تازہ ترین
پوتن ہندستان کے دو روزہ دورے پر آج شام دہلی پہنچیں گے
نئی دہلی، روس کے صدر ولادیمیر پوتن دورہ ہندوستان پر جمعرات کی شام یہاں پہنچیں گے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی دعوت پر دو روزہ دورے پر آرہے مسٹر پوتن کا پالم ہوائی اڈے پر پہنچنے پر شاندار استقبال کیا جائے گا۔ روسی صدر کا دورہ ہندستان چار سال کے وقفے کے بعد ہو رہا ہے۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ مسٹر پوتن کے پروگراموں میں سب سے اہم واقعہ جمعہ کو 23ویں ہند-روس سالانہ چوٹی کانفرنس میں وزیر اعظم مودی کے ساتھ بات چیت ہے۔
ذرائع کے مطابق یہاں پہنچنے کے بعد مسٹر پوتن شام کو وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر مسٹر مودی سے ملاقات کریں گے۔ وزیراعظم نے ان کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام کیا ہے۔ اس دوران توقع ہے کہ دونوں رہنما سربراہ اجلاس سے قبل علاقائی، دوطرفہ اور عالمی اہمیت کے مختلف امور پر کھل کر بات چیت کریں گے۔
جمعہ کو مسٹر پوتن کی سرکاری مصروفیات کا آغاز راشٹرپتی بھون کے صحن میں روایتی اور شاندار استقبال کے ساتھ ہوگا۔
روسی صدر براہ راست راشٹرپتی بھون سے راج گھاٹ جائیں گے اور مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔
مسٹر پوتن اس کے بعد حیدرآباد ہاؤس روانہ ہوں گے جہاں وہ وزیر اعظم مودی کے ساتھ 23 ویں ہندستان روس چوٹی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ بات چیت کے بعد مسٹر پوتن اور مسٹر مودی ایک مشترکہ پریس بیان بھی دیں گے۔
چوٹی کانفرنس کے دوران دونوں فریقوں کے درمیان دفاع، سلامتی اور تجارت جیسے شعبوں پر خاص طور پر بات چیت ہوگی۔ دونوں رہنما باہمی دلچسپی کے امور کے ساتھ ساتھ عالمی اہمیت کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔ توقع ہے کہ بات چیت کے دوران ہندوستان کی طرف سے ایس-400 فضائی دفاعی نظام کی خریداری پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ اس کے علاوہ روس کی جانب سے پانچویں نسل کے لڑاکا طیارے سخوئی 57 کے سودے پر بھی بات چیت کا امکان ہے۔
دونوں ممالک روس سے تیل کی خریداری کے معاملے پر بھی بات کریں گے۔ ہندستان روس کے ساتھ تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے موثر اقدامات پر بھی بات کرے گا۔
بعد ازاں مسٹر پوتن ایک کاروباری تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔ اس میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت بڑھانے کے اقدامات پر توجہ دی جائے گی۔
شام کو صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے مسٹر پوتن کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام کیا ہے۔ عشائیہ کے بعد مسٹر پوتن جمعہ کی رات اپنے وطن روانہ ہوجائیں گے۔
امریکہ کی طرف سے ہندوستان پر 50 فیصد امپورٹ ڈیوٹی لگانے کے اعلان کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور پیش رفت کے تناظر میں مسٹر پوتن کے اس دورے کو بہت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
یواین آئی۔الف الف
دنیا
فرانس میں احتجاج کے پیش نظر 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات، پیرس کے عجائب گھر بند
پیرس، فرانس میں گزشتہ ہفتے بڑے پیمانے پر لوٹ مار، آتش زنی اور سرکاری عمارتوں پر حملوں کے بعد سکیورٹی کی خامیاں سامنے آنے اور صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت پر دباؤ بڑھنے کے درمیان، حکام نے نئے احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر ہفتہ کو ملک بھر میں 70 ہزار پولیس اہلکاروں اور جنڈارمری فورس کے جوانوں کو تعینات کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پیرس کے کئی بڑے عجائب گھر بھی بند کر دیے گئے ہیں۔
تشدد کے دوبارہ بھڑکنے کے خدشے کے پیش نظر لوور، اورسے میوزیم، پکاسو میوزیم اور گرینڈ پیلے سمیت کئی ثقافتی ادارے بند رہے۔ پیرس میں منعقد ہونے والے عصری فنون کے بڑے میلے آرٹ باسل کے منتظمین نے بھی جمعہ کو افتتاح کے بعد ہفتے کے اختتام کے پروگرام منسوخ کر دیے۔
پیرس سے تقریباً 110 کلومیٹر جنوب میں واقع اورلیاں میں انتہائی دائیں بازو کے خلاف ایک بڑے احتجاج کی تیاری کی گئی۔ یہ مظاہرہ میرین لے پین کی جماعت نیشنل ریلی کی قومی کانگریس کے ساتھ ہی منعقد ہونے والا ہے۔
ٹریڈ یونینوں، بائیں بازو کی جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور نسل پرستی مخالف انجمنوں سمیت تقریباً 50 تنظیموں نے اس مظاہرے کی اپیل کی ہے۔ حکام کو اس میں 20 ہزار سے 30 ہزار افراد کی شرکت کی توقع ہے۔ ممکنہ تصادم کو روکنے کے لیے تقریباً 3 ہزار پولیس اہلکاروں اور جنڈارمری فورس کے جوانوں کو تعینات کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
وزیر داخلہ لوراں نونیز نے کہا کہ سکیورٹی انتظامات میں فساد مخالف پولیس، ہیلی کاپٹر، بکتر بند گاڑیاں اور واٹر کینن شامل ہوں گے۔
نونیز نے جمعہ کو کہا، ”ہم تشدد کرنے والے ہنگامہ آرائی کرنے والوں اور لوٹ مار میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔” انہوں نے خبردار کیا کہ حکام کسی قسم کی نرمی نہیں برتیں گے۔
طلبہ تنظیموں، ٹریڈ یونینوں اور یلو ویسٹ تحریک کے کارکنوں کی جانب سے پیرس میں بھی احتجاجی مظاہروں کی توقع ہے۔ فرانسیسی اخبار ‘لوموند’ کے حوالے سے پیش کیے گئے انٹیلی جنس جائزوں کے مطابق، پیرس کی سڑکوں پر 60 ہزار سے ایک لاکھ 20 ہزار تک افراد اتر سکتے ہیں۔
گزشتہ ہفتے فرانس بھر میں پانچ لاکھ سے زیادہ افراد نے مظاہروں میں حصہ لیا تھا۔ ان مظاہروں کے دوران ہونے والے تشدد میں دکانوں کو نقصان پہنچایا گیا، لوٹ مار کی گئی، گاڑیوں کو آگ لگائی گئی اور سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق، ملک بھر میں تقریباً 3 ہزار کاروباری اداروں کو نقصان پہنچا یا انہیں لوٹ لیا گیا۔
حکام نے خصوصی پولیس دستوں، سراغ رساں کتوں کی ٹیموں، گھڑسوار اہلکاروں اور ڈرون مخالف ٹیموں کی مدد سے سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔ نیشنل جنڈارمری کے زیر استعمال تقریباً 15 واٹر کینن گاڑیوں اور 20 بکتر بند گاڑیوں کو بھی تعینات کیے جانے کی توقع ہے۔
احتجاج سے قبل پیرس کے دکانداروں نے اپنی دکانوں کے شٹر اور دروازے مضبوط کیے اور سکیورٹی کے اضافی انتظامات کیے۔ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر بدامنی سے متاثر ہونے والے پلیس دے لا ریپوبلیک کے قریب کاروباری اداروں اور بینک کی ایک شاخ نے اپنے احاطے کو محفوظ بنانے کے لیے لکڑی کے تختے لگا دیے۔
یہ احتجاج گزشتہ ماہ پیرس کے جنوب مشرق میں واقع ایک ہائی اسکول سے شروع ہوا تھا۔ ابتدا میں مظاہرین نے عملے کی کمی اور تعلیمی حالات کے خلاف آواز اٹھائی، لیکن بعد میں اس تحریک میں مہنگائی اور معاشی عدم مساوات کے خلاف ناراضگی بھی شامل ہو گئی۔
اسکولوں میں ناکافی فنڈنگ، پسماندہ علاقوں میں عملے کی کمی اور یونیورسٹیوں میں داخلے کے مسائل نے بھی طلبہ کی بے چینی میں اضافہ کیا ہے۔
لیون، نیس اور مونٹ پیلیئر میں مجوزہ بعض مظاہروں پر مقامی حکام نے پابندی عائد کر دی، جبکہ پیرس اور مارسیے میں ریلیاں نکالے جانے کی توقع ہے۔ ٹریڈ یونینوں نے ان پابندیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آئین کے تحت حاصل آزادیٔ اظہار کے حق کی خلاف ورزی ہیں۔
صدر میکرون، جنہیں اپنی صدارت کے دوران عوامی ناراضگی میں اضافے کا سامنا ہے، نے سکیورٹی کے ان اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر کے مرکزی علاقوں، کاروباری اداروں اور سرکاری عمارتوں کے تحفظ کے لیے یہ ضروری ہیں۔
یواین آئی۔ ع ا۔
دنیا
علاقائی مسائل کے حل میں ترکیہ ذمہ داری اٹھانے کاسلسلہ جاری رکھے گا:وزیر فیدان
استنبول، ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے اپنے سوشل اکاؤنٹ پر استنبول میں آر4 (ترکیہ، مصر، پاکستان، سعودی عرب) اور اٹلی کی شرکت کے ساتھ منعقدہ آر4 ای3 (برطانیہ، جرمنی، فرانس) وزرائے خارجہ کی ملاقاتوں کے بارے میں ایک بیان جاری کیا۔
وزیر فیدان نے کہا کہ استنبول میں پاکستان، سعودی عرب اور مصر کے ہم منصبوں کے ساتھ ہونے والے آر4 مذاکرات کے بعد، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی کے وزرائے خارجہ کی شرکت کے ساتھ آٹھ ممالک کو یکجا کرنے والے ایک اہم اجلاس کی میزبانی کی گئی۔
اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے آپس میں جڑے تمام مسائل اور تنازعات پر تبادلہ خیال کیا گیا، اور وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ اختلافات کو علاقائی ملکیت کے تصور کے تحت، گفت و شنید اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
اجلاس میں شریک ہم منصبوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیر فیدان نے کہا:ہم امید کرتے ہیں کہ جس اقدام کی ہم رہنمائی کر رہے ہیں وہ مستقل مزاجی اختیار کرے اور ہمارے خطے میں اور اس سے باہر امن اور استحکام میں حصہ ڈالے۔ ترکیہ دو جغرافیوں کے درمیان مرکزی مقام کے ساتھ علاقائی مسائل کے حل میں اپنی ذمہ
داریوں کو جاری رکھے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
فلپائن میں تربیتی طیارے حادثے کا شکار، فضائیہ کے چار پائلٹ ہلاک
منیلا، فلپائن میں منیلا کے جنوب میں واقع ایک فضائی اڈے پر تربیتی پرواز کے دوران دو ایس ایف 260 طیاروں کے حادثے کا شکار ہونے سے فضائیہ کے چار پائلٹ ہلاک ہو گئے۔ فوج نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی۔
فلپائن کی فضائیہ (پی اے ایف) کے ایک بیان کے مطابق، یہ حادثہ جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق سہ پہر 3 بج کر 51 منٹ پر صوبہ باتانگاس میں واقع فرنانڈو ایئر بیس پر پیش آیا۔ دونوں طیارے فضائی اڈے کی حدود کے اندر گر کر تباہ ہو گئے۔
حادثے میں کسی دوسرے شخص کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
مقامی میڈیا کی خبروں کے مطابق، دونوں طیارے فضا میں آپس میں ٹکرا گئے تھے، تاہم فضائیہ نے حادثے کی وجہ کی تصدیق نہیں کی ہے۔
پی اے ایف نے کہا کہ حادثے کے حالات اور اسباب کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ احتیاطی اقدام کے طور پر تحقیقات مکمل ہونے تک ایس ایف 260 طیاروں کے پورے بیڑے کی پروازیں عارضی طور پر روک دی گئی ہیں۔
فضائیہ نے یہ بھی بتایا کہ ہلاک ہونے والے پائلٹوں کے اہل خانہ کو مدد فراہم کرنے کے لیے ان سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔ اس نے عوام سے اپیل کی کہ وہ متاثرہ خاندانوں کی نجی زندگی کا احترام کریں۔
بیان میں ہلاک ہونے والے پائلٹوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی اور نہ ہی حادثے سے متعلق مزید تفصیلات فراہم کی گئیں۔
فلپائن میں ایس ایف 260 تربیتی طیاروں کے ساتھ پیش آنے والا یہ تازہ ترین جان لیوا حادثہ ہے۔
مئی میں ملک کے شمالی حصے کے ایک پہاڑی علاقے میں ایس ایف 260 طیارہ گر کر تباہ ہو گیا تھا، جس میں دو پائلٹ ہلاک ہوئے تھے۔ اس سے قبل 2023 میں تربیتی پرواز کے دوران ایک اور ایس ایف 260 ٹی پی مارچیٹی طیارہ حادثے کا شکار ہوا تھا، جس میں دو پائلٹوں کی موت ہو گئی تھی۔
فلپائن کی فوج نے 2017 میں جنوبی شہر مراوی کے بعض علاقوں پر قبضہ کرنے والے اسلامک اسٹیٹ سے وابستہ جنگجوؤں کے خلاف فضائی کارروائیوں میں بھی ایس ایف 260 طیاروں کا استعمال کیا تھا۔
جمعہ کو پیش آنے والے حادثے کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ فضائیہ نے یہ نہیں بتایا کہ عارضی طور پر گراؤنڈ کیے گئے طیاروں کو دوبارہ پرواز کی اجازت کب دی جائے گی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان7 days agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
