تازہ ترین
دہلی دھماکے کا اثر: جے کے اسٹوڈنٹس ایسوسیشن کا کشمیری طلبہ پر ‘اجتماعی شبہ’ کا الزام؛ وزیر اعظم سے مداخلت کی اپیل
JKSA نے پیر کے روز الزام لگایا کہ دہلی میں لال قلعہ دھماکے کے بعد شمالی ہندوستان کی متعدد ریاستوں میں کشمیری طلبہ کو پروفائلنگ، بے دخلی اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایسوسیشن نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کی کہ وہ عوامی طور پر مداخلت کریں اور کشمیری طلبہ کی بدنامی کے اس سلسلے کو روکیں۔
پریس کلب آف انڈیا میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایسوسیشن کے نیشنل کنوینر ناصر کھویہامی نے کہا کہ “حملے کے بعد ایک مخصوص برادری کو نشانہ بنایا جا رہا ہے” اور یہ کہ اتر پردیش، ہریانہ، راجستھان اور دہلی کی یونیورسٹیوں اور رہائشی علاقوں میں کشمیری طلبہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری طلبہ بھارت کی جمہوریت اور مرکزی دھارے کی اقدار پر یقین رکھتے ہیں اور ہر طرح کی دہشت گردی کو رد کرتے ہیں۔ “اس کے باوجود انہیں حکام اور مقامی لوگوں کی جانب سے پروفائلنگ اور بدنامی کا سامنا ہے۔ کئی مکان مالکان نے کشمیری کرایہ داروں سے کمرے خالی کرنے کو کہا ہے، جس کے باعث متعدد طلبہ خوف کے مارے واپس گھر لوٹ گئے ہیں۔”
کھویہامی نے دہلی دھماکے میں بے قصور جانوں کے ضیاع پر گہرا دکھ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ انہوں نے کہا:
“ہم اس بربریت کو پوری طرح مذمت کرتے ہیں۔ ہماری دعائیں لواحقین کے ساتھ ہیں۔ ان کا درد ہمارا درد ہے، ان کا غم پورے ملک کا غم ہے۔ یہ سانحہ ہر کشمیری گھر تک پہنچا ہے۔”
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کشمیری طلبہ نے ہمیشہ علیحدگی پسندی، انتشار پسندی، بنیاد پرستی اور ہر اس نظریے کو مسترد کیا ہے جو بھارت کو کمزور کرے۔ “ہم نے کبھی تشدد کی حمایت نہیں کی۔ قومی اتحاد، امن، ہم آہنگی اور یکجہتی کے لیے ہماری وابستگی اٹل ہے۔”
کھویہامی نے کہا کہ کشمیر کے لوگوں نے ملک کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ “ہماری قوم نے سرحدوں پر ملک کا دفاع کیا ہے، اس کی خودمختاری کے لیے خون دیا ہے۔ نسل در نسل کشمیریوں نے بھارت کی وحدت اور ترقی پر یقین رکھتے ہوئے سختیاں جھیلی ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ کشمیری ملک بھر میں سفر کرتے رہے ہیں اور انہیں ہر جگہ عزت ملی ہے۔ “ہم نے کبھی اپنی شناخت کی وجہ سے امتیاز محسوس نہیں کیا۔ کئی خاندان دہشت گردی کا بار بار شکار رہے ہیں، جس سے ہماری تشدد کے خلاف نفرت مزید مضبوط ہوتی ہے۔”
کھویہامی نے کہا کہ ایسوسی ایشن حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کو تیار ہے تاکہ مجرموں کو سخت سزا مل سکے۔ “جو بھی اس گھناؤنے جرم میں ملوث ہے، وہ نہ کشمیر کا دوست ہے، نہ کسی مذہب کا۔ دہشت گردی کا کوئی دین، کوئی شناخت نہیں ہوتی۔”
انہوں نے واضح کیا کہ ہر کشمیری، بغیر کسی شرط کے، بھارتی ہے اور دھماکے کے بعد کشمیری طلبہ کے ساتھ ہونے والی ہراسانی، نفرت اور پروفائلنگ کو مسترد کرتا ہے۔ “کشمیری طلبہ ملک کی یونیورسٹیوں، اسپتالوں، لیبارٹریوں، ٹیکنالوجی سینٹروں اور اداروں میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ وہ حفاظت اور عزت کے حق دار ہیں۔”
کھویہامی نے کہا کہ اگرچہ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو آزادانہ تحقیقات کرنی چاہیے، لیکن معصوم کشمیریوں پر اجتماعی شبہ نہیں ڈالنا چاہیے۔ “اجتماعی الزام قومی سلامتی کو مضبوط نہیں کرتا۔ اتحاد، اعتماد اور انصاف کرتے ہیں۔ ہمیں اپنے اداروں پر مکمل بھروسہ ہے۔”
انہوں نے کہا کہ دھماکے کے بعد کشمیری طلبہ میں خوف و ہراس بڑھ گیا ہے۔ “پروفائلنگ، ہراسانی، سخت پوچھ گچھ اور ویری فکیشن ڈرائیوز—چاہے وہ معاملے سے متعلق نہ بھی ہوں—طلبہ کو شدید متاثر کر رہی ہیں۔ کئی طلبہ امتحانات اور کلاسز چھوڑ کر گھر واپس چلے گئے ہیں۔”
کھویہامی نے بتایا کہ انہوں نے وزیر اعظم کو خط لکھا ہے کہ ان کی اپیل ملک میں بڑا مثبت فرق لا سکتی ہے۔ “وزیر اعظم کے الفاظ قوم میں اتحاد پیدا کر سکتے ہیں، غلط فہمیاں دور کر سکتے ہیں اور اعتماد بحال کر سکتے ہیں۔ اگر وہ کشمیریوں کے ساتھ مساوی سلوک کی اپیل کریں، تو یہ پیغام دور رس اثرات رکھے گا۔”
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے واضح اور مضبوط یقین دہانی ملک میں ہم آہنگی کو مضبوط کرے گی اور کشمیری طلبہ ہندوستان کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھ سکیں گے۔ “ایک پیغام برابری اور تحفظ کا—ایک زیادہ جامع اور متحد بھارت کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔”
ایسوسی ایشن نے کہا کہ کشمیری طلبہ کو یہ یقین دلایا جانا چاہیے کہ وہ بھارت کے برابر کے شہری ہیں اور انہیں بھی وہی آئینی حقوق اور عزت حاصل ہے جو کسی اور کو ہے۔ انہوں نے کہا کہ والدین کو اپنے بچوں کی سلامتی پر اعتماد ہونا چاہیے جو گھروں سے دور تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
کھویہامی نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ حکومتی ردعمل محتاط رہا ہے، لیکن عوامی ردعمل—خصوصاً سوشل میڈیا پر—انتہائی تشویشناک ہے۔ “دھماکے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی سوشل میڈیا پر مسلمانوں، خاص طور پر کشمیری نوجوانوں کے خلاف بے بنیاد الزامات کی بوچھاڑ شروع ہوگئی۔”
انہوں نے خبردار کیا کہ اقلیتوں کے اجتماعی شبہ کو معمول بنانا انتہائی خطرناک ہے۔ “جو معاشرہ اپنے ہی لوگوں کو دوسرے درجے کا سمجھنے لگے، وہ تباہی کی جانب بڑھتا ہے۔ فرقہ وارانہ پروفائلنگ نہ قومی اتحاد کو مضبوط کرتی ہے، نہ ہی قومی سلامتی کو۔”
کھویہامی نے کہا کہ وزیر اعظم کا مضبوط اور واضح پیغام ضروری ہے تاکہ طلبہ کے خدشات دور کیے جائیں، افواہوں کو روکا جائے، اور آئینی اصولوں کو مضبوط کیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت یونیورسٹیوں، آجرین اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کشمیریوں کی حفاظت یقینی بنائے اور فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
