر بھی قائم کریں ۔
نیا قائم کردہ ڈی پی ایس یو بھون ایک جدید ترین سہولت سے لیس ہے جس کا تصور راج ناتھ سنگھ اور دفاع کے وزیر مملکت سنجے سیٹھ کی قیادت میں کیا گیا ہے ۔ ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس پروڈکشن کے ذریعہ تیار کردہ ، یہ تمام 16 ڈی پی ایس یوز کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے تاکہ تعاون ، اختراع اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے جدید کانفرنس رومز ، تخروپن سہولیات اور ایک نمائشی علاقے سے لیس ، بھون ڈی پی ایس یوز کی طاقت کو مستحکم کرنے اور ملکی اور بین الاقوامی شراکت داروں کو ہندوستان کی دفاعی مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے میں مدد کرے گا ۔
اس موقع پروزیر دفاع کے وزیر مملکت دفاع سنجے سیٹھ ، سکریٹری (دفاعی پیداوار) سنجیو کمار ، تمام ڈی پی ایس یو کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر اور وزارت دفاع کے سینئر عہدیدارتھے ۔
یو این آئی۔ این یو۔
ہندوستان
جرمنی کے ایک مطالعاتی و تحقیقی ادارے میں ہندوستان کے لیے خصوصی مرکز قائم
نئی دہلی، جرمنی میں بین الاقوامی تعلقات کے مطالعے اور تحقیق کرنے والے برلن کے خودمختار ادارے کونسل آن فارن ریلیشنز (ڈی جی اے پی) میں ہندوستان سے متعلق ایک مرکز قائم کیا گیا ہے۔
‘انڈیا سینٹر’ کے نام سے قائم اس مرکز کی افتتاحی تقریب میں ہندوستان کے وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل اور جرمنی کی وزیر برائے اقتصادی امور و توانائی کیتھرینا ریشے نے شرکت کی۔ مسٹر گوئل اس وقت جرمنی اور نیدرلینڈز کے سرکاری دورے پر ہیں۔
مسٹر گوئل نے کہا کہ ڈی جی اے پی میں ہندوستان کے لیے قائم کیا گیا یہ مرکز ہندوستان اور جرمنی کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیر تجارت نے کہا، ”ہماری ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی صلاحیتیں ہمارے بلند حوصلہ اقتصادی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ اس شراکت داری کو مزید رفتار دینے کا کام کرے گا۔”
اس موقع پر مسٹر گوئل نے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں سے اپیل کی کہ وہ باہمی خوشحالی اور ترقی کو مزید آگے بڑھانے کے لیے تعاون کے نئے راستے تلاش کریں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week agoکانگریس نے ایس آئی آر پر امت شاہ سے تین سوالوں کا جواب مانگا
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
